Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في التسديد في الدين · حديث 5547

5548 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا ابن أبي قماش ثنا عمرو بن عون عن هشيم عن عبد الحميد يعني ابن جعفر عن الحسن بن محمد يعني الأنصاري عن رجل عن النمر بن قاسط عن صهيب بن سنان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيما رجل أصدق امرأة صداقا ـ و الله يعلم ـ لا يريد أداءه فغرها بالله و استحل فرجها بالباطل لقي الله يوم يلقاه و هو زان و أيما رجل أدان من رجل دينا ـ و الله يعلم ـ أنه يريد أداءه إلى صاحبه فغره بالله و استحل ماله بالباطل لقي بن يوم يلقاه و هو سارق

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابن ابو قماش نے ان کو عمرو بن عون نے ان کو ھثیم نے ان کو عبدالحمید نے یعنی ابن جعفر نے ان کو حسین بن محمد یعنی انصاری نے ان کو ایک آدمی نے نمر بن قاسط سے اس نے صھیب بن سنان سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جونسا آدمی عورت کی مہر مقرر کرتا ہے (حالانکہ اللہ جانتا ہے کہ وہ ادائیگی کا ارادہ نہیں رکھتا) مگر وہ اپنی بیوی کو اللہ کی قسم دے کر کہ میں ادا کروں گا اس کے ساتھ دھو کہ کرتا ہے۔اور اس کی شرم گاہ اور عزت کو جھوٹ سے حلال کر لیتا ہے جس دن اللہ سے ملے گا اس دن زانی ہوگا۔ اور جونسا آدمی کسی سے قرض لیتا ہے (حالانکہ اللہ جانتا ہے کہ وہ) اس کے مالک کی طرف ادا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا مگر وہ اس کو اللہ کا نام لے کر دھوکہ دیتا ہے۔ مگر اور اس کے مال کو حلال قرار دے لیتا ہے باطل طریقے پر جس دن اللہ کو ملے گا تو وہ چور ہی ہوگا۔

صُهَيْبِ بْنِ سِنَانٍ ← النمر بن قاسط ← رَجُلٌ: ← الحسن بن محمد يعني الأنصاري ← عَبْدُ الْحَمِيدِ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- ← هُشَيْمٌ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← ابْنُ أَبِي قُمَاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › Separation of debt repayment · Hadith 5547

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في التسديد في الدين · حديث 5548

5549 - و أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا عبد الله بن أحمد بن سعد ثنا محمد بن إبراهيم البوشنجي ثنا يوسف بن عدي ثنا يوسف بن محمد بن يزيد بن صيفي بن صهيب عن أبيه عن جده عن صهيب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من تزوج امرأة ثم مات و هو لا ينوي أن يعطيها مهرها مات و هو زان و من استقرض من رجل قرضا ثم مات و هو لا ينوي أن يعطيه مات و هو سارق

اور ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو عبداللہ بن احمد بن سعد نے ان کو محمد بن ابراہیم بو شنحی نے ان کو یوسف بن عدی نے ان کو یوسف بن محمد بن یزید بن صیفی بن صھیب نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے صھیب سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جس شخص نے کسی عورت کے ساتھ شادی کی اس کے بعد وہ مر گیا اس حال میں وہ اس کی مہر دینے کی نیت نہیں رکھتا تھا وہ زنا کرتا ہوا مر گیا۔ اور جس شخص نے کسی سے قرضہ لیا پھر وہ مر گیا اس حال میں کہ وہ اس قرضہ کو واپس دینے کی نیت نہیں رکھتا تھا وہ اس حال میں مرگیا کہ وہ چور تھا۔

صُھَیْبٍ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ صَيْفِيِّ بن صُهَيْب ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ ← عبد الله بن أحمد بن سعد ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › Separation of debt repayment · Hadith 5548

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في التسديد في الدين · حديث 5549

5550 - أخبرنا أبو أبو محمد بن يوسف أنا أبو محمد عبد الرحمن بن يحيى الزهري القاضي بمكة ثنا محمد بن إسماعيل الصائغ ثنا إبراهيم بن المنذر الحزامي ثنا ابن أبي فديك ثنا ثور بن يزيد الديلي عن أبي الغيث عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا يأخذ أحد أموال الناس ثم يريد أداءها إلا الله عنه و لا يأخذها أحد يريد إتلافها إلا أتلفها الله عز و جل و بمعناه رواه سليمان بن بلال عن ثور و من ذلك الوجه أخرجه البخاري

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو محمد عبدالرحمٰن بن منذر احزامی نے ان کو ابن ابو فدیک نے ان کو ثور بن یزید دیلی نے ان کو ابو الغیث نے ان کو ابو ہریرہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص لوگوں سے مال لیتا ہے پھر اس کو واپس کر دینے کا ارادہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے ادا کروا دیتا ہے اور جو شخص لے کر ضائع کرنے کا اور واپس نہ دینے کا ارادہ کرتا ہے اللہ اس سے تلف اور ضائع کرا دیتا ہے۔ اور اسی کے مفہوم میں اس کو روایت کیا ہے سلیمان بن بلال نے ان کو ثور نے اور اس وجہ سے اس کو بخاری نے نقل کیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي الْغَيْثِ، ← ثور بن يزيد الديلي ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ ← أبو محمد عبد الرحمن بن يحيى الزهري القاضي بمكة، ← أبو أبو محمد بن يوسف

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › Separation of debt repayment · Hadith 5549

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في التسديد في الدين · حديث 5550

5551 - أخبرنا أبو الطاهر الفقيه ثنا أبو بكر محمد بن عمر بن حفص التاجر ثنا السري بن خزيمة ثنا عبد الله بن يزيد هو المقرىء ثنا سعيد يعني ابن أبي أيوب ثنا عقيل بن خالد اليلي و يونس بن الأيلي عن ابن شهاب عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن عائشة أنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من حمل من أمتي دينا ثم جهد في قضائه فمات قبل أن يقضيه فأنا أولى به

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہہ نے ان کو ابو بکر محمد عمر بن حفص تاجر نے ان کو ایوب نے ان کو عقیل بن خالد ایلی نے اور یونس بن یزید ایلی نے ان کو ابن شہاب نے ان کو ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے ان کو سیدہ عائشہ نے کہ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں سے جس شخص نے قرض اٹھایا اس کے بعد اس نے اس کو ادا کرنے کی جدوجہد کی مگر ادا کرنے سے پہلے ہی مر گیا میں اس کو ادا کرنے کا زیادہ حق دار ہوں۔ یا زیادہ ذمہ دار ہوں۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عقيل بن خالد اليلي و يونس بن الأيلي ← سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ← عبد الله بن يزيد هو المقرىء ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← أبو بكر محمد بن عمر بن حفص التاجر ← أبو الطاهر الفقيه

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › Separation of debt repayment · Hadith 5550

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في التسديد في الدين · حديث 5551

5552 - أخبرنا أبو بكر بن الحسن و أبو زكريا بن أبي إسحاق ثنا أبو العباس الأصم ثنا بحر بن نصر ثنا ابن وهب قال : سمعت حيوة بن شريح يحدث عن بكر بن عمرو بن شعيب بن عقبة بن عامر : سمع النبي صلى الله عليه و سلم يقول لأصحابه : لا تخنقوا الأنفس أو قال : أنفسكم فقيل : و ما نخنق قال : الدين

ہمیں خبر دی ابو بکر بن حسن نے اور ابو زکریا بن ابو اسحاق نے ان کو العباس اصم نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حیوۃ بن شریح سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں بکر بن عمر بن شعیب بن زرعہ سے اس نے عقبہ بن عامر سے اس نے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ اپنے اصحاب سے فرماتے تھے کہ تم لوگ اپنے آپ کا گلا نہ گھونٹو۔ انفس کہا تھا یا نفسکم کہا تھا۔ صحابہ نے پوچھا کونسی چیز سے گلا گھونٹتا ہے فرمایا کہ قرضہ۔

الدِّينِ. ← أنفسكم فقيل و ما نخنق ← لأصحابه لا تخنقوا الأنفس أو ← النبي صلى الله عليه و سلم ← بكر بن عمرو بن شعيب بن عقبة بن عامر ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو بكر بن الحسن و أبو زكريا بن أبي إسحاق

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › Separation of debt repayment · Hadith 5551

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في التسديد في الدين · حديث 5552

5553 - قال بكر و حدثني صفوان بن سليم : أنه بلغه عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : لا تفزعوا قلوبكم بعد النهي فقيل له : و ما يفزع قلوبنا يا رسول الله قال : الدين قال بكر إنه سمع جعفر بن شرحبيل يقول : إن معاوية بن أبي سفيان قال : رق الحر الدين

کہا بکر نے اور مجھے حدیث بیان کی ہے صفوان بن سلیم نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ انہوں نے فرمایا۔ کہ منع ہو جانے کے بعد اپنے دلوں کو نہ خوف زدہ کرو۔ پوچھا گیا یا رسول اللہ کیا چیز ہمارے دلوں کو خوف زدہ کرے گی فرمایا کہ قرضہ کہا بکر نے کہ اس نے سنا جعفر بن شرحبیل سے وہ کہتے ہیں کہ معاویہ بن ابو سفیان نے کہا کہ قرضہ آزاد انسان کو غلام بنا دیتا ہے۔

لا تفزعوا قلوبكم بعد النهي فقيل له و ما يفزع قلوبنا ← النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← صفوان بن سليم أنه بلغه ← بكر و

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › Separation of debt repayment · Hadith 5552

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في التسديد في الدين · حديث 5553

5554 - قال و ثنا ابن وهب أخبرني الحارث بن نبهان عن يزيد أبي خالد عن أيوب عن أنس بن مالك : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إياكم و الدين فإنه هم بالليل و مذلة بالنهار

کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابن وہب نے ان کو خبر دی حارث بن نھان نے ان کو یزید بن ابو خالد نے ان کو ایوب نے ان کو انس بن مالک نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بچاؤ تم اپنے آپ کو قرض سے کیونکہ وہ رات کی فکر اور دن کی عاجزی و ذلت ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَيُّوبَ، ← يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ، ← الحارث بن نبهان ← ابْنُ وَهْبٍ، ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › Separation of debt repayment · Hadith 5553

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في التسديد في الدين · حديث 5554

5555 - قال و حدثنا ابن وهب أخبرني عبد الرحمن بن زياد قال : و حدثني سعيد بن مسعود قال : ما من أحد يدخل خوف الدين في قلبه إلا ذهب من عقله ما لا يرجع إليه حتى يموت

کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابن وہب نے ان کو خبر دی ہے عبدالرحمٰن بن زیاد نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے سعید بن مسعود نے وہ کہتے ہیں کہ جس کے دل میں قرضے کا خوف بیٹھ جائے اس کی عقل کا ایک حصہ ایسا جاتا ہے کہ مرنے تک واپس نہیں آتا۔

سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← و، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › Separation of debt repayment · Hadith 5554

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في التسديد في الدين · حديث 5555

5556 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار ثنا أبو بكر بن أبي الدنيا ثنا محمد بن بكر بن خالد ثنا عبيد الله بن العباس بن الربيع الحارثي من أهل نجران اليمن بعرفات : ـ

اور ہمیں خبر دی ہے ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو محمد بن بکر بن خالد نے ان کو عبیداللہ بن عباس بن ربیع حارثی نے اہل نجران یمن سے عرفات میں۔

عبيد الله بن العباس بن الربيع الحارثي من أهل نجران اليمن بعرفات ← محمد بن بكر بن خالد ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › Separation of debt repayment · Hadith 5555

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في التسديد في الدين · حديث 5556

5557 - حدثني محمد بن عبد الرحمن بن البيلمان عن أبيه عن عمرو قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : و هو يوصي رجلا و هو يقول : أقل من الذنوب يهن عليك الموت و أقل من الدين تعش حرا قال الشيخ : في إسناده ضعيف

ہمیں حدیث بیان کی محمد بن عبدالرحمٰن بن بیلمان نے ان کو ان کے والد نے ان کو عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتے تھے وہ وصیت کر رہے ہوتے تھے کسی بھی آدمی کو فرماتے تھے۔ گناہ کم کر تیرے اوپر موت آسان ہو گئی قرضہ کم کر آزادی سے زندہ رہے گا تو۔ شیخ نے فرمایا کہ اس کی اسناد میں ضعف ہے۔

الشيخ في إسناده ضعيف ← أقل من الذنوب يهن عليك الموت و أقل من الدين تعش حرا ← و هو يوصي رجلا و هو ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَمْرٍو، ← أَبِيهِ ← محمد بن عبد الرحمن بن البيلمان

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › Separation of debt repayment · Hadith 5556

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في التسديد في الدين · حديث 5557

5558 - حدثنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو حفص بن شاهين ثنا ابن أبي داود ثنا عمرو بن عثمان ثنا أبي ثنا محمد بن مهاجر عن أبي حلبس قال : قال عيسى ابن مريم عليه السلام من أحسن فليرج الثواب و من أساء فلا يستنكر الجزاء و من أخذ عزا بغير حق أورثه الله ذلا بحق و من أخذ مالا بظلم أورثه الله فقرا بغير ظلم

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابو حفص بن شاھین نے ان کو ابن ابو داؤد نے ان کو عمرو بن عثمان نے ان کو ان کے والد نے ان کو محمد بن مہاجر نے ان کو ابو حلبس نے وہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم نے کہا جو شخص کسی کے ساتھ نیکی کرے اسے ثواب کی امید کرنی چاہئے اور جو شخص برائی کرے اسے جزا کو برا نہیں سمجھنا چاہئے اور جو ناحق طریقے پر اپنی عزت حاصل کرتا ہے اللہ اس کو ذلت کا وارث بناتا ہے اور جو شخص ظلم کے ساتھ مال حاصل کرتا ہے اللہ اس کو بغیر ظلم کے فقر کا وارث کرتا ہے۔

أَبِي حَلْبَسٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← ابن أبي داود ← أبو حفص بن شاهين ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › Separation of debt repayment · Hadith 5557

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في التسديد في الدين · حديث 5558

5559 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن و أبو زكريا بن أبي إسحاق ثنا أبو العباس الأصم ثنا بحر بن نصر ثنا ابن وهب أخبرني عبد الرحمن بن زياد عن عمران بن عبد المعافري قال : سمعت عبد الله بن عمرو بن العاص يقول : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول : إن الدين يقتضي من صاحبه يوم القيامة إذا مات و لم يقضه إلا من تدين في ثلاثة خصال الرجل يضعف قوته في سبيل الله فيتدين بما يتقوى به لعدو الله و لعدوه و رجل يموت عنده رجل مسلم فلا يجد ما يكفيه و يواريه إلا بدين فيموت و لم يقضه و رجل خاف على نفسه العزوبة فنكح ليعف نفسه بذلك خشية على دينه فإن الله يقضي عن هؤلاء يوم القيامة تابعه جعفر بن عوان و أبو عبد الرحمن المقرىء عن عبد الرحمن بن زياد عن بكر بن سوادة عن عبد الرحمن بن رافع التنوخي عن عبد الله بن عمر عن النبي صلى الله عليه و سلم بمعناه

ہمیں خبر دی ابو بکر احمد بن حسن نے اور ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے ان کو خبر دی ہے عبدالرحمٰن بن زیاد نے ان کو عمران بن عبدالمعافری نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبداللہ بن عمرو بن العاص سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے۔ بے شک مقروض آدمی جب مر جائے اور قرضہ ادا نہ کر جائے قیامت کے دن اس سے قرضہ کی ادائیگی کا تقاضا کیا جائے گا ہاں اس مقروض سے تقاضا نہیں ہوگا جو تین کاموں کے لئے قرضہ حاصل کرے۔ وہ آدمی جو اپنی طاقت اللہ کی راہ میں لٹا کر کمزور ہو چکا ہے لہذا وہ قرضہ لیتا ہے تاکہ اس کے ذریعے اپنی طاقت بحال کرے اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن کے مقابلے کے لئے دوسرا وہ آدمی جس کے پاس کوئی مسلمان مر رہا ہے مگر اس دیکھنے والے کے پاس اتنا بھی نہیں ہے کہ اس کے ساتھ وہ ایک کو کفن دے کر دفن کر سکے اگر وہ مرنے والے کے کفن دفن کے لئے قرضہ لیتا ہے پھر وہ قرضہ ادا کرنے سے قبل خود بھی مر جاتا ہے۔ تیسرا وہ شخص جو اپنے آپ کے گناہ میں پڑ جانے سے ڈرتا ہے اور وہ نکاح کر لیتا ہے تاکہ اپنے آپ کو پاکدامن رکھ سکے اپنے دین کو بچانے کے لئے۔ اور اس کام کے لئے وہ قرضہ لیتا ہے اور قرض ادا کرنے سے قبل فوت ہو جاتا ہے۔ ان سب لوگوں کی طرف سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کا قرضہ خود ادا کرے گا۔ جعفر بن عون نے اس کا متابع بیان کیا ہے۔ اور ابو عبدالرحمٰن مقری عبدالرحمٰن بن زیاد سے وہ بکر بن سوادہ سے وہ عبدالرحمٰن بن رافع تنوخی سے ان کو عبداللہ بن عمر نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے معنی کے ساتھ۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← عِمْرَانَ بْنِ عَبْدٍ الْمَعَافِرِيِّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو بكر أحمد بن الحسن و أبو زكريا بن أبي إسحاق

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › Separation of debt repayment · Hadith 5558

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood