Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ اختناث الأسقية وما يكره من ذلك · حديث 6022

6023 - وقد روينا عن عبد الله بن عمر عن عيسى بن عبد الله رجل من الأنصار عن أبيه : أن النبي صلى الله عليه و سلم دعا بإدواة يوم أحد فقال : اخنث فم الإداوة ثم اشرب من فيها أخبرناه أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا نصر بن علي ثنا عبد الأعلى ثنا عبد الله بن عمر فذكره

تحقیق ہم نے روایت کی ہے عبداللہ بن عمر سے انہوں نے عیسیٰ بن عبداللہ انصار کے ایک آدمی سے اس نے اپنے والد سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد والے دن لوٹا منگوایا اور فرمایا کہ اس کوزے یا لوٹے کا منہ توڑ دے اس کے بعد اس کے منہ سے پی لے۔ ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو علی روذباری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو نصر بن علی نے ان کو عبد الاعلیٰ نے ان کو عبداللہ بن عمر نے انہوں نے اسی حدیث کا ذکر کیا ہے۔

أَبِيهِ ← عِيسَی بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← وَقَدْ رُوِّينَا

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Hypersexuality and dislikes of it · Hadith 6022

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ اختناث الأسقية وما يكره من ذلك · حديث 6023

6024 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا عبد الله بن محمد بن علي بن زياد ثنا محمد بن إسحاق بن خزيمة ثنا محمد بن عبد الملك بن زنجويه ثنا عبد الرزاق ثنا عبد الله بن عمر عن عيسى بن عبد الله بن أنيس عن أنس قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم قام إلى قربة معلقة فخلسها ثم شرب من فيها الرواية الأولى أتم وإسناد هذا أحفظ والظاهر : أن خبر النهي كان بعد هذا والله أعلم

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو عبداللہ بن محمد بن علی بن زیاد نے ان کو محمد بن اسحاق بن خزیمہ نے ان کو محمد بن عبدالملک بن زنجویہ نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو عبداللہ بن عمر نے ان کو عیسیٰ بن عبداللہ بن انیس نے ان کو انس نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو دیکھا آپ لٹکی ہوئی مشک کی طرف اٹھے اور اسے اچک لیا پھر اس کے منہ سے آپ نے پانی پیا۔ پہلی روایت مکمل ہے اور اسی ادا میں کہ زیادہ محفوظ ہے اور ظاہر یہ ہے کہ نبی کی خبر اس کے بعد تھی۔ واللہ اعلم۔

أَنَسٍ، ← عِيسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ← عبد الله بن محمد بن علي بن زياد ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Hypersexuality and dislikes of it · Hadith 6023

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ اختناث الأسقية وما يكره من ذلك · حديث 6024

6025 - أخبرنا أبو الحسن بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن عائشة : أن النبي صلى الله عليه و سلم دخل على امرأة من الأنصار وفي البيت قربة معلقة فاختنثها فشرب وهو قائم أنا أبو الحسن العلاء بن محمد بن سعيد الاسفرائيني بها أنا أبو سهل الاسفرائيني ثنا إبراهيم بن علي الذهلي ثنا يحيى بن يحيى أنا سفيان بن عيينة عن يزيد بن يزيد بن جابر عن عبد الرحمن بن أبي عمرة عن جدة له يقال له كبشة : أن النبي صلى الله عليه و سلم دخل عليها فشرب من قربة معلقة وهو قائم زاد فيه غيره من فيها وهو قائم

ہمیں خبر دی ابو الحسن بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عبدالرحمٰن بن قاسم نے ان کو ان کے والد نے ان کو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم انصار کی ایک عورت کے پاس آئے ان کے گھر میں پانی کی مشک لٹکی ہوئی تھی اسے جھکایا اور کھڑے کھڑے پانی پیا۔ ہمیں خبر دی ابو الحسن علاء بن محمد بن سعید اسفرائنی نے وہاں پر۔ ان کو ابو سہل اسفرائنی نے ان کو ابراہیم بن علی ذہلی نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو سفیان بن عیینہ نے ان کو یزید بن یزید بن جابر نے ان کو عبدالرحمٰن بن ابو عمرہ نے ان کو ان کی دادی نے اسے کبشہ کہا جاتا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس گئے اور آپ نے لٹکی ہوئی مشک سے پانی پیا جب کہ آپ کھڑے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ دوسروں نے یہ اضافہ کیا ہے مشک کے منہ سے پیا حالانکہ آپ کھڑے ہوئے تھے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Hypersexuality and dislikes of it · Hadith 6024

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ اختناث الأسقية وما يكره من ذلك · حديث 6025

6026 - حدثنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا شريك عن عبد الكريم الجزري عن ابن بنت أنس بن مالك عن جدته أم سليم قالت : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يشرب من في قربة فقطعتها فقلت : لا يشرب منها أحد بعده

ہمیں حدیث بیان کی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو شریک نے ان کو عبدالکریم جزری نے ان کو ابن بنت انس بن مالک نے اپنی دادی اُم سلیم سے وہ کہتی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ مشک کے منہ سے پانی پی رہے تھے میں نے اسے کاٹ لیا میں نے کہا کہ حضور کے بعد اسی جگہ سے دوسرا کوئی نہیں پیئے گا۔

جَدَّتِهِ أُمِّ سُلَيْمٍ ← ابْنِ بِنْتِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ← عَبْدِ الْکَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ← شَرِيکٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Hypersexuality and dislikes of it · Hadith 6025

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ اختناث الأسقية وما يكره من ذلك · حديث 6026

6027 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أبو علي الحسن بن مكرم ثنا أبو النصر ثنا خيثمة ثنا عبد الكريم عن البراء ابن ابنة أنس بن مالك عن أنس عن أمه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم دخل وفي البيت قربة معلقة فشرب منها قائما فمسكته عندي أو أنه لعندي قال الإمام أحمد : وهذه الأخبار تدل على جواز وخبر النهي يدل على الاستحباب تنحية للأذى عن الشارب غيره بترك ذلك ويحتمل أن يكون خبر النهي في غير المعلقة وخير الرخصة في المعلقة فالمعلقة أبعد من دخول الجان فيها والله أعلم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابو علی حسن بن مکرم نے ان کو ابو النصر نے ان کو خیثمہ نے ان کو عبدالکریم نے ان کو براء بن اباتہ انس بن مالک نے اس نے انس سے اس نے اپنی ماں سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں داخل ہوئے اور گھر میں متک لٹکی ہوئی تھی انہوں نے اس سے کھڑے ہو کر پانی پیا لہٰذا میں نے ان کو اپنے پاس روک لیا یا یوں کہا کہ وہ میرے پاس ہے۔ امام احمد نے فرمایا: یہ مذکورہ اخبار جواز پر دلالت کرتی ہیں اور ممانعت والی خبر دلالت کرتی ہے استحباب پر تکلیف سے بچنے کے لئے پینے والے وغیرہ سے۔ اس کوترک کرنے سے اور احتمال ہے کہ نہی والی حدیث غیر معلق کے لئے ہو اور رخصت والی خبر مطلق کے بارے میں اس لئے کہ معلق اور لٹکی ہوئی سانپ کے اس میں داخل ہونے سے زیادہ بعید ہے۔

أُمِّهِ2، ← أَنَسٍ، ← البراء ابن ابنة أنس بن مالك ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← خيثمة ← أبو النصر ← أبو علي الحسن بن مكرم ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Hypersexuality and dislikes of it · Hadith 6026

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الذباب يسقط في الإناء · حديث 6027

6028 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا الحسين بن الحسن بن أيوب الطوسي ثنا أبو حاتم الرازي ثنا أبو الجماهر محمد بن عثمان الدمشقي التنوخي ثنا سليمان بن بلال حدثني عتبة بن مسلم أن عبيد بن حنين أخبره أنه سمع أبا هريرة يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا سقط الذباب في إناء أحدكم فليغمسه كله ثم لينزعه فإن في أحد جناحيه داء وفي الآخر شفاء رواه البخاري في الصحيح عن خالد بن مخلد عن سليمان بن بلال قال الشافعي رحمه الله : وغمس الذباب في الإناء ليس بقتله

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کوحسین بن حسن بن ایوب طوسی نے ان کو ابو حاتم رازی نے ان کو ابو الجماہر محمد بن عثإان دمشقی تنوخی نے ان کو سلیمان بن بلال نے ان کو عتبہ بن مسلم نے یہ کہ عبید بن حنین نے اس کو خبر دی ہے کہ اس نے سنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکھی گر جائے تمہارے کسی ایک کے برتن میں اس کو چاہئے کہ وہ اسے ڈبو دے اس کے بعد اس کو نکال کر پھینک دے بے شک اس کے ایک پر میں دو میں سے بیماری ہے اور دوسرے میں شفاء ہے۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں خالد بن مخلد سے اس نے سلمان بن بلال سے۔ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا: برن میں مکھی کو ڈبونا اس کو مارنے کے لئے نہیں ہے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَنَّهُ ← عُتْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ أَنَّ عُبَيْدَ بْنَ حُنَيْنٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أبو الجماهر محمد بن عثمان الدمشقي التنوخي ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of flies falling into the container · Hadith 6027

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الشرب باليد إذا ورد على نهر أ غدير وما ورد في جواز الكرع فيه · حديث 6028

6029 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن ليث عن رجل عن ابن عمر قال : مر النبي صلى الله عليه و سلم بغدير فقال : اشربوا ولا تكرعوا ليغسل أحدكم يديه ثم ليشرب أي إناء أنقى من يده إذا غسلها

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو لیث نے ایک آدمی سے اس نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کسی تالاب سے گزرے اور فرمایا: سو مگر منہ نہ ڈالو چاہئے کہ ایک انسان اپنے دونوں ہاتھ دھولے اس کے بعد ہاتھوں سے پی لے کون سا برتن زیادہ صاف ہے تمہارے ہاتھوں سے جب تم اسے دھولو گے۔

مر النبي صلى الله عليه و سلم بغدير ← ابْنِ عُمَرَ ← رَجُلٌ: ← لَيْثٌ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Drinking by hand if it comes to the river A Ghadir and what is stated in the permissibility of bowing in it · Hadith 6028

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الشرب باليد إذا ورد على نهر أ غدير وما ورد في جواز الكرع فيه · حديث 6029

6030 - وحدثنا أبو محمد يوسف الأصبهاني إملاء أنا أبو بكر أحمد بن سعيد الاخميمي ثنا بكر بن سهل ثنا أحمد بن اشكيب ثنا محمد بن فضيل عن ليث عن سعيد بن عامر عن ابن عمر قال : مررنا مع النبي صلى الله عليه و سلم على برك ماء فجعلنا نكرع فيها فقال : لا تكرعوا فيها ولكن اغسلوا أيديكم واشربوا منها فليس من إناء أطيب من اليد لفظ حديث ابن يوسف وفي الرواية الأولى : كنا على سفر فانتهينا إلى بركة ماء سماء فكرعنا فيها فنهى النبي صلى الله عليه و سلم ثم قال : اغسلوا أيديكم ثم اشربوا فإنها أنظف آنيتكم أو أطيب آنيتكم قال الإمام أحمد : ويحتمل أن يكون النهي لنتحية الأذى عن الشارب ولئلا يرسل الشارب نفسه فيه إن كان الماء في حوض صغير أو مستنقع فيمتنع غيره من الشرب منه تقذرا والكرع جائز في الجملة بدليل ما

ہمیں حدیث بیان کی ہے او محمد یوسف اصفہانی نے بطور املاء کے ان کو ابو بکر احمد بن سعید اخمیمی نے ان کو بکر بن سہل نے ان کو احمد بن اشکیب نے ان کو محمد بن فضیل نے ان کو لیث نے اس کو سعید بن عامر نے اس نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پانی کے ایک ٹھکانے پر گزرے ہم لوگوں نے منہ ڈال کر پینے کی کوشش کی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ منہ ڈال کر نہ پیئو اس میں سے بلکہ اپنے ہاتھ دھولو اور ہاتھوں سے پیئو اس لئے کہ ہاتھ سے زیادہ صاف اور کوئی برتن نہیں ہے۔ یہ ابن یوسف کی حدیث کے الفاظ ہیں اور پہلی روایت میں ہے کہ ہم لوگ سفر میں تھے۔ ہم لوگ بارش کے پانی کے ایک مقام پر پہنچےاور نام لوگوں نے منہ ڈال کر پینا چاہا۔ جس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرما دیا اس کے بعد فرمایا اپنے ہاتھوں کو دھولو اور ہاتھوں سے پیئو اس لئے یہ تمہارے سب سے زیادہ پاکیزہ اور سب سے زیادہ ستھرے برتن ہیں۔ امام احمد نے فرمایا: احتمال ہے کہ ممانعت پینے والے سے تکلیف دور کرنے کے لئے ہو اور اس لئے تاکہ پینے والا اس میں سانس نہ چھوڑے اگر پانی چھوٹے حوض میں ہو یا کسی برتن میں تو دوسرا آدمی دیکھ کر کراہت کرتے ہوئے پانی پینا چھوڑ دے گا البتہ منہ ڈال کر پینا فی الجملہ جائز ہے جس کی دلیل درج ذیل حدیث ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← لَيْثٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← أحمد بن أشكيب، ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الإِخْمِيمِىُّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ يُوسُفُ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Drinking by hand if it comes to the river A Ghadir and what is stated in the permissibility of bowing in it · Hadith 6029

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الشرب باليد إذا ورد على نهر أ غدير وما ورد في جواز الكرع فيه · حديث 6030

6031 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه ثنا علي بن الحسين بن الجنيد ثنا المعافى بن سليمان ثنا فليح عن سعيد بن الحارث عن جابر بن عبد الله : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم دخل على رجل من الأنصار ومعه صاحب له فسلم رسول الله صلى الله عليه و سلم وصاحبه فرد الرجل قال : وهي ساعة حارة وهو يحول الماء في حائطه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن كان عندك ماء بات هذه الليلة في شن وإلا كرعنا والرجل يحول الماء في حائطه فقال الرجل : عندي يا رسول الله ماء بايت فانطلق إلى العريش قال : فانطلق بهما إلى العريش فسكب في قدح ثم حلب عليه من داجن له فشرب رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم عاد فشرب الرجل الذي جاء مع رسول الله صلى الله عليه و سلم رواه البخاري في الصحيح عن يحيى بن صالح عن فليح

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے کو ابو بکر بن اسحٰق فقیہ نے ان کو علی بن حسین بن جنید نے ان کو معافی بن سلیمان نے ان کو فلیح نے ان کو سعید بن حارث نے ان کو جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک آدمی کے پاس گئے اور ان کے ساتھ ان کے ایک صحابی بھی تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور ان کے ساتھی نے السلام علیکم کہا۔ آدمی نے جواب دیا۔ راوی کہتا ہے کہ وہ گرمی کا وقت تھا اور وہ آدمی اپنے باغ میں پانی لگا رہا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تیرے پاس مشک میں رات کا رکھا پانی ہو تو ٹھیک ہے ورنہ ہم لوگ منہ ڈال کر اس میں سے پی لیں۔ کہتے ہیں کہ وہ آدمی اپنے باغ میں پانی پھیر رہا تھا۔ اس آدمی نے کہا یا رسول اللہ ! میرے پاس رات والا پانی ہے آپ چھیرے کی طرف چلئے گا کہتے ہیں کہ دوان دونوں کو ساتھ لئے چھیرے کی طرف گیا۔ اور اس نے پیالے میں پانی رونڈ دیا اور اس میں اس نے اپنی بکری کا دودھ دوہا۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پیا اس کے بعد اس آدمی کو دے دیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا تھا۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں یحییٰ بن صالح سے اس نے فلیح سے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، ← فُلَيْحٌ، ← الْمُعَافَی بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Drinking by hand if it comes to the river A Ghadir and what is stated in the permissibility of bowing in it · Hadith 6030

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ استعذاب الماء · حديث 6031

6032 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو النصر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه ثنا عثمان بن سعيد ثنا عمرو بن عون أنا عبد العزيز الدراوردي عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يستقي له الماء العذب من السقاء وحكى أبو داود السجستاني عن أحمد بن حنبل أنه أنكر هذا الحديث وقال الدراوردي كتابه أصح من حفظه يريد أنه حدث به حفظا قال الإمام أحمد : وروي من وجه آخر عن هشام كما

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو النصر محمد بن محمد بن یوسف فقیہ نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو عمرو بن عون نے ان کو عبدالعزیز دراوردی نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مشک سے میٹھا پانی لیا جاتا تھا۔ اور حکایت کی ہے ابو داؤد سجستانی نے ان کو احمد بن حنبل نے کہ انہوں نے اس حدیث کا انکار کیاتھا۔ اور دراوردی نے کہا کہ اس کی تحریر و کتاب اس کے حفظ سے اور یاد داشت سے زیادہ صحیح ہے۔ کہنے کا منشاء یہ ہے کہ انہوں نے یہ حدیث اپنی یادداشت اور حافظے سے بیان کی ہے۔ اور امام احمد نے فرمایا کہ ایک اور طریق سے مروی ہے ہشام سے جیسے درج ذیل ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو النَّصْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهِ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Absorb water · Hadith 6031

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ استعذاب الماء · حديث 6032

6033 - أخبرنا أبو الحسين بن أبي بكر الأهوازي أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا أحمد الخزاز ثنا علي بن مسعود ثنا عامر بن صالح بن عبد الله بن عروة بن الزبير بن العوام ثنا هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يستعذب له الماء من السقاء من عند حمام عند طرف الحرة

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن ابو بکر اہوازی نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو احمد خزاز نے ان کو علی بن مسعود نے ان کو عامر بن صالح بن عبداللہ بن عروہ بن زبیر بن عوام نے انہوں نے ہشام بن عروہ سے اس نے اپنے والد سے اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ رسول اللہ کے لئے مشک وغیرہ سے میٹھا پانی لیا جاتا تھا حمام کے وقت اور گرمی کے وقت۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عامر بن صالح بن عبد الله بن عروة بن الزبير بن العوام ← علي بن مسعودٍ ← أحمد الخزاز ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أبو الحسين بن أبي بكر الأهوازي

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Absorb water · Hadith 6032

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ تناول الشراب إذا شرب بفيه شرابه من على يمينه · حديث 6033

6034 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي أنا عبد الله بن محمد بن الحسن الشرقي ثنا عبد الله بن هاشم بن حيان ثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن أنس بن مالك قال : قدم النبي صلى الله عليه و سلم المدينة وأنا ابن عشر ومات وأنا ابن عشرين وأمهاتي كن يحثثنني على خدمته فدخل علينا دارنا فحلبنا له من شاة داجن وشيب له من بئر في الدار فشرب رسول الله صلى الله عليه و سلم و أبو بكر عن يساره وأعرابي عن يمينه و عمر ناحية فقال عمر : ناول أبا بكر فناول الأعرابي وقال : الأيمن فالأيمن رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر بن أبي شيبة وغيره عن سفيان وأخرجاه من حديث مالك وغيره عن الزهري

ہمیں خبر دی ابو الحسن محمد بن حسین بن داؤد علوی نے ان کو عبداللہ بن محمد بن حسن شرقی نے ان کوعبداللہ بن ہاشم بن حبان نے ان کو سفیان بن عیینہ نے ان کو زہری نے ان کوانس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینے میں تشریف لائے تو میں دس سال کا تھا اور جب آپ کا انتقال ہوا میں بیس سال کا تھا۔ اور میری مائی مجھے حضور کی خدمت پر آمادہ کرتی تھیں حضورصلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ہمارے گھر میں تشریف لائے ہم نے آپ کے لئے بکری کا دودھ دوہا۔ گھر میں کنواں تھا اس سے آپ کے لئے پانی لیا گیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا اور ابو بکر رضی اللہ عنہ ان کے بائیں جانب بیٹھے تھے اور ایک دوسرا یہائی دائیں جانب تھا اور عمر رضی اللہ عنہ ایک کونے میں تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اب ابو بکر رضی اللہ عنہ کو دیجئے۔ مگر حضور نے دیہاتی کو پہلے دی اور فرمایا کہ دائیں طرف سے۔ دائیں طرف سے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ابو بکر بن ابی شیبہ سےاور دیگر سے انہوں نے سفیان سے۔ اور بخاری ومسلم نے اس کو نقل کیا ہے حد یث مالک وغیرہ سے انہوں نے زہری سے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ ← عبد الله بن محمد بن الحسن الشرقي ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Drink a drink if he drinks in it from his right hand · Hadith 6033

chevron_left Previous
1…383940…78
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood