شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5770
5771 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي أنا أبو الحسن الطرائفي ثنا عثمان بن سعيد ثنا القنعبي فيما قرأ على مالك عن زيد بن أسلم أنه قال : شرب عمر بن الخطاب رضي الله عنه لبنا فأعجبه قال للذي سقاه من أين لك هذا اللبن فأخبره أنه ورد على ماء قد سماه فإذا نعم من نعم الصدقة وهم يسقون فحلبوا لي من ألبانها فجعلته في سقائي وهو هذا فأدخل عمر يده فاستقاه وروينا عن علي رضي الله عنه في طيب مطعمه أنه كان يجاء بجون في جراب من المدينة وهو في كتاب الفضائل مذكور
ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق مزکی نے ان کو ابو الحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو قعنبی نے اس میں جو اس نے پڑھا ما لک پر اس نے زید بن اسلم سے کہ انہوں نے کہا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دودھ پیا اور ان کو کچھ تعجب سا ہو تو انہوں نے اس سے پوچھا جس نے پایا تھا کہ یہ دودھ کہاں سے لائے تھے؟ اس نے بتایا کہ میں پانی کے فلاں گھاٹ پر گیا تھاوہاں صدقے کے جانور پانی پی رہے تھے اور وہ لوگ اونٹیوں کا دودھ پلا رہے تھے انہوں نے مجھے بھی نکال کر دیا تو میں نے اسے اپنے برتن میں ڈال لیا یہ وہی ہے؟ یہ سنتے ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہاتھ منہ میں ڈال کر قے کر ڈالی۔ اور ہم نے روایت کی ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ان کے پاکیزہ کھانے کے بارے میں کہ ان کے پاس ایک ڈبہ لایا جاتا چمڑے کے تھیلے میں مدینے سے۔ اور وہ کتاب الفضائل میں مذکور ہے۔ (میں نے اس حدیث کو علی بن عاصم کے حالات میں نہیں پایا۔ دیکھئے الکامل ۵/ ۱۸3۸٫۱۸۳۵)
للذي سقاه من أين لك هذا الل بن ← شرب عمر بن الخطاب لبنا فأعجبه ← زيد بن أسلم أنه ← القنعبي فيما قرأ على مالك ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي
Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5770
