Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5782

5783 - وبإسناده قال : سمعت السري يذكر أبا يوسف الغسولي وكان أبو يوسف يلزم الشعر ويغزو فكان إذا غزا مع الناس ودخلوا بلاد الروم أكل أصحابه من ذبائح الروم ومن فواكههم فكان أبو يوسف لا يأكل فيقال له يا أبا يوسف تشك أنه حلال قال : لا فيقال : فكل من الحلال فيقول إنما الزهد في الحلال

اور اپنی اسناد کے ساتھ انہوں نے کہا کہ میں نے سنا سری سے وہ ذکر کرتے تھے ابو یوسف غسولی کا اور ابو یوسف شعر کو لازم رکھتے تھے اور جہاد کرتے تھے جب وہ لوگوں کے ساتھ جہاد کرتے اور بلا دروم میں داخل ہوتے تو ان کے ساتھ اہل روم کی ذبیحہ کھاتے اور ان کے پھل بھی کھاتے تھے مگر ابو یوسف غسولی نہیں کھاتے تھے ان سے کہا گیا کہ ابو یوسف کیا تم شک کرتے ہو کہ حلال ہے یا نہیں؟ بولے کہ نہیں شک نہیں کرتا۔ کہا جاتا ہے سب کچھ حلال ہے بولے کہ زہد تو ہوتا ہی حلال میں ہے۔

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5782

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5783

5784 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا إبراهيم بن سعيد بن عثمان الخياط قال : سمعت السري يقول : رجعت مرة فرأيت في طريقي نقيرا مملوءا ماء صافيا وحوله عشب من حشيش قد نبت فقلت في نفسي يا سري لو كنت أكلت أكلة حلالا وشربت شربة حلالا فاليوم فنزلت عن دابتي فأكلت من ذلك الحشيش وشربت من ذلك الماء فتهتف بي هاتف سمعت الصوت ولم أر الشخص يا سري فالنفقة التي بلغتك إلى هنا من أين هي

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو ابراہیم بن سعید بن عثمان خیاط نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سری سے ایک مرتبہ میں واپس لوٹا تو میں نے راستے میں صاف پانی کا بھرا ہوا ایک برتن دیکھا جس کے اردگرد حشیش کی گھانس و پودے اُگ چکے تھے میں نے دل میں سوچا اے سری اگر میں کسی دن حلال لقمہ کھا سکتا ہوں اور حلال پانی پی سکتا ہوں تو وہ آج کا دن ہے لہٰذا میں اپنی سواری کے جانور سے اترا اور اس حشیش سے کھایا اوراس پانی میں سے پیا۔ اس کے بعد غیب سے آواز دینے والے نے مجھے آواز دی میں نے آواز سنی مگر آواز دینے والے شخص کو نہیں دیکھا (اس نے کہا) اے سری المغلس و وہ خرچہ جس کے ذریعہ تو یہاں تک پہنچا تھاوہ کہاں سے آیا تھا۔

السَّرِيُّ، ← إبراهيم بن سعيد بن عثمان الخياط ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5783

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5784

5785 - وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو الفضل أحمد بن محمد الصيرفي ثنا سعيد بن عثمان الخياط : فذكر الحكاية يزيد في الألفاظ وينقص وقال : في آخرها فقصر إلي نفسي

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الفضل احمد بن محمد صیرفی نے ان کو سعید بن عثمان خیاط نے پس اس نے ذکر کیا اس حکایت و الفاظ میں کمی زیادتی کے ساتھ اور آخر میں کہا ہے کہ اس نے میرے نفس کو میرے لئے توڑ دیا۔

في آخرها فقصر إلي نفسي ← الحكاية يزيد في الألفاظ وينقص ← سعيد بن عثمان الخياط ← أبو الفضل أحمد بن محمد الصيرفي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5784

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5785

5786 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت الحسين بن أحمد بن جعفر يقول : سمعت محمد بن داود الدينوري يقول : سمعت أبا عبد الله بن الجلاد يقول : أعرف من أقام بمكة ثلاثين سنة لم يشرب من ماء زمزم إلا ما استقاه بركوته ورشائه ولم يتناول من طعام حلب من مصر شيئا

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حسین بن احمد بن جعفر سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا محمد بن داؤد دینوری سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو عبداللہ بن جلا دے وہ کہتے ہیں میں اس شخص کو پہچانتا ہوں جو تیس سال تک کے میں مقیم رہا مگر اس نے آب زمزم میں سے کچھ نہیں پیا سوائے اس کے جو اس کے ڈول اور رسی میں جذب ہوا ہوتا تھا ور کھانا اس نے کچھ بھی نہیں کھایا سوائے اس دودھ کے جو تھوڑ اسا اس نے مصر میں دوہا تھا۔

أبا عبد الله بن الجلاد ← مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الدِّينَوَرِيُّ، ← الحسين بن أحمد بن جعفر ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5785

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5786

5787 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا جعفر بن محمد بن نصير حدثني أبو محمد الجريري قال : سمعت سهل بن عبد الله التستري يقول : من نظر في مطعمه دخل عليه الزاهد من غير دعوى

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو جعفر بن محمد بن نصیر نے ان کو ابو محمد جریری نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سہل بن عبداللہ تستری سے وہ کہتے ہیں کہ جو شخص اپنے طعام کے (حرام وحلال) پر نظر رکھے اس پر زہد بغیر دعویٰ کے داخل ہو جاتا ہے۔

من نظر في مطعمه دخل عليه الزاهد من غير دعوى ← سَهْلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التُّسْتَرِيُّ ← أبو محمد الجريري ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5786

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5787

5788 - أخبرنا أبو عبد الله أنا دعلج بن أحمد السجزي ثنا أحمد بن علي الأبار ثنا أبو طاهر ثنا عبد الرحمن بن القاسم عن مالك قال : قال عمر بن عبد العزيز : التقي ملجم لا يستطيع كل ما يريد أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا دعلج بن أحمد ثنا عيسى بن سليمان ثنا داود بن رشيد قال أنشدني يحيى بن معين ( المال يذهب حله وحرامه يوما ويبقى في غد آثامه ) ( ليس التقي بمتق لإلهه حتى يطيب شرابه وطعامه ) ( ويطيب ما يحوي ويكسب كفه ويكون في حسن الحديث كلامه ) ( نطق النبي لنا به عن ربه فعلى النبي صلاته وسلامه )

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ نے ان کو دعلج بن احمد سنجری نے ان کو احمد بن علی آباد نے ان کو ابو طاہر نے ان کو عبدالرحمٰن بن قاسم نے ان کو مالک نے وہ کہتے ہیں کہ کہا عمر بن عبدالعزیز نے کہا پرہیزگار انسان لگام چڑھایا ہوا ہوتا ہے۔ وہ جو کچھ ارادہ کرے اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو دعلج بن احمد نے ان کو عیسیٰ ٰ بن سلیمان نے ان کو داؤد بن رشید نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے شعر سنائے یحییٰ بن معین نے مال تو ایک دن ختم ہو جاتا ہے خواہ حلال ہو خواہ حرام ہو مگر اس کا گناہ کل قیامت تک باقی رہے گا متقی اور پرہیزگار صرف وہی نہیں ہے جو صرف دوسرے الہ ٰنہ بنائے بلکہ وہ ہے جس کا کھانا پینا پاک ہو۔ اور نیت صاف ہو اور ہاتھ کی کمائی پاک ہو اور اس کی کلام اچھی بات کرنے کے لئے ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے اپنے رب سے یہی ہدایات بتائی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوٰۃ اور سلام ہو۔

مَالِكٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← أَبُو طَاهِرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ ← دِعْلِجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، ← أَبُو عَبْد اللَّهِ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5787

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5788

5789 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو سعيد موقر بن محمد بن الجراح الأديب الهروي ثنا أبو إسحاق أحمد بن محمد بن سعيد ثنا محمد بن عبد الكريم المروزي قال : لما ولي يحيى بن أكتم القضاء وكتب إليه أخوه عبد الله بن أكتم من مرو كان من الزهاد : ( ولقمة بجريش الملح تأكلها ألذ من تمرة تحشى بزنبور ) ( وأكلة قربت للهلك صاحبها كحبة الفخ دقت عنق عصفور )

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو سعید موقر بن محمد بن جراح ادیب ہروی نے ان کو ابو اسحٰق احمد بن محمد بن سعید نے ان کو محمد بن عبد الکریم مروزی نے وہ کہتے ہیں کہ جب یحییٰ بن اکتم قضاء کے لئے قبیلے کے حاکم بنائے گئے۔ اور ان کے بھائی عبداللہ بن اکتم نے مرو سے لکھا اور وہ زاہد لوگوں میں سے تھا۔ شعر میں جن کا مفہوم یہ ہے۔ و ایک لقمہ جسے تم موٹے کوٹے ہوئے نمک کے ساتھ کھاتے ہو وہ زیادہ لذیز ہوتا ہے اس کھجور سے جس کے اندر بھڑ بھری ہوئی ہوں۔ اور وہ ایک لقمہ جس کے اس کا مالک تیرے منہ کے قریب کرے مثل اس دانے کے ہے جو (پرندے پھانسنے کی پھانسی میں انکا ہوتا ہے) جو پرندوں کی گردن توڑ دیتی ہے۔

لما ولي يحيى بن أكتم القضاء ← محمد بن عبد الكريم المروزي ← أبو إسحاق أحمد بن محمد بن سعيد ← أبو سعيد موقر بن محمد بن الجراح الأديب الهروي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5788

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5789

5790 - أخبرنا أبو نصر قتادة و أبو بكر الفارسي أنا أبو عمرو بن مطر ثنا إبراهيم بن علي الذهلي ثنا يحيى بن يحيى أنا عباد بن العوام عن سفيان بن حسين عن يعلى بن مسلم عن سعيد بن جبير عن ابن عباس : أن آدم لما أكل من الشجرة التي نهي عنها قال الله عز و جل له : يا آدم ما حملك على ما صنعت قال : فاعتل آدم فقال آدم : رب زينته لي حواء قال : فإني أعاقبها أن لا تحمل إلا كرها ولا تضع إلا كرها ودميتها في الشهر مرتين فرنت عند ذلك حواء قال : فقيل عليك الرنة وعلى بناتك هكذا جاء موقوفا

ہمیں خبر دی تھی ابو نصر قتادہ نے اور ابو بکر فارسی نے ان کو ابو عمرو بن مطر نے ابراہیم بن علی ذہلی نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو عباد بن عوام نے ان کو سفیان بن حسین نے ان کو یعلیٰ بن مسلم نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے جب درخت سے کھایا جس سے منع کئے گئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے پوچھا جو کچھ تم نے کیا اس پر تمہیں کس چیز نے آمادہ کیا تھا ؟ حضرت آدم علیہ السلام نے عذر پیش کرتے ہوئے کہا: اے میرے رب! اس معاملے کو میرے لئے حوا نے خوبصورت بنا کر پیش کیا تھا۔ اللہ نے فرمایا کہ میں اس کو یہ سزا دوں گا کہ وہ حمل تکلیف کے ساتھ گزارے گی اور وضع حمل بھی تکلیف کے ساتھ کرے گی اور ہر مہینے دو مرتبہ خون آلود ہو گی حوا یہ سن کر زور سے رو پڑی تھی کہتے ہیں کہ رونا تیرے اوپر لازم ہو گیا ہے اور تیری بیٹیوں پر بھی۔ سید وایت اسی طرح موقوف آئی ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← يَعْلَی بْنِ مُسْلِمٍ ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أبو نصر قتادة و أبو بكر الفارسي

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5789

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5790

5791 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن و محمد بن موسى ثنا أبو العباس الأصم ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا أبو صالح ح وأخبرنا أبو عثمان سعيد بن محمد بن محمد بن عبدان النيسابوري أنا أبو بكر محمد بن المؤمل بن الحسن بن عيسى ثنا الفضل بن محمد ثنا أبو صالح ثنا معاوية بن صالح كذا عن يحيى بن سعيد عن خالد بن معدان بن المقدام بن معدي كرب صاحب النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : ما أكل طعاما خيرا من أن يأكل من عمل يديه قال : وكان داود عليه السلام لا يأكل إلا من عمل يديه لفظهما سواء غير أنه ليس في رواية الصغاني صاحب النبي صلى الله عليه و سلم أخرجه البخاري من وجه آخر عن خالد بن معدان

ہمیں خبر دی ابو بکر احمد بن حسن اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو ابو صالح نے ’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ابو عثمان سعید بن محمد بن محمد بن عبدان نیسا پوری نے کو ابو بکر محمد بن مؤمل بن حسین بن عیسیٰ نے ان کو فضل بن محمد نے ان کو ابو صالح نے ان کو معاویہ بن صالح نے اسی طرح یحییٰ بن سعید سے اس نے خالد بن معدان بن مقدام بن معد یکرب صاحب نبی سے اس نے نبی کر میر صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ انہوں نے فرمایا: کوئی شخص ایسا نہیں جو اپنے ہاتھوں کی کمائی سے زیادہ بہتر کوئی طعام کھائے۔ فرمایا کہ داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھوں کی کمائی کے سوا نہیں کھاتے تھے دونوں روایتوں کے الفاظ برابر ہیں سوائے اس کے کہ صنعانی کی روایت میں صاحب نبی کے الفاظ نہیں ہیں۔ اور بخاری نے اس کو روایت کیا ہے دوسرے طریقہ سے خالد بن معدان سے۔

يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← معاوية بن صالح كذا ← أَبُو صَالِحٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بن الحَسَن بن عيسى ← أبو عثمان سعيد بن محمد بن محمد بن عبدان النيسابوري ← أَبُو صَالِحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو بكر أحمد بن الحسن و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5790

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5791

5792 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا العباس بن محمد الدوري ثنا شريح بن النعمان ثنا أبو عوانة عن الأعمش عن شمر بن عطية عن يحيى بن وثاب عن ابن عمر عن عمر بن الخطاب أنه قال : يا غلام أنضج العصيدة تذهب عنا حرارة الزيت

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو شریح بن نعمان نے ان کو ابو عوانہ نے اعمش سے ان کو شہر بن عطیہ نے ان کو یحییٰ بن وثاب نے ان کو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے فرمایا: اے لڑکے! عصیدہ (ایک قسم کا حلوا) پکوائیے، ہم سے تیل کی گرمی دور کیجئے۔

يا غلام أنضج العصيدة تذهب عنا حرارة الزيت ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ ← ابْنِ عُمَرَ ← يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، ← شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← شُرَيْحُ بْنُ النُّعْمَانِ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5791

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5792

5793 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقرئ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق أخبرني الحسن بن سفيان ثنا عبد العزيز بن حبيب ثنا جعفر بن محمد هو ابن هارون عن طبيب علي بن مرة الطائي : وكان له نحو من تسعين قلت : له فدنا من طبك قال : أحفظ أربع خصال قلت هات قال : أما إحداهن فمتى ما مرضت فإن أهلك يشفقون عليك فيقولون لو أكلت شيئا لو شربت شيئا فإن حضرتك شهوة ليس عما يعرضون عليك فكل فإن العافية قد جاءتك وإن لم تشته شيئا فلا تلتفت إلى كلامهم فإنك إن أكلته على غير شهوة فمضرته في بدنك أعظم من منفعه وأما الثانية فإن يكن لك امرأة أو جارية فلا تقربها أبدا إلا على قرم فإنك إن قربتها على غير قرم كانت مضرة في بدنك وإذا قربتها على القرم كانت بمنزلة الجنابة تصيبك وأما الثالثة فمتى ما هاج بك داء فلا تدخل الحمام فإنه يهيج الداء الساكن وادخله على الصحة فإنه نافع وأما الرابعة فإن أحدهم يدخل بيته ويغلق بابه ويرخي ستره ويقول أريد أن أنام وليس به نوم فيتناوم فيقوم أثقل مما دخل ولو أنه لم ينم حتى ينعس فام كأنه نشط من عقال 5793 - مكرر ـ وأخبرنا أبو الحسن المقرئ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق أخبرني الحسن بن سفيان ثنا عمر بن كثير بن دينار ثنا بقية ثنا أرطاة قال : اجتمع رجال من أهل الطب عند ملك من الملوك فسألهم ما رأس دواء المعدة فقال كل رجل منهم قولا وفيهم رجل ساكت فلما فرغوا قال : ما تقول أنت : قال : ذكروا أشياء وكلها تنفع بعض النفع ولكن ملاك ذلك ثلاثة أشياء لا تأكل طعاما أبدا إلا أنت تشتهيه ولا تأكل لحما يطبخ لك حتى ينعم إنضاجه ولا تبتلع لقمة أبدا حتى تمضغها مضغا شديدا لا يكون على المعدة فيها مؤونة

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو خبر دی حسن بن سفیان نے ان کو عبد العزیز بن حبیب نے ان کو جعفر بن محمد بن یعنی ابن ہارون نے۔ مشہور حکیم علی بن مرہ طائی سے جن کی نوے برس کے قریب عمر تھی۔ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا اور آپ اپنی طب سے ہمیں مستفید فرمائیں۔ بولے چار خصلتوں سے آپ حفاظت کریں۔ میں نے کہا بتایئے۔ فرمایا کہ ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب تم بیمار ہو جاؤ اور تمہارے گھر والے تمہارے اوپر شفقت کریں کہ آپ یہ کھا لیجئےیہ پی لیجئے اگر تجھے کسی ایسی چیز کی خواہش ہو رہی ہو جوان کی کہی ہوئی شئی سے مختلف ہے تو وہ کچھ کھا لیجئے بے شک صحت آ چکی ہے تیرے پاس۔اور اگر تم کسی شئی کی خواہش نہ کرو تو ان کی بات پر توجہ نہ دو۔ کیونکہ اگر آپ بغیر بھوک کے صرف ان کے کہنے پر کھائیں گے تو تیرے جسم میں فائدے سے زیادہ نقصان ہو گا اور دوسری چیز یہ ہے کہ اگر تیری بیوی یا لونڈی ہو اس کے قریب بالکل نہ جانا صحبت کرنے کے لئے مگر جماع کی خواہش کے بعد۔ کیونکہ شدید خواہش کے بغیر اگر آپ صحبت کریں گے تو تیرے جسم میں نقصان ہو گا اور جب آپ اس سے صحبت کریں گے جماع کی خواہش کے مطابق تو یہ بمنزلے خواب میں احتلام کے ہو گا بہر حال تیسری چیز یہ ہے کہ جب تم بیمار ہو تو غسل کرنے کی کوشش نہ کرنا کیونکہ اس سے رکی ہوئی پیاری ہو سکتی ہے۔ اور صحت ہونے کے بعد غسل کرو وہ فائدے کی چیز ہے۔ چوتھی چیز یہ ہے ایک آدمی گھر میں گھستا ہے دروازے بند کرتا ہے پردہ ڈالتا ہے اور کہتا ہے کہ میں ہونا چاہتا ہوں حالانکہ اسے نیند نہیں آ رہی ہوتی مگر زبردستی سوتا ہے لہٰذا جب اٹھتا ہے تو پہلے سے بھی زیادہ بوجھل ہوتا ہے اگر وہ شخص نیند نہ کرے بلکہ خالی آنکھ لے تو ایسے ہو جائے گا جیسے رسی اور بندش سے نقل کیا ہے۔ مکر رہے۔ ہمیں خبر دی ابو الحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو خبر دی ہے حسن بن سفیان نے ان کو عمر بن کثیر بن دینار نے ان کو بقیہ نے ان کو ارطاۃ نے وہ کہتے ہیں بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ کے دربار میں اہل اب حکیم جمع ہوئے بادشاہ نے ان سے پوچھا کہ معدہ کی سردار دوا کون سی ہے؟ ہر آدمی نے اپنا اپنا جواب دیا مگر ان میں ایک آدمی خاموش بیٹھا تھا جب سب فارغ ہو گئے تو بادشاہ نے کہا کہ تم کیا کہتے ہو اس نے کہا کہ سب نے ایسی چیزیں ذکر کی ہیں جو کچھ فائدہ ضرور دیتی ہیں۔ لیکن ان سب کا خلاصہ تین چیزیں میں کھانا کبھی نہ کھانا مگر بھوک کے بعد اور گوشت بھی نہ کھانا مگر جب اچھی طرح گل کر پک جائے لقمہ کبھی نہ نگلنا حتٰی کہ تم اسے خوب چبا لو اچھی طرح سے کہ معدہ پر مشقت نہیں ہو گی۔

جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ هَارُونَ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ حَبِيبٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5792

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5793

5794 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا زكريا العنبري يقول : سمعت إبراهيم بن علي الذهلي يقول : أخرج من جميع الكلام أربعة آلاف كلمة وأخرج منها أربعمائة كلمة وأخرج منها أربعين كلمة وأخرج منها أربع كلمات أولهن لا تثقن بالنساء والثانية لا تحمل معدتك ما لا تطيق والثالثة لا يغرنك المال والرابعة يكفيك من العلم ما ينتفع به

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو زکریا عنبری سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابراہیم بن علی ذہلی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے عام کلام میں سے چار ہزار کلمات نکالے پھر چار ہزار کلمہ کا خلاصہ چار سو کلمہ میں نکالا۔ پھر چار کلمے میں سے میں نے چالیس کلمے نکالے پھر چالیس میں سے میں نے چار کلمے نکالے۔ پہلا ان میں سے یہ ہے کہ عورتوں کے ساتھ اختلاط نہ رکھو، دوسرا یہ ہے کہ معدے کو اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہ اٹھواؤ۔ تیسرا یہ ہے کہ مال تمہیں دھوکہ نہ دے۔ چوتھا یہ کہ تجھے اتنا علم کافی ہے جس کے ساتھ فائدہ اٹھایا جائے۔

إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ ← أبا زكريا العنبري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5793

chevron_left Previous
1…181920…78
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood