Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5794

5795 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا عمرو بن السماك ثنا حنبل بن إسحاق ثنا الحميدي ثنا سفيان بن أبجر وسمعه يحدث عن أبيه قال : المعدة حوض الجسد والعروق شرع فيه فما ورد فيها بصحة وما ورد فيها بسقم صدر بسقم وقد وري في ذلك حديث مرفوع بإسناد ضعيف

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو عمر بن سماک نے ان کو حنبل بن اسحٰق حمیدی نے ان کو سفیان بن ابجر نے وہ حدیث بیان کرتے ہیں اپنے والد سے، وہ کہتے ہیں کہ معدہ پورے جسم کے لئے حوض ہے اور رگیں اس میں نالیاں ہیں جو کچھ حوض میں صحت کے ساتھ اور درستگی کے ساتھ داخل ہو گا اور درستگی کے ساتھ اس میں سے نکلے گا۔ جو کچھ اس میں بیماری کے ساتھ داخل ہو گا بیماری کے ساتھ نکلے گا۔ اور اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی مروی ہے مگر ضعیف سند کے ساتھ۔

أَبِيهِ ← سفيان بن أبجر وسمعه ← الْحُمَيْدِيُّ، ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← عَمْرُو بْنُ السَّمَّاكِ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5794

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5795

5796 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن داود الرزاز ببغداد أنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي ثنا عبد الله بن الحسن الحراني ثنا يحيى بن عبد الله ثنا إبراهيم بن جريح الرهاوي عن زيد بن أبي أنيسة عن الزهري عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : المعدة حوض البدن والعروق إليها واردة فإذا صحت المعدة صدرت العروق بالصحة وإذا فسدت المعدة صدرت العروق بالسقم

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن احمد بن داؤد رزار نے بغداد میں ان کو بکرمحمد بن عبداللہ شافعی نے ان کو عبداللہ بن حسن حرانی نے ان کو یحییٰ بن عبداللہ نے ان کو ابراہیم بن جریج رہاوی نے ان کو زید بن ابو انیسہ نے کوزہری نے ان کو ابو سلمہ نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ معدہ بدن کے لئے خوش ہے اور رگیں اسی کی طرف جاتی ہیں : جب معدہ صحیح ہو گا تو رگیں صحت کے ساتھ نکلیں گی جب معدہ خراب ہو گا تو رکیں بیماری کے ساتھ نکلیں گی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← إبراهيم بن جريح الرهاوي ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ ← أبو الحسن علي بن أحمد بن داود الرزاز ببغداد

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5795

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5796

5797 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقرئ الإسفرائيني بها أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا عبد الرحمن بن محمد إمام مسجد أبي خليفة حدثني الحارث بن عبد الرحمن بن سلام ثنا عمر بن أبي خليفة حدثني رجل من أهل البصرة قال : قال رجل للحسن : يا أبا سعيد إني إذا شبعت آذاني بطني وإذا جعت آذاني بطني قال : فابتغ دارا غير هذه الدار

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد مقری اسفرائنی نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو عبدالرحمٰن بن محمد امام مسجد ابو خلیفہ نے ان کو حارث بن عبدالرحمٰن بن سلام نے ان کو عمرو بن ابو خلیفہ نے ان کو خبر دی ہے ایک آدمی نے اہل بصرہ میں سے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حسن سے کہا: اے ابو سعید ! بے شک میں جب شکم سیر ہو جاتا ہوں تو میرا پیٹ مجھے تکلیف دیتا ہے اور جب میں بھوکا ہوتا ہوں تو بھی میرا پیٹ مجھے تکلیف دیتا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ لہٰذا تم اس جہان کے علاوہ دوسرا جہاں تلاش کرلو۔

رَجُلٍ مَنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ← عُمَرُ بْنُ أَبِي خَلِيفَةَ، ← الحارث بن عبد الرحمن بن سلام ← عبد الرحمن بن محمد إمام مسجد أبي خليفة ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ الْإِسْفَرَائِينِيُّ بِهَا

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5796

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5797

5798 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عمرو بن مطر ثنا يحيى بن محمد قال : وجدت في كتابي عن عبيد الله بن معاذ ثنا أبي ثنا شعبة عن مزاحم بن زفر عن ربيع بن عبد الله : سمع رجلا سأل ابن عمر إن لي جارا يأكل الربا أو قال : خبيث الكسب وربما دعاني لطعامه أفأجيبه قال : نعم قال : الشيخ وهذا على الإباحة فإنه لا يدري الذي أطعمه من كسبه الخبيث أو لا وإجابة الدعوة حق

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عمرو بن مطر نے ان کو یحییٰ بن محمد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی کتاب میں پایا عبداللہ بن معاذ سے اس نے اپنے والد سے اس نے شعبہ سے اس نے مزاحم بن زفر سے اس نے ربیع بن عبداللہ سے اس نے سنا ایک آدمی سے کہ اس نے پوچھا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہ میرا ایک پڑوسی ہے وہ سود کھاتا ہے یا یوں کہا تھا کہ خبیث اور حرام کمائی کرتا ہے۔ اور بسا اوقات مجھے کھانے کے لئے بلاتا ہے کیا میں اس کی بات مانوں یعنی دعوت قبول کروں ؟ انہوں نے فرمایا کہ جی ہاں۔ شیخ نے فرمایا: یہ بات اباحت اور جواز پر مبنی ہے۔ اس لئے کہ دعوت قبول کرنے والا یہ نہیں جانتا کہ جس نے اس کو کھلایا ہے وہ اس کی حلال کمائی سے ہے یا حرام کمائی سے اور دعوت قبول کر نا حق ہے۔

نَعَمْ ← خبيث الكسب وربما دعاني لطعامه أفأجيبه ← رجلا سأل ابن عمر إن لي جارا يأكل الربا أو ← ربيع بن عبد الله ← مُزَاحِمِ بْنِ زُفَرَ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ← وَجَدْتُ فِي کِتَابِي ← يَحْيَی بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5797

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5798

5799 - أخبرنا أبو محمد الحسن بن علي بن المؤمل ثنا أبو عثمان عمرو بن عبد الله البصري ثنا أبو أحمد بن عبد الوهاب أنا يعلى بن عبيد ثنا مسعر عن جواب التيمي عن الحارث بن سويد قال : جاء رجل إلى عبد الله يعني ابن مسعود فقال : إن لي جارا ولا أعلم له شيئا إلا خبيثا أو حراما وإنه يدعوني فأخرج أن آتيه وأتحرج إن لا آتيه فقال : ائته وأجبه فإنما وزره عليه قال الشيخ : جواب التيمي فيه نظر ولا أدري أحفظ قوله : ولا أعلم له شيئا إلا حراما ثم قد يكون له شيء حلال لا يعلم هو به وقد يشتري الطعام الذي يدعوه إليه في ذمته فيكون الطعام حلالا ولو استحله في ترك الإجابة كان حسنا والله أعلم

ہمیں خبر دی ابو محمد حسن بن علی بن مؤمل نے ان کو ابو عثمان عمرو بن عبداللہ بصری نے ان کو ابو احمد بن عبدالوہاب نے ان کو ابو یعلیٰ بن عبید نے ان کو مسعر نے ان کو جواب تیمی نے ان کو حارث بن سوید نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی عبداللہ کے پاس آیا یعنی ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس اور کہنے لگا کہ میرا ایک پڑوسی ہے میں اس کی کوئی کمائی کوئی شئی نہیں جانتا سوائے خبیث اور حرام کے اور وہ مجھے بلاتا رہتا ہے میں اس کے پاس جانے سے گریز کرتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ مجھے اس کے پاس نہ جانا پڑے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ اس کے پاس جائیے اور دعوت بھی قبول کیجئے۔ سوائے اس کے نہیں کہ اس کا گناہ اور بوجھ اسی پر ہے۔ شیخ نے فرمایا: کہ جواب التیمی میں بحث ہے اور غور ہے۔ میں نہیں جانتا کیا انہوں نے ان کے قول کو محفوظ کیا ہے؟ یہ قول کہ میں اس کے لئے کسی شئی کو نہیں جانتا مگر حرام۔ اس کے بعد کبھی ہو گی اس کے لئے کوئی حلال شئی۔ جس کو دو اس کے ساتھ نہیں جانتے ہوں گے۔ اور کبھی وہ کھانا خریدیں گے جس کھانے پر وہ ان کو دعوت دیں گے۔ اپنے ذمے میں لہٰذا وہ کھانا حلال ہو گا۔ اگر اس کو حلال کر لیتے اس کو ترک اجابت میں تو اچھا ہوتا۔

جاء رجل إلى عبد الله يعني ابن مسعود ← الْحَارِثِ بْنِ سويد ← جواب التيمي، ← مِسْعَرٍ، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← أبو أحمد بن عبد الوهاب، ← أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5798

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5799

5800 - أخبرنا محمد بن موسى بن الفضل ثنا أبو العباس الأصم ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا أبو أسامة عن زائدة عن منصور قال : كان عريف لنا يخرج إلى السواد زمان الحجاج قال : وكانت العرفاء إذا ذاك يسبعون قال : فلما قدم دعا أناسا من الحي فدعاني قال : فكأني وجدت في نفسي فلم آته قال : فلقيت إبراهيم فذكرت ذلك له فقال : إني أرى الشيطان يعرض لك ليوقع العداوة قد كانت العمال يهبطون ثم يدعونهم فيخرجونهم قال الشيخ : وهذا لأنه يحتمل أن يكون لهم حلال وإنهم أعطوه من الحلال فإذا امتنعوا أوقع الامتناع بينهم عداوة ولا طاقة للرعية بمعاداة الوالي فإن أمنوا من معاداتهم فتورعوا عن أكل طعامهم فقد فعل ذلك جماعة من أهل الورع وبالله التوفيق

ہمیں خبر دی محمد بن موسیٰ بن فضل نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو زائد ہوتے ان کو منصور نے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے ایک سردار یا سمجھدار آدمی تھے وہ حج کے زمانے میں مجمعوں میں نکل جاتے تھے۔ کہا کہ اس وقت یہ سردار لوگ فحش گوئی بھی کرتے تھے کہتے کہ وہ جب آئے تو انہوں نے کچھ لوگوں کو بلایا۔ محلے میں سے اور انہوں نے مجھےبھی بلایا۔ مگر میرے دل میں یہ بات آئی کہ میں اس کے پاس نہ جاؤں۔ کہتے ہیں میں ابراہیم کوملا اور میں نے انہیں یہ بات بتائی۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں سمجھتا ہوں کہ شیطان تیرے دل میں عداوت اور بغض ڈال رہا ہے۔ (یہ بات ہمیشہ سے ہوتی آئی ہے) عامل اور نمائندے آتے تھے اورلوگوں کو بلاتے تھے اور لوگوں کو نکالتے تھے۔ شیخ کہتے ہیں کہ یہ بات اس لئے ہے کہ احتمال ہے کہ ان کے لئے حلال موجود ہو اور انہوں نے اس کوحلال میں سے دیا ہو جب رک جائیں گے تو میرک جانا ان کے دل میں عداوت واقع کرے اور رعایا کووالی کے ساتھ عداوت کرنے کی کوئی طاقت نہیں ہے۔ اگر ان کی دشمنی سے امن ہو تو پھر ان کے طعام دکھانے سے پرہیز کر لیں تحقیقی یہ کام اہل تقویٰ کی ایک جماعت نے کیا ہے وباللہ التوفیق۔

فلما قدم دعا أناسا من الحي فدعاني ← وكانت العرفاء إذا ذاك يسبعون ← كان عريف لنا يخرج إلى السواد زمان الحجاج ← مَنْصُورٌ، ← زَائِدَۃَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5799

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5800

5801 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقرئ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا أبو مسلم ثنا عبد الله بن رجاء ثنا مسلم بن خالد عن زيد بن أسلم عن سمي عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : إذا دخل أحدكم على أخيه المسلم فليأكل من طعامه ولا يسأل ويشرب من شرابه ولا يسأل قال الشيخ

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو ابو مسلم نے ان کو عبداللہ بن رجاء نے ان کومسلم بن خالد نے ان کو زید بن اسلم نے ان کو سمی نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کے پاس جائے تو اس کے ہاں سے کھانا کھائے اور پوچھے نہیں اور اس کے ہاں پیئے مگر اس سے مت پوچھے۔ شیخ فرماتے ہیں:

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← أَبُو مُسْلِمٍ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5800

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5801

5802 - ورواه سفيان بن عيينة عن ابن عجلان عن سعيد عن أبي هريرة : رواية قال : وهذا إن صح فلأن الظاهر أن المسلم لا يطعمه ولا يسقيه إلا ما هو حلال عنده

اس کو روایت کیا ہے سفیان بن عیینہ نے ابن عجلان سے اس نے سعید سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت فرماتے ہیں کہ اگر یہ صحیح ہو تو اس لئے کہ ظاہر ہے مسلمان اس کو حلال ہی کھلائے گا اور حلال ہی پائے گا۔ جواس کے نزدیک حلال موجود ہو گا۔

أَبِي هُرَيْرَة، رِوَايَةً، ← سَعِيدٌ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← وَرَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5801

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5802

5803 - وقد أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا محمد بن عبد الله بن المطلب الشيباني بالكوفة ثنا عبد الله بن سعد بن يحيى القاضي ثنا محمد بن إبراهيم بن أبي سكينة ثنا الفضيل بن عياض ثنا هشام بن حسان عن الحسن عن عمران بن حصين قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن إجابة طعام الفاسقين

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو محمد بن عبداللہ بن مطلب شیبانی نے کوفے میں ان کو عبداللہ بن سعید بن یحییٰ قاضی نے ان کو محمد بن ابراہیم بن ابو سکینہ نے ان کو فضیل بن عیاض نے ان کو ہشام بن حسان نے ان کو حسن بن عمران بن حصین نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا فاسقوں کے طعام کی دعوت قبول کرنے سے۔

إجابة طعام الفاسقين ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← محمد بن إبراهيم بن أبي سكينة ← عبد الله بن سعد بن يحيى القاضي ← محمد بن عبد الله بن المطلب الشيباني بالكوفة ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ ← وقد

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5802

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الرابع في آدب الأكل والشرب وغسل اليد قبل الطعام وبعده · حديث 5803

5804 - أخبرنا أبو علي الحسين بن محمد بن علي الروذباري بطوس أنا أبو بكر محمد بن بكر بن عبد الرزاق ثنا أبو داود ثنا موسى بن إسماعيل ثنا قيس عن أبي هاشم عن زاذان عن سلمان قال : قرأت في التوراة إن بركة الطعام الوضوء قبله فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه و سلم فقال : إن بركة الطعام الوضوء قبله وبعده قال أبو داود : ليس هذا بالقوي وكان سفيان يكره الوضوء قبل الطعام قال أحمد : ولذلك مالك بن أنس كرهه

ہمیں خبر دی ابو علی حسین بن محمد بن محمد بن علی روذباری نے مقام طوس میں۔ ان کو ابو بکر محمد بن بکر بن عبدالرزاق نے ان کو ابو داؤد نے ان کو موسیٰ بن اسماعیل نے ان کو قیس نے ان کو ابو ہاشم نے ان کو زاذان نے ان کو سلمان نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے تورات میں پڑھا تھا۔ بے شک کھانے کی برکت اس سے پہلے وضو کرتا ہے (وضو سے مراد ہاتھ دھونا) میں نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو آپ نے فرمایا: بے شک کھانے کی برکت وضو کرنا ہے کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد۔ ابو داؤد نے کہا کہ یہ روایت قوی نہیں ہے۔سفیان کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کو مکروہ کہتے تھے۔ احمد فرماتے ہیں کہ اسی لئے مالک بن انس رحمہ اللہ (امام مالک) نے اس کو مکروہ قرار دیا ہے۔

في التوراة ← سَلْمَانَ ← زَاذَانَ ← أَبِي هَاشِمٍ ← قَيْسٍ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، ← أبو علي الحسين بن محمد بن علي الروذباري بطوس

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter 4 in the etiquette of eating, drinking, and washing the hand before and after food · Hadith 5803

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الرابع في آدب الأكل والشرب وغسل اليد قبل الطعام وبعده · حديث 5804

5805 - فيما أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت عبد الله بن موسى يقول : سمعت الفضل بن محمد يقول : سمعت أنا مصعب يقول : دعا أمير الأمراء مالكا إلى غدائه قال : فلما قربت الإبريق والطشت قال : لا أعود إلى غدائك قال : لم قال : لأن غسل اليدين بدعة عند الطعام قال أحمد : وكذلك صاحبنا الشافعي استحب تركه واحتج بالحديث الذي

اس میں جو ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبداللہ بن موسیٰ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا فضل بن محمد سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا مصعب سے وہ کہتے ہیں کہ امیروں میں سے کسی امیر نے امام مالک کو ناشتہ کی دعوت دی کہتے ہیں کہ جب پانی کا ڈونگا اور تھال (ہاتھ دھونے کے لئے) ان کے قریب کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں آئندہ آپ کے ناشتے کی دعوت قبول نہیں کروں گا۔ اس نے پوچھا کہ کیوں؟ انہوں نے کہا اس لئے کہ کھانے کے وقت دونوں ہاتھ دھونا بدعت ہے۔ کہا ہے احمد نے کہ ہمارے صاحب شافعی نے بھی اس کے ترک کرنے کو مستحب کہا ہے اور انہوں نے درج ذیل حدیث سے حجت پکڑی ہے۔

أحمد وكذلك صاحبنا الشافعي استحب تركه واحتج بالحديث الذي ← لأن غسل اليدين بدعة عند الطعام ← لِمَ ← لا أعود إلى غدائك ← فلما قربت الإبريق والطشت ← دعا أمير الأمراء مالكا إلى غدائه ← مصعب ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← فِيمَا

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter 4 in the etiquette of eating, drinking, and washing the hand before and after food · Hadith 5804

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الرابع في آدب الأكل والشرب وغسل اليد قبل الطعام وبعده · حديث 5805

5806 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا سعدان بن نصر ثنا سفيان عن عمرو بن دينار سمع سعيد بن الحويرث يقول عن ابن عباس قال : كنا عند النبي صلى الله عليه و سلم فأتى الخلاء ثم إنه رجع فأتي بالطعام فقيل له ألا تتوضأ قال : لم أصل فأتوضأ رواه مسلم عن أبي بكر بن أبي شيبة عن سفيان قال الشافعي وأولى الآداب أن يؤخذ ما فعل رسول الله فيأكل المرء قبل أن يغسل يديه أحب إلي ما لم يكن مس يده قذرا قال أحمد : وقد روى كثير بن سليمان عن أنس بن مالك أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من أحب أن يكثر الله خير بيته فليتوضأ إذا حضر غداؤه وإذا رفع

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو سعدان بن نصر نے ان کو سفیان نے ان کو عمرو بن دینار نے کہ انہوں نے سنا سعید بن حویرث سے وہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے آپ بیت الخلاء گئے آپ واپس آئے توکھانا لایا جا چکا تھا آپ کھانے کے لئے بیٹھنے لگے تو کسی نے پو چھا کیا آپ وضو نہیں کریں گے آپ نے فرمایا کہ مجھے نماز نہیں پڑھنی کہ میں وضو کروں اس کو مسلم نے روایت کیا ہے (وضو سے مراد ہاتھ دھونا لیا گیا ہے۔) ابو بکر ابن ابی شیبہ سے مروی ہے کہ امام شافعی نے فرمایا: آداب میں سے سب سے بہتر یہی ہے کہ وہ چیز لی جائے جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہو۔ انسان ہاتھ دھونے سے پہلے کھانا کھا لے (یعنی ہاتھ بعد میں دھوئے) یہ بات میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے مگر یہ کہ اس نے نجاست یاکسی ناپاک چیز کو ہاتھ لگایا ہو(تو پھر پہلے ضرور دھو لے۔) کھانے سے پہلے اور بعد ہاتھ دھونا گھر کی خیر و برکت کی زیادتی کا سبب: امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ کثیر بن سلیمان سے روایت ہے کہ اس نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے گھر کی خیر و برکت کو زیادہ کرے تو اس کو چاہئے کہ ہاتھ دھو لے اس وقت جب اس کا صبح کا کھانا حاضر ہو اور جس وقت اٹھا لیا جائے (یعنی پہلے بھی اور بعد میں بھی۔)

كنا عند النبي صلى الله عليه و سلم فأتى الخلاء ثم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter 4 in the etiquette of eating, drinking, and washing the hand before and after food · Hadith 5805

chevron_left Previous
1…192021…78
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood