Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ أكل اللحم · حديث 5926

5927 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري قال : سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم : أي الشراب أطيب قال : الحلو البارد هذا مرسل وكذا رواه ابن المبارك عن معمر و يونس عن الزهري مرسلا ورواه ابن عيينة عن معمر موصولا

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے کہ رسول اللہ سے پو چھا گیا کہ کون سا مشروب عمدہ ہوتا ہے آپ نے فرمایا کہ میٹھا ٹھنڈا۔ یہ مرسل ہے اور اسی طرح اس کو روایت کیا ہے ابن مبارک نے معمر سے اس نے یونس سے اس نے زہری سے بطور مرسل روایت کے اور اس کو ابن عیینہ نے معمر سے بطور موصول روایت کیا ہے۔

معمر موصولا ← الزهري مرسلا ورواه ابن عيينة ← معمر و يونس ← الحلو البارد هذا مرسل وكذا رواه ابن المبارك ← سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم أي الشراب أطيب ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Eat meat · Hadith 5926

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ أكل اللحم · حديث 5927

5928 - كما أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو عبد الرحمن السلمي قالا : أنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن شيبان ثنا سفيان عن معمر عن الزهري عن عروة عن عائشة قالت : أحب الشراب إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم الحلو البارد وكذلك رواه جماعة عن ابن عيينة والأول أصح ورواه زمعة بن صالح عن الزهري عن ابن المسيب عن أبي هريرة وليس بمحفوظ

جیسے ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو عبدالرحمٰن سلمی نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن شیبان نے ان کو سفیان نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے ان کو عروہ نے ان کو عائشہ نے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ کے نزدیک محبوب ترین مشروب ٹھنڈا اور میٹھا ہوتا تھا۔ اسی طرح اس کو روایت کیا ہے جماعت نے ابن عیینہ سے۔ اور پہلی زیادہ صحیح ہے۔ اور اس کو روایت کیا ہے زمعہ بن صالح نے زہری سے اس نے ابن مسیب سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور وہ محفوظ نہیں ہے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← سُفْيَانَ، ← أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو عبد الرحمن السلمي ← كَمَا

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Eat meat · Hadith 5927

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ أكل اللحم · حديث 5928

5929 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو محمد بن شوذب المقري الواسطي ثنا شعيب بن أيوب ثنا أبو أسامة ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن علي بن عفان العامري ثنا أبو أسامة عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يحب الحلواء والعسل رواه البخاري في الصحيح عن إسحاق الحنظلي عن أبي أسامة قال أبو سليمان : حبه صلى الله عليه و سلم الحلواء ليس على معنى كثرة التشهي لها وشدة نزاع النفس إليها وتأنق الصنعة في اتخاذها فعل أهل الشره والنهم وإنما هو أنه كان إذا قدم له الحلواء نال منها نيلا صالحا من غير تقدير فيعلم بذلك أنه قد أعجبه طعمها وحلاوتها وفيه دليل على جواز اتخاذ الحلاوات والأطعمة من أخلاط شتى

ہمیں خبر دی ہے ابو علی روذباری نے ان کو ابو محمد بن شوذب مقری واسطی نے ان کو شعیب بن ایوب نے ان کو ابو اسامہ نے ’’ح‘‘۔ اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن علی بن عفان عامری نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم حلوے اور شہد کو پسند کرتے تھے۔ بخاری نے اس کو صحیح میں روایت کیا ہے اسحاق حنظلی سے اس نے ابو اسامہ سے۔ ابو سلیمان نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حلوا کو پسند کرنے کا مطلب نہیں ہے کہ آپ کوان کی زیادہ خواہش ہوتی تھی۔۔ اور آپ کا نفس شدت کے ساتھ اس کی طرف کھینچتا تھا۔ اس کو بنانے میں شدت اشتیاق بھوکوں پیاسوں اور نہتوں کا فعل ہے۔ (حضور اس سے پاک تھے) پسند ہونے کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ جب حلوا اور کوئی میٹھی چیز آپ کو پیش کی جاتی تو اس میں سے آپ مناسب مقدار میں لے لیتے تھے۔اسی سے یہ سمجھا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کواس کا ذائقہ اور مٹھاس اچھا لگا۔ اسی میں دلیل ہے میٹھی چیزوں کو تیار کرنے اور مختلف چیزوں کو ملا کر کھانے بنانے کے جواز کی۔ کہ یہ درست اور جائز ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← أَبُو أُسَامَةَ ← شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ← أبو محمد بن شوذب المقرئ الواسطي ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Eat meat · Hadith 5928

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ أكل اللحم · حديث 5929

5930 - أخبرنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا الحسن بن محمد الصباح ثنا سعيد بن زكريا المدائني عن الزبير بن سعيد الهاشمي عن عبد الحميد بن سالم عن أبي هريرة قال : قال رسول الله : من لعق العسل ثلاث غدوات في كل شهر لم يصبه عظيم من البلاء أبدا

ہمیں خبر دی عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو احسن بن محمد صباح نے ان کو سعید بن زکریا مدائنی نے ان کو زبیر بن سعید ہاشمی نے ان کوعبدالحمید بن سالم نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہر ماہ تین صبح شہد چاٹ لیا کرے۔اس کو کوئی بڑی مصیبت بھی نہیں پہنچے گی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عبد الحميد بن سالم ← الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَاشِمِيُّ، ← سَعِيدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْمَدَائِنِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّبَّاحُ، ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Eat meat · Hadith 5929

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ أكل اللحم · حديث 5930

5931 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس الأصم ثنا إبراهيم بن إسحاق الصواف ثنا إسماعيل بن بهرام الخزاز ح و أخبرنا أبو حامد أحمد بن أبي خلف الإسفرائني بها أنا أبو بكر محمد بن يزداد بن مسعود الجوسقاني ثنا محمد بن عبد الله بن سليمان ثنا إسماعيل بن بهرام الأشجعي ثنا مسعر عن حشرم عن عامر بن مالك قال : بعثت إلى النبي صلى الله عليه و سلم من وعك كان بي التمس منه دواء أو شفاء فبعث إلي بعكة من عسل لفظهما سواء غير أن في حديث الصواف عن مسعر بن كدام

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو ابراہیم بن اسحاق صواف نے ان کو اسماعیل بن بہرام خزاز نے ’’ح‘‘۔اور ہمیں خبر دی ہے ابو حامد احمد بن ابو خلف اسفرائنی نے وہاں پر۔ ان کو ابو بکرمحمد بن یزداد بن مسعود جوسقانی نے ان کو محمد بن عبداللہ بن سلیمان نے ان کو اسماعیل بن بہرام اشجعی نے ان کو مسعر نے ان کو حشرم نے ان کو عامر بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک برتن بھیجا میں اس سے شفاء طلب کرتا تھا حضور نے میرے پاس شہد کا ایک کپہ بھیجا۔ دونوں کے الفاظ برابر ہیں سوائے اس کے کہ صواف کی حدیث میں ہے مسعد بن کدام سے۔

عَامِرِ بْنِ مَالِکٍ ← حشرم ← مِسْعَرٍ، ← إسماعيل بن بهرام الأشجعي ← محمد بن عبد الله بن سليمان ← أبو بكر محمد بن يزداد بن مسعود الجوسقاني ← أبو حامد أحمد بن أبي خلف الاسفرايني بها ← و، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ بَهْرَامَ الْخَزَّازُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّوَّافُ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Eat meat · Hadith 5930

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ أكل اللحم · حديث 5931

5932 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا علي بن المؤمل ثنا الكديمي ثنا أبو عاصم ثنا يزيد بن إبراهيم عن ليث بن أبي سليمان قال : أول من خبص الخبيص عثمان بن عفان قدمت عليه غير كمل النقي والعسل فخلط بينهما وعمل الخبيص وبعث به إلى منزل أم سلمة فلم يصادف النبي صلى الله عليه و سلم فلما وضعته بين يديه وأكله فاستطابه فقال : من بعث هذه قالت : عثمان بن عفان فقال النبي صلى الله عليه و سلم : اللهم إن عثمان يترضاك فارض عنه هذا منقطع

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو علی بن مومل نے ان کو کدیمی نے ان کو ابو عاصم نے ان کو یزید بن ابراہیم نے ان کو لیث بن ابو سلیمان نے وہ کہتے ہیں کہ پہلا شخص جس نے کھجور اور گھی کا حلوا بنایا تھا وہ عثمان بن عفان تھے ان کے پاس شہد اور کوئی چیز بھیجی گئی انہوں نے ان کو ملا کر حلوا تیار کیا اور بی بی اُم سلمہ کے گھر بھیج دیا اتفاق سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم موجود نہیں تھے جب آئے تو انہوں نے ان کے آگے رکھا آپ نے اس میں سے کھا یا آپ نے اس کو عمدہ قرار دیا اور پوچھا کہ کس نے تمہارے پاس یہ بھیجا ہے اُم سلمہ نے بتایا کہ عثمان بن عفان نے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: اے اللہ ! عثمان تیری رضا ڈھونڈھتا ہے تو اس سے راضی ہو جا۔ یہ روایت منقطع ہے۔

ليث بن أبي سليمان ← يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو عَاصِمٍ ← الكديمي ← عَلِيُّ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Eat meat · Hadith 5931

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ أكل اللحم · حديث 5932

5933 - و أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا محمد بن عبد الله بن قريش ثنا الحسن بن سفيان ثنا محمد بن المتوكل ثنا الوليد بن مسلم ثنا محمد بن حمزة بن يوسف بن عبد الله بن سلام عن أبيه عن جده أو غيره قال : خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى المربد فإذا عثمان بن عفان يقود ناقة تحمل دقيقا وعسلا وسمنا فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : انخ فأناخ فدعا رسول الله صلى الله عليه و سلم ببرمة فجعل فيها من الدقيق والسمن والعسل ثم أمر فأوقد تحتها حتى نضج وأدرك ثم قال لأصحابه : كلوا وأكل رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم قال هذا شيء تدعوه فارس الخبيص

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابو محمد عبداللہ بن قریش نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو محمد بن متوکل نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کو محمد بن حمزہ بن یوسف بن عبداللہ بن سلام نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے یاد دیگر نے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ کی طرف نکلے تو دیکھا عثمان بن عفان ایک اونٹنی کو پکڑ کر لا رہے ہیں جس پر آٹا اور شہد اور گھی لدا ہوا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فرمایا: انٹنی کو بیٹھا، بیٹھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہنڈیا منگوائی اس میں سے آپ نے گھی آٹا اورشہد نکالا اس کے بعد حکم دیا اس کے نیچے آگ جلائی یہاں تک کہ وہ پک کر تیار ہو گیا پھر آپ نے اپنے صحابہ سے کہا کہ سب کھاؤ اور آپ نے خود بھی کھایا اس کے بعد فرمایا کہ یہی شئی ہے جس کو اہل فارس خبیص بولتے ہیں۔

جده أو غيره ← أَبِيهِ ← محمد بن حمزة بن يوسف بن عبد الله بن سلام ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرَيْشٍ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Eat meat · Hadith 5932

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ أكل اللحم · حديث 5933

5934 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر محمد بن أحمد بن سعيد ثنا أبو يحيى زكريا بن الحارث البزاز ثنا الحسن بن السراج الأزدي ثنا سهيل بن أبي سهل ثنا بقية عن محمد بن زياد الألهاني عن أبي أمامة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قلب المؤمن حلو يحب الحلاوة أورده شيخنا في التاريخ في ترجمة سهل بن بشر بن القاسم النيسابوري ومتن الحديث منكر وفي إسناده من هو مجهول

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر محمد بن احمد بن سعید نے ان کو ابو یحییٰ زکریا بن حارث بزاز نے ان کو حسن بن سراج ازدی نے ان کو سہل بن ابو سہل نے ان کو بقیہ نے ان کو محمد بن زیاد الہانی نے ان کو ابو امامہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کا دل میٹھا ہوتا ہے ، وحلاوت اور میٹھے پن کو پسند کرتا ہے۔ ہمارے شیخ نے اس کو تاریخ میں نقل کیا ہے سہل بن بشر بن قاسم نیساپوری کے عنوان میں۔ اور حدیث کا متن منکر ہے اور اسناد میں مجہول راوی ہے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيُّ ← بَقِيَّةُ ← سهيل بن أبي سهل ← الحسن بن السراج الأزدي ← أبو يحيى زكريا بن الحارث البزاز ← أبو جعفر محمد بن أحمد بن سعيد، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Eat meat · Hadith 5933

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ أكل اللحم · حديث 5934

5935 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا إبراهيم بن دنوقا ثنا أبو معمر ثنا إسماعيل بن إبراهيم عن يونس يعني ابن عبيد عن الحسن عن جابر بن عبد الله قال : صلينا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم الظهر أو العصر فلما سلمنا قال : على أماكنكم مكانكم قال : وأهديت له جرة فيها حلواء فجعل يأتي على رجل رجل فيلعقه حتى أتي علي وأنا غلام فألعقني لعقة ثم قال : أزيدك فقلت : نعم فألعقني أخرى لصغري فلم يزل كذلك حتى أتى على آخر القوم

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو ابراہیم دنوقانے ان کو ابو معمر نے ان کو اسماعیل بن ابراہیم نے یونس سے یعنی ابن عبید سے اس نے حسن سے اس نے جابر بن عبداللہ سے وہ کہتے ہیں ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی یا عصر کی نماز پڑھی جب ہم سلام پھیر چکے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی اپنی جگہ پر بٹھے رہو۔ فرمایا کہ میرے پاس ایک مٹی کا برتن ہدیہ کیا گیا ہے جس میں میٹھی چیز ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے سب کے پاس جا کر آپ نے چٹانا شروع کیا میرے پاس جب پہنچے اور مجھے ایک بار چٹانے کے بعد فرمایا کہ تجھے اور دوں کیونکہ میں چھوٹا تھا لہٰذا اس لئے مجھے مزید چٹوایا اسی طرح آپ نے سب کو میٹھی چیز یا حلوا کھلایا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الْحَسَنِ، ← يُونُسَ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو مَعْمَرٍ، ← إبراهيم بن دنوقا ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Eat meat · Hadith 5934

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ أكل اللحم · حديث 5935

5936 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد أنا أحمد بن علي الخزاز ثنا إبراهيم بن عرعرة الشامي ثنا فضالة بن حصين العطار الضبي ثنا محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أتي أحدكم بالطيب فليمس منه وإذا أتي بالحلواء فليصب منه تفرد به فضالة بن حصين العطار وكان متهما بهذا الحديث والله أعلم

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کواحمد بن علی خزاز نے ان کو ابراہیم بن عرعرہ شامی نے ان کو فضالہ بن حصین عطار ضبی نے ان کو محمد بن عمر نے ان کو ابو سلمہ نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے پاس خوشبو آئے تو اس میں سے ضرور لگائے اور جب کوئی میٹھی چیز آئے تو ضرور کھائے۔ اس روایت میں فضالہ بن حصین عطار منفرد ہے اور اس حدیث کی وجہ سے ان پر تہمت بھی ہے۔ واللہ اعلم۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← فضالة بن حصين العطار الضبي ← إبراهيم بن عرعرة الشامي ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Eat meat · Hadith 5935

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ أكل اللحم · حديث 5936

5937 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو بن السماك ثنا حنبل بن إسحاق ثنا بكار بن محمد ثنا عبد الله بن عون قال : ما أتينا ابن سيرين في يوم عيد قط إلا أطعمنا خبيصا أو فالوذق

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابوعمرو بن سماک نے ان کو حنبل بن اسحاق نے ان کو بکار بن محمد نے ان کو عبداللہ بن عون نے وہ کہتے ہیں کہ ہم جب بھی کبھی حضرت ابن سیرین کے پاس عید کے دن گئے انہوں نے یا تو ہمیں حلوا کھلایا یا فالودہ کھلایا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْنٍ، ← بَكَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Eat meat · Hadith 5936

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ أكل اللحم · حديث 5937

5938 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصفار ثنا أحمد بن مهران ثنا أبو نعيم ثنا سفيان عن عبد الله بن عيسى بن عبد الرحمن بن أبي ليلى ح و أخبرنا علي بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا أبو شعيب عبد الله بن الحسن الحراني ثنا أحمد بن يونس ثنا زهير ثنا عبد الله بن عيسى عن عطاء بن أبي أسيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم وفي رواية سفيان عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : كلوا الزيت وادهنوا به فإنه من شجرة مباركة أخرجه أبو عيسى في كتابه من حديث الثوري و عطاء هذا فقال إنه من أهل الشام

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو احمد بن مہران نے ان کو ابو نعیم نے ان کو سفیان نے ان کو عبداللہ بن عیسیٰ بن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے ”ح‘‘ اور ہمیں خبر دی علی بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابو شعیب نے ان کو عبداللہ بن حسن خرانی نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو زہیر نے ان کو عبداللہ بن عیسیٰ ٰ نے ان کو عطاء بن ابی اسید نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور سفیان کی ایک روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زیتون کھاؤ اور اس کی مالش کرو بے شک وہ برکت والے درخت سے ہے۔ اس کو ابو عیسیٰ نے نقل کیا ہے اپنی کتاب میں ثوری کی حدیث میں اور عطا کی جو کہ یہی ہے۔اس نے کہا کہ وہ اہل شام سے ہے۔

عطاء بن أبي أسيد ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَی ← زُهَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← علي بن عبدان، ← و، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Eat meat · Hadith 5937

chevron_left Previous
1…303132…78
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood