Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأكل مما يليه · حديث 5842

5843 - أخبرنا أبو القاسم علي بن محمد بن يعقوب الايادي ببغداد ثنا منجاب أبي القاسم الطبري أنا أحمد بن يوسف بن خلاد النصيبي ثنا عبيد بن عبد الواحد ثنا ابن أبي مريم أنا محمد بن جعفر أخبرني محمد بن عمرو بن حلحلة عن وهب بن كيسان عن عمر بن أبي سلمة أنه قال : أكلت مع النبي صلى الله عليه و سلم يوما فجعلت آخذ من اللحم من حول الصحفة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كل مما يليك رواه البخاري عن عبد العزيز بن عبد الله عن محمد بن جعفر ورواه مسلم عن الحسن بن علي الحلواني و أبي بكر بن أبي إسحاق عن سعيد بن أبي مريم

ہمیں خبر دی ہے ابو القاسم علی بن محمد بن یعقوب ایادی نے بغداد میں ان کو منجاب ابو القاسم طبری نے ان کو احمد بن یوسف بن خلاد نصیبی نے ان کو عبید بن عبدالواحد نے ان کو ابن ابی مریم نے ان کو محمد بن جعفر نے ان کو خبر دی محمد بن عمرو بن حلحلہ نے ان کو وہب بن کیسان نے ان کو عمر بن ابی سلمہ نے کہ انہوں نے کہا میں نے ایک دن نبی کریم کے ساتھ کھانا کھایا میں گوشت کی بوٹیاں پیالے کے اردگرد سے لینے لگا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے قریب سے کھاؤ۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے عبدالعزیز بن عبداللہ سے اس نے محمد بن جعفر سے اور اس کو روایت کیا ہے مسلم نے حسن بن علی حلوائی اور ابو بکر بن ابی اسحاق سے ان کو سعید بن ابی مریم نے۔

عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ← أحمد بن يوسف بن خلاد النصيبي ← منجاب أبي القاسم الطبري ← أبو القاسم علي بن محمد بن يعقوب الايادي

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Eating the next · Hadith 5842

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأكل مما يليه · حديث 5843

5844 - أخبرنا الإمام أبو عثمان الصابوني أنا أبو سعيد عبد الله بن محمد بن عبد الوهاب الرازي ثنا يوسف بن عاصم ثنا أبو موسى محمد بن المثنى ثنا العلاء بن الفضل بن عبد الملك بن أبي سوقة المنقري أبو الهذيل حدثني عبد الله بن عكراش عن أبيه عكراش بن ذؤيب قال : بعثني بنو مرة بن عبيد بصدقات أموالهم إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقدمت المدينة فإذا هو جالس بين المهاجرين والأنصار قال : فقدمت عليه بإبل كأنها عروق الأرض يعني من الرطوبة فقال : من الرجل قلت : عكراش بن ذؤيب فقال : ارفع في النسب فقلت : ابن مرقوص بن عمرو بن النزال بن مرة بن عبيد وهذه صدقات بني مرة بن عبيد فتبسم رسول الله صلى الله عليه و سلم وقال : هذه إبل قومي هذه صدقات قومي قال : ثم أمر بها أن توسم بميسم الصدقة ثم تضم إليها ثم أخذ بيدي فانطلق بي إلى منزل أم سلمة فقال : هل من طعام فأتينا بجفنة كثيرة الثرود والأدم فأقبلنا نأكل منها فتخبطت في نواحيها فأكل رسول الله صلى الله عليه و سلم مما بين يديه فقبض رسول الله صلى الله عليه و سلم يده اليسرى على يدي اليمنى فقال : يا عكراش كل من موضع واحد فإنه طعام واحد ثم أتينا بطبق فيه ألوان من رطب أو تمر ـ شك عبيد الله رطب عنى أو تمر ـ فجعلت آكل مما بين يدي وجالت يد رسول الله صلى الله عليه و سلم في الطبق فقال : يا عكراش كل من حيث شئت فإنه لون واحد ثم أتينا بماء فغسل رسول الله صلى الله عليه و سلم بتلك يديه ثم مسح بتلك كفيه وذراعيه وقال : يا عكراش هذا الوضوء مما غيرت النار

ہمیں خبر دی ابو عثمان صابونی نے ان کو ابو سعید عبد الله بن محمد بن عبدالوہاب رازی نے ان کو یوسف بن عاصم نے ان کو ابو موسیٰ محمد بن مثنٰی نے ان کو علاء بن فضل بن عبدالملک بن ابوسوقہ المعقری ابو الہذیل نے ان کو حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن عکراش نے ان کو ان کے والد عکراش بن ذویب نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے بھیجا بنو مرہ بن عبید نے اپنے مالوں کے صدقات دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میں مدینے میں آیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین وانصار کے درمیان تشریف فرما تھے۔ میں نے ان کو اونٹ پیش کئے گویا کہ وہ رطوبت کی وجہ سے زمین کی رگیں ہیں آپ نے فرمایا کہ کون جوان ہو تم؟ میں نے جواب دیا کہ عکراش بن ذوئب ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اوپر کی طرف اپنا نسب بیان کیجئے میں نے بتایا کہ ابن مرقوص بن عمرو بن نزال بن مرہ بن عبید اور یہ صدقات بنی مرۃ بن عبید کے ہیں لہٰذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ میری قوم کے اونٹ ہیں یہ صدقات میری قوم کے ہیں۔ اس کے بعد آپ نے حکم دیا کہ ان جانوروں کو نشان صدقہ لگائے جائیں نشان لگانے کے آلے کے ساتھ اس کے بعد ان کو ان کے ساتھ ملا دیا جائے اس کے بعد آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ام المؤمنین اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر لے گئے۔ آپ نے پوچھا کہ کھانا ہے؟ ہمارے پاس ایک تھال کثیر ثرید اور گوشت والا لے آئیے (وہ لے آئیں) اور ہم لوگ کھانے لگے میں اس برتن کے کناروں سے ڈھونڈھنے لگا۔ اور رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آگے سے کھایا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں ہاتھ کے ساتھ میرے دائیں ہاتھ کو پکڑا اور فرمایا: اے عکراش ایک جگہ سے کھائیے۔ یہ ایک ہی کھانا ہے اس کے بعد ہمارے پاس ایک تھال لایا گیا جس میں مختلف قسم کی کھجوریں تھیں تازہ بھی سوکھی بھی عبیداللہ نے شک کیا ہے کہ مختلف قسم سے مراد تازہ اور خشک کھجوریں مراد ہیں ؟لہٰذا اب میں نے اپنے آگے سے کھجوریں کھانا شروع کیں مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پورے تھال میں گھوم رہا تھا لہٰذا آپ نے اب فرمایا: اے عکراش! جہاں سے تم چاہو کھاؤ کیونکہ یا ایک ہی طرح کی کھجوریں نہیں ہیں۔ اس کے بعد ہمارے پاس پانی لایا گیا آپ نے اس کے ساتھ دونوں ہاتھ دھوئے اور اس کے ساتھ دونوں ہتھیلیاں اور کلائیاں آپ نے پونچ لیں اور فرمایا اے عکراش یہ وضو ہے اس چیز سے جس کو آپ نے متغیر کیا ہے۔

أَبِيه عكراش بن ذُؤَيْب، ← عبد الله بن عكراش ← العلاء بن الفضل بن عبد الملك بن أبي سوقة المنقري أبو الهذيل ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← يوسف بن عاصم، ← أبو سعيد عبد الله بن محمد بن عبد الوهاب الرازي ← الإمام أبو عثمان الصابوني

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Eating the next · Hadith 5843

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأكل مما يليه · حديث 5844

5845 - أخبرناه عاليا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن إسحاق بن أيوب الضبعي أنا إسماعيل بن إسحاق ثنا أبو الهذيل العلاء بن عبد الملك بن أبي سوية المنقري ثنا عبيد الله بن عكراش حدثني أبي عكراش بن ذؤيب قال : بعثني بنو مرة بن عبيد بصدقات أموالهم إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقدمت فوجدته جالسا بين المهاجرين والأنصار وذكر الحديث غير أنه قال : كثيرة الثريد والقدد فجعلت أخبط في نواحيها وزاد : في الوضوء ورأسه

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر احمد بن اسحاق بن ابو ایوب ضبعی نے ان کو اسماعیل بن اسحٰق نے ان کو ابو الہذیل علاء بن عبدالملک بن ابوسو یہ منقری نے ان کو عبیداللہ بن عکراش نے ان کو ابو عکراش بن ذویب نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے بنو مرہ بن عبید نے اپنے مالوں کے صدقات دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ میں آیا تو میں نے آپ کو مہاجرین وانصار کے مابین بیٹھے ہوئے پایا۔ اور اس نے حدیث ذکر کی سوا اس کے کہ انہوں نے فرمایا: زیادہ سرید اور زیادہ بوٹیوں والا۔ پس میں برتن کے کناروں سے ہاتھ مارنے لگا۔ اس راوی نے وضو میں لفظ و راسہ کا اضافہ کیا ہے۔

أبي عكراش بن ذؤيب ← عبيد الله بن عكراش، ← أبو الهذيل العلاء بن عبد الملك بن أبي سوية المنقري ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أبو بكر أحمد بن إسحاق بن أيوب الضبعي ← عاليا أبو عبد الله الحافظ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Eating the next · Hadith 5844

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأكل مما يليه · حديث 5845

5846 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس هو الأصم ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا أحمد بن حنبل ثنا عبيد بن القاسم نسيب سفيان الثوري ثنا هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يأكل من الطعام مما يليه فإذا جاؤؤا بالتمر جول أو جالت يده في الإناء كذا رواه الصلت بن مسعود عن عبيد وقال : جالت يده في الإناء تفرد به عبيد هذا وقد رواه يحيى بن معين بالكذب

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا۔ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس اصم نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو احمد بن حنبل نے ان کو عبید بن قاسم نسیب سفیان ثوری نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آگے سے کھایا کرتے تھے۔ جب خشک کھجوریں لاتے تو پھر پورے برتن میں آپ کا ہاتھ گھومتا تھا۔ اسی طرح اس کو روایت کیا ہے ابن صلت بن مسعود نے عبید ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کا ہاتھ برتن میں گھومتا تھا۔ اس روایت میں عبید متفرد ہے اور یحییٰ بن معین نے کذب کے ساتھ متہم کیا ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عبيد بن القاسم نسيب سفيان الثوري ← أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Eating the next · Hadith 5845

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأكل من جوانب القصعة دون وسطها · حديث 5846

5847 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر بن محمد بن درستويه ثنا يعقوب بن سفيان ثنا عمرو بن عثمان بن كثير بن دينار ثنا أبي ثنا محمد بن عبد الرحمن اليحصبي ثنا عبد الله بن بشر قال : أهديت للنبي صلى الله عليه و سلم شاة والطعام يومئذ قليل فقال لأهله اطبخوا هذه الشاة وانظروا إلى هذا الدقيق فاخبزوه واثردوا عليه وكانت للنبي صلى الله عليه و سلم قصعة يقال لها الغراء أو الغرا يحملها أربعة رجال فلما أصبح وسجد الضحى أتي بتلك القصعة والتقوا عليها فلما كثر الناس جثى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال أعرابي : ما هذه الجلسة فقال النبي صلى الله عليه و سلم : إن الله جعلني عبدا كريما ولم يجعلني جبارا عنيدا ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كلوا من جوانبها وذروا ذروتها يبارك فيها ثم قال : كلوا فو الذي نفسي بيده ليفتحن عليكم أرض فارس والروم حتى يكثر الطعام فلا يذكر اسم الله عليه

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل قیطان نے ان کو عبداللہ بن جعفر بن محمد بن درستویہ نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو عمرو بن عثمان بن کثیر بن دینار نے ان کو ان کے والد نے ان کو محمد بن عبدالرحمٰن یحصبی نے ان کو عبداللہ بن بشر نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بکری ہدیہ کی گئی ان دنوں غلہ کم ہونا تھا آپ نے اپنے گھر والوں سے کہا اس بکری کا گوشت پکا لو اور آٹا دیکھو جو کچھ ہے پکا دو اور اس کا ثرید بنا دو۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کھاناکھلانے کا ایک بڑا قصعہ اور برتن تھا جسے غراء یا غرا کہتے تھے اسے چار آدمی اٹھاتے تھے۔ آپ نے جب صبح کی اور چاشت کی نماز پڑھ لی تو وہ قصعہ اور برتن لایا گیا سب لوگ اس برتن کے گرد مل کر بیٹھ گئے لوگ جب زیادہ ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھٹنوں کے بل بیٹھے یعنی دونوں گھٹنے نیچے ڈال لئے۔ ایک دیہاتی نے کہا کہ یہ کون سا بیٹھنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے کریم وشریف بندہ بنایا ہے مجھے زبردستی کرنے والاسرکش نہیں بنایا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب لوگ اس برتن کے کناروں کناروں سے کھاؤ اور اس کے بیچ کی چوٹی کو چھوڑ دو اس میں برکت ہو گی۔اس کے بعد فرمایا: کھاؤ پس قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے البتہ تمہارے اوپر ضرور فارس اور روم کی سرزمین فتح ہو گی یہاں تک کہ غلہ اناج کھانا کثیر مقدار میں ہو گا مگر اس پر اللہ کا نام ذکر نہیں کیا جائے گا۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْيَحْصِبِيُّ ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عبد الله بن جعفر بن محمد بن درستويه ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Eating from the sides of the bowl without the middle · Hadith 5846

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأكل بثلاثة أصابع ولعقها بعد الفراغ · حديث 5847

5848 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ و محمد بن موسى بن الفضل قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا أبو معاوية عن هشام بن عروة عن عبد الرحمن بن سعد عن أبي بن كعب بن مالك عن أبيه قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يأكل بثلاثة أصابع ولا يمسح يده حتى يلعقها رواه مسلم عن يحيى بن يحيى عن أبي معاوية

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے اورمحمد بن موسیٰ بن فضل نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو عبدالرحمٰن بن سعید نے ان کو ابی بن کعب بن مالک نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین انگلیوں کے ساتھ کھاتے تھے اوران کو چاٹ لینے سے پہلے پونچھتے اور صاف نہیں کرتے تھے۔ اس کو مسلم نے یحییٰ بن یحییٰ سے اس نے ابو معاویہ سے روایت کیا ہے۔

أَبِيهِ ← أبي بن كعب بن مالك ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← محمد بن عبد الله الحافظ و محمد بن موسى بن الفضل

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Eating with three fingers and licking it after void · Hadith 5847

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأكل بثلاثة أصابع ولعقها بعد الفراغ · حديث 5848

5849 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر القطان ثنا أحمد بن يوسف ثنا محمد بن يوسف قال : ذكر سفيان عن ابن جريج عن عبيد الله بن يزيد قال : كنا نتعشى مع ابن عباس فرأيته أكل بأصابعه الثلاثة

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر قطان نے ان کو احمد بن یوسف نے ان کو محمد بن یوسف نے وہ کہتے ہیں کہ سفیان نے ذکر کیا ہے ابن جریج سے اس نے عبیداللہ بن یزید سے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ عشاء کا کھانا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھاتے تھے۔ میں نے انہیں دیکھا کہ وہ تین انگلیوں کے ساتھ کھاتے تھے۔

كنا نتعشى مع ابن عباس فرأيته أكل بأصابعه الثلاثة ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Eating with three fingers and licking it after void · Hadith 5848

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ رفع اللقمة إذا سقطت وإنقاء القصعة والتمسح بالمنديل بعد اللعق · حديث 5849

5850 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز ثنا عياش بن محمد ثنا يعلى بن عبيد ثنا الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : إذا سقطت لقمة أحدكم فليمط ما عليها وليأكلها ولا يدعها للشيطان

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر رزاز نے ان کو عیاش بن محمد نے ان کو یعلیٰ بن عبید نے ان کو اعمش نے ان کو ابو سفیان نے ان کو جابر نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے کسی ایک کا لقمہ گر جائے تو اس کے اوپر جو کچھ لگا ہو اس کو صاف کر دے اور اس کو کھا لے اور اس کو شیطان کے لئے نہ چھوڑے۔

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← عَيَّاشُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Lift the bite if it has fallen off, clean the bowl, and wipe the tissue after licking · Hadith 5849

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ رفع اللقمة إذا سقطت وإنقاء القصعة والتمسح بالمنديل بعد اللعق · حديث 5850

5851 - وبإسناده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أكل أحدكم الطعام فليمص أصابعه فإنه لا يدري في أي طعام تكون البركة

اور اسی اسناد کے ساتھ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے اس کو چاہئے کہ اپنی انگلیوں کو چوس لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ تمہارے کون سے کھانے کے ذرے میں برکت ہے۔

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Lift the bite if it has fallen off, clean the bowl, and wipe the tissue after licking · Hadith 5850

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ رفع اللقمة إذا سقطت وإنقاء القصعة والتمسح بالمنديل بعد اللعق · حديث 5851

5852 - وأخبرنا أبو الحسين أنا إسماعيل الصفار ثنا محمد بن إسحاق الصاغاني ثنا يعلى بن عبيد : فذكر الحديثين بهذا الإسناد

اور ہمیں خبر دی ابو الحسین نے ان کو اسماعیل صفار نے ان کو محمد بن اسحاق صاغانی نے ان کو یعلیٰ بن عبید نے پھر اس نے دونوں حدیثوں کو اسی اسناد کے ساتھ ذکر کیا ہے۔

يعلى بن عبيد فذكر الحديثين بهذا الإسناد ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّاغَانِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← وأخبرنا أبو الحسين

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Lift the bite if it has fallen off, clean the bowl, and wipe the tissue after licking · Hadith 5851

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ رفع اللقمة إذا سقطت وإنقاء القصعة والتمسح بالمنديل بعد اللعق · حديث 5852

5853 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر بن عبد الله ثنا الحسن بن سفيان ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا جرير عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : إن الشيطان يحضر أحدكم عند كل شيء من شأنه حتى يحضره عند طعامه فإذا سقطت من أحدكم اللقمة فليمط ما كان بها من أذى ثم يأكلها ولا يدعها للشيطان فإذا فرغ فليلعق أصابعه فإنه لا يدري في أي طعامه تكون البركة رواه مسلم عن عثمان بن أبي شيبة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو بکر بن عبداللہ نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو عثمان بن ابو شیبہ نے ان کو جریر نے ان کو اعمش نے ان کو ابو سفیان نے ان کو جابر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے: بے شک شیطان تمہارے ایک انسان کے پاس آتا ہے اس کے ہر حال میں یہاں تک کہ اس کے کھانے کے وقت بھی جب شیطان تمہارے کسی ایک کا لقمہ گرادے اسے چاہئے کہ اس پر جو کچھ لگ جائے اسے صاف کر کے کھالے اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے جب فارغ ہو جائے تو انگلیوں کو چاٹ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے کھانے کے کون سے ذرے میں برکت ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے عثمان بن ابی شیبہ سے۔

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Lift the bite if it has fallen off, clean the bowl, and wipe the tissue after licking · Hadith 5852

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ رفع اللقمة إذا سقطت وإنقاء القصعة والتمسح بالمنديل بعد اللعق · حديث 5853

5854 - أخبرنا أبو نصر محمد بن أحمد بن إسماعيل إسماعيل الطابراني بها ثنا عبد الله بن أحمد بن منصور الطوسي ثنا محمد بن إسماعيل الصائغ ثنا روح بن عبادة ثنا ابن جريج أخبرني أبو الزبير أنه سمع جابر بن عبد الله يحدث : أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا يمسح أحدكم يده بالمنديل حتى يلعق يده فإنه الرجل لا يدري في أي طعامه يبارك له وإن الشيطان يرصد للناس عند كل شئ حتى عند طعامهم ولا يرفع القصعة حتى يلعقها أو يلعقها فإن آخر الطعام فيه البركة

ہمیں خبر دی ابو نصر محمد بن احمد بن اسماعیل (اسماعیل) طابرانی نے ان کو عبداللہ بن احمد بن منصور طوسی نے ان کو محمد بن اسماعیل صائغ نے ان کو روح بن عبادہ نے ان کو ابن جریج نے ان کو خبر دی ابو زبیر نے انہوں نے سنا جابر بن عبداللہ سے وہ حدیث بیان کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی آدمی اپنے ہاتھ کو رومال سے صاف نہ کرے جب تک اس کو چاٹ نہ لے۔ کیونکہ کوئی آدمی یہ نہیں جانتا کہ ا سکے کھانے کے کون سے ذرے میں اس کے لئے برکت دے دی جائے گی۔ اور شیطان لوگوں کے لئے گھات میں رہتا ہے ہر شئی کے وقت حتٰی کہ کھانے کے وقت ، اور پیالے کو یا برتن کو نہ اٹھائے یہاں تک کہ اس کو صاف کر لے یا چاٹ لے بے شک طعام کے آخر میں برکت ہوتی ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَنَّهُ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ ← عبد الله بن أحمد بن منصور الطوسي ← أبو نصر محمد بن أحمد بن إسماعيل إسماعيل الطابراني بها

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Lift the bite if it has fallen off, clean the bowl, and wipe the tissue after licking · Hadith 5853

chevron_left Previous
1…232425…78
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood