Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5578

5579 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي ثنا أحمد بن علي الحراني ح قال : وأخبرنا أبو الفضل بن إبراهيم ثنا أحمد بن سلمة قالا حدثنا قتيبة بن سعيد ثنا عبد العزيز بن محمد ثنا عمارة بن غزية عن أبي الزبير عن جابر بن عبد الله : أن رجلا قدم من جيشان وجيشان من اليمن فسأل النبي صلى الله عليه و سلم عن شراب يشربونه بأرضهم من الذرة يقال له المزر فقال النبي صلى الله عليه و سلم أو مسكر هو قالوا نعم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم كل مسكر حرام إن الله عهد لمن شرب المسكر أن يسقيه من طينة الخبال قالوا يا رسول الله وما طينة الخبال قال عرق أهل النار أو عصارة أهل النار رواه مسلم في الصحيح عن قتيبة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکرمحمد بن عبداللہ شافعی نے ان کو احمد بن علی حرانی نے ’’ح‘‘ انہوں نے کہا اور ہمیں خبر دی ہے ابو الفضل بن ابراہیم نے ان کو احمد بن سلمہ نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے قتیبہ بن سعید نے ان کو عبدالعزیز بن محمد نے ان کو عمارہ بن غزیہ نے ان کو ابو زبیر نے ان کو جابر بن عبداللہ نے کہ ایک آدمی آیا جیشان اسے اور جیشان یمن میں ہے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شراب کے بارے میں پوچھا جس کو وہ لوگ اپنی سرزمین پر پیتے تھے (جوار یا باجرے) وغیرہ سے اسے مزر کہتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا وہ نشہ دیتی ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ ہاں نشہ دیتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہرنشہ آوری حرام ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے عہد کیا ہے اس آدمی سے جو نشہ آور شئی کو استعمال کرے یہ کہ اس کو پلائے گا طینۃ الخبال سے لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! یہ طینۃ الخبال کیا ہے فرمایا کہ یہ اہل جہنم کا پسینہ ہے یا یوں کہا یہ اہل جہنم کی پیپ ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں قتیبہ سے۔

نَعَمْ ← شَرَابٍ يَشْرَبُونَهُ بِأَرْضِهِمْ مِنْ الذُّرَةِ يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ ← جيشان من اليمن فسأل النبي صلى الله عليه و سلم ← جابر بن عبد الله أن رجلاً قدم من جيشان ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أحمد بن علي الحراني ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5578

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5579

5580 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقرئ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف ثنا أبو الربيع ثنا حماد بن زيد ثنا عطاء بن السائب عن عبد الله بن عبيد بن عمير أن ابن عمر قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من شرب الخمر لم تقبل له صلاة أربعين ليلة فإن تاب تاب الله عليه وإن شربها الثانية لم تقبل له صلاة أربعين ليلة فإن تاب تاب الله عليه فإن شربها الثالثة لم تقبل له صلاة أربعين ليلة فإن تاب تاب الله عليه فإن شربها الرابعة لم تقبل له صلاة أربعين ليلة فإن تاب لم يتب الله عليه وكان حقا على الله أن يسقيه من طينة الحبال قيل وما طينة الخبال قال صديد أهل النار وروى ذلك عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم غير أنه قال : من شرب مسكرا تجب صلاته أربعين صباحا وزاد ومن سقاه صغيرا لا يعرف حلاله من حرامه كان حقا على الله أن يسقيه من طينة الخبال

ہمیں خبر دی ابو الحسین علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف نے ان کو ابو الربیع نے ان کوحماد بن زید نے ان کو عطاء بن سائب نے اس نے عبداللہ بن عبید بن عمیر سے یہ کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتے تھے: جو شخص شراب پیئے گا اس کی چالیس دن کی نماز قول نہیں ہو گی اگر وہ توبہ کرے گا اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا۔ پھر اگر وہ دوسری بار شراب پیئے گا پھر اس کی چالیس راتیں نماز قبول نہیں ہو گی اگر اس نے توبہ کی تو اس کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول کریں گے۔ پھر اگر وہ تیسری بار شراب پیئے گا پھر چالیس راتیں اس کی نماز قبول نہیں ہو گی۔اگر توبہ کرے اللہ اس کی توبہ قبول کر لے گا پھر اگر وہ چوتھی بار شراب پیئے گا اس کی چالیس راتوں تک نماز قبول نہیں ہو گی اب اگر توبہ کرے گا تو اس کی توبہ قبول نہیں ہو گی۔ اور اللہ تعالیٰ پریت ہو گا کہ وہ اس کو طینۃ الخبال پلائے پو چھا گیا کہ طینۃ الخبال کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اہل جہنم کی پیپ ہے۔ (طینۃ الخبال کا لفظی مطلب زہر قاتل کی تھوڑی سی مٹی ہے۔ مراد جہنمیوں کی پیپ ہے۔) یہ روایت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوائے اس کے کہ آپ نے فرمایا: جو شخص نشہ آور شئی پیئے گا اس کی چالیس روز تک نماز رائیگاں جائے گی۔ اور یہ اضافہ کیا کہ جو شخص اس کو پلائے کسی چھوٹے کو جو حلال وحرام کو نہ جانتا ہو اللہ پر حق ہو گا کہ اللہ اس کو جہنمیوں کی پیپ پلائے گا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← يُوسُفُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5579

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5580

5581 - وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو عبد الله محمد بن إسحاق بن يوسف السوسي قالا أنا ابن عباس الأصم أنا العباس بن الوليد بن مزيد أخبرني أبي قال : سمعت الأوزاعي يقول حدثني ربيعة بن يزيد و يحيى بن أبي عمرو الشيباني أنا عبد الله بن فيروز الديلمي قال : دخلت على عبد الله بن عمرو بن العاص فذكر الحديث قال عبد الله : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من شرب الخمر شربة لم تقبل صلاته أربعين صباحا فإن تاب تاب الله عليه فإن عاد لم تقبل توبته أربعين صباحا فلا أدري في الثالثة أو في الرابعة قال : فإن عاد كان حقا على الله أن يسقيه من ردغة الخبال يوم القيامة

اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ اور ابو عبداللہ اسحاق بن محمد بن یوسف سوسی نے۔ دونوں فرماتے ہیں ہمیں خبر دی ابو العباس اصم نے ان کو عباس بن ولید بن مزید نے ان کو خبر دی ہے ان کے والد نے انہوں نے سنا اوزاعی سے ان کو ربیعہ بن یزید نے اور یحییٰ بن ابو عمرو شیبانی نے ان کو عبداللہ بن فیروز دیلمی نے وہ کہتے ہیں کہ میں داخل ہوا عبداللہ بن عمرو بن العاص کے پاس اس نے حدیث ذکر کی ، کہا عبداللہ نے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفر ماتے سنا: جو شخص شراب پیئے گا ایک گھونٹ چالیس صبح تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی اگر وہ توبہ کرے اللہ اس کی توبہ قبول کر لے گا۔ اگر وہ پھر اعادہ کرے تو چالیس صبح تک اس کی توبہ قبول نہیں ہے مجھے یاد نہیں کہ تیسری بار یا چوتھی مرتبہ آپ نے فرمایا کہ اگر وہ پھر پیئے گا تو اللہ پر یہ حق ہو گا کہ وہ اس کو پلائے گا قیامت کے دن جہنمیوں کی پیپ سے (ردغۃ کہتے ہیں کیچڑ گارا، سخت کیچڑ خبال: زہر قاتل)

عَبْدُ اللَّهِ ← الْحَدِيثَ. ← دخلت على عبد الله بن عمرو بن العاص ← عَبد الله بن فيروز الديلمي، ← ربيعة بن يزيد و يحيى بن أبي عمرو الشيباني ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدَ ← ابن عباس الأصم

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5580

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5581

5582 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أبي علي السقا ثنا أبو محمد الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا أبو محمد يوسف بن يعقوب القاضي ثنا أحمد بن عيسى ثنا عبد الله بن وهب حدثني عمرو بن الحارث عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن عبد الله بن عمرو : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال : من ترك الصلاة سكرا مرة واحدة فكأنما كانت له الدنيا وما عليها فسلبها ومن ترك الصلاة سكرا أربع مرات كان حقا على الله أن يسقيه من طينة الخبال وقال : وما طينة الخبال يا رسول الله قال : عصارة أهل النار

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن ابو علی سقانے ان کو ابو محمد حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو ابو محمد یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو احمد بن عیسیٰ نے ان کو عبداللہ بن وہاب نے ان کوعمرو بن حارث نے ان کوعمرو بن شعیب نے ان کو ان کے والد نے اس کو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ سے کہ آپ نے فرمایا: جو شخص نشے کی وجہ سے نماز چھوڑ دے صرف ایک بار اس کی مثال ایسے ہے جیسے پوری دنیا مافیھا اس کی تھی اور اس سے چھین لی گئی۔اور جو شخص نشے میں جا رہا ہے۔ چار مرتبہ نماز ترک کر دے اللہ کے ذمے یہ حق ہو گا اللہ اس کو کیچڑ کی زہریلی مٹی کھلائیں میں نے پوچھا کہ طینۃ الخیال کیا ہے یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل جہنم کا دھون یا نچوڑا ہوا پانی ہے یا ان کی پیپ و پسینہ ہے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أحمد بن عيسى، ← أبو محمد يوسف بن يعقوب القاضي ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ السَّقَّا،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5581

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5582

5583 - أخبرنا أبو عثمان سعيد بن العباس بن محمد بن علي القرشي الهروي في الروضة بالمدينة ثنا العباس بن الفضل ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا فليح بن سليمان عن سعيد بن عبد الرحمن بن وائل الأنصاري عن عبد الله بن عبد الله بن عمر عن أبيه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لعن الخمر وعاصرها ومعتصرها وبائعها وحاملها والمحمولة إليه وساقيها وشاربها وآكل ثمنها

ہمیں خبر دی ابو عثمان سعید بن عباس بن محمد بن علی قرشی ہروی سے مدینہ کے روضہ میں ان کو عباس بن فضل نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو فلیح بن سلیمان نے ان کو سعید بن عبدالرحمٰن بن وائل انصاری نے ان کو عبداللہ بن عبداللہ بن عمر نے ان کو ان کے والد نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی شراب اور اس کے نچوڑنے والے پر اور اس پر جس کے لئے نچوڑی گئی اور اس کے بیچنے والے پر اور جس کے لئے بیچی ہے اور اس کے اٹھانے والے پر اور اس پر جس کے لئے اٹھا کر لائی گئی اور اس کو پلانے والے اور پینے والے پر اور اس کی قیمت کھانے والے پر۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَائِلٍ الْأَنْصَارِيِّ ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5582

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5583

5584 - أخبرنا أبو زكريا يحيى بن إبراهيم بن محمد بن يحيى ثنا أبو العباس الأصم ثنا محمد بن عبد الحكم أنا ابن وهب قال : أخبرني عبد الرحمن بن شريح و الليث بن سعد عن خالد بن يزيد عن ثابت بن يزيد الخولاني أخبره عن ابن عمر : أنه لقيه فسأله عن ثمن الخمر فذكر عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : إن الله لعن الخمر وعاصرها ومعتصرها وشاربها وساقيها وحاملها والمحمولة إليه وبائعها ومشتريها وآكل ثمنها

ہمیں خبر دی ابو زکریا یحییٰ بن ابراہیم بن محمد بن یحییٰ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو محمد بن عبدالحکم نے ان کو ابن وہب نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی عبدالرحمٰن بن شریح اور لیث بن سعد نے ان کو خالد بن یزید نے ان کو ثابت بن یزید خولانی نے اس کو خبر دی ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہ وہ ان کو ملے تو اس نے ان سے شراب کی قیمت کے بارے میں سوال کیا انہوں نے ذکر کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: بے شک اللہ نے لعنت کی ہے شراب پر اور اس کے نچوڑنے والے پر اور جس کے لئے نچوڑا گیا اور اس کو پینے والے پر، پلانے والے پر اس کو اٹھانے والے پر اور جس کی طرف اٹھا کر لایا گیا اور اس کو بیچنے والے پر اور اس کوخریدنے والے پر اور اس کی رقم کھانے والے پر۔

النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← ثمن الخمر ← ابن عمر أنه لقيه فسأله ← ثابت بن يزيد الخولاني ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← عبد الرحمن بن شريح و الليث بن سعد ← ابْنُ وَهْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5583

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5584

5585 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ ثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن أنس القرشي ثنا عبد الله بن يزيد المقرئ أنا حيوة بن شريح أنا مالك بن خير الزيادي أن مالك بن سعد التجيبي حدثه أنه سمع ابن عباس يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أتاني جبريل عليه السلام فقال : يا محمد إن الله لعن الخمر وعاصرها ومعتصرها وشاربها وحاملها والمحمولة إليه وبائعها وساقيها ومسقيها

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر محمد بن صالح بن ہانی نے ان کو ابو عبدالله محمد بن احمد بن انس قرشی نے ان کو عبداللہ بن یزید مقری نے ان کو حیوۃ بن شریح نے ان کو مالک بن خیر زیادی نے یہ کہ مالک بن سعد تجیبی نے اس سے حدیث بیان کی ہے کہ اس نے سنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے تھے کہ میں نے سنارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا کہ میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) بے شک اللہ لعنت فرماتا ہے شراب پر اور اس کے نچوڑنے والے پر جس نے نچوڑنے کا حکم دیا اور اسے پینے والے پراسے اٹھانے والے پر اور جس کی طرف اٹھائی گئی اس پر اس کے بیچنے والے پلانے والے پر پلوانے والے پر۔

أَتَانِي جِبْرِيلُ ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَنَّهُ ← مَالك بن خير الزيَادي أَنَّ مَالِكَ بْنَ سَعْدٍ التُّجِيبِيَّ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ الْقُرَشِيُّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5584

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5585

5586 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسين الجوزي ثنا أبو بكر عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا ثنا محمد بن عبد الله بن سريع البصري ثنا الفضل بن سليمان النميري ثنا عمر بن سعيد عن الزهري قال : أخبرني أبو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث عن أبيه عبد الرحمن قال : سمعت عثمان خطيبا فقال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : اجتنبوا أم الخبائث فإنه كان رجل فيمن كان قبلكم يتعبد ويعتزل النساء امرأة فأرسلت إليه خادمها إنا ندعوك لشهادة فدخل فطفقت كلما دخل عليها بابا أغلقته دونه حتى أفضى إلى امرأة وضيئة جالسة وعندها غلام وباطية فيها خمر فقالت أنا لم أدعك لشهادة ولكن دعوتك لتقتل هذا الغلام أو تقع علي أو تشرب كأسا من هذا الخمر فإن أبيت صحت وفضحتك فلما رأى أنه لا بد من ذلك قال : اسقني كأسا من هذا الخمر فسقيته كأسا من الخمر ثم قال : زيديني فلم ير حتى وقع عليها وقتل النفس فاجتنبوا الخمر فإنه والله لا فإنه والله لا يجتمع الإيمان وإدمان الخمر في صدر رجل أبدا ليوشكن أحدهما أن يخرج صاحبه ورفع عمر بن سعيد بن شريج هذا وقد

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو الحسین جوزی نے ان کو ابو بکر عبداللہ بن محمد بن ابی الدنیا نے ان کو محمد بن عبداللہ بن سریع بصری نے ان کو فضل بن سلیمان نمیری نے ان کو عمر بن سعید نے ان کو زہری نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے ابو بکر بن عبدالرحمٰن بن حارث نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حضرت عثمان سے وہ خطبہ دے رہے تھے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا فرما رہے تھے۔ کہ تمام برائیوں کی جڑ سے بچو بے شک تم سے پہلی امتوں میں ایک آدمی تھا وہ بہت عبادت گزار تھا عورتوں سے علیٰحدہ رہتا تھا اس کو ایک گمراہ عورت ملی اس عورت نے اس عابد کے پاس اپنے خادم کو بھیجا اور کہا کہ اس سے کہو ہم تمہیں ایک شہادۃ کے لئے بلاتے ہیں۔ وہ اس کے بلانے پر چلے گئے جیسے ہی وہ ایک دروازے سے داخل ہوتے وہ درواز و اس کے پیچھے سے بند کر دیا جاتا حتٰی کہ دو ایک خوبصورت عورت کے پاس پہنی گئے۔ جو بیٹھی ہوئی تھی اور اس کے پاس ایک لڑکا اور شراب بھری ہوئی تھی۔ کہنے گی ہم نے آپ کو کسی گواہی وغیرہ کے لئے نہیں بلایا لیکن میں نے تجھے اس لئے بلایا ہے کہ تم اس لڑکے قتل کر دو۔ یا میرے ساتھ زنا کر دیا شراب کا پیالہ پی جاؤ اگر تم نے انکار کیا تو میں تمہیں رسوا کر دوں گی۔ جب اس عابد نے دیکھا کہ اس مصیبت سے نکلنے کا کوئی چارہ نہیں ہے (تو اس نے یہ سوچ کر کہ یہ چھوٹی مصیبت ہے قتل اور زنا بڑی مصیبت سے بچ جاؤں) یہ مان لیا کہ ٹھیک ہے مجھے شراب کا پیالہ پلا دو۔ اس نے اسے شراب کا پیالہ پلا دیا اس کے بعد کہنے لگا کہ مجھے اور دے دیجئے۔ (شراب پینا تھا کہ) اس عورت کے ساتھ اس نے بدکاری کر لی۔ اور جس کوقتل کرنے کا کہا تھا اس کو اس نے قتل بھی کر دیا (تو معلوم ہوا کہ شراب ام الخبائث ہے تمام برائیوں کی اصل اور جڑ ہے) لہٰذا شراب سے اجتناب کرو بے شک حال یہ ہے کہ اللہ کی قسم ایمان اور دائمی شراب خوری جمع نہیں ہو سکتے ایک آدمی کے سینے میں کبھی بھی۔البتہ قریب ہے کہ دونوں میں سے ایک اپنے دوسرے کو نکال باہر کرے۔ عمر بن سعید بن سریج نے اس کو مرفوع روایت کیا ہے۔

عثمان خطيبا ← أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ← الزُّهْرِيِّ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ، ← الفضل بن سليمان النميري ← محمد بن عبد الله بن سريع البصري ← أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ الله بن محمد بْنِ أَبِي الدُّنْيَا، ← أبو الحسين الجوزي، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5585

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5586

5587 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق ثنا أبو العباس الأصم أنا ابن عبد الحكم أنا ابن وهب أخبرني يونس بن يزيد عن ابن شهاب حدثني أبو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام أن أباه قال : سمعت عثمان بن عفان يقول : اجتنبوا الخمر فإنها أم الخبائث إن كان رجل ممن خلا قبلكم يتعبد فذكره موقوفا على عثمان رضي الله عنه وهو المحفوظ

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو ابن عبد الحکم نے ان کو ابن وہب نے ان کو خبر دی یونس بن یزید نے ان کو ابن شہاب نے ان کو ابو بکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام نے کہ ان کے والد نے کہا میں نے سنا عثمان بن عفان سے وہ فرماتے تھے۔ بچو تم شراب سے بے شک وہ ام الخبائث ہے تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ بے شک ایک آدمی تھا تم سے پہلے کے لوگوں میں عبادت کرتا تھا۔ پس اس نے کو ذکر کیا ہے موقوف حضرت عثمان پر اور وہی محفوظ ہے۔

عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← أبو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام أن أباه ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← ابْنُ عَبْد الْحَكَمِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5586

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5587

5588 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق ثنا نعيم بن حماد ثنا عبد العزيز بن محمد عن عمرو بن أبي عمرو عن عكرمة عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اجتنبوا الخمر فإنه مفتاح كل شر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو بوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق نے ان کو نعیم بن حماد نے ان کو عبدالعزیز بن محمد نے ان کو عمرو بن ابو عمرو نے اس نے عکرمہ سے اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ شراب سے اجتناب کرو بے شک وہ برائی کی چابی ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5587

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5588

5589 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى ثنا أبو العباس الأصم ثنا يحيى بن أبي طالب أنا عبد الوهاب بن عطاء أنا راشد أبو محمد الحماني عن شهر بن حوشب عن أم الدرداء عن أبي الدرداء قال : أوصاني خليلي أبو القاسم صلى الله عليه و سلم أن لا تشرك بالله شيئا وإن قطعت وحرقت ولا تترك صلاة مكتوبة متعمدا فمن تركها متعمدا برئت منه الذمة وأن لا تشرب الخمر فإنها مفتاح كل شر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو عبدالوہاب بن عطاء نے ان کو خبر دی راشد نے ان کو ابو محمد حمانی نے ان کو شہر بن حوشب نے ان کو ام درواء نے ابو درداء سے انہوں نے کہا کہ مجھے وصیت کی تھی میرے دوست ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم اللہ کے ساتھ کسی شے کو شریک نہ کرنا اگرچہ تجھے کاٹ دیا جائے اور مجھے جلا دیا جائے اور فرض نماز کو ترک نہ کرنا جان بوجھ کر جو شخص اس کو جان بوجھ کر ترک کر دے تحقیق اس سے اللہ کا ذمہ بری ہو جاتا ہے ختم ہو جاتا ہے اور تم شراب نہ پینا بے شک وہ ہر برائی کی کنجی ہے۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← رَاشِدٌ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحِمَّانِيُّ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5588

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5589

5590 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو بن مطر ثنا زكريا بن يحيى الساجي الفقيه إملاء من حفظه ثنا أبو طاهر أحمد بن عمرو بن السرج ثنا خالي عبد الرحمن بن عبد الحميد أخبرني يحيى بن أيوب عن داود بن أبي هند عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله تبارك وتعالى بنى الفردوس بيده وحظره على كل مشرك وكل مدمن الخمر سكير

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو عمرو بن مطر نے ان کو زکریا بن یحییٰ ساجی فقیہ نے بطور املاء کے اپنی یادداشت سے ان کو ابو طاہر احمد بن عمرو بن سرج نے اس نے ان کے ماموں عبدالرحمٰن بن عبدالحمید نے ان کو خبر دی یحییٰ بن ایوب نے ان کو داؤد بن ابو ہند نے ان کو انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تبارک وتعالیٰ نے جنت الفردوس بنائی اپنے ہاتھ سے اور اس کو ہر مشرک کے لئے ممنوع کیا اور ہر عادی اور دائمی شرابی نشے والے پر بھی حرام فرمایا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← خالي عبد الرحمن بن عبد الحميد ← أبو طاهر أحمد بن عمرو بن السرج ← زكريا بن يحيى الساجي الفقيه إملاء من حفظه ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5589

chevron_left Previous
1234…78
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood