Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ تخمير الإناء وإيكاء السقاء · حديث 6058

6059 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن محمد بن داود الرزاز ثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد الدقاق ثنا محمد بن عبدك القرار ثنا يونس بن محمد ثنا ليث ح وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو ذر الحسين بن أبي القاسم المذكي قالا : ثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار الأصبهاني ثنا أحمد بن مهران الأصبهاني ثنا سعيد بن سليمان ثنا ليث ثنا يزيد بن عبد الله بن أسامة بن الهاد عن يحيى بن سعيد عن جعفر بن عبد الله بن الحكم عن القعقاع بن حكيم قال : سمعت جابر بن عبد الله يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : غطوا الإناء وأوكوا السقاء فإن في السنة ليلة ينزل فيها وباء لا يمر بإناء لم يغط ولا سقاء لم يوك إلا وقع فيه من ذلك الوباء وقال عن جابر بن عبد الله الأنصاري أخرجه مسلم من وجهين آخرين عن الليث وفي رواية عن ليث قال الليث : فالأعاجم يتقون ذلك من الكانون الأول

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن احمد بن محمد بن داؤد رزاز نے ان کو ابو عمرو عثمان بن احمد وفاق نے ان کو محمد بن عبدک قرار نے ان کو یونس بن محمد نے ان کو لیث نے ’’ح‘‘۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو ذر بن حسین بن ابو القاسم مذکی نے دونوں نے کہا ان کو عبداللہ محمد بن عبداللہ صفار اصفہانی نے ان کو احمد بن مہران اصفہانی نے ان کو سعید بن سلیمان نے ان کو لیث نے ان کو یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد نے کو یحییٰ بن سعید نے ان کو جعفر بن عبداللہ بن حکم نے ان کو قعقاع بن حکیم وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا جابر بن عبداللہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ فرماتے تھے برتن کو ڈھک دو مشکوں کومنہ باندھ دو بے شک سال میں ایک رات ایسی ہوتی ہے جس میں وبال نازل ہوتی ہے وہ جب ایسے برتن سے گزرتی ہے جس کا منہ ڈھکا ہوا نہ ہو اور مشک جس کا منہ بندھا ہوا نہ ہو تو اس میں واقع ہو جاتی ہے ایسی وبا میں سے۔ (اور قعقاع نے کہا) کہ مروی ہے جابر بن عبداللہ انصاری سے۔ مسلم نے اس کو نقل کیا ہے دوسرے دو طریقوں سے لیث سے اور ایک روایت میں ہے لیث سے کہا لیث نے پس عجمی لوگ اس سے بچتے ہیں۔ کانون اول سے (کانون اول روی نام ہے دسمبر کا مہینہ مراد ہوتا ہے) (اور کانون ثانی سے مراد جنوری ہوتا ہے)۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ← لَيْثٌ، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أحمد بن مهران الاصبهاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و أبو ذر الحسين بن أبي القاسم المذكي ← لَيْثٌ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← محمد بن عبدك القرار ← أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The fermentation of the vessel and the cup of the watering water · Hadith 6058

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ تخمير الإناء وإيكاء السقاء · حديث 6059

6060 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز ثنا أحمد بن الوليد الفحام ثنا حجاج بن محمد الأعور قال : قال ابن جريح أخبرني أبو الزبيرانه سمع جابر بن عبد الله يقول : أخبرني أبو حميد : أنه أتى النبي صلى الله عليه و سلم بقدح لبن من البقيع ليس بمخمر فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : ألا خمرته ولو أن تعرض عليه عودا قال : وقال أبو حميد : إنما أمر النبي صلى الله عليه و سلم بالأسقية أن توكأ ليلا وبالأبواب تغلق ليلا أخرجه مسلم في الصحيح من حديث ابن جريح

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفرمحمد بن عمرو رزاز نے ان کو احمد بن ولید فحام نے ان کو حجاج بن محمد اعور نے وہ کہتے ہیں کہ ابن جریج نے کہا کہ مجھے خبر دی ہے ابو الزبیر نے کہ اس نے سنا جابر بن عبداللہ سے وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی ہے ابو حمید نے کہ حضور علی اللہ علیہ وسلم کے پاس بقیع کی طرف سے ایک دودھ کا پیالہ آیا تھا جو کہ اوپر سے ڈھکا ہوا نہیں تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا کہ کیا تم نے اسے ڈھکا نہیں۔ اگرچہ تم اس پر لکڑی ہی رکھ لیتے وہ کہتے ہیں کہ ابو حمید نے کہا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ مشکوں کا منہ باندھ دیا جائے رات کو اور دروازے بند کر دیئے جائیں رات کو۔ اس کومسلم نے نقل کیا ہے حدیث ابن جریج سے۔

أَبُو حُمَيْدٍ: ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أبو الزبيرأنه ← ابْنُ جَرِیحٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَعْوَرُ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The fermentation of the vessel and the cup of the watering water · Hadith 6059

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ تخمير الإناء وإيكاء السقاء · حديث 6060

6061 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن يوسف و أبو زكريا بن أبي إسحاق قالوا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا بحر بن نصر ثنا ابن وهب أخبرني الليث عن أبي الزبير عن جابر بن عبد الله : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : غطوا الإناء وأوكوا السقاء وأغلقوا الأبواب واطفئوا المصابيح فإن الشيطان لا يحل سقاء ولا يكشف إناء ولا يفتح بابا فإن لم يجد أحدكم إلا أن يعرض على آنيته عودا ويذكر اسم الله عليه فليفعل وإن الفويسقة تضرم على أهل البيت بيتهم أخرجه مسلم في حديث الليث

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو محمد بن یوسف اور ابو زکریا بن ابو اسحاق نے انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو وہب نے ان کو خبر دی ہے لیث نے ان کو ابو الزبیر نے انہوں نے جابر بن عبداللہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ برتنوں کو ڈھک دو، اور مشکلوں کے منہ باندھ دو اور دروازے بند کر دو اور دیئے بجھا دیا کرو بے شک شیطان مشک کا منہ نہیں کھول سکتا اور برتن کا ڈھکنا نہیں اتار سکتا اور درواز نہیں کھول سکتا۔ اگر تم میں سے کوئی آدمی برتن ڈھکنے کے لئے کچھ نہ پائے سوائے اس کے کہ اس پر کوئی لکڑی ہی لے کر آڑ کر دے اور بسم اللہ پڑھ دے تو وہ ایسا ضرور کرے۔ بے شک موذی جانور جلا دیتے ہیں اہل گھر پر ان کے گھر کو۔ مسلم نے اس کو نقل کی لیث کی حدیث سے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← اللَّيْثُ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The fermentation of the vessel and the cup of the watering water · Hadith 6060

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ تخمير الإناء وإيكاء السقاء · حديث 6061

6062 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن أحمد بن أمية السباق ثنا محمد بن أيوب أنا مسدد ثنا حماد بن زيد عن كثير بن شنظير عن عطاء بن أبي رباح عن جابر بن عبد الله رفعه قال : خمروا الآنية وأوكوا الأسقية وأجيفوا الأبواب وكفوا صبيانكم عند المساء فإن للجن انتشارا وخطفة وأطفئوا المصابيح عند الرقاد فإن الفويسقة أخذت الفتيلة فأحرقت أهل البيت رواه البخاري في الصحيح عن مسدد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ بن احمد بن امیہ سباق نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو مسدد نے ان کو حماد بن زید نے ان کو قیس بن شنظیر نے ان کو عطابن ابو رباح نے ان کو جابر بن عبداللہ نے مرفوع کیا ہے۔ فرمایا کہ برتنوں کو اوپر سے ڈھانک دیا کرو اور مشکوں کے منہ باندھ دیا کرو اور دروازوں کو بھیٹر دیا کرو اور شام کے وقت اپنے بچوں کو روک لیا کرو بے شک (شام کے وقت) جنات کا پھیلنا ہوتا ہے اور جھپٹنا ہوتا ہے اور اچکنا ہوتا ہے۔ اور چراغ بجھا دیا کرو سوتے وقت بے شک یہ موذی جانور بسا اوقات دیئے کی جلتی فتیلی اور تار کھینچ کر لے جاتے ہیں جس سے پورے گھر کو آگ پکڑ لیتی ہے۔اس کو بخاری نے روایت کیا مسدد سے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَفَعَهُ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← کَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُسَدَّدٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن أحمد بن أمية السباق ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The fermentation of the vessel and the cup of the watering water · Hadith 6061

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ تخمير الإناء وإيكاء السقاء · حديث 6062

6063 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو عباس محمد بن يعقوب ثنا أبو أمية الطرسوسي ثنا عمرو بن حمشاذ و أسباط عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال : جاءت فأرة فأخذت تجر الفتيلة فذهبت الجارية تزحزحها فقال النبي صلى الله عليه و سلم : دعيها فجاءت بها فألقتها على الخمرة التي كان قاعدا عليها فأحرقت منها موضع الدرهم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا نمتم فأطفئوا سرجكم فإن الشيطان يدل على مثل هذه على هذا فتحرقكم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابو امیہ طرسوسی نے ان کو عمرو بن حمشاذ نے اور ہمیں حدیث بیان کی ہے اسباط نے ان کو سماک نے ان کو عکرمہ نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ چوہا آیا اس نے دیئے کا جلتی ہو بٹ کو کھینچ کر گھسیٹا اتنے میں لڑکی نے دیکھا تو کو دور کرنے لگی حضور صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے فرمایا کہ اس کو چھوڑ دو (تاکہ دیکھیں کیا کرتا ہے) اس نے اسے گھسیٹ کر اس مصلے پر ڈال دیا جس پر آپ بیٹھے تھے اس میں سے ایک درہم کی مقدار وہ جل گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم لوگ سویا کرو تو اپنے چراغ بجھا دیا کرو بے شک شیطان رہنمائی کرتا ہے اس جیسے جانوروں کو ایسے ہی کاموں پر پھر وہ تمہیں جلا دیتا ہے۔

جاءت فأرة فأخذت تجر الفتيلة فذهبت الجارية تزحزحها ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← عمرو بن حمشاذ و أسباط ← أَبُو أُمَيَّةَ الطَّرَسُوسِيُّ ← أبو عباس محمد بن يعقوب ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The fermentation of the vessel and the cup of the watering water · Hadith 6062

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ تخمير الإناء وإيكاء السقاء · حديث 6063

6064 - حدثنا الإمام أبو طاهر الزيادي إملاء أنا أبو حامد أحمد بن محمد بن يحيى بن بلال البزار ثنا عبد الرحمن بن بشر ثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن سالم بن عبد الله بن عمر عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تدعوا النار في بيوتكم حين تنامون أخرجاه في الصحيح من حديث سفيان

ہمیں حدیث بیان کی امام ابو طاہر زیادی نے بطور املاء کے ان کو ابو حامد احمد بن محمد بن یحییٰ بن بلال بزار نے ان کو عبدالرحمٰن بن بشر نے ان کو سفیان بن عیینہ نے ان کو زہری نے ان کو سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم سوؤ تو اپنے گھروں میں آگ کو نہ چھوڑ کرو (یعنی جلتی نہ چھوڑا کرو بلکہ بجھا دیا کرو۔) اس کو بخاری ومسلم نے نقل کیا ہے سفیان کی حدیث سے۔

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ← أبو حامد أحمد بن محمد بن يحيى بن بلال البزار ← الإمام أبو طاهر الزيادي إملاء

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The fermentation of the vessel and the cup of the watering water · Hadith 6063

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ تخمير الإناء وإيكاء السقاء · حديث 6064

6065 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن علي بن عفان العامري أنا أبو أسامة حدثني يزيد عن جده عن أبي موسى قال : احترق بيت في المدينة على أهله بالليل فحدث النبي صلى الله عليه و سلم بشأنهم فقال : إن هذه النار إنما هي عدو لكم فإن نمتم فأطفئوها عنكم أخرجه في الصحيح من حديث أبي أسامة وذكر الحليمي ها هنا الوليمة وما يدعى إليه من الطعام قال أحمد : وقد ذكرنا جميع ذلك في كتاب السنن في آخر كتاب الصداق

ہمیں خبر دی ابو عبید حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن علی بن عفان عامری نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو یزید نے ان کو ان کے دادا نے ابو موسیٰ سے وہ کہتے ہیں کہ رات کو مدینے میں ان کے گھر والوں سے سمیت چل گیا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کوان کے بارے میں بتایا گیا تو آپ نے فرمایا: بے شک یہ آگ تمہاری دشمن ہے تم جب سویا کرو تو آگ کو بجھا دیا کرو۔ اس کو بخاری ومسلم نے حدیث اسامہ سے نقل کیا ہے۔ شیخ حلیمی نے یہاں پر ولیمے کا اور اس کے کھانے جس کی دعوت دی جاتی ہے ذکر کیا ہے۔اور امام احمد نے کہا کہ ہم نے یہ تمام روایات کتاب السنن میں کتاب الصدق کے آخر میں ذکر کر دی ہیں۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← جَدِّهِ، ← يَزِيدُ: ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The fermentation of the vessel and the cup of the watering water · Hadith 6064

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ تخمير الإناء وإيكاء السقاء · حديث 6065

6066 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز ثنا عبد الملك بن محمد ثنا روح بن عبادة ثنا هشام عن ابن سيرين عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا دعي أحدكن إلى الطعام يلبي فإن كان مفطرا فليطعم وإن كان صائما فليصل يعني الدعاء أخرجه مسلم في الصحيح من أوجه أخر عن هشام بن حسان

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر زار نے ان کو عبد الملک بن محمد نے ان کو روح بن عبادہ نے ان کو ہشام نے ان کو ابن سیرین نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی کھانے کے لئے بلایا جائے ضرور دعوت قبول کرے اگر بغیر روزے کے ہو تو کھانا کھائے اور اگر روزے سے ہو تو جا کر دعا کرے۔ اس کو مسلم نے بھی میں نقل کیا کئی طریقوں سے ہشام بن حسان سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← هِشَامٍ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The fermentation of the vessel and the cup of the watering water · Hadith 6065

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ تخمير الإناء وإيكاء السقاء · حديث 6066

6067 - أخبرنا أبو الحسن بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد ثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني سعيد بن عمرو السكوني ثنا بقية عن ابن المبارك عن جرير بن حازم عن الزبير بن الحارث عن عكرمة عن ابن عباس : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن طعام المتبارين

ہمیں خبر دی ابو الحسن بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو سعید بن عمرو سکونی نے ان کو بقیہ نے ان کو ابن مبارک نے ان کو جریر بن حازم نے ان کو زبیر بن حارث نے ان کو عکرمہ نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا کہ دو ہلاک ہونے والے یا دو مقابلے کرنے والوں کی ضیافت قبول کرنے سے۔

طعام المتبارين ← ابن عباس نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عِكْرِمَةَ، ← الزُّبَيْرِ بْنِ الْحَارِثِ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← بَقِيَّةُ ← سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو السَّكُونِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The fermentation of the vessel and the cup of the watering water · Hadith 6066

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ تخمير الإناء وإيكاء السقاء · حديث 6067

6068 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا سعيد بن عثمان ثنا معلى بن أسد المروزي ثنا علي بن الحسن عن أبي حمزة السكري عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : المتبارين لا يجابان ولا يؤكل طعامهما قال الإمام أحمد : يعني المتعارضين بالضيافة فخرا أو رياء

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو سعید بن عثمان نے ان کو معلیٰ بن اسد مروزی نے ان کو علی بن حسن نے ان کو ابو حمزہ سکری نے ان کو اعمش نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو ریاکاری کرنے والوں کی دعوت کی اجابت وقبولیت نہ کی جائے اور نہ ہی ان کے ہاں کھانا کھایا جائے۔ امام احمد نے فرمایا کہ اس سے مراد ہیں دو ضیافت اور مہمانی پیش کرنے والے ایک فخر کرنے کے لئے اور دوسرا لوگوں کود یکھانے کے لئے۔.

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي حَمْزَةَ السَّكُرِيِّ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ← معلى بن أسد المروزي ← سعيد بن عثمان ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The fermentation of the vessel and the cup of the watering water · Hadith 6067

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن دعي إلى طعام طيب فقدم إليه طيب · حديث 6068

6069 - أخبرنا أبو محمد جناح بن نذير القاضي و أبو الحسين محمد بن علي بن خشيش التميمي المقري بالكوفة قالا : ثنا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم ثنا محمد بن الحسين بن أبي الحسين القزاز ثنا الفضل بن دكين ثنا عروة بن ثابت الأنصاري حدثني ثمامة بن عبد الله بن أنس : أن أنسا كان لا يرد الطيب وزعم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان لا يرد الطيب رواه البخاري عن أبي نعيم

ہمیں خبر دی ابو محمد جناح بن نذیر قاضی نے اور ابو الحسین محمد بن علی بن خشیش مقری نے کوفے میں دونوں نے کہا ان کو ابو جعفر محمد بن علی بن دحیم نے ان کو محمد بن حسینی بن ابو الحسین قراز نے ان کو فضل بن دکین نے ان کوعروہ بن ثابت انصاری نے ان کو ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے کہ حضرت انس خوشبو کا تحفہ رد نہیں کرتے تھے۔ اور وہ یہ خیال کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوشبورد نہیں کرتے تھے۔بخاری نے اس کو روایت کیا ابو نعیم سے۔

عروة بن ثابت الأنصاري ← الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُسَيْنِ الْقَزَّازُ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter on who was invited to good food and presented him with goodness · Hadith 6068

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن دعي إلى طعام طيب فقدم إليه طيب · حديث 6069

6070 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ ثنا محمد بن صالح بن هانئ ثنا السري بن خزيمة ثنا عبد الله بن يزيد المقري ثنا سعيد بن أبي أيوب حدثني عبيد الله بن أبي جعفر عن الأعرج عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : من عرض عليه طيب فلا يرده فإنه خفيف الحمل طيب الرائحة رواه مسلم عن أبي بكر بن أبي شيبة عن المقري ورواه فضالة بن حصين عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم بمعناه وزاد فيه إذا عرض على أحدكم الحلواء فلا يردها حتى يصيب منها قال : وكان النبي صلى الله عليه و سلم يعجبه الطيب والحلواء

ہمیں خبر دی ابو عبدالله محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن صالح بن ہانی نے ان کو عبیداللہ بن ابی جعفر نے ان کو اعرج نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ آپ نے فرمایا: جس شخص پر خوشبو پیش کی جائے وہ اسے واپس نہ کرے بے شک وہ ہلکے بوجھ والی اور پاکیزہ خوشبو والی ہے۔اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ابو بکر بن ابی شیبہ سے اس نے مقریٔ سے اور اس کو روایت کیا ہے فضالہ بن حسین نے ان کو محمد بن عمرو نے ان کو ابو سلمہ نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مذکور مفہوم میں اور اس میں یہ اضافہ بھی کیا ہے کہ جب ایک تمہارے پر حلوا پیش کیا جائے تو وہ اس کو واپس نہ کرے یہاں تک کہ اس میں سے کچھ لے لے۔ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو اور میٹھی چیز پسند تھی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter on who was invited to good food and presented him with goodness · Hadith 6069

chevron_left Previous
1…414243…78
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood