Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الجمع بين لونين إرادة للتعديل بينهما · حديث 5998

5999 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي ثنا جدي إسماعيل بن محمد ثنا محمد بن أيوب الرازي ثنا قاسم بن أمية و عبيد الله بن محمد قالا : ثنا يحيى بن قيس أبو زكريا ثنا هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كلوا البلح بالتمر فإن الشيطان يقول : عاش ابن آدم حتى أكل الجديد بالخلق

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ان کے دادا اسماعیل بن محمد نے ان کو محمد بن ایوب رازی نے ان کو قاسم بن امیہ نے اور عبیداللہ بن محمد نے دونوں نے کہا کہ میں حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن قیس ابو زکریا نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کوسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے وہ کہتی ہیں رسول اللہ نے فرمایا۔ کھاؤ کچی کھجور سوکھی کھجور کے ساتھ بے شک شیطان کہتا ہے ابن آدم عیش کرتا ہے یہاں تک کہ نئی چیز کو پرانی کے ساتھ کھاتا ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← يحيى بن قيس أبو زكريا ← قاسم بن أمية و عبيد الله بن محمد ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ الرَّازِيُّ ← جدي إسماعيل بن محمد ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The combination of two colors will adjust between them · Hadith 5998

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الجمع بين لونين إرادة للتعديل بينهما · حديث 5999

6000 - وأخبرنا ابن بشران و أبو القاسم الحرفي ببغداد قالا : ثنا أبو بكر الشافعي ثنا أبو يعلى محمد بن شداد ثنا أبو بكر : بإسناده مثله غير أن في حديث ابن شداد فإن الشيطان إذا رآه غضب زاد ابن بشران قال محمد بن شداد وكان أبو زكير ينزل المدينة وقم البصرة وكان ينزل خلف ولد سليمان تفرد بهذا الحديث أبو زكريا عن هشام

اور ہمیں خبر دی ابن بشران نے اور ابو القاسم حرفی نے بغداد میں دونوں نے کہا کہ ان کو حدیث بیان کی ابو بکر شافعی نے ان کو ابو یعلیٰ محمد بن شداد نے ان کو ابو بکر نے اپنی اسناد کے ساتھ مذکورہ روایت کی نقل سوائے اس کے کہ ابن شداد کی روایت میں ہے بے شک شیطان جب ابن آدم کوئی چیز پرانی کے ساتھ کھاتا ہوا دیکھتا ہے تو اس کو سخت رنج ہوتا ہے۔ ابن بشران نے اضافہ کیا ہے۔ محمد بن شداد نے کہا کہ ابو زکریا مدینہ میں آتا تھا قیام کرتا تھاو و بصرے میں بھی آتا ہے اور سلیمان کے بیٹے کے پیچھے قیام کرتا تھا اس حدیث کے ساتھ ابو زکریا متفرد ہے ہشام سے۔

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The combination of two colors will adjust between them · Hadith 5999

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الجمع بين لونين إرادة للتعديل بينهما · حديث 6000

6001 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا محمد بن الوزير الدمشقي ثنا الوليد بن مزيد قال : سمعت ابن جابر حدثني سليم بن عامر عن ابني بسر السلميين قالا : دخل علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقدمنا زبدا وتمرا وكان يحب الزبد والتمر

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو محمد بن وزیر دمشقی نے ان کو ولید بن فرید نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابن جابر سے اس نے مجھے حدیث بیان کی ہے سلم بن عامر سے بسر سلمین کے دو بیٹوں سے دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اور ہم نے مکھن اور کھجوریں آپ کو پیش کیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور اور مکھن کو پسند فرماتے تھے۔

ابْنَيْ بُسْرٍ السُّلَمِيَّيْنِ ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← ابْنِ جَابِرٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ مَزْيَدَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْوَزِيرِ الدِّمَشْقِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The combination of two colors will adjust between them · Hadith 6000

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الجمع بين لونين إرادة للتعديل بينهما · حديث 6001

6002 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا حاجب بن أحمد ثنا عبد الرحيم بن منيب ثنا الفضل بن موسى ح وأخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا محمد بن عبد العزيز بن أبي رزمة أنا الفضل بن موسى يعني الشيباني عن حسين بن واقد عن أيوب عن نافع عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : وددت أن عندي خبزة بيضاء من برة سمراء ملبقة بسمن ولبن فقام رجل من القوم فاتخذه فجاء به فقال : في أي شيء كان هذا قال : في عكة ضب قال : ارفعه قال أبو داود : هذا حديث منكر والله أعلم

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو حاجب بن احمد نے ان کو عبدالرحیم بن منیب نے ان کو فضل بن موسیٰ نے ”ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ہے ابو علی روذباری نے ان کو ابو بکر بن داسد نے ان کو ابو داؤد نے ان کو محمد بن عبدالعزیز بن ابو رزمہ نے ان کو فضل بن موسیٰ نے یعنی شیبانی نے ان کو حسین بن واقد نے ان کو ایوب نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں پسند کرتا ہوں کہ میرے پاس سفید روٹی ہو کندلی رنگ کی گندم سے جوڑی ہوئی ہو گھی اور دودھ میں۔ ایک آدمی کھڑا ہو گیا قوم میں سے اسے حاصل کیا اور اسے لے کر آ گیا۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کس چیز میں تھا اس نے جواب دیا کہ گوہ (کی کھال) کے کپی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اٹھا لو اس کو کہا ابو داؤد نے کہ یہ حدیث منکر ہے واللہ اعلم۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، ← الفضل بن موسى يعني الشيباني ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The combination of two colors will adjust between them · Hadith 6001

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ كراهية التنفس في الإناء والنفخ فيه · حديث 6002

6003 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ببغداد أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن يحيى بن أبي كثير عن عبد الله بن أبي قتادة عن أبيه قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يتنفس في الإناء أخرجاه في الصحيح من حديث هشام وغيره عن يحيى بن أبي كثير

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے بغداد میں ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو یحییٰ بن ابی کثیر نے ان کو عبداللہ بن ابی قتادہ نے ان کوان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں (پینے کے دوران) سانس لینے سے منع فرمایا تھا۔ اس کو بخاری ومسلم نے نقل کیا ہے حدیث ہشام وغیرہ سے اس نے یحییٰ بن ابی کثیر ہے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Avoid breathing in a bowl and blowing into it · Hadith 6002

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ كراهية التنفس في الإناء والنفخ فيه · حديث 6003

6004 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا عبد الله بن محمد النفيلي ثنا ابن عيينة عن عبد الكريم عن عكرمة عن ابن عباس قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن ييتنفس في الإناء أو ينفخ فيه قال الحليمي رحمه الله : وهذا لأن البخار الذي يرتفع من المعدة أو ينزل من الرأس وكذلك رائحة الجوف قد يكونان كريهين فإما أن يعلقا بالماء فيضرا وإما أن يفسدا السؤر على غير الشارب لأنه قد يتقذر إذا علم به فلا يشرب وذكر كليب الجرمي أنه شهد عليا رضي الله عنه نهى القصابين عن النفخ في اللحم وهو نظير النفخ في الطعام والشراب الذي جاء النهي عنه لأن النكهة ربما كانت كريهة فكرهت اللحم وغيرت ريحه وقد عرف ذلك بالتجارب

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے کو ابو داؤد نے ان کو عبداللہ بن محمد نفیلی نے ان کو ابن عیینہ نے ان کو عبدالکریم نے ان کو عکرمہ نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا برتن میں سانس لینے یا اس میں پھونک مارنے سے۔ شیخ حلیمی رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ سانس لینا اور پھونک مارنا اس لیے منع ہے کہ معدے سے اوپر کو اٹھنے والے اور سر سے نیچے کواترنے والے بخارات اور اسی طرح پیٹ کی بو کبھی نا گواراور بری ہوتی ہے۔ یا تو وہ پانی کے ساتھ معلق اور وابستہ ہو جائیں گے لہٰذا نقصان پہنچائیں گے۔ یا چھوٹے کو لینے والے کے علاوہ دوسرے کے لئے فاسد اور خراب کر دیں گے اس لئے کہ وہ کبھی کراہت کر سکتا ہے جب وہ جان لے کہ اس میں (کسی کے منہ کی ناگوار بو شامل ہے) لہٰذا بو نہیں پیئے گا۔ (یہ بندہ حقیر فقیر تقصیر ابو ارشد محمد اسماعیل کہتا ہے کہ یہ تو اہل علم کی اس وقت کی تحقیق ہے جس کو صدیاں بیت چکی ہیں یہ اس وقت کی ان کی طہارت و نظافت کی مثال ہے اگر وہ آج کے دور میں ہوتے تو کس قدر تاکید اور ممانعت فرماتے جب کہ آن کے سائنسی دور میں یہ بات اظہر من الشمس ہو چکی ہے کہ ہر جاندار اور ہر انسان کے منہ سے اور سانس والے بخارات سے لاتعداد جراثیم آگے برتنوں میں منتقل ہو کر بے کار بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ الغرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین صدیاں بیت جانے کے باوجود آج اس سائنسی دور میں سو فیصد درست اور علم و عقل کے عین مطابق ثابت ہو رہے ہیں اور حق ثابت ہو رہے ہیں جو کہ اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ فرامین تعلیمات الہٰی کا کرشمہ ہیں۔ (مترجم) اور کلیب جرمی نے ذکر کیا ہے کہ وہ حضرت علی المرتضیٰ کے ہاں حاضر ہوئے انہوں نے قصائیوں کو گوشت میں پھونکیں مارنے سے منع فرمایا تھا کہ وہ کھانے پینے میں پھونک مارنے کی طرح ہے جس کی ممانعت آ چکی ہے۔ اس لئے کہ منہ کی بو بسا اوقات ناپسندیدہ ہوتی ہے لہٰذا گوشت کو بھی وہ کراہت زدہ کر سکتی ہے اوراس کی بو کو متغیر کرسکتی ہےاور یہ بات بار بار کے تجربوں سے ثابت ہو چکی ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Avoid breathing in a bowl and blowing into it · Hadith 6003

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ كراهية التنفس في الإناء والنفخ فيه · حديث 6004

6005 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن الطرائفي ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا القعنبي فيما قرأ على مالك عن أيوب بن أبي حبيب مولى سعد بن أبي وقاص عن أبي المثنى الجهني أنه قال : كنت عند مروان بن الحكم فدخل عليه أبو سعيد الخدري فقال له مروان : أسمعت من رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن النفخ في الشراب فقال أبو سعيد : نعم قال : فقال له رجل : يا رسول الله إني لا أروى من نفس واحد فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : فأبن القدح عن فيك ثم تنفس قال : إني لأرى القذاة فيه قال : فأهرقها

ہمیں خبر دی ابو زکریا ابن ابی اسحٰق نے ان کو ابو الحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے کو قعنبی نے اس میں جو اس نے پڑھاما لک پر اس نے ایوب بن حبیب مولیٰ سعد بن ابی وقاص سے اس نے ابو المثنی جہنی سے انہوں نے کہا کہ میں مروان بن حکم کے پاس تھان کے پاس ابو سعید خدری آئے اور مروان نے ان سے کہا کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ انہوں نے پینے کی چیز میں پھونک مارنے سے منع کیا تھا ابو سعید نے فرمایا: جی ہاں میں نے سنا ایک آدمی نے کہا تھا یا رسول اللہ ! میں ایک سانس میں سیر نہیں ہوتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم فرمایا کہ پیالے کو اپنے منہ سے دور کر لیجئے پھر سانس لیجئے۔ اس نے کہا کہ میں اس میں کراہت محسوس کرتا ہوں آپ نے فرمایا پھر اسے تو گرا دے۔

لَهُ رَجُلٌ: ← أَبُو سَعِيدٍ: نَعَمْ، ← النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ ← له مروان أسمعت من رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى ← كُنْتُ عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، ← أبي المثنى الجهني أنه ← أيوب بن أبي حبيب مولى سعد بن أبي وقاص ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Avoid breathing in a bowl and blowing into it · Hadith 6004

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ كراهية التنفس في الإناء والنفخ فيه · حديث 6005

6006 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو بن السماك ثنا حنبل بن إسحاق ثنا الحميدي ثنا سفيان بن عيينة قال : أخبرت عن فرات بهذا الحديث فسألته عنه ولا أدري أثبته لي أم لا عن أبي حازم عن ابن عمر : أنه كره أن يشم الطعام كما يشمه السباع وقد روي فيه إسناد ضعيف ما

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو عمرو بن سماک نے ان کو حنبل بن اسحٰق نے ان کو حمیدی نے ان کو سفیان بن عیینہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کے بارے میں فرات کو خبر دی اور میں نے اس کے بارے میں پوچھا اور مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے میرے لئے اسے ثابت کیا تھا یا منع کیا تھا۔ ابو حازم سے مروی ہے اس نے ابن عمر سے کہ انہوں نے مکروہ جانا کہ کھانے کی چیز کو ایسے سونگھا جائے جیسے اس کو درندہ سونگھتا ہے۔اور تحقیق اس میں مروی ہے ضعیف اسناد کے ساتھ۔

أَبِي حَازِمٍ ← فرات بهذا الحديث فسألته عنه ولا أدري أثبته لي أم لا ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Avoid breathing in a bowl and blowing into it · Hadith 6005

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ كراهية التنفس في الإناء والنفخ فيه · حديث 6006

6007 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو الحسن الطرائقي ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا أحمد بن يونس ثنا زهير ثنا عباد بن كثير عن أبي عبد الله عن عطاء بن يسار عن أم سلمة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا تشموا الطعام كما يشمه السباع وبهذا الإسناد عن أم سلمة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا تقطعوا الخبز بالسكين كما تقطعه الأعاجم

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو الحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو زہیر نے ان کو عباد بن کثیر نے ان کو ابو عبداللہ نے ان کو عطاء بن یسار نے ان کو اُم سلمہ نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھانے کو ایسے نہ سونگھو جیسے اسے درندہ سونگھتا ہے۔ اور اسی اسناد کے ساتھ مروی ہے اُم سلمہ سے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ روٹی کو چھری سے نہ کاٹو جیسے عجمی اس کو کاٹتے ہیں۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← أبي عبد الله ← عباد بن كثير ← زُهَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِقِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Avoid breathing in a bowl and blowing into it · Hadith 6006

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الشرب بثلاثة أنفاس · حديث 6007

6008 - أخبرنا أبو القاسم زيد بن أبي هاشم العلوي ثنا أبو جعفر بن دحيم ثنا محمد بن الحسين الحنيني ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا هشام ثنا أبو عاصم ح وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر بن عبد الله أنا الحسن بن سفيان ثنا شيبان بن فروخ وأخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا محمد بن أبي بكر قالا : ثنا عبد الرزاق بن سعيد ثنا أبو عاصم عن أنس بن مالك قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا شرب تنفس ثلاثا ويقول إنه أمرأ وأهنأ وأبرأ لفظ حديث المقرئ وفي رواية العلوي : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان إذا شرب تنفس ثلاثا ويقول هو أهنأ وأمرأ وأبرأ رواه مسلم عن شيبان بن فروخ و يحيى بن يحيى وأخرجه من حديث وكيع عن هشام

ہمیں خبر دی ابو القاسم زید بن ابو ہاشم علوی نے ان کو ابو جعفر بن دحیم نے ان کو محمد بن حسین حسینی نے ان کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو ہشام نے ان کو ابو عاصم نے۔’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے ابو بکر بن عبداللہ نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو شیبان بن فروخ نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن محمد بن مقرئی نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابو بکر نے دونوں نے کہا کہ ان کو حدیث بیان کی عبدالرزاق بن سعید نے ان کو ابو عاصم نے ان کوانس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی چیز پیتے تھے تو تین بار سانس لیتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے اور زیادہ خوش ہضم ہے، اور زیادہ خوشگوار ہے۔ مقری کی حدیث کے الفاظ یہی ہیں۔ اور علوی کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب پیتے تھے تو تین بار سانس لیتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ زیادہ خوشگوار ہے اور زیادہ خوش ہضم ہے اور زیادہ پاکیزہ ہے۔ اور روایت کیا ہے اس کو مسلم نے ان کو شیبان بن فروخ اور یحییٰ بن یحییٰ نے۔ اور اس کو نقل کیا ہے حدیث وکیع سے اس نے ہشام سے۔

كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا شرب تنفس ثلاثا ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← عبد الرزاق بن سعيد ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← أَبُو عَاصِمٍ ← هِشَامٍ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحُنَيْنِيُّ ← أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ ← أبو القاسم زيد بن أبي هاشم العلوي

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Drinking with three breaths · Hadith 6007

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الشرب بثلاثة أنفاس · حديث 6008

6009 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو بن مطر أنا جعفر بن محمد بن الليث الزيادي ثنا عبيد الله بن محمد بن عائشة عن عبد الوارث بن أبي عصام عن أنس : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : مصوه مصا ولا تغبوه غبا

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو عمرو بن مطر نے ان کو جعفر بن محمد بن لیث زیادی نے ان کو عبیداللہ بن محمد بن عائشہ نے عبدالوارث بن ابو عصام سے انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے فرمایا: چسکیاں لو اس کی چسکیاں لینا نہ گھونٹ بھرو بڑے گھونٹ۔

مصوه مصا ولا تغبوه غبا ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَنَسٍ، ← عبد الوارث بن أبي عصام، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَائِشَةَ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اللَّيْثِ الزِّيَادِيُّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Drinking with three breaths · Hadith 6008

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الشرب بثلاثة أنفاس · حديث 6009

6010 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو الحسن بن سختويه العدل ثنا إسحاق بن الحسن بن ميمون ثنا أبو نعيم ثنا عروة بن ثابت عن ثمامة قال : كان أنس يتنفس في الإناء مرتين أو ثلاثا وزعم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يتنفس في الإناء ثلاث مرات رواه البخاري عن أبي نعيم ورواه مسلم من حديث وكيع عن عروة

ہمیں خبر دی ہے ابو علی روذباری نے ان کو ابو الحسن بن سختویہ عدل نے ان کو اسحٰق بن حسن بن میمون نے ان کو ابو نعیم نے ان کو عروہ بن ثابت نے ان کو ثمامہ نے کہا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ برتن میں دو بار سانس لیتے تھے یا تین بار اور وہ یہ گمان کرتے تھے کہ رسول اللہ برتن میں تین بار سانس لیتے تھے بخاری نے اس کو ابو نعیم سے روایت کیا ہے اور مسلم نے اس کو حد یث وکیع سے اس نے عروہ ہے۔ نوٹ۔۔۔۔۔فی بمعنی من کیا جائے تو یہ روایت دیگرے کے مطابق ہو جائے گی۔

كَانَ أَنَسٌ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا وَزَعَمَ ← ثُمَامَةَ ← عروة بن ثابت ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ، ← أبو الحسن بن سختويه العدل ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Drinking with three breaths · Hadith 6009

chevron_left Previous
1…363738…78
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood