Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5523

5524 - أخبرنا أبو محمد جناح بن نذير القاضي بالكوفة أنا أبو جعفر بن دحيم ثنا أحمد بن حازم أنا يعلى بن عبيد ثنا أبان بن إسحاق عن الصباح بن محمد ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن علي بن عفان أبو أسامة عن أبان بن إسحاق الأسدي ثنا الصباح بن محمد الأحمسي عن مرة الهمداني عن عبد الله بن مسعود : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الله قسم بينكم أخلاقكم كما قسم بينكم أرزاقكم فإن الله يعطي الدنيا لمن يحب و من لا يحب و لا يعطي الدين إلا من يحب فمن أعطاه الله الدين فقد أحبه و الذي نفسي بيده لا يسلم عبد حتى يسلم قلبه و لسانه و لا يؤمن حتى يأمن جاره بوائقه قيل و ما بوائقه قال : غشمه و ظلمه قال و قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يكتسب عبد مال حرام فيتصدق فينفق فيبارك له فيه و لا يتصدق فيقبل منه و لا يترك خلف ظهره إلا كان زاده إلى النار إن الله تبارك و تعالى لا يمحو السيىء بالسيىء و لا يمحوا السيىء إلا بالحسن إن الخبيث لا يمحو الخبيث لفظ حديث أبي عبد الله

اور ہمیں خبر دی ہے ابو محمد جناح بن نذ یر قاضی نے کوفہ میں ان کو ابو حفص بن دحیم نے ان کو احمد بن حازم نے ان کو یعلی بن عبید نے ان کو ابان بن اسحٰق نے ان کو صباح بن محمد نے ’’ح“۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو ابان اسحٰق اسدی نے ان کو صباح بن محمد احمسی نے ان کو مرہ ہمدانی نے ان کو عبداللہ مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان تمہارے اخلاق تقسیم کر دیئے ہیں جیسے تمہارے درمیان تمہارے رزق تقسیم کر دیئے ہیں بے شک اللہ تعالیٰ اس کو دنیا دیتا ہے جس کو پسند کرتا ہے اور جس کو وہ پسند نہیں کرتا۔ مگر دین صرف اسی کو دیتا ہے جس کو وہ پسند کرتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ دین عطا کرتا ہے اس سے محبت کرتا ہے یا اس کو وہ پسند کرتا ہے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کوئی بندہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک اس کا دل مسلمان نہ ہو اور زبان مسلمان نہ ہو اور وہ مؤمن نہیں ہوسکتا حتیٰ کہ اس کے پڑوسی اس کی ہلاکت خیزیوں سے محفوظ ہوں۔ پوچھا گیا کہ اس کی ہلاکت خیزیاں کیا کیا ہیں؟ فرمایا کہ اس کا ظلم اور زیادتی۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو بندہ حرام مال کماتا ہے اور اس میں سے صدقہ کرتا ہے اور خرچ کرتا ہے (ناممکن ہے) کہ اس میں برکت ہوگی (یعنی برکت نہیں ہوسکتی ہے) اور جو صدقہ کرتا ہے اس سے مال کم نہیں ہوتا۔ اور جو پیٹھ پیچھے چھوڑتا ہے اس کو آگ کے قریب کرتا ہے۔بے شک اللہ تعالیٰ خبث کو خبیث کے ساتھ نہیں مٹاتے۔ یہ ابو عبداللہ کی حدیث کے الفاظ ہیں۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، ← الصَّبَّاحِ بْنِ مُحَمَّدٍ الأَحْمَسِيِّ ← أَبَانَ بْنِ إِسْحَاقَ الْأَسَدِيِّ، ← الحسن بن علي بن عفان أبو أسامة ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← الصَّبَّاحِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أبان بن إسحاق ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ ← أبو محمد جناح بن نذير القاضي

Hadith 5523

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5524

5525 - حدثنا أبو بكر بن فورك ثنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا جعفر بن سليمان عن النضر بن شميل عن الجارود عن الأحوص عن عبد الله هو ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يعجبنك رحب الذراعين يسفك الدماء فإن له عند الله قاتلا أو قتيلا لا يموت و لا يعجبنك امرؤ كسب مالا من حرام فإنه إن أنفقه أو تصدق به لم يقبل منه و إن تركه لم يبارك فيه و إن بقي منه شيء كان زاده إلى النار

ہمیں حدیث بیان کی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو جعفر بن سلیمان ان کو نضر بن شمیل نے ان کو جارود نے ان کو احوص نے ان کو عبداللہ بن مسعود نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ تمہیں حیرت میں نہ ڈالے بازؤں کی فراخی والا جو خون بہاتا ہے۔ بے شک اس کے لئے اللہ کے نزدیک کوئی قاتل ہے یا مقتول ہے جو مرا نہیں ہے۔ نہ حیرت زدہ کرے تمہیں وہ آدمی جو مال حرام کماتا ہے اگر اس کو خرچ کرتا ہے یا اس کے ساتھ صدقہ کرتا ہے۔ تو اس سے قبول نہیں ہوتا اور اگر اس کو چھوڑ دیتا ہے۔ تو اس میں برکت نہیں ہوتی۔ اور اگر اس میں سے کوئی شئی رہ جائے وہ اس کو آگ کے قریب کرتی ہے۔

عَبْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ ← الأَحْوَصِ ← الْجَارُودِ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Hadith 5524

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5525

5526 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن أبي طالب أنا علي بن عاصم أنا أبو علي الرحبي عن عكرمة عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يعجبنك رحب الذراعين بالدم و لا جامع المال من غير حله فإنه إن تصدق به لم يقبل منه و ما بقي منه كان زاده إلى النار

اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو علی بن عاصم نے ان کو ابو علی رحبی نے ان کو عکرمہ نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا تم لوگوں کو حیرت زدہ نہ کرے بازؤں کی کشادگی خون بہانے کے ساتھ (یعنی جو سب سے زیادہ قتل کرے) اور نہ حیرت زدہ کرے تم کو ناجائز طریقے سے مال جمع کرنے والا کیونکہ بے شک وہ اگر اس کے ساتھ صدقہ کرے گا تو اس سے قبول نہیں ہوگا اور جو کچھ اس میں سے باقی رہے گا وہ اس کو جہنم کے اور قریب کرے گا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَبُو عَلِيٍّ الرَّحْبِيُّ، ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى ← و،

Hadith 5525

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5526

5527 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد ثنا تمتام حدثني بشر بن آدم ثنا أبو عقيل يحيى بن المتوكل عن عمر بن نافع عن أبيه عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الدنيا خضرة حلوة من اكتسب فيها مالا من حله و أنفقه في حقه أثابه الله عليه و أورده جنته و من اكتسب فيها مالا من غير حله و أنفقه في غير حقه أحله الله دار الهوان و رب متخوض في مال الله و رسوله له النار يوم القيامة يقول الله كلما خبث زدناهم سعيرا

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو تمتام نے ان کو بشر بن آدم نے ان کو ابو عقیل یحییٰ بن متوکل نے ان کو عمر بن نافع نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ دنیا ہری بھری ہے (ترو تازہ ہے) میٹھی ہے جو شخص اس میں حلال طریقے پر مال کمائے گا اور جائز طریقہ سے خرچ کرتا ہے اس پر اللہ اس کو ثواب دے گا۔اور اس کو اپنی جنت میں داخل کرے گا۔ اور جو شخص اس دنیا میں حرام طریقے سے مال کمائے گا۔اور ناجائز طریقے سے خرچ کرے گا اللہ اس کو ذلت کے گھر میں اتارے گا (یعنی داخل کرے گا) اور بہت سے لوگ اللہ اور اس کے رسول کے مال میں گھسنے والے ان کے لئے آگ ہوگی قیامت کے دن (اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جس وقت وہ بجھے گی ہم اس کو خوب بھڑکا دیں گے۔)

ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، ← أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ← بِشْرُ بْنُ آدَمَ، ← تَمْتَامٌ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 5526

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5527

5528 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا العباس بن الوليد ثنا عقبة ثنا سعيد بن عبد العزيز قال : من أحسن فليرج الثواب و من أساء فلا يستنكر الجزاء من أخذ عزا بغير حق أورثه الله ذلا بحق و من جمع مالا بظلم أورثه الله فقرا بغير ظلم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن ولید نے ان کو عقبہ نے ان کو سعید بن عبدالعزیز نے جو شخص نیکی اور احسان کرے اسے چاہئے کہ وہ ثواب کی امید رکھے اور جو شخص برا کرے وہ اس کی بری جزا کو برا نہ جانے، اور جو شخص ناحق عزت و غلبہ حاصل کرے اللہ اس کو ذلت کا وارث بناتا ہے۔ جو شخص ناحق مال جمع کرتا ہے ظلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ اس کو فقر و محتاجی کا وارث کرتا ہے بغیر کسی ظلم کے۔

سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← عُقْبَةَ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Hadith 5527

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5528

5529 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا هارون بن سليمان ثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن منصور عن موسى بن عبد الله : أن أباه بعث غلاما له إلى الأصبهاني بأربعة آلاف فبلغ المال ستة عشر ألفا أو نحو ذلك فبلغه أنه مات فذهب يأخذ المال فيلغه أنه كان يقارف الربا قال : فأخذ أربعة آلاف و ترك البقية

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس محمد یعقوب نے ان کو ہارون بن سلیمان نے ان کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے ان کو سفیان نے ان کو منصور نے ان کو موسیٰ بن عبداللہ نے یہ کہ ان کے والد نے اپنے ایک غلام کو اصفہانی کے پاس چار ہزار درہم دے کر بھیجا۔ مال بڑھ کر سولہ ہزار تک پہنچ گیا۔ اس کے مثل ہو گیا ان کو اطلاع ملی کہ وہ فوت ہو گیا ہے (جس کو مال دیا تھا) یہ مال لینے گئے تو ان کو معلوم ہوا کہ وہ سود دیتا لیتا ہے مگر انہوں نے وہی اپنی رقم چار ہزار لے لئے اور باقی کو چھوڑ دیا۔

مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Hadith 5528

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5529

5530 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد ثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل ثنا عبد العزيز بن عبد الله الأويسي ثنا إبراهيم بن خيثم بن عراك بن مالك عن أبيه عن جده عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أربع حق على الله أن لا يدخلهم الجنة و لا يذيقهم نعيما : مدمن خمر و آكل ربا و آكل مال اليتيم بغير حق و العاق لوالديه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ زاہد نے ان کو ابو اسماعیل محمد بن اسماعیل نے ان کو عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے ان کو ابراہیم بن خثیم نے عراک بن مالک نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ چار شخص ایسے ہیں جن کے بارے میں اللہ پر حق ہے کہ وہ ان کو نہ تو جنت میں داخل کرے اور نہ ہی ان کو اس کی نعمتیں چکھائے۔ داعی اور عادی شرابی،سود خور، یتیم کا مال کھانے والا ناحق طریقے پر۔ والدین کا نافرمان۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← إبراهيم بن خيثم بن عراك بن مالك ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، ← أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 5529

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5530

5531 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني عبد الصمد بن علي البزاز ببغداد ثنا يعقوب بن يوسف يعني ابن إبراهيم القزويني ثنا محمد بن سعيد بن سابق ثنا عمرو بن أبي قيس عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يشتري الثمرة حتى تطعم و قال : إذا ظهر الزنا و الربا في قرية فقد أحلوا بأنفسهم عذاب الله

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی عبدالصمد بن علی بزار نے بغداد میں ان کو یعقوب بن یوسف نے یعنی ابراہیم قزوینی نے ان کو محمد بن سعید بن سابق نے ان کو عمرو بن ابی قیس نے ان کو سماک نے ان کو عکرمہ نے ان کو ابن عباس نے کہ رسول اللہ نے اس بات سے منع فرمایا تھا کہ کچے پھل درختوں پر کھڑے خریدے جائیں حتیٰ کہ پک جائیں اور کھانے کے قابل ہو جائیں۔اور فرمایا تھا کہ جس وقت زنا اور سود عام ہو جائے بستی میں تحقیق وہ لوگ اللہ کے عذاب کو اپنے نفسوں پر حلال کر لیتے ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ الْقَزْوِينِيُّ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيٍّ الْبَزَّازُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 5530

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5531

5532 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا أبو الحسين بن ماني الكوفي ثنا أحمد بن حازم بن أبي غرزة ثنا أبو نعيم ثنا عبد السلام عن شعبة عن يحيى بن سعيد عن أنس قال : إذا أقرضت قرضا لأخيك فلا تركب دابته و لا تقبل هديته إلا أن يكون قد جرت بينك و بينه مخالطة قيل ذلك كذا قال عن يحيى بن سعيد و قال غيره عن يحيى بن يزيد النهائي و رفعه بعض الناس

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو ابو الحسین بن مانی کوفی نے ان کو احمد بن حازم بن ابو غرزہ نے ان کو ابو نعیم نے ان کو عبدالسلام نے ان کو شعبہ نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو انس نے وہ کہتے ہیں کہ جب تم کسی مسلمان بھائی کو قرضہ دے دو تو تم اس کی سواری پر سوار نہ ہو اور نہ ہی تم اس کا ہدیہ قبول کرو ہاں مگر یہ کہ اگر تمہارے اور اس کے درمیان پہلے سے میل جول لین دین جاری ہو (تو پھر حرج نہیں ہے) اسی طرح کہا ہے یحییٰ بن سعید نے۔ اور اس کے سوا دیگر نے کہا کہ روایت ہے یحییٰ بن یزیدھنائی سے اور بعض نے اس کو مرفوع کیا ہے۔

أَنَسٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ السَّلامِ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أبو الحسين بن ماني الكوفي ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Hadith 5531

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5532

5533 - أخبرنا علي بن محمد المقرىء أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا حفص بن عمر الحوضي ثنا شعبة عن سعيد بن أبي بردة عن أبيه قال : أتيت المدينة فلقيت عبد الله بن سلام فقال لي : ألا تجيء إلى البيت حتى أطعمك سويقا و تمرا فذهبنا فأطعمنا سويقا و تمرا ثم قال : إنك بأرض الربا بها فاش فإذا كان لك على رجل دين فأهدي إليك حبلة من علف أو شعير أو حبلة من تبن فلا تقبله فإن ذلك من الربا

ہمیں خبر دی ہے علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو حفص بن عمر خوضی نے ان کو شعبہ نے ان کو سعید بن ابو بردہ نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں مدینے میں آیا اور میں حضرت عبداللہ بن سلام سے ملا انہوں نے مجھ سے فرمایا آپ گھر کب آئیں گے میں آپ کو ستو پلاؤں گا کھجوریں کھلاؤں گا، ہم ان کے پاس چلے گئے انہوں نے ہمیں ستو پلایا کھجوریں کھلائیں۔ پھر فرمایا بے شک تم سود کی دھرتی پر رہتے ہو وہاں سود عام ہے۔ جب تیرا کسی آدمی پر قرض ہو اور وہ تجھے گھانس کی گٹھری یا جو یا بھوسے کی گٹھری ھدیہ دے تو تم اسے نہ لینا کیونکہ اس میں بھی سود ہوگا۔

أتيت المدينة، فلقيت عبد الله بن سلام، ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ← شُعْبَةُ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← علي بن محمد المقرىء

Hadith 5532

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في التسديد في الدين · حديث 5533

5534 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو بكر أحمد بن الحسن القاضي ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن نصر ثنا ابن وهب أخبرني الليث أن سعيد المقبري أخبره عن عبد الله بن أبي قتادة يحدث : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قام فيهم فذكر لهم الجهاد في سبيل الله و الإيمان بالله أفضل الأعمال فقام رجل فقال : يا رسول الله إن قتلت في سبيل الله أتكفر عني خطاياي فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : نعم إن قتلت في سبيل الله و أنت صابر محتسب مقبل غير مدبر فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كيف قلت ؟ فقال : أرأيت إن قتلت في سبيل الله أتكفر عني خطاياي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نعم و أنت صابر محتسب مقبل غير مدبر إلا الدين فإن جبريل قال لي ذلك رواه مسلم في الصحيح عن قتيبة عن الليث بن سعد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو زکریا بن ابو اسحاق نے اور ابو بکر احمد بن حسن قاضی نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن نصر نے ان کو ابن وھب نے مجھے خبر دی ہے لیث نے یہ کہ سعید مقبری نے اس کو خبر دی ہے کہ عبداللہ بن ابو قتادہ حدیث بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں میں خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور ان کے سامنے جہاد فی سبیل اللہ کا ذکر فرمایا۔ اور ایمان باللہ کا کہ یہ افضل اعمال میں سے ہے لہذا ایک آدمی نے کھڑے ہو کر سوال کیا یا رسول اللہ اگر میں اللہ کی راہ میں مارا جاؤں تو کیا میرے گناہ معاف ہو جائیں گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جواب دیا کہ جی ہاں معاف ہو جائیں گے۔ بشرطیکہ اگر تو اللہ کی راہ میں مارا جائے اس حال میں کہ تو صابر ہو ثواب حاصل ہونے کی نیت رکھتا ہو آگے بڑھنے والا ہو پیٹھ پھیر کر بھاگنے والا نہ ہو۔ پھر حضور نے فرمایا کہ تم نے کیسے کہا تھا؟ (یعنی دوبارہ سوال دہرائیے) اس نے پھر کہا کہ یہ بتائیے کہ اگر میں اللہ کی راہ میں قتل کر دیا جاؤ تو کیا مجھ سے میرے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے؟ پھر دوبارہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی جواب دیتے ہوئے فرمایا جی ہاں بشرطیکہ آپ صبر کرنے والے ثواب کی امید رکھنے والے میرے جہاد میں آگے بڑھنے والے ہوں پیچھے ہٹنے والے نہ ہوں مگر قرض بے شک جبرائیل نے مجھ سے یہ بات کہی ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں قتیبہ سے اس نے لیث بن سعد سے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← الليث أن سعيد المقبري ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يَحْيَى بْنُ نَصْرٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 5533

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في التسديد في الدين · حديث 5534

5535 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن محمد بن أحمد بن زكريا الأديب ثنا أبو علي القباني ثنا منصور بن أبي مزاحم ح : ـ

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو الحسین بن محمد بن احمد بن زکریا ادیب نے ان کو ابو علیٰ قبانی نے ان کو منصور بن ابو مزاحم نے۔ ’’ح“

مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْقَبَّانِيُّ ← أبو الحسن محمد بن أحمد بن زكريا الأديب ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Hadith 5534

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood