Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5674

5675 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن ابن طاوس عن عكرمة بن خالد : أن حفصة و ابن مطيع و عبد الله بن عمر كلموا عمر بن الخطاب فقالوا : لو أكلت طعاما طيبا كان أقوى لك على الحق قال : أكلكم على هذا الرأي قالوا : نعم قال : قد علمت أنه ليس منكم إلا ناصح ولكني تركت صاحبي يعني رسول الله صلى الله عليه و سلم و أبا بكر على جادة فإن تركت جادتهما لم أتركهما في المنزل قال : وأصاب الناس سنة فما آكل عامئذ سمنا ولا سمينا حتى أحيي الناس وقد روينا في هذا المعنى أخبارا عن عمر في الكتاب الفضائل وروينا عن ابن عمر أنه اشترى من اللحم المهزول وحمل عليه سمينا فرفع عمر يديه وقال : والله ما اجتمعنا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم قط إلا أكل أحدهما وتصدق بالآخر فقال ابن عمر أطعم يا أمير المؤمنين فو الله لا يجتمعان عندي أبدا إلا فعلت ذلك

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ابن طاؤس نے ان کو عکرمہ بن خالد نے یہ کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابن مطیع رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ تینوں نے کلام کیا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہ اگر آپ طیب کھانا کھائیں گے تو یہ تمہارے لئے اقوی ہو گا حق پر (مراد یہ ہے کہ اگر ہم اچھا کھانا کھائیں گے تو اچھی قوت و طاقت پیدا ہو گی اور طاقت حق کی تائید کے لئے کام آئے گی۔) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پو چھا کہ کیا تم میں سے ہر شخص کی یہی سوچ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ہاں یہی سوچ ہے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں جانتا ہوں کہ تم میں سے ہر شخص خیر خواہی کرنے والا ہے۔ (یعنی تم میں سے ہر شخص اپنی جگہ درست ہے) لیکن میں نے اپنے صاحب کو یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ایک طریق پر چھوڑا ہے اور میں ان کے طریق اور راستے کو چھوڑ دوں گا تو میں ان کو منزل میں نہیں پاسکوں کا عکرمہ کہتے ہیں کہ اس سال لوگ قحط سالی کا شکار ہوں گے لہٰذا اس سال نہ کوئی گھی کھانے والا رہا اورنہ ہی کوئی چربی والا گوشت کھانے والا۔ یہاں تک کہ پھر قحط سے نکل گئے لوگ۔ ہم نے کتاب الفضائل میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس مفہوم میں کئی احادیث اور اخبار روایت کی ہیں اور ہم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے دبلا گوشت خریدا اور اس کے اوپر چربی رکھ دی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اوپر سے ہاتھ اٹھا کر دیکھا تو فرمانے لگے اللہ کی قسم یہ دونوں گوشت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں کبھی جمع نہ ہوتے تھے مگر ایک کو کھاتے تھے دوسرے کو صدقہ کر دیتے تھے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! کھائیے آپ اللہ کی قسم نہیں جمع ہوئے یہ دونوں میرے پاس کبھی مگر میں نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔

عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5674

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5675

5676 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الحسن علي بن محمد بن عقبة الشيباني ثنا إبراهيم بن محمد بن أبي العنبس ثنا معلى بن منصور عن مالك بن أنس عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة عن أنس قال : رأيت عمر يلقى له الصاع من التمر فأكله حتى الحشف

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسن علی بن محمد بن عقبہ شیبانی نے ان کو ابراہیم بن محمد بن ابو العنبس نے ان کو معلیٰ بن منصور نے ان کو مالک بن انس نے ان کو اسحٰق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے ان کوانس رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا ان کے لئے کھجوروں کا ایک صاع رکھا جاتا تھا اور وہ اس کو کھا لیتے تھے یہاں تک کہ ردی کھجور بھی۔

رأيت عمر يلقى له الصاع من التمر فأكله حتى الحشف ← أَنَسٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← مالک بن أنس ← مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ← إبراهيم بن محمد بن أبي العنبس ← أبو الحسن علي بن محمد بن عقبة الشيباني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5675

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5676

5677 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أحمد بن سهل ثنا إبراهيم بن معقل ثنا حرملة ثنا ابن وهب قال : قال مالك : فلو كان عمر يشبع من الخبز والزيت ما أكل الصاع كله حتى يأكل حشفه قال مالك : ولم يكن الناس غذاء ولا عشاء مثل هذا الزمان قال الحليمي رحمه الله : ولا يجمع في الأكلة الواحدة بين الألوان الكثيرة بذخا وأشرا إلا أن يجمع جامع بين شيئين أو أشياء ليعدل بعض ذلك ببعض فيوافق طبعه ويأمن بذلك الغائلة التي كان يخشاها من أحدهما لو أفرده قال الشيخ

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن سہل نے ان کو ابراہیم بن معقل نے ان کو حرملہ نے ان کو ابن وہب نے وہ کہتے ہیں کہ کہا ما لک نے اگر حضرت عمر روٹی اور تیل سے پیٹ بھرتے تو پورا صاع کھجوروں کا نہ کھاتے حتٰی کہ ردی بھی۔ اور کہا ہے مالک نے نہیں تھا لوگوں کے لئے صبح کا کھانا اور رات کا کھانا اس زمانے کی مثل اور کہا حلیمی رحمتہ اللہ نے ایک کھانے میں کثیر رنگ کے یعنی قسم قسم کے کھانے نہیں چنے جاتے تھے از راہ تکبرو غرور مگر یہ کہ کوئی جمع کرنے والا چاہتاتو چیزیں یا کسی چیزیں جمع کر لیتا تاکہ ایک دوسرے کو ملا کر تعدیل کر کے اپنی طبیعت کے موافق ،نالے جو چاہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ وہ بیجا خرچ اور زیادہ خرچ سے بھی بچتا جس کا زیادہ اندیشہ ہتا ہے (اگر ایک) بھی کرے۔

ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← إبراهيم بن معقل ← أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5676

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5677

5678 - روينا عن عبد الله بن جعفر : أنه رأى النبي صلى الله عليه و سلم يأكل القثاء بالرطب

ہم نے روایت کی ہے عبداللہ بن جعفر سے انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ککڑی تازہ کھجور کے ساتھ کھا رہے تھے۔

رُوِّينَا،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5677

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5678

5679 - وروينا عن عائشة : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يأكل البطيخ بالرطب فيقول يكسر حر هذا ببرد هذا و برد هذا بحر هذا

اور ہم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھیرے کو با خربوزے کو تازہ کھجور کے ساتھ کھاتے تھے اور فرماتے تھے کہ اس کی گرمی کا اس کی ٹھنڈک سے تو ڑ ہو گا اور اس کی ٹھنڈک کا توڑ اس کی گرمی سے۔

عَائِشَةَ ← وَرُوِّينَا

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5678

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5679

5680 - فرويناه في كتاب الفضائل عن علي رضي الله عنه : أنه أكل رغيفا يرى قشار الشعير في وجهه وأن جاريته زعمت أنه قد تقدم إليها أن لا يتخذ له طعاما فروينا عنه أنه أتي بفالوذج فأبى أن يأكل منه وقال : شيء لم يأكل منه رسول الله صلى الله عليه و سلم لا أحب أن آكل منه فرويناه عن الحسن و الحسين أنهما كانا يأكلان خلا وبقلا فقيل لهما أنتما ابنا أمير المؤمنين تأكلان وفي الرحبة ما فيها فقالا ما أغفلك عن أمير المؤمنين إنما ذلك للمسلمين

اور نام نے کتاب الفضائل میں روایت کیا ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے روٹی کھائی جس کے اوپر کے حصے پر جو کے چھلکے نظر آ رہے تھے۔ چنانچہ ان کو نوکرانی نے یہ گمان کیا تھا کہ یہ روٹی اس کے لئے پیش کی گئی ہے تاکہ آئندہ اس کو کھانا نہ دینا پڑے۔ اور ہم نے علی سے روایت کی ہے کہ ان کو فالوہ دیا گیا تو انہوں نے انکار کر دیا کھانے سے اور فرمایا کہ سیاہی شئی ہے جس میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کھایا تھا۔ لہٰذا میں بھی پسند نہیں کرتا کہ میں اس میں سے کھاؤں۔ اور ہم نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ وہ سرکہ اور ترکاری کھاتے تھے ان سے کہا کیا آپ امیر المومنین کے صاحبزادے ہو تم یہ کھاتے ہو اور وہ بھی کشادگی اور فراخی کے زمانے میں۔ دونوں نے جواب دیا کس چیز نے آپ کو غافل کیا ہے امیر المومنین سے سوائے اس کے نہیں کہ وہ سب کچھ مسلمانوں کا ہے۔

عَلِيٍّ، ← فرويناه في كتاب الفضائل

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5679

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5680

5681 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن عثمان الآدمي ببغداد ثنا أحمد بن عبد الجبار العطاردي ثنا يونس بن بكير عن عنبسة بن الأزهر عن يحيى بن عقيل عن علي بن أبي طالب أنه قال لعمر : يا أمير المؤمنين إن سرك تلحق بصاحبيك فأقصر الأمل وكل دون الشبع وأقصر الإزار وارقع القميص واخصف النعل تلحق بهما

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو اغند بن عثمان آدمی نے بغداد میں ان کو احمد بن عبدالجبار عطاردی نے ان کو یونس بن بکیر نے ان کو عنبسہ بن ازہر نے ان کو یحییٰ بن عقیل نے ان کو علی بن ابی طالب نے کہ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے امیر المؤمنین بے شک آپ کے اپنے پیشرو ساتھیوں یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ لاحق ہونے اور جانے کا راز یہ ہے کہ آپ آرزو اور امید چھوٹی کر دیں۔ پیٹ بھر کھانا کھانے سے کم کھائیں تہہ بند چھوٹی کریں اور قمیض کو پیوند لگائیں اپنی جوتی خود سیئیں آپ ان دونوں کے ساتھ مل جائیں گے۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ ← یَّحْیَی بْنِ عَقِیلٍ ← عَنْبَسَةُ بْنُ الْأَزْهَرِ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْآدَمِيُّ، بِبَغْدَادَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5680

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5681

5682 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق ثنا أبو الحسن الطرائفي ثنا عثمان بن سعيد ثنا القعنبي فيما قرأ على مالك عن يحيى بن سعيد أنه قال : بلغني أن عمر بن الخطاب كان يأكل خبزا بسمن فدعا رجلا من أهل البادية فجعل يأكل معه ويتبع باللقمة وضر الصفحة فقال له عمر كأنك مقفر فقال : والله ما ذقت سمنا ولا رأيت به منذ كذا و كذا فقال عمر لا آكل سمنا حتى يحيى الناس من أول ما يحيون

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو الحن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید قعنبی نے اس میں جو انہوں نے مالک پر پڑھی۔ ان کو یحییٰ بن سعید نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روٹی تھی کے ساتھ کھاتے تھے چنانچہ انہوں نے دیہات کے ایک آدمی کو بلایا وہ ان کے ساتھ کھانے لگا وہ تھے پیالے میں سے بھر بھر کر کھانے لگا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا۔ شاید تم روکھی روٹی کھانے والے ہو۔ اس نے کہا اللہ کی قسم میں نے کبھی بھی چکھا بھی نہیں ہے اتنے اتنے عرصے سے میں نے کسی کو یہ کھاتے دیکھا بھی نہیں ہے۔ میں آج کے بعد گھی کے ساتھ روٹی نہیں کھاؤں گا حتٰی کہ لوگ خوش حال ہو جائیں جیسے پہلے خوش حال تھے۔

يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5681

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5682

5683 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن الفضل بن نظيف الفراء بمكة ثنا أبو طاهر محمد بن أحمد بن عبد الله إملاء ثنا الحسين بن عمر الكوفي ثنا العلاء بن عمرو الحنفي ثنا عبد الله بن مسعر بن كدام عن هشام بن حسان عن الحسن قال : قيل ليوسف عليه السلام : تجوع وخزائن الأرض بيدك قال : إني أخاف أن أشبع فأنسى الجياع

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ محمد بن فضل بن نظیف فراء نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابو طاہر محمد بن احمد بن عبداللہ نے بطور املا ء سے ان کو حسین بن عمر کوفی نے کو علاء ابن عمرو حنفی نے ان کو عبداللہ بن مسعر بن کدام نے ان کو ہشام بن حسان نے ان کو حسن نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام سے کہا گیا آپ بھوکے رہتے ہیں حالانکہ زمین کے خزانے آپ کے ہاتھ میں ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ مجھے ڈر لگتا ہے کہ میں سیر ہو کر کہیں بھوکوں کو نہ بھول جاؤں۔

إني أخاف أن أشبع فأنسى الجياع ← قيل ليوسف تجوع وخزائن الأرض بيدك ← الْحَسَنِ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ، ← الْعَلَاءُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ ← الحسين بن عمر الكوفي ← أبو طاهر محمد بن أحمد بن عبد الله إملاء ← أبو عبد الله محمد بن الفضل بن نظيف الفراء بمكة

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5682

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5683

5684 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد المقرىء ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الخضر بن أبان ثنا سيار بن حاتم ثنا جعفر بن سليمان ثنا مالك بن دينار قال : حدثني رجل قد أدرك الصدر الأول قال : استعمل عمر بن الخطاب رجلا على خوخى فقال : انطلق إلى خوخى فاستخرج خراجها وقم عليها حتى يأتيك أمري فانطلق هو وغلام له أسود على بعير يعتقبان البعير عقبة له وعقبة للغلام حتى أتى خوخى قال : يا سيدي أستحي أن تدخل وأنت تمشي وأنا راكب وأنت تسوق بي قال : فكيف أصنع وهي عقبتك قال : أدعها لك قال : طيبة بها نفسك قال : طيبة بها نفسي فركب وساق به الغلام حتى دخل خوخى فلما دخلها نودي في أهل الأرض والدهاقين فقالوا جاء أمير جاء أمير فسجدوا له فقال : إخ إخ : لبعيره فنزل فسجد معهم فرفعوا رؤوسهم وهو ساجد فلما رفع رأسه قالوا له فقال : لأي شيء سجدت قال : رأيت قوما سجدوا فسجدت معهم فقيل له : إنما سجدوا لك فقال : أسجدوا لي ؟ قالوا : نعم فقال لغلامه : إنما بعثني عمر لأتخذ إلها من دون الله النجاء النجاء قال : فركب بعيره ثم رجع حتى قدم المدينة فلما رأى عمر قال : يا أمير المؤمنين إنما بعثتني لأتخذ إلها من دون الله قال : فضحك عمر وتركه ثم أرسل إلى رجلين من الأنصار فقال لهما : انطلقا إلى خوخى فلما قدموا قالوا : لا تسجدوا لهما فيرجعان كما رجع الأول وحضر طعام إما غداء وإما عشاء فجيء بالمائدة فوضعت بين أيديهما ثم وضعت قصة فسميا وأكلا ثم جاء يأخذها قالا له : لا تأخذها فإن هذا طعام طيب قالوا : عندنا أطيب منه فأخذها ووضع قصعة أخرى فقال أحدهما لصاحبه : إنما بعثنا لنأكل طيباتنا في حياتنا الدنيا النجاء النجاء فركبا فأتيا المدينة فأتيا عمر وقال : ما جاء بكما فقالا : يا أمير المؤمنين إنما بعثتنا لنأكل طيباتنا في حياتنا الدنيا فغضب عمر وقال : كيف أصنع ؟ من أستعمل ؟ بمن أستعين ؟ ثم تركها ثم أرسل إلى رجل من المهاجرين من مزينة يقال له أبو يسار فبعثه إلى خوخى وذكر القصة في قدومه وأنهم جاءوا بالخراج وقالوا : هذا خراجنا وهذا هدية لك قال : لا حاجة لي فيه قالوا : نحن تطوعنا به طيبة أنفسنا قال : لا حاجة لي فيه لم يأمرني أمير المؤمنين بهذا فرده وأخذ الخراج

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ اور ابو محمد بن ابی حامد مقری نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو خضر بن ابان نے ان کو سیار بن حاتم نے ان کو جعفر بن سلیمان نے ان کو مالک بن دینار نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے ایک آدمی نے جس نے صدر اول کو یعنی اسلام کا ابتدائی زمانہ پایا تھا۔ اس نے کہا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو خوخٰی پر عامل بنا کر بھیجا اور حکم دیا کہ تم خوخٰی چلے جاؤ اور وہاں کا خران وصول کرو اور وہاں رہ جاؤ یہاں تک کہ تیرے پاس میرا تازہ چکم آ جائے۔ وہ روانہ ہو گئے اور ان کے ساتھ ایک کالا غلام بھی ساتھ تھا وہ باری باری اونٹ پر سوار ہو رہے تھے ایک بار وہ سوار ہوتے غلام پیدل چلتا اور دوسری بار غلام سوار ہوتا اور وہ پیدل چلتے ایسے کرتے کرتے خوخٰی تک پہنچ گئے۔ غلام نے کہا میرے آقا مجھے حیا آتی ہے کہ آپ اس طرح داخل ہوں کہ آپ پیدل چل رہے ہوں اور میں سواری پر سوار ہوں اور آپ مجھے لے کر چل رہے ہوں۔ آپ نے کہا کہ پھر میں کیسے کروں؟ باری تو تیری ہے غلام نے کہا کہ میں اپنی باری آپ کے لئے چھوڑ دیتا ہوں۔ مالک نے پوچھا کہ کیا بطیب خاطر اور خوشی کے ساتھ چھوڑیں گے اس نے کہا کہ طیب خاطر خوشی کے ساتھ چھوڑ دوں گا آقا سوار ہو گئے اور غلام مہار تھام کر آگے آگے چلنے لگا۔حتٰی کہ خوخٰی میں داخل ہو گئے۔ جب بستی میں داخل ہوئے تو اہل زمین میں اور کسانوں میں اعلان کر دیا گیا کہ امیر آ گیا ہے امیر آ گیا ہے۔ لوگ اس کے لئے سجدہ میں گر گئے۔ اس نے کہا روکو میرے اونٹ کو، امیر نے اونٹ سے نیچے اتر کر ان کے ساتھ سجدہ کر لیا۔ لوگوں نے جب سراٹھا کر دیکھاتو امیر خود سجدے میں پڑا تھا اس نے جب سجدے سے سر اٹھایا تو لوگوں نے اس سے پوچھا کہ آپ نے کس چیز کے لئے سجدہ کیا؟ اس نے جواب دیا کہ میں نے پوری قوم کو سجدہ کرتے دیکھا تو میں نے بھی ان کے ساتھ سجدہ کر لیا۔ اس کو بتایا گیا کہ ان لوگوں نے تو آپ کے لئے سجدہ کیا تھا۔ امیر نے پوچھا کہ کیا واقعی انہوں نے میرے لئے سجدہ کیا تھا ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ہم نے تو آپ کے لئے ہی سجدہ کیا تھا۔ چنانچہ امیر نے اپنے غلام سے کہا کہ لگتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے اس لئے بھیجا ہے کہ مجھے اللہ کے سوالہٰ بنا لیا جائے بس بچو۔ بچو۔ کہتے ہوئے کہ وہ فوراً اپنے اونٹ پر سوار ہو لئے اور واپس چل دیئے حتٰی کہ مدینے میں واپس آ گئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جب اس نے دیکھا تو پو چھا کہ اے امیر المومنین! آپ نے مجھے ایسے راستے بھیجاتھا کہ مجھے اللہ کے سوا الہٰ ٹھہرا لیا جائے؟ کہتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہنسے اور اسے چھوڑ دیا اس کے بعد انہوں نے انصار کے دو آدمیوں کو بلایا اور ان سے کہا کہ تم دونوں خوخٰی چلے چاؤ وہ جب خوخٰی میں آئے تو ان لوگوں نے آپس میں کہا کہ ان دونوں کو سجدہ نہ کرو ورنہ یہ بھی چلے جائیں گے جیسے پہلا امیر چلا گیا تھا۔ جب ان کے لئے کھانا لایا گیا تو وہ یا تو رات کا تھایا صبح کا دستر خوان لایا گیا ان دونوں کے آگے بچھا دیا گیا اس کے بعد ڈش رکھی گئی ان دونوں نے بسم اللہ پڑھی اور کھانا شروع کیا۔ آدمی آیا اور وہ ڈش لے جانے لگا لہٰذا دونوں امیروں نے اس سے کہا کہ مت لے جاؤ بے شک یہ تو بہت ہی بہترین کھانا ہے۔ ان لوگوں نے کہا کہ ہمارے پاس تو اس سے بھی زیادہ بہترین کھانے ہیں چنانچہ اس نے اسے اٹھا لیا اور دوسرا قصعہ یا دوسری ڈش لا کر رکھ دی۔ مگر ان دونوں میں سے ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے کہا کہ لگتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں یہاں اس لئے بھیجا ہے تاکہ ہم اپنے نفیس اور عمدہ کھانے اپنی دنیوی زندگی میں کھا لیں۔ لہٰذا بچو۔ بچو۔ چنانچہ وہ بھی سوار ہو لئے۔ مدینے میں پہنچے تو سیدھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے انہوں نے پو چھا کہ تم کیوں آ گئے۔ بولے اے امیر المومنین! آپ نے شاید ہمیں اس لئے بھیجا تھا تاکہ ہم اپنے پا کیزہ کھانے اپنی دنیوی زندگی میں ہی کھا لیں۔ حضرت رضی اللہ عنہ کو غصہ آ گیا اور فرمانے لگے کہ میں کیسے کروں؟ کسی کو میں عامل بناؤں؟ کس سے میں مدد لوں؟ پھر ان کو بھی آپ نے چھوڑ دیا، پھر آپ نے قبیلہ مزینہ کے ایک مہاجر کو بلا بھیجا جسے ابو یسار کہتے تھے۔ پھر اس کو خوخٰی کی طرف روانہ کیا۔ اور پہلا قصہ بھی اس کے سامنے ذکر کر دیا۔۔ لوگ خراج لے کر آ گئے اور کہنے لگے کہ یہ تو ہمارا خران ہے۔ اور یہ تیرے لئے ہدیہ ہے۔ اس نے کہا کہ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ان لوگوں نے کہا کہ یہ ہم لوگوں نے خوشی سے کیا ہے اور ہم نے آپ کو یہ بطیب خاطر دیا ہے۔ مگر اس نے کہا کہ نہیں مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے مجھے امیر المومنین نے اس بات کا حکم نہیں دیا تھا۔چنانچہ اس نے وہ ہدیہ واپس کر دیا اور خراج لے لیا۔

مَّالِکِ بْنِ دِیْنَارٍ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد المقرىء

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5683

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5684

5685 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا محمد بن أبي أسامة الحلبي ثنا بشر بن عبد الرحمن بن العلاء بن اللجلاج عن أبيه عن جده قال : ما ملأت بطني طعاما منذ أسلمت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم آكل حسبي وأشرب حسبي قال : فكان عاش مائة وعشرين سنة خمسين في الجاهلية وسبعين في الإسلام وقال أبو همام الوليد عن مبشر عن عبد الرحمن بن العلاء بن خالد بن اللجلاج عن أبيه عن جده اللجلاج

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو محمد بن ابو اسامہ حلبی نے ان کو بشر نے ان کو عبدالرحمٰن بن علاء ابن اللجاج نے اس نے اپنے باپ سے اس نے اپنے دادا سے۔ کہتے ہیں کہ میں جب سے مسلمان ہوا ہوں میں نے اپنے پیٹ کو کھانے کے ساتھ نہیں بھرا ہے میں اپنی ضرورت کا کھاتا ہوں اور اپنی ضرورت کا پیتا ہوں۔ کہتے ہیں کہ یہ صاحب ایک سو بیس سال زندور ہے تھے پاس سال جاہلیت میں اور ستر سال اسلام میں۔ ابو ہمام الولید نے کہا کہ روایت کیا ہے مبشر نے عبدالرحمٰن بن علاء بن خالد بن اللجلاج سے اس نے اپنے والد سے اس نے اپنے دادا للحلاج سے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بشر بن عبد الرحمن بن العلاء بن اللجلاج ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5684

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5685

5686 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا بحر بن نصر ثنا ابن وهب حدثني عبيد الله بن عمر عن نافع : أن رجلا من أهل العراق أهدى لابن عمر جوارش فقال ابن عمر ما هذا فقال : هذا يهضم عنك طعامك فقال والله ما شبعت منذ ستة أشهر ورده

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحاق نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے ان کو عبیداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو نافع نے کہ اہل عراق کے ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جوارش ہدیہ کیا ابن عمر نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اس نے کہا یہ آپ کا کھانا ہضم کر لے گا انہوں نے فرمایا کہ میں نے تو چھ ماہ سے پیٹ بھر کر نہیں کھایا۔ لہٰذا آپ نے جوارش واپس کر دی۔

والله ما شبعت منذ ستة أشهر ورده ← هذا يهضم عنك طعامك ← ابن عمر ما هذا ← نافع أن رجلا من أهل العراق أهدى لابن عمر جوارش ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5685

chevron_left Previous
1…91011…78
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood