شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأكل متكئا · حديث 5974
5975 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل الصفار ثنا الرمادي ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن يحيى بن أبي كثير : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : آكل كما يأكل العبد وأجلس كما يجلس العبد فإنما أنا عبد قال الإمام أحمد رحمه الله وقد عد الماضي أبو العباس رحمه الله ترك النبي صلى الله عليه و سلم الأكل متكئا من خصائصه ويحتمل أن يكون المختار لغيره أيضا أن يترك لأنه من فعل المتعظمين وأصله مأخوذ عن الأعاجم فإن كانت برجل علة في شيء من بدنه وكان لا يتمكن مما بين يديه إلا متكئا لم يكن في ذلك كراهية
ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل صفار نے ان کو امادی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو یحییٰ بن ابی کثیر نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں غلاموں کی طرح کھاتا ہوں اور غلاموں کی طرح بیٹھتا ہوں بس بات فقط یہی ہے کہ میں بند ہوں۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ قاضی ابو العباس رحمہ اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سہارا لگا کر کھانے کے عمل کو ترک کرنے اورمکمل طور نہ کرنے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خصوصیات سے میں شمار کیا ہے اور احتمال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ دیگر لوگوں کے لئے بھی مختار اور افضل یہی ہو کہ سہارا لگانے کی حالت میں نہ کھائیں۔ اس لئے کہ متکبر لوگوں کا فعل ہے اور اس کا اصل عجمیوں سے ماخوذ ہے۔ ہاں اگر کسی آدمی کو تکلیف ہو جسم کے کسی حصے میں جس کی وجہ سے وہ سہارے کے بغیر نہ بیٹھ سکے تو تکیہ لگا کر کھانے میں حرج یا کراہت نہیں ہے۔
يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← الرمادي، ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ
Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Eating reclining · Hadith 5974
