شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5523
5524 - أخبرنا أبو محمد جناح بن نذير القاضي بالكوفة أنا أبو جعفر بن دحيم ثنا أحمد بن حازم أنا يعلى بن عبيد ثنا أبان بن إسحاق عن الصباح بن محمد ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن علي بن عفان أبو أسامة عن أبان بن إسحاق الأسدي ثنا الصباح بن محمد الأحمسي عن مرة الهمداني عن عبد الله بن مسعود : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الله قسم بينكم أخلاقكم كما قسم بينكم أرزاقكم فإن الله يعطي الدنيا لمن يحب و من لا يحب و لا يعطي الدين إلا من يحب فمن أعطاه الله الدين فقد أحبه و الذي نفسي بيده لا يسلم عبد حتى يسلم قلبه و لسانه و لا يؤمن حتى يأمن جاره بوائقه قيل و ما بوائقه قال : غشمه و ظلمه قال و قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يكتسب عبد مال حرام فيتصدق فينفق فيبارك له فيه و لا يتصدق فيقبل منه و لا يترك خلف ظهره إلا كان زاده إلى النار إن الله تبارك و تعالى لا يمحو السيىء بالسيىء و لا يمحوا السيىء إلا بالحسن إن الخبيث لا يمحو الخبيث لفظ حديث أبي عبد الله
اور ہمیں خبر دی ہے ابو محمد جناح بن نذ یر قاضی نے کوفہ میں ان کو ابو حفص بن دحیم نے ان کو احمد بن حازم نے ان کو یعلی بن عبید نے ان کو ابان بن اسحٰق نے ان کو صباح بن محمد نے ’’ح“۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو ابان اسحٰق اسدی نے ان کو صباح بن محمد احمسی نے ان کو مرہ ہمدانی نے ان کو عبداللہ مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان تمہارے اخلاق تقسیم کر دیئے ہیں جیسے تمہارے درمیان تمہارے رزق تقسیم کر دیئے ہیں بے شک اللہ تعالیٰ اس کو دنیا دیتا ہے جس کو پسند کرتا ہے اور جس کو وہ پسند نہیں کرتا۔ مگر دین صرف اسی کو دیتا ہے جس کو وہ پسند کرتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ دین عطا کرتا ہے اس سے محبت کرتا ہے یا اس کو وہ پسند کرتا ہے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کوئی بندہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک اس کا دل مسلمان نہ ہو اور زبان مسلمان نہ ہو اور وہ مؤمن نہیں ہوسکتا حتیٰ کہ اس کے پڑوسی اس کی ہلاکت خیزیوں سے محفوظ ہوں۔ پوچھا گیا کہ اس کی ہلاکت خیزیاں کیا کیا ہیں؟ فرمایا کہ اس کا ظلم اور زیادتی۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو بندہ حرام مال کماتا ہے اور اس میں سے صدقہ کرتا ہے اور خرچ کرتا ہے (ناممکن ہے) کہ اس میں برکت ہوگی (یعنی برکت نہیں ہوسکتی ہے) اور جو صدقہ کرتا ہے اس سے مال کم نہیں ہوتا۔ اور جو پیٹھ پیچھے چھوڑتا ہے اس کو آگ کے قریب کرتا ہے۔بے شک اللہ تعالیٰ خبث کو خبیث کے ساتھ نہیں مٹاتے۔ یہ ابو عبداللہ کی حدیث کے الفاظ ہیں۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، ← الصَّبَّاحِ بْنِ مُحَمَّدٍ الأَحْمَسِيِّ ← أَبَانَ بْنِ إِسْحَاقَ الْأَسَدِيِّ، ← الحسن بن علي بن عفان أبو أسامة ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← الصَّبَّاحِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أبان بن إسحاق ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ ← أبو محمد جناح بن نذير القاضي
Hadith 5523
