شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5674
5675 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن ابن طاوس عن عكرمة بن خالد : أن حفصة و ابن مطيع و عبد الله بن عمر كلموا عمر بن الخطاب فقالوا : لو أكلت طعاما طيبا كان أقوى لك على الحق قال : أكلكم على هذا الرأي قالوا : نعم قال : قد علمت أنه ليس منكم إلا ناصح ولكني تركت صاحبي يعني رسول الله صلى الله عليه و سلم و أبا بكر على جادة فإن تركت جادتهما لم أتركهما في المنزل قال : وأصاب الناس سنة فما آكل عامئذ سمنا ولا سمينا حتى أحيي الناس وقد روينا في هذا المعنى أخبارا عن عمر في الكتاب الفضائل وروينا عن ابن عمر أنه اشترى من اللحم المهزول وحمل عليه سمينا فرفع عمر يديه وقال : والله ما اجتمعنا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم قط إلا أكل أحدهما وتصدق بالآخر فقال ابن عمر أطعم يا أمير المؤمنين فو الله لا يجتمعان عندي أبدا إلا فعلت ذلك
ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ابن طاؤس نے ان کو عکرمہ بن خالد نے یہ کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابن مطیع رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ تینوں نے کلام کیا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہ اگر آپ طیب کھانا کھائیں گے تو یہ تمہارے لئے اقوی ہو گا حق پر (مراد یہ ہے کہ اگر ہم اچھا کھانا کھائیں گے تو اچھی قوت و طاقت پیدا ہو گی اور طاقت حق کی تائید کے لئے کام آئے گی۔) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پو چھا کہ کیا تم میں سے ہر شخص کی یہی سوچ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ہاں یہی سوچ ہے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں جانتا ہوں کہ تم میں سے ہر شخص خیر خواہی کرنے والا ہے۔ (یعنی تم میں سے ہر شخص اپنی جگہ درست ہے) لیکن میں نے اپنے صاحب کو یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ایک طریق پر چھوڑا ہے اور میں ان کے طریق اور راستے کو چھوڑ دوں گا تو میں ان کو منزل میں نہیں پاسکوں کا عکرمہ کہتے ہیں کہ اس سال لوگ قحط سالی کا شکار ہوں گے لہٰذا اس سال نہ کوئی گھی کھانے والا رہا اورنہ ہی کوئی چربی والا گوشت کھانے والا۔ یہاں تک کہ پھر قحط سے نکل گئے لوگ۔ ہم نے کتاب الفضائل میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس مفہوم میں کئی احادیث اور اخبار روایت کی ہیں اور ہم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے دبلا گوشت خریدا اور اس کے اوپر چربی رکھ دی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اوپر سے ہاتھ اٹھا کر دیکھا تو فرمانے لگے اللہ کی قسم یہ دونوں گوشت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں کبھی جمع نہ ہوتے تھے مگر ایک کو کھاتے تھے دوسرے کو صدقہ کر دیتے تھے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! کھائیے آپ اللہ کی قسم نہیں جمع ہوئے یہ دونوں میرے پاس کبھی مگر میں نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔
عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ
Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5674
