شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في التسديد في الدين · حديث 5535
5536 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا محمد بن العباس المؤدب ثنا يحيى بن أيوب قالا : ثنا إسماعيل بن جعفر أخبرني العلاء هو ابن عبد الرحمن عن أبي كثير مولى محمد بن جحش عن محمد بن جحش : أنه قال كنا يوما جلوسا في مرضع الجنائز مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فرفع رأسه إلى السماء ثم وضع راحته على جبهته فقال : سبحان الله ما نزل من التشديد قال : فسكتنا و فرقنا فلما كان من الغد سألته يا رسول الله ما هذا التشديد الذي نزل قال : في الدين و الذي نفسي بيده لو أن رجلا قتل في سبيل الله ثم أحيي ثم قتل ثم أحيي ثم قتل ثم أحيي ثم قتل و عليه دين ما دخل الجنة حتى يقضى إليه دينه
اور ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو محمد بن عباس ادیب نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے دونوں نے کہا کہ ان کو اسماعیل بن جعفر نے ان کو خبر دی علاء نے یعنی ابن عبدالرحمٰن نے ان کو ابو کثیر مولیٰ محمد بن جحش نے ان کو محمد بن جحش نے کہ انہوں نے کہا ایک دفعہ ہم لوگ جنازوں کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ نے آسمان کی طرف سر اٹھایا اس کے بعد اپنی ہتھیلی آپ نے اپنے ماتھے پر رکھ لی۔ اور فرمایا سبحان اللہ اللہ نے کس قدر سختی اتاری ہے۔ کہتے ہیں کہ ہم لوگ خاموش رہے اس کے بعد ہم چلے گئے۔ جب اگلی صبح ہوئی تو میں نے آپ سے پوچھا یا رسول اللہ وہ کون سی سختی ہے جو اتری ہے؟ آپ نے فرمایا کہ دین کے بارے میں ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر کوئی آدمی اللہ کی راہ میں مارا جائے اس کے بعد وہ دوبارہ زندہ کر دیا جائے پھر قتل ہو جائے پھر زندہ ہو جائے پھر قتل ہو جائے پھر زندہ ہو جائے پھر قتل ہو جائے اور اس پر قرض ہو تو وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ اس وقت تک جب تک کہ وہ اس کا قرض ادا نہ کر دے۔
مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ أَنَّهُ ← أَبِي كَثِيرٍ مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ ← العلاء هو ابن عبد الرحمن ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،
Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › Separation of debt repayment · Hadith 5535
