Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5566

5567 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن الأسدي بهمدان ثنا إبراهيم بن أبي إياس ثنا شعبة عن الأعمش عن ذكوان عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يزني الزاني حين يزني وهو مؤمن ولا يسرق السارق وهو مؤمن ولا يشرب الخمر حين يشربها وهو مؤمن والتوبة معروضة بعد

5566-ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو القاسم عبدالرحمٰن بن حسن اسدی نے ہمدان میں ان کو ابراہیم بن ابو ایاس نے ان کو شعبہ نے اعمش سے ان کو ذکوان نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ نے: نہیں زنا کرتا زنا کرنے والا جب وہ زنا کرتا ہے حالانکہ وہ مؤمن ہو اور نہیں چوری کرتا (چوری کرنے والا) جب چوری کرتا ہے حالانکہ وہ مؤمن ہو اور نہیں شراب پیتا (شراب پینے والا) جب وہ کو پیتا ہے حالانکہ وہ مؤمن ہو اور توبہ تو پیش کی ہوئی ہے بعد میں۔اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں آدم بن ابو ایاس سے اور مسلم نے اس کو نقل کیا ہے حدیث ثوری سے اور شعبہ نے اعمش سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ذَكْوَانَ، ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← إبراهيم بن أبي إياس ← أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن الأسدي بهمدان ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5566

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5567

5568 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو محمد أحمد بن عبد الله المزني أنا علي بن محمد بن عيسى ثنا أبو اليمان أخبرني شعيب عن الزهري قال : أخبرني سعيد بن المسيب أنه سمع أبا هريرة يقول : أتي رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلة أسري به بإيلياء بقدحين خمر ولبن فنظر إليهما ثم أخذ اللبن فقال له جبريل عليه السلام الحمد لله الذي هداك للفطرة لو أخذت الخمر لغوت أمتك رواه البخاري في الصحيح عن أبي اليمان وأخرجه مسلم من حديث يونس وغيره عن الزهري

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو محمد احمد بن عبداللہ مزنی نے ان کو علی بن محمد بن عیسیٰ نے ان کو ابو الیمان نے ان کو شعیب نے زہری سے ان کو خبر دی سعید بن مسیب نے کہ اس نے سنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس رات جس رات آپ کو سیر کرائی گئی تھی۔ اِیلیا میں دو پیالے پیش کئے گئے تھے ایک شراب کا دوسرا دودھ کا آپ نے دونوں کی طرف دیکھا اور دودھ کا پیالہ لے لیا لٰہذا جبرائیل علیہ السلام نے ان سے کہا سب تعریف اسی ذات کے لئے ہے جس نے آپ کو فطرت کی ہدایت دی ہے اگر آپ شراب کا پیالہ لے لیتے تو البتہ آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں ابو الیمان سے اور مسلم نے اس کو نقل کیا ہے حدیث یونس وغیرہ سے اس نے زہری سے۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ← أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5567

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5568

5569 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ثنا أبو جعفر الرزاز ثنا محمد بن عبيد الله بن يزيد ثنا إسحاق الأزرق حدثني الجريري عن ثمامة بن حزن عن أبي هريرة قال : قام رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا أهل المدينة إن الله يعرض علي الخمر تعريضا لا أدري لعله سينزل فيها أمر ثم قام فقال : يا أهل المدينة إن الله قد أنزل إلي تحريم الخمر فمن كتب منكم هذه الآية وعنده منها شيء فلا يشربها

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر رزاز نے ان کو محمد بن عبیداللہ بن یزید نے ان کو اسحٰق از رق نے ان کو جریری نے کو ثمامہ بن حزن نے ان کو ابو ہرہرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے اہل مدینہ بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھ پر شراب کی حرمت ایسی پیش کی کہ مجھے خیال ہوا کہ اس معاملہ میں شاید کوئی اور حکم نازل نہ ہو پھر کھڑے ہوئے اور فرمایا:اسے اہل مدینہ! اللہ تعالیٰ نے میرے اوپر شراب کی حرمت نازل کی ہے پس جس نے تم میں سے یہ آیت لکھ لی ہے اور حالانکہ اس کے پاس شراب میں سے کچھ موجود ہے تو وہ اس کو نہ پیئے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ثمامة بن حزن ← الْجُرَيْرِيِّ، ← إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5568

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5569

5570 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا محمد بن أبي حميد عن أبي توبة المصري قال : سمعت ابن عمر يقول : نزلت في الخمر ثلاث آيات فأول شيء نزلت : { يسألونك عن الخمر و الميسر } الآية فقيل حرمت الخمر فقيل يا رسول الله دعنا ننتفع بها كما قال الله عز و جل فسكت عنهم ثم نزلت هذه الآية : { لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى } فقيل حرمت الخمر بعينها فقالوا يا رسول الله إنا لا نشربها قرب الصلاة فسكت عنهم ثم نزلت { يا أيها الذين آمنوا إنما الخمر والميسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه } الآية قال : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : حرمت الخمر قال : وقدمت لرجل رواية من الشام أو روايا فقام النبي صلى الله عليه و سلم و أبو بكر و عمر ولا أعلم عثمان إلا معهم فانتهوا إلى الرجل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خل عنا نشقها فقال : يا رسول الله أفلا نبيعها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله لعن الخمر ولعن غارسها ولعن شاربها ولعن عاصرها ولعن موكلها ولعن مديرها ولعن ساقيها ولعن حاملها ولعن آكل ثمنها ولعن بائعها

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو محمد بن ابو حمید نے ان کو ابو توبہ مصری نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے فرماتے تھے کہ : شراب کی بابت تین آیات نازل ہوئی تھیں۔ پہلی آیت جو نازل ہوئی تھی وہ یہ تھی: یسئلونک عن الخمر والمیسر۔۔۔۔ الی اٰخر الاٰیۃ آپ سے پوچھتے ہیں شراب اور جوئے کے بارے میں۔ پس کہا گیا شراب حرام کر دیا گیا ہے۔ پھرکہا گیا یا رسول اللہ! چھوڑئیے ہمیں ہم اس کے ساتھ نفع اٹھا لیں جیسےاللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (کہ اس میں لوگوں کے فائدے میں) حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی : لاتقربوا الصلٰوۃ وانتم سکاری تم نماز کے قریب اس وقت نہ جاؤ جب تم نشہ کی حالت میں ہو۔ لہٰذا کہا گیا کہ شراب بعینہ حرام کر دیا گیا ہے۔ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہم اس کونماز کے وقت کے قریب نہیں پئیں گے۔ لہٰذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد پھر یہ آیت نازل ہوئی:یاٰیھا الذین اٰمنوا انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رحبس من عمل الشیطان فاجتنبوہ اے ایمان والو! بے شک شراب اور جوا اور بت اور پانسے سب ناپاک ہیں شیطانی کام سے اور اس سے اجتناب کرو۔ کہتے ہیں کہ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب حرام ہو چکی ہے۔ شراب کی بابت چند افراد پر لعنت : کہتے ہیں کہ میں نے شام یا روایا کے ایک آدمی کے سامنے روایت پیش کی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ ابو بکر صدیق اور عمر رضی اللہ عنہا تھے۔ میں عثمان کے بارے میں نہیں جانتا مگر وہ بھی ساتھ تھے۔ پس وہ ایک آدمی کے پاس پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمیں اس کے لئے چھوڑیئے ہم اس کو بکھیر دیں گے۔ کہنے لگا یا رسول اللہ کیا اس کو بیچ بھی نہیں سکتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے شراب پر اور لعنت کی ہے اس کے دفن کرنے والے پر اور لعنت کی ہے اس کے پینے والے پر اور لعنت کی ہے اس کے نچوڑنے والے پر اور لعنت کی ہے اس کے وکیل بنانے والے پر یا کھلانے والے پر اور لعنت کی ہے اس کے مدیر پر اور لعنت کی ہے اس کے بیچنے والے پر اور لعنت کی ہے اس کے اٹھانے والے پر اور لعنت کی ہے اس کے پیسے اور قیمت کھانے والے پر اور لعنت کی ہے اس کے فروخت کرنے والے پر۔

الخمر و الميسر الآية فقيل حرمت الخمر فقيل ← نزلت في الخمر ثلاث آيات فأول شيء نزلت يسألونك ← ابْنِ عُمَرَ ← أبي توبة المصري ← محمد بن أبي حميد ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5569

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5570

5571 - أخبرنا أبو علي الروذباري و أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا حجاج بن محمد قال : قال ابن جريج : أخبرني موسى بن عقبة أن نافعا أخبره عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من شرب الخمر في الدنيا لم يشربها في الآخرة إلا أن يتوب رواه مسلم في الصحيح من وجه آخر عن ابن جريج وأخرجاه من حديث مالك بن نافع

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے اور ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق صفانی نے ان کو حجاج بن محمد نے وہ کہتے ہیں کہ ابن جریج نے فرمایا: ہمیں خبر دی موسیٰ بن عقبہ نے کہ نافع نے ان کو خبر دی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دنیا میں شراب پیئے گا وہ اس کو آخرت میں نہیں پیئے گا مگر یہ کہ توبہ کرے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے دوسرے طریق سے ابن جریج اور بخاری ومسلم نے اس کو نقل کیا ہے حدیث مالک بن نافع ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ أَنَّ نَافِعًا ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو علي الروذباري و أبو عبد الله الحافظ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5570

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5571

5572 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب القاضي ثنا أبو الربيع ثنا حماد بن زيد ثنا أيوب عن نافع عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كل مسكر خمر وكل خمر حرام ومن شرب الخمر في الدنيا فمات وهو مدمنها ولم يتب لم يشربها في الآخرة رواه مسلم في الصحيح عن أبي الربيع

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو ابو الربیع نے ان کو حماد بن زید نے ان کو ایوب نے ان کو نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نشہ آور شئی شراب ہے اور ہر شراب حرام ہے جو شخص شراب پیئے گا دنیا میں اور مر جائے حالانکہ وہ دائمی اور عادی شرابی ہو اور توبہ بھی نہ کی ہو وہ اس کو آخرت میں نہیں پی سکے گا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں ابو الربیع سے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5571

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5572

5573 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي ثنا أبو حامد بن الشرقي ثنا محمد بن عقيل و أحمد بن حفص ثنا حفص بن عبد الله حدثني إبراهيم بن طهمان عن أيوب عن نافع عن موسى بن عقبة عن نافع عن ابن عمر أنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من شرب الخمر في الدنيا ولم يتب لم يشربها في الآخرة وإن أدخل الجنة

ہمیں خبر دی ابو الحسن محمد بن حسین بن داؤد علوی نے ان کو ابو حامد بن شرقی نے ان کو محمد بن عقیل نے اور احمد بن حفص نے ان کو حفص بن عبداللہ نے ان کو ابراہیم بن طہمان نے ان کو ایوب نے ان کو نافع نے ان کو موسیٰ بن عقبہ نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دنیا میں شراب پیئے گا اور توبہ نہیں کرے گا وہ آخرت میں (جنت کی شراب) نہیں پی سکے گا اگرچہ جنت میں داخل بھی ہو جائے۔

ابْنِ عُمَرَ:أَنَّہُ ← نَافِعٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← محمد بن عقيل و أحمد بن حفص ← أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5572

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5573

5574 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو بكر القاضي ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم أنا ابن وهب أخبرني مالك و يونس بن يزيد عن ابن شهاب عن أبي سلمة بن عبد الرحمن بن عوف أنه سمع عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم عن البتع فقال : كل شراب أسكر فهو حرام أخرجاه من حديث مالك ورواه مسلم عن حرملة عن ابن وهب عن يونس

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے اور ابو بکر قاضی نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبداللہ بن عبدالحکم نے ان کو ابن وہب نے ان کو مالک نے اور یونس بن یزید نے ان کو ابن شہاب نے ان کو ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے کہ انہوں نے سنا عائشہ زوجۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کہتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پو چھا گیا شراب بنانے اور کشید کرنے کے بارے میں تو آپ نے فرمایا: ہر پینے کی چیز جو نشہ دے وہ حرام ہے۔ اس کو نقل کیا۔ بخاری ومسلم نے حدیث مالک سے اور مسلم نے اس کو روایت کیا حرملہ سے اس نے ابن وہب سے اس نے یونس سے۔

أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مالك و يونس بن يزيد ← ابْنُ وَهْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو بكر القاضي

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5573

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5574

5575 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ببغداد أنا أبو الحسين أحمد بن محمد بن جعفر الجوزي ثنا عبد الله بن محمد بن عبيد ثنا خالد بن خداش ثنا مهدي بن ميمون عن أبي عثمان الأنصاري عن القاسم بن محمد عن عائشة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : كل مسكر حرام فما أسكر منه الفرق فملء الكف منه حرام

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے بغداد میں ان کو ابو الحسین احمد بن محمد بن جعفر جوزی نے ان کو عبداللہ بن محمد بن عبید نے ان کو خالد بن خداش نے ان کو مہدی بن میمون نے کو ابو عثمان انصاری نے ان کو قاسم بن محمد نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آورشئی حرام ہے جس چیز کا ایک فرق (آٹھ سیر کا پیمانہ) شراب نشہ دے اسی میں سے ہتھیلی بھر شئی بھی حرام ہے۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَبِي عُثْمَانَ الْأَنْصَارِيِّ، ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْجُوزِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5574

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5575

5576 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أحمد بن محمد بن جعفر ثنا عبد الله بن محمد أبو بكر بن أبي الدنيا ثنا يحيى بن أيوب ثنا إسماعيل بن جعفر أخبرني داود بن بكر بن أبي الفرات عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما أسكر كثيره فقليله حرام

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو احمد بن محمد بن جعفر نے ان کو عبداللہ بن حمد ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے ان کو اسماعیل بن جعفر نے ان کو خبر دی داؤد بن بکر بن ابو فرات نے ان کو محمد بن منکدر نے ان کو جابر بن عبداللہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس چیز کا قلیل حصہ نشہ دے اس کا کثیر بھی حرام ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← دَاوُدَ بْنِ بَکْرِ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← عبد الله بن محمد أبو بكر بن أبي الدنيا ← أحمد بن محمد بن جعفر ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5575

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5576

5577 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقرئ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا محمد بن أبي بكر ثنا يحيى بن سعيد عن أبي حيان التيمي عن عامر الشعبي عن ابن عمر : أن عمر قام على منبر المدينة فحمد الله وأثنى عليه ووعظ الناس وذكرهم ثم قال : أما بعد فإن الخمر نزل تحريمها يوم نزل وهي خمسة من العنب والتمر والبر والشعير والعسل والخمر ما خمر العقل رواه مسلم في الصحيح عن مسدد عن يحيى

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد بن علی مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابو بکر نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو ابو حیان تیمی نے ان کو عامر شعبی نے ان کو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ خطبہ دینے کھڑے ہوئے مدینہ کے منبر پر انہوں نے اللہ کی حمدو ثنا کی اورلوگوں کو وعظ فرمایا اور ان کوڈر سنایا اس کے بعد فرمایا: امابعد! بے شک شراب کی حرمت اتر چکی جس دن اتری اور یہ پانچ چیزوں سے تیار ہوتا ہے۔ انگور سے، کھجور سے، گندم سے، جو سے اور شہد سے۔ خمر (شراب) ہر وہ چیز ہے جو عقل کو مخمور ومستور کر دے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں مسدد سے اس نے یحییٰ سے۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5576

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5577

5578 - أخبرنا أبو الحسن العلوي أنا أحمد بن محمد بن الحسن الشرقي ثنا علي بن سعيد الفسوي ثنا عمرو بن عاصم ثنا مبارك بن فضالة عن عبيد الله عن نافع عن ابن عمر : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : كل مسكر خمر وكل خمر حرام ورواه يحيى بن سعيد القطان عن عبيد الله بن عمر بإسناده غير أنه قال ولا أعلمه عن النبي صلى الله عليه و سلم ومن ذلك الوجه أخرجه مسلم في الصحيح

ہمیں خبر دی ابو الحسین علوی نے ان کو احمد بن محمد بن حسن شرقی نے ان کو علی بن سعید فسوری نے ان کو عمرو بن عاصم نے ان کو مبارک بن فضالہ نے ان کوعبیداللہ نے ان کو نافع نے ان کوابن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ ہرنشہ آور شئی شراب ہے اور ہر شراب حرام ہے۔ اس کو روایت کیا ہے یحییٰ بن سعید قطان نے ان کو عبیداللہ بن عمر نے ان کی اسناد کے ساتھ سوا اس کے کہ انہوں نے کہا میں نہیں جانتا اس کو مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور اسی طریق سے اس کوقتل کیا مسلم نے۔

ولا أعلمه ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بِإِسْنَادِهِ غَيْرَ أَنَّهُ ← كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ خَمْرٍ حَرَامٌ وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، ← النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْفَسَوِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الشَّرْقِيِّ، ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5577

chevron_left Previous
1234…78
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood