Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في التسديد في الدين · حديث 5535

5536 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا محمد بن العباس المؤدب ثنا يحيى بن أيوب قالا : ثنا إسماعيل بن جعفر أخبرني العلاء هو ابن عبد الرحمن عن أبي كثير مولى محمد بن جحش عن محمد بن جحش : أنه قال كنا يوما جلوسا في مرضع الجنائز مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فرفع رأسه إلى السماء ثم وضع راحته على جبهته فقال : سبحان الله ما نزل من التشديد قال : فسكتنا و فرقنا فلما كان من الغد سألته يا رسول الله ما هذا التشديد الذي نزل قال : في الدين و الذي نفسي بيده لو أن رجلا قتل في سبيل الله ثم أحيي ثم قتل ثم أحيي ثم قتل ثم أحيي ثم قتل و عليه دين ما دخل الجنة حتى يقضى إليه دينه

اور ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو محمد بن عباس ادیب نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے دونوں نے کہا کہ ان کو اسماعیل بن جعفر نے ان کو خبر دی علاء نے یعنی ابن عبدالرحمٰن نے ان کو ابو کثیر مولیٰ محمد بن جحش نے ان کو محمد بن جحش نے کہ انہوں نے کہا ایک دفعہ ہم لوگ جنازوں کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ نے آسمان کی طرف سر اٹھایا اس کے بعد اپنی ہتھیلی آپ نے اپنے ماتھے پر رکھ لی۔ اور فرمایا سبحان اللہ اللہ نے کس قدر سختی اتاری ہے۔ کہتے ہیں کہ ہم لوگ خاموش رہے اس کے بعد ہم چلے گئے۔ جب اگلی صبح ہوئی تو میں نے آپ سے پوچھا یا رسول اللہ وہ کون سی سختی ہے جو اتری ہے؟ آپ نے فرمایا کہ دین کے بارے میں ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر کوئی آدمی اللہ کی راہ میں مارا جائے اس کے بعد وہ دوبارہ زندہ کر دیا جائے پھر قتل ہو جائے پھر زندہ ہو جائے پھر قتل ہو جائے پھر زندہ ہو جائے پھر قتل ہو جائے اور اس پر قرض ہو تو وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ اس وقت تک جب تک کہ وہ اس کا قرض ادا نہ کر دے۔

مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ أَنَّهُ ← أَبِي كَثِيرٍ مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ ← العلاء هو ابن عبد الرحمن ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › Separation of debt repayment · Hadith 5535

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في التسديد في الدين · حديث 5536

5537 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو بكر أحمد بن الحسين ثنا أبو العباس الأصم ثنا يحيى بن نصر ثنا ابن وهب أخبرني عمرو بن الحارث أن بكير بن عبد الله حدثه أن عبد الله بن أبي قتادة : حدثه أن رجلا من نجران سأله و هو عند نافع بن جبير فقال : أرأيت الحديث الذي ذكر لنا في رجل الذي كان عليه ديناران قدعى إليه رسول الله صلى الله عليه و سلم فأبى أن يصلي عليه حتى تحمل بهما أبو قتادة هل سمعت أباك يذكر ذلك قلت : لا و لكن قد حدثنيه من أهلي من لا اتهم قال النجراني : سمعت عبد الله بن عمرو العاص يقول : أقبل رجل إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله ماذا لي إن قتلت في سبيل الله قال : الجنة فلما أدبر الرجل قال : فقال : إن جبريل سألني الساعة فقال إلا الدين فإنه يؤخذ منك

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے اور ابو بکر احمد بن حسین نے ان کو ابو العباس رح نے ان کو یحییٰ بن نصیر نے ان کو ابن وہب نے ان کو عمر ابن حارث نے ان کو بکیر بن عبداللہ نے ان کو حدیث بیان کی ہے یہ کہ عبداللہ بن قتادہ نے ان کو حدیث بیان کی ہے کہ اہل نجران کے ایک آدمی نے اس سے پوچھا تھا اور وہ نافع بن جبیر کے پاس تھا۔ اس نے کہا کہ آپ کیا بتاتے ہیں؟ اس حدیث کے بارے میں جو ہمارے سامنے اس آدمی کے بارے میں ذکر ہوئی ہے جس پر دو دینار قرضہ تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جنازے کے لئے بلائے گئے آپ نے اس پر جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیا یہاں تک کہ (تیرے والد) ابو قتادہ نے وہ دو دینار قرضہ اپنے ذمے لے لیا تھا۔ کیا آپ نے اپنے والد سے اس کا تذکرہ سنا تھا۔ میں نے کہا کہ نہیں میں نے تو اپنے والد سے اس کا ذکر نہیں سنا تھا۔ لیکن مجھے اس بارے میں میرے گھر میں سے اس آدمی نے حدیث ذکر کی ہے جس کو میں جھوٹ کی تہمت نہیں لگا سکتا۔ اس کے بعد نجرانی نے کہا کہ میں نے سنا تھا عبداللہ بن عمرو بن العاص سے وہ کہتے تھے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ مجھے کیا ملے گا اگر میں اللہ کی راہ میں قتل ہو گیا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت ملے گی جب وہ پیچھے ہٹ گیا کہا کہ بے شک جبرائیل نے بھی ابھی ابھی مجھ سے سوال کیا ہے اس نے کہا ہے کہ مگر قرضہ بے شک وہ تجھ سے لیا جائے گا۔

عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يَحْيَى بْنُ نَصْرٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › Separation of debt repayment · Hadith 5536

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في التسديد في الدين · حديث 5537

5538 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا محمد بن أبي بكر ثنا يحيى بن سعيد عن يزيد بن أبي عبيد ثنا سلمة بن الأكوع قال : كنا مع النبي صلى الله عليه و سلم فأتي بجنازة فقالوا : يا نبي الله صل عليها قال : هل ترك عليه من دين قالوا : لا قال : هل ترك من شيء قالوا : لا فصلى عليها ثم أتى بجنازة فقالوا : صل عليها فقال : هل ترك عليه من دين قالوا : لا قال : هل ترك من شيء قالوا : ثلاثة دنانير قال : ثلاث كيات ثم أتى بالثالثة فقالوا : صل عليها فقال : هل ترك دينا قالوا : نعم قال : هل ترك من شيء قالوا لا قال : صلوا على صاحبكم فقال أبو قتادة : صل عليه و علي دينه فصلى عليه أخرجه البخاري في الصحيح عن علي و أبي عاصم عن يزيد

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابو بکر نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو یحییٰ بن ابو عبید نے ان کو سلمہ بن اکوع نے اس نے کہا کہ ہم لوگ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ اتنے میں کوئی جنازہ لایا گیا انہوں نے کہا یا رسول اللہ اس پر آپ جنازہ پڑھائیے آپ نے پوچھا کہ اس پر کسی کا قرضہ بھی ہے؟ لوگوں نے کہا کہ نہیں ہے۔ کوئی شئی اور باقی چھوڑی ہے اس نے بولا کہ نہیں ہے آپ نے اس پر نماز جنازہ پڑھائی۔اتنے میں ایک اور جنازہ لایا گیالوگوں نے کہا حضور اس کا بھی جنازہ پڑھائیے۔ آپ نے پوچھا کہ اس پر کسی کا قرضہ ہے بولے کہ نہیں ہے پوچھا کہ اس نے کوئی شئی چھوڑہی ہے ترکہ میں؟ بولے کہ صرف تین دینار ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ تین داغ ہیں۔ پھر تیسرا جنازہ آ گیا لوگوں نے کہا کہ حضور اس کی نماز جنازہ پڑھائیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا اس پر قرضہ ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ جی ہاں ہے پھر آپ نے پوچھا کہ اس نے کوئی شئی ترکہ میں چھوڑی ہے لوگوں نے کہا کہ نادار ہے کچھ نہیں چھوڑ کر مرا آپ نے فرمایا جنازہ پڑھ لو اپنے ساتھی کا۔ ابو قتادہ نے کہا حضور آپ اس کا جنازہ پڑھائیے اس کا قرض میرے ذمے ہے حضور نے اس کا جنازہ پڑھایا۔ اس کو بخاری نے نقل کیا ہے صحیح میں علی سے اور ابو عاصم سے اس نے یزدی سے۔

سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › Separation of debt repayment · Hadith 5537

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في التسديد في الدين · حديث 5538

5539 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا عبد الله بن يوسف ثنا محمد بن مهاجر عن أبيه قال : حدثنا أسماء بنت يزيد قالت : دعي رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى جنازة رجل من الأنصار فلما وضع السرير تقدم النبي صلى الله عليه و سلم ليصلي عليه فقال : أعلى صاحبكم دين قالوا : نعم يا نبي الله دبناران قال : صلوا على صاحبكم قال : أبو قتادة الأنصاري هما إلي يا نبي الله قال : فصلى عليه قال يعقوب : و هذا أخوه عمرو بن مهاجر صاحب حرس عمر بن عبد العزيز و هما من رجال الشام ثقتان و لهما أحاديث كبار حسان

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو عبداللہ بن یوسف نے ان کو محمد بن مہاجر نے ان کو ان کے والد نے ان کو حدیث بیان کی اسمآء بنت یزید نے وہ کہتی ہے کہ حضور انصاریوں کے ایک آدمی کے جنازے میں بلائے گئے۔ جب میت کی چارپائی رکھی گئی اور حضور جنازہ پڑھانے کے لئے آگے بڑھے تو فرمایا کہ کیا تمہارے ساتھی پر کوئی قرض ہے لوگوں نے کہا کہ جی ہاں ہے۔ اے اللہ کے نبی،صرف دو دینار ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اپنے ساتھی کے اوپر جنازہ پڑھ لو۔ ابو قتادہ انصاری نے کہا وہ میرے ذمے ہے اے اللہ کے نبی لہذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ یعقوب نے کہا کہ یہ اس کا بھائی ہے عمرو بن مہاجر عمر بن عبدالعزیز کا محافظ اور وہ دونوں شام کے لوگوں میں سے ہیں۔ دونوں ثقہ ہیں اور ان کی احادیث بڑی ہیں حسن ہیں۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › Separation of debt repayment · Hadith 5538

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في التسديد في الدين · حديث 5539

5540 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن سلمان الفقيه ثنا جعفر بن محمد بن شاكر ثنا أبو الوليد الطيالسي و عفان بن مسلم ح و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا العباس بن الفضل ثنا أبو الوليد أنا أبو عوانة عن قتادة عن سالم بن أبي الجعد عن معدان بن أبي طلحة عن ثوبان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من مات و هو بريء من ثلاث من الكبر و الغلول و الدين دخل الجنة قال الشيخ : في كتابي عن أبي عبد الله الكنز مقيد بالزاي و الصحيح في حديث أبي عوانة بالراء قال أبو عوانة في حديثه الكبر و قال سعيد بن أبي عروبة عن قتادة الكنز بالزاي

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن سلیمان فقیہہ نے ان کو جعفر بن محمد بن شاکر نے ان کو ابو داؤد طیالسی نے ان کو عفان بن مسلم نے۔ ’’ح“ اور ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عباس بن فضل نے ان کو ابو الولید نے ان کو ابو عوانہ نے ان کو قتادہ نے ان کو سالم بن ابو الجعد نے ان کو معدان بن ابو طلحہ نے ان کو ثوبان نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مر گیا اس حال میں کہ وہ تین چیزوں سے پاک تھا تکبر سے۔ مال غنیمت کی چوری سے اور قرض سے وہ جنت میں داخل ہوگا۔ شیخ نے فرمایا۔ کہ میری کتاب میں ہے۔ ابو عبداللہ سے مروی ہے کبر یعنی تکبر نہیں بلکہ کنز (زاء کے ساتھ) اور ابو عوانہ کی حدیث میں ہے (راء کے ساتھ ہے) ابو عیسیٰ نے کہا ہے کہ ابو عوانہ نے کہا ہے کہ اس کی حدیث میں الکبر ہے اور کہا ہے سعید بن ابو عرویہ نے اس نے قتادہ سے الکنز (زاء کے ساتھ۔)

ثَوْبَانَ، ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و، ← أبو الوليد الطيالسي و عفان بن مسلم ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › Separation of debt repayment · Hadith 5539

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في التسديد في الدين · حديث 5540

5541 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسين القاضي و أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا بحر بن نصر ثنا ابن وهب أخبرني سعيد بن أبي أيوب أنه سمع رجلا من قريش يقال له أبو عبد الله يقول : سمعت أبا بردة بن أبي موسى الشعري يحدث عن أبيه : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال : إن أعظم الذنوب عند الله أن يلقي بها بعد الكبائر التي نهى الله عنها أن يموت رجل و عليه دين لا يدع له قضاءه

ہمیں خبر دی ابو بکر احمد بن حسین قاضی نے اور ابو زکریا بن ابو اسحٰق مزنی نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے ان کو سعید ابو ایوب نے کہ اس نے قریش کے ایک آدمی سے سنا جسے ابو عبداللہ کہتے تھے کہ میں نے سنا ابو بردہ بن ابو موسیٰ اشعری سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ انہوں نے کہا بے شک اللہ کے نزدیک بڑے گناہوں میں سے ہے جس کو کبائر کے بعد رکھا جائے جن سے اللہ نے منع کیا ہے یہ کہ کوئی آدمی مر جائے اور اس پر قرض ہو جس کی ادائیگی کے لئے اس نے کوئی ترکہ نہ چھوڑا ہو۔

أَبِيهِ ← أبا بردة بن أبي موسى الشعري ← رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّهُ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › Separation of debt repayment · Hadith 5540

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في التسديد في الدين · حديث 5541

5542 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق أنا بشر بن موسى ثنا أبو عبد الرحمن المقرىء عن سعيد بن أبي أيوب قال : سمعت أبا عبد الله القرشي و كان يجالس جعفر بن ربيعة يقول : فذكره بإسناده و ذكره البخاري في التاريخ عن المقري عن سعيد قال : سمعت أبا عبد الله قال : قال ابن وهب أبو عبد الله

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحٰق نے ان کو بشر بن موسیٰ نے ان کو ابو عبدالرحمٰن مقری نے ان کو سعید بن ایوب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو عبداللہ قرشی سے اور وہ جعفر بن ابو ربیعہ کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے۔ پھر اس نے اس کو ذکر کیا ہے۔ اپنی اسناد کے ساتھ اور بخاری نے اس کو ذکر کیا ہے اپنی تاریخ میں مقری سے اس نے سعید سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو عبداللہ سے وہ کہتے ہیں کہ کہا ابن وہب ابو عبداللہ نے۔

ابن وهب أبو عبد الله ← أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ← سَعِيدٌ، ← الْمُقْرِئُ ← فذكره بإسناده و ذكره البخاري في التاريخ ← أبا عبد الله القرشي و كان يجالس جعفر بن ربيعة ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← أبو عبد الرحمن المقرىء ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › Separation of debt repayment · Hadith 5541

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في التسديد في الدين · حديث 5542

5543 - أخبرنا أبو علي الروذباري ثنا أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن راهويه النعماني ثنا محمد بن رمح في السماكين ثنا أبو نعيم ثنا سفيان عن سعد بن إبراهيم عن عمر بن أبي سلمة عن أبي سلمة عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : نفس المؤمن معلقة ما كان عليه دين

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو یعقوب اسحٰق بن ابراہیم بن سعد بن ابراہیم نے ان کو عمر بن ابو سلمہ نے ان کو ابو سلمہ نے ان کو ابو ہریرہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا کہ مؤمن کا نفس (یعنی روح) لٹکی رہتی ہے جب تک اس پر قرض رہے۔

نفس المؤمن معلقة ما كان عليه دين ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← محمد بن رمح في السماكين ← أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن راهويه النعماني ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › Separation of debt repayment · Hadith 5542

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في التسديد في الدين · حديث 5543

5544 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا محمد بن صالح بن هانىء ثنا الفضل بن محمد ثنا أبو ثابت ثنا إبراهيم بن سعد عن أبيه عن عمر بن أبي سلمة عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نفس المؤمن معلقة بدينه حتى يقضى عنه

اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن صالح نے بن ھانی نے ان کو فضل بن محمد نے ان کو ابو ثابت نے اور ابراہیم بن سعد نے ان کو ان کے والد نے ان کو عمر بن ابو سلمہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ مؤمن کی روح اس کے قرض کے بدلے میں لٹکی رہتی ہے۔ حتیٰ کہ اس کی طرف سے اس کو ادا کر دیا جائے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو ثَابِتٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← محمد بن صالح بن هانىء ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › Separation of debt repayment · Hadith 5543

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في التسديد في الدين · حديث 5544

5545 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب العدل ثنا محمد بن عبد الوهاب العبدي ثنا جعفر بن عون ثنا جعفر بن عون ثنا إسماعيل بن أبي خالد ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عبد الله بن يعقوب الحافظ ثنا يحيى بن محمد بن يحيى ثنا مسدد ثنا يحيى بن سعيد عن إسماعيل بن أبي خالد قال : حدثني عامر الشعبي أن سمرة بن جندب : قال صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم فلما أقبل قال : ها هنا أحد من بني فلان فسكت القوم و كانوا إذا ابتدأهم بشيء سكتوا ثم قال : ها هنا من بني فلان فقال رجل : أما إن صاحبكم قد حبس على باب الجنة بدين كان عليه فقال رجل علي دينه فقضاه فرواه فراس بن يحيى عن الشعبي و زاد فيه : فإن شئتم فافدوه و إن شئتم فأسلموه إلى عذاب الله و لم يذكر القضاء رواه سعيد بن مسروق عن الشعبي عن سمعان بن مسيح عن سمرة بن جندب

اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الفصل حسن بن یعقوب عدل نے ان کو محمد بن عبدالوہاب عبدی نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو اسماعیل بن ابو خالد نے۔’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ بن یعقوب حافظ نے ان کو یحییٰ بن محمد بن یحییٰ نے ان کومسدد نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو اسماعیل بن ابو خالد نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے عامر شعبی نے ان کو سمرہ بن جندب نے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھی جب نماز پڑھ کر متوجہ ہوئے فرمایا کہ یہاں پر بنی فلاں میں سے کوئی ہے لوگ خاموش ہو گئے اور طریقہ یہ تھا کہ جب پہلی بار آپ ان سے کچھ کہتے تو ادب کی وجہ سے لوگ فوراً بولنے کی جسارت نہیں کرتے تھے بلکہ خاموش ہو کر آپ کے فرمان کا انتظار کرتے تھے۔ آپ نے پھر فرمایا کہ بنوں فلاں میں سے کوئی یہاں موجود ہے ایک آدمی نے کہا کہ جی ہاں یہ فلاں آدمی ہے آپ نے فرمایا سنو بے شک تمہارا آدمی روک دیا گیا ہے جنت کے دروازے پر قرض کے بدلے میں جو اس پر تھا۔ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ اس کا قرضہ میرے ذمے ہے پھر اس نے وہ قرضہ ادا کر دیا اس کو روایت کیا فراس بن یحییٰ نے شعبی سے اور اس نے اس میں زیادہ کیا ہے۔ (اس عبارت کو کہ) اگر تم چاہو تو اس کا فدیہ دے دو اور اگر تم چاہو تو اس کو اللہ کے عذاب کے حوالے کر دو۔ اور شعبی نے اداء کر دینے کا ذکر نہیں کیا۔ اور اس کو روایت کیا ہے سعید بن مسروق نے شعبی سے اس نے سمعان بن مسیح سے اس نے سمرہ بن جندب سے۔

عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← عبد الله بن يعقوب الحافظ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْعَبْدِيُّ، ← أبو الفضل الحسن بن يعقوب العدل، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › Separation of debt repayment · Hadith 5544

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في التسديد في الدين · حديث 5545

5546 - أخبرنا أبو علي الحسين بن محمد الروذباري أنا أبو علي إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الصفار ثنا أحمد بن الوليد الفحام ثنا عبد الوهاب بن عطاء ثنا ابن عون عن أنس بن سيرين قال : قلت لعبد الله بن عمر : الرجل الذي يشتري بالدين و هو يريد الأداء فيموت و ليس عنده و فاء فقال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : لكل غادر لواء يعرف به يوم القيامة

ہمیں خبر دی ابو علی حسین بن محمد روذباری نے ان کو ابو علی اسماعیل بن محمد بن اسماعیل صفار نے ان کو احمد بن ولید فحام نے ان کو عبدالوہاب بن عطاء نے ان کو ابن عون نے ان کو انس بن سیرین نے وہ کہتے ہیں میں نے عبداللہ بن عمر سے کہا کہ (آپ کیا فرماتے ہیں) اس آدمی کے بارے میں جو قرضے کے بدلے میں کوئی چیز خرید کرتا ہے حالانکہ وہ ادائیگی کا پورا پورا ارادہ رکھتا ہے۔ مگر وہ فوت ہو جاتا ہے،اور اس کے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہوتی جس کے ساتھ اس کی ادائیگی ہو سکے ابن عمر کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر دھوکہ کرنے والے غدار اور دھوکہ باز کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈ انصب ہوگا جس سے وہ شخص پہچانا جائے گا۔

أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ ← أبو علي إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الصفار، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ،

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › Separation of debt repayment · Hadith 5545

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في التسديد في الدين · حديث 5546

5547 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ أنا الحسن بن سفيان ثنا محمد بن عبد الله بن نمير ثنا يحيى بن اليمان عن سفيان الثوري عن أبي عمارة عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم كان لأن يلبس الرجل من ألوان شتى خير له من أن يستدين ما ليس عنده قضاؤه قال أبو عبد الله : قلت لأبي علي من أبو عمارة هذا قال : طلاب بن حوشب الشيباني أخو العوام و لم يحدث به غير يحيى بن اليمان

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو علی حسین بن علی حافظ نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو محمد بن عبداللہ بن غیر نے ان کو یحییٰ بن یمان نے ان کو سفیان ثوری نے ان کو ابو عمارہ نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ البتہ اگر کوئی شخص رنگ برنگے (ٹکڑے جوڑ کر) لباس پہن لے یہ اس کے حق میں اس سے بہتر ہے کہ وہ ایسا قرضہ مانگے جس کی ادائیگی کی اس کے پاس کوئی صورت نہ ہو کہا ابو عبداللہ نے میں نے ابو علی سے کہا کہ یہ ابو عمارہ کون ہے؟ اس نے کہا کہ طلاب بن خوشب شیبانی العوام کے بھائی ہیں۔ اور اس کے بارے میں نہیں حدیث بیان کی سوائے یحییٰ بن یمان کے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي عُمَارَةَ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← يحيى بن اليمان ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › Separation of debt repayment · Hadith 5546

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood