Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأكل متكئا · حديث 5974

5975 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل الصفار ثنا الرمادي ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن يحيى بن أبي كثير : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : آكل كما يأكل العبد وأجلس كما يجلس العبد فإنما أنا عبد قال الإمام أحمد رحمه الله وقد عد الماضي أبو العباس رحمه الله ترك النبي صلى الله عليه و سلم الأكل متكئا من خصائصه ويحتمل أن يكون المختار لغيره أيضا أن يترك لأنه من فعل المتعظمين وأصله مأخوذ عن الأعاجم فإن كانت برجل علة في شيء من بدنه وكان لا يتمكن مما بين يديه إلا متكئا لم يكن في ذلك كراهية

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل صفار نے ان کو امادی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو یحییٰ بن ابی کثیر نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں غلاموں کی طرح کھاتا ہوں اور غلاموں کی طرح بیٹھتا ہوں بس بات فقط یہی ہے کہ میں بند ہوں۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ قاضی ابو العباس رحمہ اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سہارا لگا کر کھانے کے عمل کو ترک کرنے اورمکمل طور نہ کرنے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خصوصیات سے میں شمار کیا ہے اور احتمال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ دیگر لوگوں کے لئے بھی مختار اور افضل یہی ہو کہ سہارا لگانے کی حالت میں نہ کھائیں۔ اس لئے کہ متکبر لوگوں کا فعل ہے اور اس کا اصل عجمیوں سے ماخوذ ہے۔ ہاں اگر کسی آدمی کو تکلیف ہو جسم کے کسی حصے میں جس کی وجہ سے وہ سہارے کے بغیر نہ بیٹھ سکے تو تکیہ لگا کر کھانے میں حرج یا کراہت نہیں ہے۔

يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← الرمادي، ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Eating reclining · Hadith 5974

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأكل متكئا · حديث 5975

5976 - وقد أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن يزيد بن أبي زياد أخبرني من رأى ابن عباس : يأكل متكئا

اور تحقیق ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو یزید بن ابو زیاد نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے اس نے جس نے دیکھا ابن عباس رضی اللہ عنہ کو کہ وہ سہارا لگا کر کھا رہے تھے۔

مَنْ رَأَى ابْنَ عَبَّاسٍ يَأْكُلُ مُتَّكِئًا. ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← وقد

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Eating reclining · Hadith 5975

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأكل متكئا · حديث 5976

5977 - وبإسناده أنا معمر عن أيوب قال : كان ابن سيرين لا يرى باسا بالأكل والرجل متكئ

اپنی اسناد کے ساتھ ہمیں خبر دی ہے معمر نے ان کو ایوب نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین رحمتہ اللہ علیہ اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ کوئی آدمی تکیہ اور سہارا لگا کر کھائے۔

كان ابن سيرين لا يرى باسا بالأكل والرجل متكئ ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← وَبِإِسْنَادِهِ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Eating reclining · Hadith 5976

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأكل متكئا · حديث 5977

5978 - وبإسناده أنا معمر قال : سألت الزهري عن الأكل متكئا قال : لا بأس به أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر القطان ثنا أحمد بن يوسف ثنا سفيان عن صالح مولى التوأمة عن أبي هريرة أنه كان يأكل متكئا يد الشمال يعتمد عليه

اور اپنی اسناد کے ساتھ ہمیں خبر دی ہے معمر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے زہری سے سہارا لگا کر کھانے کی بابت پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر قطان نے ان کو احمد بن یوسف نے ان کو سفیان نے ان کو صالح مولیٰ تو أمہ نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ وہ سہارا لگا کر کھاتے تھے بائیں ہاتھ کے ساتھ ٹیک لگاتے تھے۔

أبي هريرة أنه كان يأكل متكئا يد الشمال يعتمد عليه ← صَالِحٍ مَوْلَی التَّوْأمَۃِ ← سُفْيَانَ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← لاَ بَأْسَ بِهِ. ← الأكل متكئا ← سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ ← مَعْمَرٌ، ← وَبِإِسْنَادِهِ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Eating reclining · Hadith 5977

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأكل والشرب قائما · حديث 5978

5979 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز ثنا جعفر بن محمد بن شاكر ثنا عفان ثنا همام و أبان عن قتادة عن أنس : أن النبي صلى الله عليه و سلم زجر عن الشرب قائما رواه مسلم عن هدبة بن خالد عن همام وأخرجه أيضا عن سعيد ابن أبي عروبة و همام الدستوائي عن قتادة

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر رزاز نے ان کو جعفر بن محمد بن شاکر نے ان کو عفان نے ان کو ہمام نے اور ابان نے ان کو قتادہ نے انس بن مالک سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈانٹا تھا کھڑے ہو کر کھانے اور پینے سے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ہدیہ بن خالد سے اس نے ہمام سے اور اس کو نقل کیا ہے انہوں نے سعید ابن ابو عروبہ سے اور ہمام دستوائی سے اس نے قتادہ سے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← همام و أبان ← عَفَّانُ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Eating and drinking stands up · Hadith 5978

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأكل والشرب قائما · حديث 5979

5980 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني علي بن عبد الله القطان عن شعبة عن قتادة عن أنس قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الشرب قائما قال : قلت : والأكل قال : ذاك أشر قال الحافظ : تفرد به يحيى القطان عن سعيد وروينا في معناه عن أبي سعيد الخدري و أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن عبداللہ قطان نے ان کو شعبہ نے ان کو قتادہ نے ان کو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منع فرمایا تھا کھڑے ہو کر پینے سے میں نے پوچھا کہ کھڑے ہو کر کھانا کیسا ہے انہوں نے بتایا کہ یہ اور زیادہ برا ہے۔ حافظ نے کہا ہے کہ اس روایت میں یحییٰ بن قطان کا تفرد ہے یحییٰ قطان سے وہ سعید سے۔ اور ہم نے اس کو روایت کیا ہے اسی مفہوم سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أبي سعيد الخدري و أبي هريرة ← سعيد وروينا في معناه ← الحافظ تفرد به يحيى القطان ← ذاك أشر ← قلت والأكل ← الشُّرْبِ قَائِمًا. ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← علي بن عبد الله القطان ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Eating and drinking stands up · Hadith 5979

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأكل والشرب قائما · حديث 5980

5981 - حدثنا أبو الحسن العلوي إملاء ثنا أبو حامد بن الشرقي ثنا أحمد بن سعيد الدارمي ثنا بكر بن بكار ثنا شعبة عن أبي زياد الطحان مولى الحسن بن علي قال : سمعت أبا هريرة يقول : رأى رسول الله صلى الله عليه و سلم رجلا يشرب قائما فقال أيسرك أن يشرب معك الهر ؟ قال لا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فد شرب معك الشيطان في ما شربت قال الإمام أحمد رحمه الله : يحتمل أن يكون النهي عن الشراب قائما على الإحسان والأدب في الشرب قاعدا أو لما فيه من الداء فيما زعم أهل الطب وخصوصا لمن كانت في أسافله علة يشكوها من برد أو رطوبة لا على التحريم فقد

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علوی نے بطور املا ء کے ان کو ابو حامد بن شرقی نے ان کو احمد بن سعید دارمی نے ان کو بکر بن بکار نے ان کو شعبہ نے ان کو ابی زیاد طحان مولیٰ حسن بن علی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کھڑے کھڑے پانی پیتے دیکھا تو اس سے پوچھا کیا تجھے پسند ہے کہ تیرے ساتھ بلّا پانی پیئے اس نے کہا کہ نہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تحقیق شیطان نے تیرے ساتھ پیا ہے اس پانی میں سے جو تم نے پیا ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ احتمال ہے کہ کھڑے ہو کر پینے کی نہی بطور ادب اور احسان کے ہو بیٹھ کر پینے سے یا اس لئے ہو کہ کھڑے ہو کر پینے میں بیماری ہے اہل طب کے خیال کے مطابق خصوصاً اس آدمی کے لئے جس کو نچلے اعضاء میں کوئی بیماری ہو جس کی وہ شکایت کرے سردی سے یا رطوبت سے۔لہٰذا یہ نہی برائے تحریم نہیں ہے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أبي زياد الطحان مولى الحسن بن علي ← شُعْبَةُ، ← بكر بن بكار ← أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ← أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Eating and drinking stands up · Hadith 5980

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأكل والشرب قائما · حديث 5981

5982 - أخبرنا أبو بكر محمد بن الحسن بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا شعبة أخبرني عبد الملك بن ميسرة قال : سمعت النزال بن سبرة يقول : صلى علي رضي الله عنه الظهر في الرحبة ثم جلس في حوائج الناس حتى حضرت العصر ثم أتى بكوز من ماء فصب منه كفا فغسل وجهه ويديه ومسح على رأسه ورجليه ثم قام فشرب فضل الماء وهو قائم ثم قال إن ناسا يكرهون أن يشربوا وهم قيام ورأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فعل مثل الذي فعلت وقال علي رضي الله عنه : هذا وضوء من لم يحدث أخرجه البخاري عن آدم عن شعبة

ہمیں خبر دی ابو بکر محمد بن حسن بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو شعبہ نے ان کو خبر دی عبدالملک بن میسرہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا نز ال بن سبرہ سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز کھیت والی سرزمین پر ادا کی اس کے بعد لوگوں کے مسائل کے لئے بیٹھ گئے یہاں تک کہ عصر کا وقت ہو گیا اس کے بعد پانی کا ایک لوٹا لایا گیا انہوں نے اسے ہاتھوں پر بہایا اور اپنا منہ دھویا اور دونوں ہاتھ دھوئے اور سر پر مسح کیا اور پیروں کا مسح کیا اس کے بعد کھڑے ہو کر پانی پیا وضو کا بچا ہوا پانی درانحالیکہ وہ کھڑے ہوئے تھے۔ اس کے بعد فرمانے لگے کہ بعض لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو مکروہ سمجھتے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ایسے کرتے ہوئے دیکھا تھا جیسے میں نے کیا ہے اور حضرت علی نے فرمایا: یہی وضو ہے اس شخص کا جو بے وضو نہیں ہوا۔ اس کو بخاری نے نقل کیا ہے آدم سے اس نے شعبہ سے۔

النَّزَّالِ بْنِ1 سَبْرَةَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Eating and drinking stands up · Hadith 5981

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأكل والشرب قائما · حديث 5982

5983 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا محمد بن شوذب المقرئ بواسط ثنا شعيب بن أيوب ثنا عمرو بن عوف عن خالد عن عطاء بن السائب عن ميسرة و زادان قالا : شرب علي قائما فقال : إن أشرب قائما فقد رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يشرب قائما وإن أشرب جالسا فقد رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يشرب جالسا

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو محمد بن شوذب مقری نے مقام واسط میں ان کو شعیب بن ایوب نے ان کو عمرو بن عوف نے ان کو خالد نے ان کو عطا بن سائب نے ان کو میسرہ نے ان کو زاذن نے دونوں نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر پانی پیا تھا اور فرمایا تھا کہ اگر میں نے کھڑے ہو کر پانی پیا ہے تو کوئی اچنبھے کی بات نہیں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر پانی پیتے دیکھا تھا اور اگر میں بیٹھ کر پانی پیوں تو کوئی غلط بات نہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر پانی پیتے دیکھا ہے۔

شَرِبَ عَلِيٌّ قَائِمًا ← ميسرة و زادان ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← خَالِدٌ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْفٍ، ← شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ← محمد بن شوذب المقري بواسط ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Eating and drinking stands up · Hadith 5982

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأكل والشرب قائما · حديث 5983

5984 - حدثنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا ابن الأعرابي ثنا عبد الرحمن بن محمد بن منصور ثنا عبد الرحمن بن مهدي ثنا سفيان عن عاصم عن الشعبي عن ابن عباس : أن النبي صلى الله عليه و سلم شرب من زمزم وهو قائم

ہمیں حدیث بیان کی ہے یوسف اصفہانی نے ان کو ابن اعرابی نے ان کو عبدالرحمٰن بن محمد بن منصور نے ان کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے ان کو سفیان نے ان کو عاصم نے ان کو شعبی نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم بیا حالانکہ آپ کھڑے ہوئے تھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← عَاصِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ← ابن الأعرابي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Eating and drinking stands up · Hadith 5983

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأكل والشرب قائما · حديث 5984

5985 - وأخبرنا علي بن عبدان ثنا سليمان بن أحمد الطبراني ثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم عن سفيان : فذكره رواه البخاري عن أبي نعيم وأخرجه مسلم من أوجه عن عاصم الأحول

ہمیں خبر دی علی بن عبدان نے ان کو سلیمان بن احمد فرائفی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو ابو نعیم نے ان کو سفیان نے اس نے اس مذکور کو ذکر کیا ہے۔ اور بخاری نے اس کو روایت کیا ہے ابو نعیم سے اور مسلم نے اس کو نقل کیا ہے کئی وجوہ سے عاسم احول سے۔

عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← أبي نعيم وأخرجه مسلم من أوجه ← سفيان فذكره رواه البخاري ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ← وأخبرنا علي بن عبدان

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Eating and drinking stands up · Hadith 5984

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأكل والشرب قائما · حديث 5985

5986 - أخبرنا أبو علي الروذباري و أبو الحسين بن بشران قالا : ثنا إسماعيل الصفار ثنا سعدان بن نصر ثنا أبو بدر عن زياد بن خيثمة عن عبد الله بن عيسى عن عبد الله بن عطاء عن عائشة قالت : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلي حافيا ومنتعلا ويشرب قائما وينصرف عن يمينه وعن شماله لا يبالي أي ذلك كان

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے اور ابو الحسین بن بشران نے دونوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے اسماعیل صفار نے ان کو سعید بن نصر نے کو ابو بدر نے ان کو زیاد بن خیثمہ نے ان کو عبداللہ بن عیسیٰ نے ان کو عبداللہ بن عطاء نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کونماز پڑھتے دیکھا جوتے اتار کر بھی اور جوتے پہن کر بھی اور دیکھا پانی پیتے کھڑے ہو کر بھی اور بیٹھ کر بھی۔ اور نماز کے بعد پیچھے کو پھرتے تھے دائیں طرف سے بھی اور بائیں طرف سے بھی کوئی پرواہ نہیں کرتے تھے پھرنے کے لئے ادھر سے پھیریں یا ادھر سے۔ (نوٹ)۔۔۔۔۔پھرنے کے بعد مقتدیوں کی طرف منہ کر کے بیٹھے تھے یہی سنت ہے جو لوگ قبلہ رخ سے بیٹھے دعا کرتے ہیں یا دائیں بائیں منہ کر کے بیٹھتے ہیں یہ سنت سے ثابت نہیں ہے۔

عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عَطَاءٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَی ← زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ، ← أَبُو بَدْرٍ؛ ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← أبو علي الروذباري و أبو الحسين بن بشران

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Eating and drinking stands up · Hadith 5985

chevron_left Previous
1…343536…78
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood