شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل لا يعيب طعاما قدم إليه · حديث 5866
5867 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الحسين علي بن عبد الرحمن الدهقان بالكوفة و أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن أنا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم قالا ثنا إبراهيم بن عبد الله العبسي أنا وكيع عن الأعمش قال : أظن أبا الحازم ذكره عن أبي هريرة قال : ما عاب رسول الله صلى الله عليه و سلم طعاما قط إن اشتهاه أكله وإلا تركه أخرجاه في الصحيح من أوجه عن الأعمش عن أبي حازم قال الحليمي رحمه الله : وهذا والله أعلم إذا عاب الرجل الطعام نفسه فأما إذا عاب الصانع له ليعلمه مواضع التقصير فيحتفظ منها في المستأنف ولم يعنف عليه ولم يسمعه ما يكره فلا حرج في ذلك والله أعلم قال الإمام أحمد
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسین علی بن عبدالرحمٰن دهقان نے کوفے میں۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو بکر احمد بن حسن نے ان کو ابو جعفر محمد بن علی بن دحیم نے دونوں نے کہا کہ ان کو حدیث بتائی ہے ابراہیم بن عبداللہ عبسی نے ان کو وکیع نے ان کو اعمش نے کہتے ہیں کہ میں نے گمان کیا ہے کہ ابو حازم نے اس کو ذکر کیا ہے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے کا عیب نہیں نکالا اگر اس کی خواہش ہوئی تو کھا لیاورنہ پھوڑ دیا۔ بخاری ومسلم نے اس کو نقل کیا ہے کی وجوہ سے اعمش سے اس نے ابو حازم سے۔ شیخ حلیمی رحمہ اللہ ے فرمایا کہ یہ عیب نکالنا اس وقت برا ہے جب نفس کھانے کو برا کہے اور بہرحال اگر اس کے بنانے والے کے بنانے میں عیب نکالے اس کی کوتاہی کی اس کو نشاندہی کرنے کے لئے تو اس کو اس کی طرف سے محفوظ کیا جائے گا اور اس کو سکھانے کے لئے تو برا نہیں ہے کیونکہ اس طرح کرنے سے کھانے کو برا کہنا نہیں ہے بلکہ بنانے والے کی اصلاح مقصود ہے۔لہٰذا یہ مکروہ نہیں ہے اور اس میں حرج نہیں ہے۔ امام احمد نے فرمایا۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أظن أبا الحازم ذكره ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَبْسِيُّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ ← أبو الحسين علي بن عبد الرحمن الدهقان بالكوفة و ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter not defective food presented to him · Hadith 5866
