Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5734

5735 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا جعفر الخواص حدثني الجنيد قال : دخلت على سري يوما فقال لي أعجبك من عصفور يجيء فيسقط على هذا الرواق قد أعددت له لقيمة فأفتها في كفي فيسقط على أطراف أناملي فيأكل فلما كان في وقت من الأوقات سقط على الرواق ففتت الخبز في يدي فلم يسقط على يدي كما كان ففكرت في سري لعله في وحشة مني فوجدتني قد أكلت ملحا مطيبا فقلت في سري أنا تائب من الملح المطيب فسقط على يدي فأكل وانصرف

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو جعفر خواص نے ان کو جنید نے وہ کہتے ہیں میں ایک دن سری سقطی کے پاس چلا گیا انہوں نے مجھے کہا کہ میں آپ کو حیران کر دوں کا ایک چڑیا ہے وہ آئیگی اور اس چھت پراترے گی میں اس کے لئے اس کی خوراک تیار کر چکا ہوں میں اسے اپنی تھیلی پر توڑوں گا لہٰذا وہ آ کر میری انگلیوں کے پوروں پر آ بیٹھے گی اوراپنی خوراک کھائے گی۔ پس جب وہ وقت ہو گیاتو وہ چھت پر آ بیٹھی میں نے روٹی اپنے ہاتھ پر توڑی مگر وہ میرے ہاتھ پر نہ آئی جیسے آتی تھی میں نے دل میں سوچا کہ شاید میرے ڈر سے نہیں آرہی۔ میں نے خیال کیا تو میں خوشبودار نمک کھا چکا تھا۔ اب میں نے اپنے دل میں کہا کہ میں خوشبودار نمک سے توبہ کرتا ہوں۔اتنے میں وہ میرے ہاتھ پر آ گئی اور اپنی خوراک کھا کر چلی گئی۔

دخلت على سري يوما ← الجنيد ← جعفر الخواص ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5734

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5735

5736 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني جعفر الخواص حدثني عمر بن عاصم أبو القاسم البقال حدثني أحمد بن خلف المؤدب قال : دخلت على سري غرفته فرأيته يبكي فوقفت فأوما فإذا قلته مكسورة فقال جاءت الصبية البارحة بهذه القلة فقالت يا أبي هذه القلة ههنا معلقة فإذا أفطرت فاشرب منها فإنها ليلة غمة ومضت فقمت إلى أمر كنت أقوم إليه فغلبتني عيني فرأيت جارية كأحسن الجواري قد دخلت علي الغرفة فقلت لها : يا جارية لمن أنت قالت : لمن لا يشرب الماء المبرد في الكيزان وتناولت القلة بيدها فضربت بها على الأرض فكسرتها قال جعفر : قال الجنيد : فما زال ذلك الخزف مطروحا في غرفته حتى عمى عليه التراب قال جعفر : وحدثني أحمد بن عمرو الحلفاني بهذه الحكاية بقريب من هذا اللفظ

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی جعفر خواص نے ان کو عمر بن عاصم ابو القاسم بقال نے ان کو احمد بن خلف ادیب نے وہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت سری سقطی کے کمرے میں داخل ہوا میں نے دیکھا کہ وہ رو رہے تھے۔ میں کھڑا ہو گیا۔ انہوں نے مجھے ایک ٹوٹے ہوئے مٹکے کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ کل رات ایک چھوٹی بچی یہ مٹکا لے کر آئی تھی اور بولی اے میرے ابا یہ مٹکا یہاں لٹکا ہوا ہے آپ جب افطار کریں تو اس میں سے پانی پینا یہ رات اندھیری ہے اور وہ بھی یہ کہہ کر چلی گئی میں اپنے کام سے اٹھا جیسے میں اٹھا تھا مجھے نیند غالب آ گئی میں سو گیا اتنے میں خواب میں دیکھتا ہوں ایک خوبصورت لڑ کی آتی ہے جیسے خوبصورت لڑکیاں ہوتی ہیں۔ میرے حجرے میں داخل ہوتی ہے، میں اس سے پوچھتا ہوں اے لڑکی آپ کس کے لئے ہیں وہ کہتی ہیں کہ اس شخص کے لئے جو ڈونگوں میں ٹھنڈا پانی نہیں پیتا اور وہ اپنے ہاتھوں میں اس مٹکے کو اٹھا لیتی ہے اور اس کو زمین پر دے مارتی ہے اور اسے توڑ دیتی ہے (چنانچہ یہ ٹوٹا پڑا ہے۔) جعفر کہتے ہیں کہ اس کے مٹکے کی ٹھیکریاں ان کے حجرے میں ہمیشہ پڑی رہیں حتٰی کہ ان پر مٹی آ گئی۔ جعفر نے کہا کہ مجھے حدیث بیان کی احمد بن عمرو حلفانی نے اس حکایت کے بارے میں ان الفاظ کے قریب قریب۔

أحمد بن خلف المؤدب ← عمر بن عاصم أبو القاسم الب ← جعفر الخواص ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5735

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5736

5737 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا محمد بن عبد الوهاب العبدي و علي بن الحسن الهلالي ثنا أبو نعيم ثنا فضيل بن مرزوق ح : ـ

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبدالوہاب عبدی اور علی بن حسن ہلالی نے ان کو ابو نعیم نے ان افضل بن مرزوق نے ’’ح“۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! بے شک اللہ تعالیٰ طیب اور پاک ہے نہیں قبول کرتا مگر پاکیزہ چیز ہی کواور بے شک اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں کو ایسی چیز کا حکم دیا ہے جس چیز کا اس نے رسولوں کو حکم دیا ہے۔ارشاد فرمایا:یٰا یایھا الرسل کلو امن الطیب واعملوا صالحاانی بما تعملون علیم اے رسولو! تم لوگ پاکیزہ چیزیں (صاف ستھری چیزیں) کھاؤ اور نیک عمل کرو تم جو کچھ عمل کر تے ہو میں جانتا ہوں۔ نیز ارشاد فرمایا :یٰایھا الذین اٰمنوا کلوامن طیبات مارزقناکم اے ایمان والو ہم نے تمہیں جو رزق دیا ہے پاکیزہ چیزوں کا اسی کوتم کھاؤ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے بکھرے اور غبار آلود بالوں والا آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہتا ہے یارب یا رب حالانکہ اس کا کھانا حرام ہوتا ہے، پینا حرام ہوتا ہے بس کہاں سے اس کے لئے قبولیت ہو گی۔ یہ روایت ابو نعیم کی ہے۔

فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← محمد بن عبد الوهاب العبدي و علي بن الحسن الهلالي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5736

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5737

5738 - وأخبرنا أبو عبد الله ثنا علي بن محمد بن سختويه عن الحارث بن أبي أسامة ثنا أبو النصر قال : ثنا فضيل بن مرزوق حدثني عدي بن ثابت عن أبي حازم عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا أيها الناس إن طيب لا يقبل إلا طيبا وإن الله تعالى أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين فقال : { يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا إني بما تعملون عليم } وقال : { يا أيها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم } ثم ذكر الرجل يطيل السفر أشعث أغبر يمد يديه إلى السماء يا رب يا رب ومطعمه حرام ومشربه حرام وغذي بالحرام فأني يستجاب له لفظ حديث أبي نعيم

Not Found

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أبو النصر ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← علي بن محمد بن سختويه، ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5737

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5738

5739 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا علي بن عيسى ثنا عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن ثنا أبو كريب ثنا أبو أسامة ثنا فضيل بن مرزوق : فذكره بإسناده نحوه غير أنه لم يذكر قوله يا أيها الناس فقط رواه مسلم في الصحيح عن أبي كريب

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن عیسیٰ نے ان کو عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمٰن نے ان کو ابو کریب نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو فضیل بن مرزوق نے پھر اس نے اس کو ذکر کیا ہے اپنی اسناد کے ساتھ مذکورہ حدیث کی مشکل سوائے اس کے کہ اس نے یٰایھا الناس اے لوگو! کالفظ فقظ ذکر نہیں کیا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ابو کریب سے۔

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5738

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5739

5740 - أخبرنا أبو محمد جناح بن نذير بن جناح القاضي بالكوفة ثنا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم ثنا أحمد بن حازم أنا يعلى بن عبيد و الفضل بن دكين ثنا زكريا بن أبي زائدة عن الشعبي قال : سمعت النعمان بن بشير يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : وأومأ النعمان بإصبعه إلى أذنيه إن الحلال بين الحرام بين وبين ذلك مشتبهات لا يعلمها كثير من الناس فمن اتقى الشبهات قد استبرأ لدينه وعرضه ومن وقع في الشبهات وقع في الحرام كالراعي يرعى حول الحمى يوشك أن يقع فيه ألا وإن لكل ملك حمى وإن حمى الله محارمه

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد بن جناح بن نذیر بن جناح قاضی نے کوفے میں ان کو ابو جعفر بن علی بن دحیم نے ان کو احمد بن حازم نے ان کو یعلیٰ بن عبید نے اور فضل بن دکین نے ان کو ذکریا بن ابی زائدہ نے ان کو شعبہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا نعمان بن بشیر سے وہ کہتے تھے کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے (اور نعمان نے اپنی دو انگلیوں سے اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کیا تھا) بے شک حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور حلال وحرام کے درمیان مشتبہ چیزیں ہیں جنہیں لوگوں میں سے زیادہ تر نہیں جانتے۔ جو شخص مشتبہ چیزوں سے بچتا رہے۔ اس نے اپنادین بھی بچا لیا اور عزت بھی۔ اور جو شخص مشتبہ چیزوں میں پڑ گیا وہ حرام میں پڑ گیا۔ اس چرواہے کی طرح جو کسی کھیت یا کسی محفوظ چراگاہ یا باغ کے اردگرد جانوروں کو چراتا ہے قریب ہے کہ جانور اس ممنوعہ جگہ میں واقع ہو جائے خبر دار ہر بادشاہ کی کچھ منوعات محفوظات ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ممنوعات اس کی محارم ومحرمات ہیں۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← يعلى بن عبيد و الفضل بن دكين ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ← أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5739

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5740

5741 - وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن بكر المروزي ببيت المقدس ثنا يعلى بن عبيد و أبو نعيم ثنا زكريا بن أبي زائدة عن الشعبي عن النعمان بن بشير قال : خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : الحلال بين الحرام بين وبينهما مشتبهات فذكره وقال : الشبهات وزاد : ألا وإن في الجسد مضغة إذا صلحت صلح الجسد كله وإذا فسدت فسد الجسد ألا وهي القلب رواه البخاري في الصحيح عن أبي نعيم الفضل بن دكين وأخرجه مسلم من أوجهه عن زكريا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن بکر مروزی نے بیت المقدس میں ان کو علی بن عبید نے اور ابو نعیم نے کو زکریا بن ابی زائدہ نے ان کو شعبی نے ان کو نعمان بن بشر نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خطبہ دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور فرمایا کہ حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان مشتبہ چیزیں ہیں اور یہ الفاظ زیادہ کہتے ہیں۔ خیر دار بے شک جسم کے اندر ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ اصلاح یافتہ ہو جائے پورا جسم درست ہوتا ہے اور جس وقت وہ خراب ہو جائے پورا جسم غلط ہو جاتا ہے خبر دار وہ دل ہے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں ابو نعیم فضل بن دکین اور اس کو مسلم نے نقل کیا ہے۔ کئی طریقوں سے ذکریا سے۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← يعلى بن عبيد و أبو نعيم ← إبراهيم بن بكر المروزي ببيت المقدس ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5740

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5741

5742 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنا بشر بن موسى ثنا الحميدي ثنا سفيان ثنا أبو فروة الهمداني قال : سمعت الشعبي يقول : سمعت النعمان بن بشير على المنبر يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : حلال بين وحرام بين وشبهات بين ذلك فمن ترك ما اشتبه عليه من الإثم كان لما استبان له أترك ومن اجترأ على ما شك فيه أوشك أن يوقع في الحرام وإن لكل ملك حمى وحمى الله في الأرض معاصيه رواه البخاري في الصحيح عن علي عن سفيان 5742 - مكرر ـ أخبرنا أبو الفتح محمد بن أحمد بن أبي الفوارس الحافظ ببغداد أنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي ثنا إسحاق بن الحسن الحربي ثنا أبو حذيفة ثنا سفيان عن منصور عن طلحة بن مصرف عن أنس بن مالك : أن النبي صلى الله عليه و سلم وجد تمرة فقال : لولا أن تكون من تمر الصدقة لأكلتها أخرجه البخاري من حديث الثوري وأخرجه مسلم من وجه آخر

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحٰق فقیہ نے ان کو بشر بن موسیٰ نے ان کو حمیدی نے ان کو سفیان نے ان کو ابو فروہ ہمدانی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے شعبی سے سناو ہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنافر ماتے تھے کہ حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور مشتبہ اس کے درمیان ہے جو شخص چھوڑ دے اس امر کو جواس پرمشتبہ ہو جائے گناہوں سے تو ظاہر وعیاں کوزیادہ چھوڑنے والا ہو گا اور جو شخص جرأت کر لے مشکوک چیز پر ممکن ہے کہ وہ حرام میں واقع کر دیا جائے۔ اور بے شک ہر بادشاہ کے لئے کچھ محفوظات وممنوعات ہوتی ہیں اللہ کی ممنوعات زمیں پر اس کی نافرمانیاں ہیں۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں علی سے اس نے سفیان سے۔ مکر رہے۔ ہمیں خبر دی ابو الفتح حمد بن احمد بن ابی الفوارس حافظ نے بغداد میں ان کو ابو بکر محمد بن عبداللہ شافعی نے کو اسحٰق بن حسن حربی نے ان کو ابو حذیفہ نے ان کو سفیان نے ان کو منصور نے ان کوطلحہ بن مصرف نے ان کو انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کا ایک دانہ پایا تو فرمایا: اگر نہ ہوتی یہ بات کہ ہو گی یہ کھجور صدقہ کی تو میں اس کو کھا لیتا۔ اس کو بخاری نے نکالا ہے حدیث ثوری سے اور مسلم نے کو نکالا دوسرے طریق سے۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، عَلَى الْمِنْبَرِ ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبُو فَرْوَةَ الْهَمْدَانِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5741

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5742

5743 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي أنا عبيد الله بن إبراهيم بن بالويه المزكي ح أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر القطان قالا ثنا أحمد بن يوسف السلمي ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن همام بن منبه قال : هذا ما ثنا أبو هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إني لأنقلب إلى أهلي فأجد التمرة ساقطة على فراشي أو في بيتي فأرفعها لآكلها ثم أخشى أن تكون من الصدقة فألقيها أخرجه البخاري فقال : وقال همام

ہمیں خبر دی ابو الحسن محمد بن حسین بن داؤد علوی نے ان کو عبیداللہ بن ابراہیم بن بالویہ مزکی نے’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر قطان نے ان دونوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن یوسف سلمی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ہمام بن منبہ نے وہ کہتے ہیں کہ یہ وہ ہے جو ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک میں اپنے گھر لوٹتا تھا اور میں اپنے بستر پر یا اپنے گھر میں کھجور پڑی ہوئی پاتا ہوں میں کھانے کے لئے اس کو اٹھا لیتا ہوں پھر ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ صدقے کی ہو لہٰذا میں اسے پھینک دیتا ہوں۔ کو بخاری نے نکالا ہے اور کہا ہے اور کہا ہمام نے۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← ھٰذَا مَا ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← عبيد الله بن إبراهيم بن بالويه المزكي، ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5742

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5743

5744 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس القاسم بن القاسم السياري بمرو ثنا أبو الموجه أنا عبدان ثنا عبد الله بن المبارك أنا أسامة بن زيد عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم تضور ذات ليلة فقيل له : ما أسهرك قال : إني وجدت تمرة ساقطة فأكلتها ثم تذكرت تمرا كان عندنا من تمر الصدقة فما أدري من ذلك كانت التمرة أو تمر أهلي فذلك أسهرني

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس قاسم بن قاسم سیاری نے مقام مرو میں ان کو ابو الموجہ نے ان کو عبدان نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے ان کو اسامہ بن زید نے ان کوعمرو بن شعیب نے اپنے والد سے اس نے ان کے دادا سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر پریشان رہے آپ سے پوچھا گیا کہ کس وجہ سے آپ بے آرام میں فرمایا کہ میں گھر میں نے کھجور کا ایک دانہ پڑا ہوا پایا تو اسے اٹھا کر کھا لیا پھر مجھے یاد آیا کہ گھر میں صدقہ کی کھجور بھی تو آئی تھی مجھے معلوم نہیں کہ یہ دانہ صدقہ کی کھجور میں سے تھا یا گھر کی کھجور میں سے اسی بات نے مجھے رات بھر بے آرام رکھا۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَبْدَانُ ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5743

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5744

5745 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان ثنا أبو الأزهر ثنا أبو النصر ثنا أبو عقيل عن عبد الله بن يزيد الدمشقي عن ربيعة بن يزيد و عطية بن قيس عن عطية السعدي وكانت له صحبة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يبلغ العبد أن يكون من المتقين حتى يدع ما لا بأس به حذرا لما به البأس

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ان کو ابو الازہر نے ان کو ابو النضر نے ان کو ابو عقیل نے ان کو عبداللہ بن یزید دمشقی نے ان کو ربیعہ بن یزید نے اور عطیہ بن قیس نے ان کو عطیہ سعدی نے وہ صحابی تھے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بندہ متقین کے مقام کو نہیں پہنچ سکتا یہاں تک کہ وہ مباح اور جائز کو منوع کے ڈر سے چھوڑ دے۔

عطية السعدي وكانت له صحبة ← ربيعة بن يزيد و عطية بن قيس ← عبد الله بن يزيد الدمشقي ← أَبُو عَقِيلٍ ← أبو النصر ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5744

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5745

5746 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصفار ثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا هشام بن أبي عبد الله وأخبرنا الحسين بن بشران أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز ثنا محمد بن أحمد بن أبي العوام ثنا أبو عامر ثنا هشام الدستوائي عن يحيى بن أبي كثير عن زيد بن أبي سلام عن جده ممطور عن أبي أمامة : أن رجلا سأل رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما الإيمان قال : إذا ساءتك سيئاتك وسرتك حسناتك فأنت مؤمن قال : فما الإثم قال : إذا حك في صدرك شيء فدعه وفي رواية مسلم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم سأله رجل فقال : يا رسول الله ما الإيمان قال : إذا سرتك حسنك وساءتك سيئتك فأنت مؤمن قال : يا رسول الله ما الإثم قال : إذا حك في صدرك شيء فدعه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو احمد بن محمد بن عیسیٰ قاضی نے ان کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو ہشام بن ابو عبداللہ نے۔اور ہمیں خبر دی حسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمرو رزانہ نے ان کو محمد بن احمد بن ابو العوام نے ان کو ابو عامر نے ان کو ہشام دستوائی نے ان کو یحییٰ، بن ابی کثیر نے ان کو زید بن ابی سلام نے ان کو ان کے دادا ممطور نے ان کو ابو امامہ نے کہ ایک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ایمان کیا ہے؟ فرمایا: جب تیری برائی تجھے بری لگے اور تیری نیکیاں تجھے اچھی لگیں بس تو مومن ہے۔ اس نے پو چھا کہ گناہ کیا ہے؟ فرمایا کہ جب تیرے دل میں کچھ کھٹکے پس تو اس کو چھوڑ دے اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمسے ایک ّدمی نے پوچھا یا رسول اللہ! ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ جب تیری اچھائی تجھے اچھی لگے اور تیری برائی تجھے بری لگے پس تو مومن یت اس نے پوچھایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گنا ہ کیا ہے؟ فرمایا کہ جب تیرے دل میں کسی شئی کے بارے میں کھٹکا ہو بس اس کو چھوڑ دے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← جَدِّهِ مَمْطُورٍ، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي سَلَامٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← أَبُو عَامِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْعَوَّامِ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← الحسين بن بشران ← هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5745

chevron_left Previous
1…141516…78
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood