Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5758

5759 - أخبرنا أبو علي بن شاذان أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا عمرو بن منصور ثنا عبد الواحد بن زيد وأخبرنا عبد الخالق بن علي المؤذن أنا أبو بكر أحمد بن سعد بن نصر ببخارى أنا أبو علي صالح بن محمد البغدادي أنا يحيى بن معين ثنا أبو عبيدة يعني عبد الواحد بن واصل الحداد ثنا عبد الواحد بن زيد عن أسلم الكوفي عن مرة الطيب عن زيد بن أرقم عن أبي بكر الصديق رضي الله عنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : كل جسد نبت من سحت فالنار أولى به وفي رواية المؤذن أيما لحم من سحت فالنار أولى به

ہمیں خبر دی ابو علی بن شاذان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو عمرو بن منصور نے ان کو عبدالواحد بن زید نے۔ اور ہمیں خبر دی عبد الخالق بن علی مؤذن نے ان کو ابو بکر احمد بن سعید بن نصر نے بخارا میں ان کو ابو علی صالح بن محمد بغدادی نے ان کو یحییٰ بن معین نے ان کو ابو عبیدہ نے یعنی عبدالواحد بن واصل حداد نے ان کو عبدالواحد بن زید (اصل نسخہ میں عبداللہ بن یزید ہے) نے ان کو اسلم کوفی نے ان کو مرہ طبیب سے ان کو زید بن ارقم نے ان کو ابو بکر صدیق نے وہ کہتے ہیں انہوں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ ہر جسم جو حرام سے پیدا ہو آگ اس کے لئے سب سے بہتر ہے اور مؤذن کی ایک روایت میں ہے جونسا گوشت حرام سے ہے پس آگ اس کے ساتھ بہتر ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ: ← زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← مُرَّةَ الطَّيِّبِ ← أَسْلَمُ الْكُوفِيُّ، ← عبد الواحد بن زيد ← أبو عبيدة يعني عبد الواحد بن واصل الحداد ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أبو علي صالح بن محمد البغدادي ← أبو بكر أحمد بن سعد بن نصر ببخارى ← عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيٍّ الْمُؤَذِّنُ ← عبد الواحد بن زيد ← عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أبو علي بن شاذان

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5758

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5759

5760 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا الحسن بن علي بن سهل المحفة ثنا قرة يعني ابن حبيب ثنا عبد الواحد بن زيد حدثني أسلم الكوفي عن مرة الطيب عن زيد بن أرقم قال : كنت عند أبي بكر فأتاه غلام له بطعام فأهوى إلى لقمة فأكلها ثم سأله من أين اكتسبه قال : كنت قسا للقوم في الجاهلية فأوعدوني فأطعموني هذا يعني اليوم فقال لا أراك إلا أطعمتني ما حرم الله ورسوله ثم أدخل إصبعيه فتقيأ ثم قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أيما لجم نبت من حرام فالنار أولى به

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو حسن بن علی بن سہل محفہ نے ان کو قرہ نے یعنی ابن حبیب نے ان کو عبدالواحد بن زیاد نے ان کو حدیث بیان کی اسلم کوفی نے مرہ طیب سے اس نے زید بن ارقم سے وہ کہتے ہیں کہ میں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ان کا ایک غلام ان کے لئے کھانا لایا وہ جب لقمے کے لئے جھکے اور اسے کھایا تو پھر اس سے پوچھا کہ یہ تم نے کہاں سے کمایا تھا اس نے بتایا کہ میں جاہلیت میں اسلام لانے سے قبل لوگوں کے اونٹ چراتا تھا انہوں نے مجھے وعدہ دیا تھا آج انہوں نے مجھے یہ کھانے کو دیا ہے تو میں آپ کے پاس لے آیا ہوں۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں سمجھتا ہوں کہ تم نے مجھے وہ چیز کھلا دی ہے جس کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کر دیا ہے اس کے بعد اپنی دو انگلیاں حلق میں داخل کر کے قے کر دی اس کے بعد فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا فرما رہے تھے کہ جونسا گوشت حرام سے پیدا ہو آگ اس کے ساتھ سب سے بہتر ہے۔

زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← مُرَّةَ الطَّيِّبِ ← أَسْلَمُ الْكُوفِيُّ، ← عبد الواحد بن زيد ← قرة يعني ابن حبيب ← الحسن بن علي بن سهل المحفة ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5759

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5760

5761 - وأخبرنا أبو سعيد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ أنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن أبي طالب أنا علي بن عاصم أنا عبد الله بن عثمان بن خيثم عن عبد الرحمن بن سابط حدثني جابر بن عبد الله قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : يا كعب بن عجرة إنه لا يدخل الجنة من نبت لحمه من سحي النار أولى به يا كعب بن عجرة الصلاة قربان والصيام جنة والصدقة تطفئ الخطيئة كما يطفئ الماء النار يا كعب الناس غاديان فبائع نفسه وموبق رقبته ومبتاع نفسه ومعتق رقبته تابعه معمر عن ابن خيثم

اور ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابی طالب نے ان کو علی بن عاصم نے ان کو عبداللہ بن عثمان بن خیثم نے ان کو عبدالرحمٰن سابط نے ان کو جابر بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اے کعب بن عجرہ ! بے شک وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کا گوشت مال حرام سے بنا ہے آگ اس کے لئے بہتر ہے۔اے کعب بن عجرہ ! نماز قربانی ہے روزہ ڈھال ہے اور صدقہ گناہ کو بجھاتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھاتا ہے۔ اے کعب الوگ دو طرح صبح کرتے ہیں ایک اپنے نفس کو فروخت کرنے والا۔ دوسرا اپنی گردن کو ہلاکت میں ڈالنے والا۔ اور کوئی اپنے نفس خریدتا ہے اور اپنی گردن کو آزاد کراتا ہے۔ معمر نے ابن خیثم سے اس کا متابع بیان کیا ہے۔

يا كعب بن عجرة ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خيثم ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5760

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5761

5762 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا إسماعيل بن الفضل البلخي حدثني أمية بن بسطام ثنا معتمر قال : سمعت عبد الملك بن أبي جميلة يحدث عن أبي بكر بن موسى عن كعب بن عجرة قال : قال نبي الله صلى الله عليه و سلم : يا كعب كيف بك إذا كان عليك أمراء فمن دخل عليهم فصدقهم بكذبهم وأعانهم على ظلمهم فليس مني ولا أنا منه ولا يرد علي حوضي يا كعب إنه لا يدخل الجنة لحم ولا دم نبتا من سحت كل لحم ودم نبتا من سحت فالنار أولى به يا كعب الناس رجلان غاديان و رائحان غاد في فكاك رقبته فمعتقها وغاد فموبقها يا كعب الصلاة برهان والصوم جنة والصدقة تذهب الخطيئة كما يذهب الجامدة على الصفا قال الشيخ : كذا كان في كتاب لأبي بكر بن أبي موسى وأنا أظنه أبا بكر بن بشير بن كعب بن عجرة

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو اسماعیل بن فضل بلخی نے ان کو امیہ بن بسطام نے ان کو معتمر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبد الملک بن ابی جمیلہ سے وہ ابو بکر بن موسیٰ سے وہ کعب بن عجرہ سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے کعب! کیا وقت ہو گا تیرے اوپر جب تیرے اوپر ایسے امیر مقرر ہوں گے۔ جو بھی ان کے پاس جائے گا ان کے جھوٹ کے باوجود ان کو سچا کہے گا اور ان کے ظلم کے باوجود ان کی مددکرے گا وہ مجھ سے نہیں ہو گا میں ان میں سے نہیں ہوں وہ میرے پاس حوض پر نہیں آ سکے گا۔ اے کعب ! جنت میں وہ گوشت اور خون داخل نہیں ہو گا جو حرام سے پیدا ہوا ہے ہر وہ گوشت اور خون جو حرام سے پیدا ہوا آگ اس کے لئے بہتر ہے۔ اے کعب ! لوگ دو طرح کے ہیں صبح کرنے والے اور شام کرنے والے کوئی صبح کرتا ہے اپنی گردن چھٹرانے میں وہ اس کو آزاد کراتا ہے اور کوئی صبح کرتا ہے تو اس کو ہلاکت میں ڈالتا ہے۔اے کعب ! نماز دلیل برہان ہے۔ اور روزہ وہ ڈھال ہے اور صدقہ گناہ سے دور کرتا ہے جیسے صاف پتھر پر سے غبار جاتا ہے۔ شیخ نے فرمایا کہ اسی طرح لکھا ہوا تھا ابو بکر بن موسیٰ کی کتاب میں اور میں اس کو گمان کرتا ہوں کہ و وابو بکر بن بشیر بن کعب بن عجرہ ہے۔

کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← أَبِي بَکْرِ بْنِ مُوسَی ← عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي جَمِيلَةَ، ← مُعْتَمِرٌ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← إسماعيل بن الفضل البلخي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5761

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5762

5763 - أخبرنا أبو سهل محمد بن نصرويه المروزي ثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن حبيب ثنا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني إبراهيم بن سعيد ثنا يزيد بن هارون أنا محمد بن إسحاق عن موسى بن بشار عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لأن يجعل أحدكم في فيه ترابا خير له من أن يجعل في فيه ما حرم الله عز و جل وروي عن حفص بن عبد الرحمن عن أبي إسحاق عن سعيد بن يسار عن أبي هريرة والأول أولى

ہمیں خبر دی ابو سہل محمد بن نصرویہ مروزی نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن حبیب نے ان کو ابو بکر بن ابی الدنیا نے ان کو ابراہیم بن سعید نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو موسیٰ بن بشار نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: البتہ اگر کوئی شخص تم میں سے کسی کے منہ میں مٹی دے دے تو یہ اس کے حق میں بہتر ہے اس بات سے کہ اس کے منہ میں ایسی چیز دے جس کواللہ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ اور روایت کی گئی ہے حفص بن عبدالرحمٰن سے اس نے ابو اسحٰق سے اس نے سعید بن یسار سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور پہلی سند بہتر ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← موسى بن بشار ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← إِبْرَاھِیمُ بْنُ سَعِیدٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَبِيبٍ ← أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرَوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5762

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5763

5764 - أخبرنا أبو منصور محمد بن محمد بن عبد الله بن نوح النخعي بالكوفة ثنا أبو القاسم علي بن محمد بن كثير العامري ثنا أبو أحمد محمد بن عمران بن موسى الصيرفي ببغداد ثنا أحمد بن محمد أبو بكر المروزي حدثني عبد الصمد بن محمد بن مقاتل العباداني عن بشر بن الحارث قال : سمعت المعافى بن عمران يقول : كان عشرة فيمن مضى من أهل العلم ينظرون في الحلال النظر الشديد لا يدخلون بطونهم إلا ما يعرفون من الحلال وإلا استفوا التراب ثم عد بشر إبراهيم بن أدهم و سليمان الخواص و علي بن فضيل بن عياض و أبا معاوية الأسود و يوسف بن أسباط و وهيب بن الورد و حذيفة شيخ أهل حران و داود الطائي فعد عشرة كانوا لا يدخلون بطونهم إلا ما يعرفون من الحلال وإلا استفوا التراب

ہمیں خبر دی ابو منصور محمد بن محمد بن عبداللہ بن نوح نخعی نے کوفے میں ان کو ابو القاسم علی بن محمد بن عبد بن کثیر عامری نے ان کو ابو احمد محمد بن عمران بن موسیٰ صیرفی نے بغداد میں ان کو احمد بن محمد ابو بکر روزی نے ان کو عبد الصمد بن محمد بن مقاتل عبادانی نے ان کو بشر بن حارث نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا المعافی بن عمران سے وہ کہتے ہیں کہ گزرے ہوئے لوگوں میں دس اہل علم تھے۔ وہ حلال وحرام کے معاملے میں سخت نظر رکھتے تھے وہ اپنے پیٹ میں صرف اسی چیز کو داخل کرتے تھے جس کو وہ جانتے تھے کہ یہ حلال ہے۔ ورنہ وہ مٹی پھانکتے اس کے بعد بشر نے ان کی گنتی کی۔ (1) ابراہیم بن ادہم۔ (2) سلیمان الخواص۔ (3) علی بن فضیل بن عیاض۔ (4) ابو معاویہ اسود (5) یوسف بن اسباط۔ (6) وہیب بن درد۔ (7) حذیفہ شیخ اہل حران۔ (8) داؤد طائی۔ بشر نے ان کو دس گنوایا کہ وہ پیٹ میں داخل نہیں کرتے تھے مگر وہی چیز جس کو وہ جانتے تھے کہ یہ حال ہے ورنہ وہ مٹی پھانک لیتے۔

الْمُعَافِیُّ بْنُ عِمْرَانَ ← بِشْرُ بْنُ الْحَارِثِ ← عبد الصمد بن محمد بن مقاتل العباداني ← أحمد بن محمد أبو بكر المروزي ← أبو أحمد محمد بن عمران بن موسى الصيرفي ببغداد ← أبو القاسم علي بن محمد بن كثير العامري ← أبو منصور محمد بن محمد بن عبد الله بن نوح النخعي بالكوفة

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5763

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5764

5765 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني عبد الرحمن بن الحسن الهمداني ثنا إبراهيم بن الحسين ثنا آدم ثنا شعبة ثنا يعلى بن عطاء قال : سمعت أبي يحدث عن عبد الله بن عمرو العاص قال : مثل المؤمن كمثل النحلة لا يأكل إلا طيبا ولا يضع إلا طيبا قال الشيخ هذا هو المحفوظ بهذا الإسناد موقوف وقد رفعه سلام بن سليمان عن شعبة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبدالرحمٰن بن حسن ہمدانی نے ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو آدم نے ان کو شعبہ نے ان کو یعلی بن عطاء نے انہوں نے سنا اپنے والد سے وہ روایت کرتے ہیں عبداللہ بن عمرو بن العاص سے انہوں نے فرمایا کہ مومن کی مثال کھجور کے درخت جیسی ہے کہ کھاتا بھی پاکیزہ ہے اور جتنا بھی پاکیزہ ہے۔ شیخ نے فرمایا یہی محفوظ ہے اس اسناد کے ساتھ جو کہ موقوف ہے اور اس کو مرفوع کیا ہے سلام بن سلیمان نے شعبہ سے۔

شُعْبَةُ، ← الشيخ هذا هو المحفوظ بهذا الإسناد موقوف وقد رفعه سلام بن سليمان ← مثل المؤمن كمثل النحلة لا يأكل إلا طيبا ولا يضع إلا طيبا ← عبد الله بن عمرو العاص ← أَبِي ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عبد الرحمن بن الحسن الهمداني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5764

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5765

5766 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عمرو الدقاق ثنا محمد بن عيسى المدايني ثنا سلام بن سليمان عن شعبة أخبرناه أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عمرو الدقاق ثنا محمد بن عيسى المدايني ثنا سلام بن سليمان ثنا شعبة فذكره بإسناده مرفوعا ورواه عبد الله بن بريدة عن الحصين كذا وجدته عن أبي سبرة الهذلي سمع عبد الله بن عمرو يقول : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : مثل المؤمنين مثل النحلة إن أكلت أكلت طيبا وإن وضعت وضعت طيبا وإن وقعت على عود شجر لم تكسره ومثل المؤمن مثل سبيكة الذهب إن نفخت عليها احمرت وإن وزنت لم تنقص

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عمرو دقاق نے ان کو محمد بن عیسیٰ مدائنی نے ان کو سلام بن سلیمان نے شعبہ سے۔ ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کو ابو عمرو دفاقی نے کو محمد بن عیسیٰ مدائنی نے ان کو سلام بن سلمان نے ان کو شعبہ نے اس نے اس کو ذکر کیا ہے اپنی اسناد کے ساتھ موضوع روایت کے طور پر اور اس کو روایت کیا ہے عبداللہ بن بریدہ نے ان کو حصین نے وہ کہتے ہیں کہ ایسی ہی پایا تھا میں نے کو ابو سبرہ ھذلی سے اس نے سنا عبداللہ بن عمرو سے وہ کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا: مومن کی مثال کھجور کے درخت کی سی ہے اگر کھاتا تو پاکیزہ کھاتا ہے اگر پھل دیتا ہے تو پاکیزہ دیتا ہے۔ اور اگر گر جائے درخت کی ٹکر پر ایسے توڑتا نہیں ہے اور مومن کی مثال ہونے کی ڈلی جیسی ہے اگر اس کو آگ میں پھونک دیں سرخ ہو جاتا ہے اوراگر اس کو وزن کریں تو کم نہیں ہوتا۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي سبرة الهذلي ← الحصين كذا وجدته ← شعبة فذكره بإسناده مرفوعا ورواه عبد الله بن بريدة ← سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْمَدَائِنِيُّ، ← أبو عمرو الدقاق ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← شُعْبَةُ، ← سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْمَدَائِنِيُّ، ← أبو عمرو الدقاق ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5765

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5766

5767 - أخبرناه علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا ثنا محمد بن إسماعيل بن أبي البصري ثنا محمد بن أبي عدي عن حسين المعلم عن عبد الله بن بريدة عن الحصين فذكره غير أنه قال : سمع عبد الله بن عمر يقول : عن النبي صلى الله عليه و سلم والصواب عبد الله بن عمرو والله أعلم و رواه غيره عن ابن عدي عن حسين عن عبد الله بن بريدة قال : ذكر لي أن أبا سبرة الهذلي سمع ابن زياد فذكر قصة في الحوض ثم ذكر رواية أبي سبرة عن عبد الله بن عمرو

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عبداللہ بن محمد بن ابی الدنیا نے ان کو محمد بن اسماعیل بن ابو سمینہ بصری نے ان کو محمد بن ابو عدی نے ان کو حسین المعلم نے کو عبداللہ بن بریدہ نے ان کو حصین نے اس نے اسی روایت کو ذکر کیا ہے ہوا اس کے کہ اس نے کہا کہ عبداللہ بن عمر نے سناو ہ کہتے تھے کہ نبی کریم سے مروی ہے اور درست جو ہے وہ عبداللہ بن عمرو ہے واللہ اعلم۔ اور ان کے ماسوا نے اس کو روایت کیا ہے ابن ابی عدی سے اس نے حسین سے اس نے عبداللہ بن بریدہ سے وہ کہتے ہیں کہ اس نے مجھے ذکر کیا تھا کہ ابو سبرہ ہذلی نے سنا ابن زیاد سے اس نے قصہ ذکر کیا حوض کے بارے میں پھر اس نے ذکر کی روایت ابن سبرہ کی عبداللہ بن عمرو سے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← رِوَايَةَ أَبِي سَبْرَةَ، ← قصة في الحوض ثم ← ابن زياد ← لِي أَنَّ أَبَا سَبْرَةَ الْهُذَلِيَّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حُسَيْنٌ ← ابن عَدِيّ ← الصواب عبد الله بن عمرو والله أعلم و رواه غيره ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← الْحُصَيْنِ،فَذَكَرَهُ غَيْرَ أَنَّهُ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← محمد بن إسماعيل بن أبي البصري ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5766

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5767

5768 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا هشام بن علي ثنا عبد الله بن رجاء ثنا هشام عن ابن بريدة عن أبي سبرة الهذلي عن عبد الله بن عمرو بن العاص في حديث طويل ذكره : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ولو كان خيرا منها لما خير علي و علي أن أرضيه بأفضل منها فأبى أن يأكل منها وأمرنا بطعم للأسارى

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ہشام بن علی نے ان کو عبداللہ بن رجاء نے ان کو ہشام نے ان کو ابن بریدہ نے ان کو ابو سبرہ ہذلی نے ان کو عبداللہ بن عمرو بن العاص نے ایک طویل حدیث میں جس کو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کو ذکر کیا ہے کہ اگر اس سے بہتر ہوتا تو علی اس کو ترجیح نہ دیتا اس بات پر کہ میں اس کو پسند کروں اس سے افضل کو بس انکار کر دیا یہ کہ اس سے کھائے اس سے (اور ہمیں حکم دیا قیدیوں کے لئے کھانے کا۔)

عبد الله بن عمرو بن العاص في حديث طويل ذكره ← أَبِي سبرة الهذلي ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← هِشَامٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5767

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5768

5769 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد عبد الرحمن بن أبي حامد المقرئ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الخضر بن أبان ثنا سيار بن حاتم ثنا جعفر بن سليمان حدثني ثابت و عبد الوهاب بن أبي حفص قال : أمسى داود عليه السلام صائما فلما كان عند إفطاره أتي بشربة لبن فقال : من أين لكم هذا اللبن قالوا من شاتنا قال : ومن أين ثمنها قالوا : يا نبي الله من أين تسأل قال : إنا معاشر الرسل أمرنا أن نأكل من الطيبات ونعمل صالحا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ اور ابو محمد (اصل نسخہ میں لفظ بن بھی ہے) عبدالرحمٰن بن ابی حامد مقری نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حضر بن ابان نے ان کو سیار بن حاتم نے ان کو جعفر بن سلیمان نے ان کوثابت اور عبدالوہاب بن ابو حفص نے وہ کہتے ہیں کہ داؤد علیہ اسلام نے شام کی ، روزہ دار تھے جب افطار کا وقت ہوا تو ان کے پاس دودھ کا پیالہ لایا گیا انہوں نے پوچھا کہ یہ کہاں سے آیا ؟ بتایا گیا کہ ہماری بکریوں کا ہے ان کی قیمت کہاں سے آئی ہے انہوں نے کہا اے اللہ کے نبی! آپ کہاں سے پوچھ رہے ہیں یا کیوں پوچھ ر ہے ہیں؟ فرمایا: ہم لوگ رسولوں کی جماعتیں ہیں ہمیں حکم ملا ہے کہ ہم حلال کھائیں اور عمل صالح کریں۔

ثابت و عبد الوهاب بن أبي حفص ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد عبد الرحمن بن أبي حامد المقرئ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5768

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5769

5770 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو محمد دعلج بن أحمد ثنا الفريابي حدثني أحمد بن محمد المقدمي حدثني ابن أبي أويس حدثني أخي عن سليمان بن بلال عن عبيد الله بن عمر عن القاسم بن محمد عن عائشة قالت : كان لأبي بكر رضي الله عنه غلام يخرج له الخراج فكان أبو بكر يأكل من خراجه فجاء يوما بشيء فأكل منه أبو بكر فقال له الغلام وتدري ما هذا فقال أبو بكر : وما هو قال : كنت تكهنت لإنسان في الجاهلية وما أحسن الكهانة إلا أني خدعته فلقيني فأعطاني بذلك فهذا الذي أكلت منه قال : فأدخل أبو بكر يده فقاء كل شيء في بطنه رواه البخاري في الصحيح عن إسماعيل بن أبي أويس إلا أنه قال : عن أخيه عن سليمان عن يحيى بن سعيد عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو محمد دعلج بن احمد نے ان کوفریابی نے ان کو احمد بن محمد مقدمی نے ان کو ابن ابی اویس نے ان کو میرے بھائی نے ان کو سلیمان بن بلال نے ان کو عبیداللہ بن عمر نے ان کو قاسم بن محمد نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا ایک غلام تھا جو اس کے لئے خراج وصول کرتا تھا۔ حضرت ابو بکر ان کے خران سے کھاتے تھے ایک دن کوئی شئی لے کر آیا تو انہوں نے اس میں سے کچھ کھایا غلام نے ان سے کہا آپ کو معلوم ہے یہ کیسا تھا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تھا یہ ؟ غلام نے کہا اسلام سے پہلے میں ایک ایک کے لئے کہانت کیا کرتا تھا یعنی اس کو غیب کی خبریں دیتا تھا میں بہتر طریقہ پر خبریں تو نہیں دے سکتا اس میں اس کو دھوکہ دیا کرتا تھا۔ وہ آج مل گیا تو اس نے مجھے وہی معاوضہ دیا تھا یہ جو آپ نے کھایا یہ اس میں سے تھا لہٰذا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ہاتھ منہ میں ڈالا اور جو کچھ پیٹ میں تھا سب کچھ نکال دیا بخاری نے اس کو صحیح میں روایت کیا ہے اسماعیل بن ابی اویس سے مگر اس نے کہا اپنے بھائی سے۔اس نے سلیمان سے اس نے یحییٰ بن سعید سے اس نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے اس نے اپنے والد سے۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَخِي ← ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ← أحمد بن مُحَمد المقدمي، ← الْفِرْيَابِيُّ، ← أبو محمد دعلج بن أحمد ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5769

chevron_left Previous
1…161718…78
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood