Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5511

5512 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا علي بن حمشاذ ثنا علي بن عبد العزيز ح و أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو علي الرفاء الهروي أنا علي بن عبد العزيز ثنا عمر بن عون ثنا يحيى بن زكريا عن إسرائيل عن الدكين بن الربيع بن عملية عن أبيه عن عبد الله بن مسعود : عن النبي صلى الله عليه و سلم : ما أكثر أحد من الربا إلا كان عاقبة أمره إلى قل

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن حمشاذ نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو علی رفآء مروی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو عمر بن عون نے ان کو یحییٰ بن زکریا نے ان کو اسرائیل نے ان کو دکین بن ربیع بن عمیلہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبداللہ بن مسعود نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا نہیں کثرت سے کمایا سود کسی ایک نے بھی مگر اس کا انجام قلت کی طرف ہی ہوا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← الدكين بن الربيع بن عملية ← اِسْرَائِیْلُ ← يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ← عمر بن عون ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو عَلِيٍّ الرَّفَّاءُ الْهَرَوِيُّ، ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ← و، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › And it is a chapter on seizing the forbidden money and includes the prohibition of stealing and blocking the road · Hadith 5511

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5512

5513 - أخبرنا أبو الحسن علي بن عبد الله بن إبراهيم الهاشمي ثنا أبو جعفر محمد بن عمرو ثنا محمد بن يونس بن موسى ثنا سهل بن حماد أبو عتاب ثنا بقية بن الوليد عن ثور بن يزيد عن خالد بن معدان عن أم الدرداء قالت : قال موسى بن عمران عليه السلام : يا رب من يسكن غدا في حظيرة القدس و يستظل بظل عرشك يوم لا ظل إلا ظلك قال : يا موسى أولئك الذين لا تنظر أعينهم في الزنا و لا يبتغون في أموالهم الربا و لا يأخذون على أحكامهم الرشى طوبى لهم و حسن مآب هذا موقوف

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن عبداللہ بن ابراہیم ہاشمی نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمرو نے ان کو محمد بن یونس بن موسیٰ نے ان کو سہل بن حماد نے ان کو ابو عتاب نے ان کو بقیہ بن ولید نے ان کو ثور بن یزید نے ان کو خالد بن معدان نے ان کو ام درداء نے وہ کہتی ہیں کہ حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام نے کہا اے رب کون سکوئت کرے گا کل صبح قیامت میں حظیرۃ القدس میں اور تیرے عرش کا سایہ حاصل کرے گا جس دن تیرے عرش کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا۔ اللہ نے فرمایا کہ اس میں اے موسیٰ وہ لوگ ہوں گے جن کی آنکھیں زنا میں نہیں دیکھتیں اور جو اپنے مال میں سود نہیں طلب کرتے اور جو لوگ اپنے فیصلوں پر رشوت نہیں لیتے مبارک بادی ہے ان کے لئے اور اچھا انجام ہے۔ یہ روایت موقوف ہے۔

أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ أَبُو عَتَّابٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ بْنِ مُوسَى ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ،

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › And it is a chapter on seizing the forbidden money and includes the prohibition of stealing and blocking the road · Hadith 5512

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5513

5514 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ثنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق ثنا معمر عن عطاء الخرساني أن عبد الله بن سلام قال : الربا اثنان و سبعون حوبا أصغرها حوبا كمن أتى أمه في الإسلام و درهم في الربا أشد من بضع و ثلاثين زينة قال : و يأذن لهم في القيام البر و الفاجر يوم القيامة إلا لآكل الربا فإنه لا يقوم إلا كما يقوم الذي يتخبطه الشيطان من المس

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو عطاء خراسانی نے ان کو عبداللہ بن سلام نے انہوں نے فرمایا کہ سود کے بہتر گناہ ہے ان میں سے سب سے چھوٹا گناہ (اتنا بڑا ہے) جیسے کوئی شخص اسلام میں آنے کے بعد اپنی سگی ماں کے ساتھ بدکاری کرے سود کا ایک درہم زیادہ شدید برا ہے تیس سے زائد بار زنا کرنے سے فرمایا کہ قیامت کے دن سب لوگوں کے لئے (قبروں سے) کھڑا ہونے کی اجازت دی جائے گی خواہ نیک ہو یا گنہگار مگر سود خور بے شک وہ نہیں کھڑا ہوا مگر اس شخص کی مثل جس کو شیطان نے چھو کر پاگل کر دیا ہو۔

عطاء الخرساني أن عبد الله بن سلام ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › And it is a chapter on seizing the forbidden money and includes the prohibition of stealing and blocking the road · Hadith 5513

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5514

5515 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا جعفر بن محمد بن الحسن الفريابي ثنا سليمان أظنه ابن عبد الرحمن ثنا الجراح بن مليح ثنا الزبيدي عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن عبد الله بن سلام أنه قال : الربا اثنان و سبعون حوبا و أدنى فرحته مثل أن يقع الرجل على أمه أو مثل أن يضطجع الرجل على أمه و أكثر من ذلك أظن عرض الرجل المسلم بغير حق هكذا جاء موقوفا

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو جعفر بن محمد بن حسن فریابی نے ان کو سلیمان نے میرا خیال ہے کہ ابن عبدالرحمٰن ان کو جراح بن ملیح نے ان کو زبیری نے ان کو زید بن اسلم نے ان کو عطا بن یسار نے ان کو عبداللہ بن سلام نے انہوں نے کہا کہ سود میں بہتر گناہ ہیں اور ان میں سے کمتر گناہ ایسا ہے جیسے کوئی اپنی ماں سے برا فعل کرے یا اس سے زیادہ میرے خیال میں یہ گناہ ہے کہ کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کی عزت کے درپے ہو یہ روایت موقوف ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ أَنَّهُ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ ← سليمان أظنه ابن عبد الرحمن ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْفِرْيَابِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › And it is a chapter on seizing the forbidden money and includes the prohibition of stealing and blocking the road · Hadith 5514

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5515

5516 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس هو الأصم ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا أبو أسامة حماد بن أسامة عن سفيان عن عبد العزيز بن رفيع عن ابن أبي مليكة عن عبد الله بن الراهب قال : قال كعب : لأن أزني ثلاثة و ثلاثين زنية أحب إلي من أن آكل درهما ربا يعلم الله أني أكلته ربا و رواه أبو أنس عمران بن أنس المكي عن ابن أبي مليكة عن عائشة مرفوعا أتم من ذلك في الربى الربا قال البخاري لا يتابع عليه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو حماد بن اسامہ نے ان کو سفیان نے ان کو عبدالعزیز بن رفیع نے ان کو ابن ابو ملیکہ نے ان کو عبداللہ بن راہب نے وہ کہتے ہیں کہ کہا کعب نے البتہ اگر میں تینتیس مرتبہ بدکاری کا ارتکاب کروں وہ میرے نزدیک زیادہ ہلکا ہے اس سے کہ ایک درہم سود کا کھاؤں جسے اللہ جانتا ہو کہ میں نے سود کھایا ہے۔ (یعنی میرے نزدیک یہ بھاری گناہ ہے) اور اس کو روایت کیا ہے اس سے زیادہ مکمل فی اربی الربا ہے بخاری نے کہا ہے اس کا کوئی متابع نہیں۔

عبد الله بن الراهب ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أُسَامَةَ حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › And it is a chapter on seizing the forbidden money and includes the prohibition of stealing and blocking the road · Hadith 5515

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5516

5517 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن سعد الخولاني المصري ثنا وهب عن هشام بن سعد عن زيد بن أسلم أن عبد الله بن سلام قال : الربا سبعون حوبا أدناها فجرة منه مثل أن يضطجع الرجل على أمه و أربى الربا استطالة المرء في عرض أخيه المسلم قال : أظنه ابن وهب زاد ابن جريح في الحديث عن ابن أبي مليكة عن عبد الله بن حنظلة بن الراهب أنه سمع كعبا يحدث في الحجر قال : درهم ربا يأكله أحد الناس في بطنه و هو يعلمه أعز عليه في الإثم عند الله عز و جل يوم القيامة من ست و ثلاثين زنية

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن سعد خولانی مصری نے ان کو ابن وھب نے ان کو ہشام بن سعد نے ان کو زید بن اسلم نے ان کو عبداللہ بن سلام نے انہوں نے کہا کہ سود کے ستر گناہ ہیں ان میں سے کمتر گناہ ایسا ہے جیسے کوئی برائی کرنے کے لئے اپنی ماں کے ساتھ لیٹ جائے اور سب بڑا سود یعنی سودوں کا سود یا گناہوں کا گناہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کی عزت کے بارے میں دست درازی کرے۔ کہتے ہیں کہ میں اس کو گمان کرتا ہوں ابن وہب نے زیادہ کیا ابن جریج نے حدیث ابن ابو ملیکہ سے اس نے عبداللہ بن حنظلہ بن راہب سے کہ انہوں نے سنا کعب سے جو حدیث بیان کر رہے تھے حجر میں تو یہ فرمایا کہ سود کا ایک درہم جس کو لوگوں میں سے کوئی اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے حالانکہ وہ اس کو جانتا بھی ہے، گناہ میں وہ اللہ کے نزدیک قیامت کے دن چھتیس بار زنا کرنے سے زیادہ سخت گناہ ہوگا۔

زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← وَھْبٍ ← إبراهيم بن سعد الخولاني المصري ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › And it is a chapter on seizing the forbidden money and includes the prohibition of stealing and blocking the road · Hadith 5516

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5517

5518 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا محمد بن الفضيل بن جابر ثنا يحيى بن إسماعيل بن عباس بن حسين بن قيس الرحبي عن عكرمة عن ابن عباس : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : درهم ربا أشد على الله من ست و ثلاثين زنية و قال : من نبت لحمه من السحت فالنار أولى به وروى في الربا من وجه آخر عن ابن عباس

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن فضل بن جابر نے ان کو یحییٰ بن اسماعیل نے بن عباس نے ان کوحسین بن قیس رحبی نے اس کو عکرمہ نے ان کو ابن عباس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا سود کا ایک درہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک چھتیس زناؤں سے زیادہ سخت ہے اور فرمایا کہ وہ شخص جس کا گوشت حرام مال سے بنے آگ اس کے لئے بہتر ہے۔ اور روایت کیا گیا ربا اور سود کے بارے میں دوسرے طریق سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← يحيى بن إسماعيل بن عباس بن حسين بن قيس الرحبي ← محمد بن الفضيل بن جابر ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › And it is a chapter on seizing the forbidden money and includes the prohibition of stealing and blocking the road · Hadith 5517

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5518

5519 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق أنا محمد بن غالب ثنا عمرو بن علي ثنا ابن أبي عدي ثنا شعبة عن زبيد عن إبراهيم عن مسروق عن عبد الله : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الربا ثلاثة و سبعون بابا أيسرها مثل أن ينكح الرجل أمه و إن أربى الربا عرض الرجل المسلم قال الشيخ أحمد : هذا إسناد صحيح و المتن منكر بهذا الإسناد و لا أعلمه إلا وهما و كأنه دخل لبعض رواة الإسناد في إسناده

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحٰق نے ان کو محمد بن غالب نے ان کو عمرو بن علی نے ان کو ابن عدی نے ان کو شعبہ نے ان کو زبیر نے ان کو ابراہیم نے ان کو مسروق نے ان کو عبداللہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سود کے ستر دروازے ہیں ان سب میں آسان یہ ہے کہ جیسے کوئی آدمی اپنی ماں سے زنا کرے اور سب سے بڑا سود یہ ہے کہ کوئی اپنے مسلمان بھائی کی عزت میں دست درازی کرتا ہے۔ شیخ احمد نے کہا کہ یہ اسناد صحیح ہے اور متن منکر ہے اسی اسناد کے ساتھ میں نہیں جانتا اس کو مگر محض وہم گویا کہ وہ داخل ہوا ہے واسطے بعض رواۃ اسناد کے اس کی اسناد میں۔

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › And it is a chapter on seizing the forbidden money and includes the prohibition of stealing and blocking the road · Hadith 5518

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5519

5520 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا تمتام ثنا محمد بن عبد الله بن عمار الموصلي ثنا عفيف بن سالم ثنا عكرمة بن عمار عن يحيى بن أبي كثير عن سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الربا سبعون بابا أدناها كالذي يقع على أمه قال الشيخ غريب بهذا الإسناد و إنما يعرف بعبد الله بن زياد عن عكرمة و عبد الله بن زياد هذا منكر الحديث

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو تمام نے ان کو محمد بن عبداللہ بن عمار موصلی نے ان کو عفیف بن سالم نے ان کو عکرمہ بن عمار نے ان کو یحییٰ بن ابو کثیر نے ان کو ابو سلمہ نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ سود کے ستر دروازے ہیں ان میں سے کمتر وہ ہے جیسے کوئی شخص اپنی ماں کے اوپر پڑ جائے۔ شیخ نے کہا ہے کہ اس اسناد کے ساتھ غریب ہے سوائے اس کے نہیں کہ پہچانی گئی ہے۔ عبداللہ بن زیاد کے ساتھ۔ عکرمہ سے اور عبداللہ بن زیاد سے اور وہ منکر الحدیث ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَلَمَةَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عَفِيفُ بْنُ سَالِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ ← تَمْتَامٌ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › And it is a chapter on seizing the forbidden money and includes the prohibition of stealing and blocking the road · Hadith 5519

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5520

5521 - أخبرناه أبو طاهر الفقيه أنا علي بن إبراهيم بن معاوية النيسابوري ثنا محمد بن مسلم بن وارة ثنا سعد بن عبد الحميد بن جعفر ثنا عبد الله بن زياد اليمامي حدثني عكرمة بن عمار عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الربا سبعون بابا أصغرها كالذي ينكح أمه

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہہ نے ان کو علی بن ابراہیم بن معادیہ نیساپوری نے ان کو محمد بن سلم بن وارہ نے ان کو سعد بن عبدالحمید بن جعفر نے ان کو عبداللہ بن زیاد یمامی نے ان کو عکرمہ بن عمار نے ان کو یحییٰ بن ابو کثیر نے ان کو ابو سلمہ نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک سود کے ستر دروازے ہیں سب سے چھوٹا ایسے ہے جیسے کوئی اپنی ماں کے ساتھ نکاح کرے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ الْيَمَامِيُّ، ← سَعْدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ ← علي بن إبراهيم بن معاوية النيسابوري ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › And it is a chapter on seizing the forbidden money and includes the prohibition of stealing and blocking the road · Hadith 5520

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5521

5522 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا ابن ناجية ثنا محمد بن أبي معشر حدثني أبي عن سعيد عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الربا سبعون حوبا أدناها مثل ما يقع الرجل على أمه و أربى الربا استطالة المرء في عرض أخيه قال الشيخ أبو معشر و ابنه : غير قويين رواه أيضا عبد الله بن سعيد المقبري عن أبيه عن أبي هريرة و قال عن جده عن أبي هريرة و عبد الله ضعيف

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابن ناجیہ نے ان کو محمد بن ابو معشر نے ان کو ان کے والد نے ان کو سعید نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بے شک سود کے ستر وبال ہیں۔ان میں سے چھوٹا وبال ایسا ہے جیسے کوئی اپنی ماں کے ساتھ گناہ کرے اور سب سے بڑا سود کسی آدمی کا اپنے مسلمان بھائی کی عزت کے بارے میں دست درازی کرے۔ شیخ نے کہا ہے۔ کہ ابو معشر اور اس کا بیٹا غیر قوی ہیں اور اس کو روایت کیا ہے عبداللہ بن سعید مقبری نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ نے اور اس نے کہا ہے کہ مروی ہے ان کے دادا سے انہوں نے ابو ہریرہ سے اور عبداللہ سے مگر یہ ضعیف ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٌ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مَعْشَرٍ، ← ابْنُ نَاجِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › And it is a chapter on seizing the forbidden money and includes the prohibition of stealing and blocking the road · Hadith 5521

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5522

5523 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس القاسم بن القاسم السياري بمرو ثنا محمد بن موسى الباساني ثنا علي بن الحسن بن شقيق ثنا أبو مجاهد عن ثابت عن أنس بن مالك قال : خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر الربا و عظم شأنه فقال : إن الرجل يصيب من الربا أعظم عند الله في الخطيئة من ست و ثلائين زنية يزنيها الرجل و إن أربى الربا عرض الرجل المسلم تفرد به أبو مجاهد عبد الله بن كيسان المروزي عن ثابت و هو منكر الحديث

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو العباس قاسم بن قاسم سیاری نے مقام مرو میں ان کو محمد بن موسیٰ باسانی نے ان کو علی بن حسن بن شقیق نے ان کو ابو مجاہد نے ان کو ثابت نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور آپ نے سود کا ذکر کیا اور اس کی برائی کو بہت بڑا بیان کیا۔اور فرمایا۔ بے شک ایک آدمی جو سود کو حاصل کرتا ہے اللہ کے نزدیک گناہ میں چھتیس زناؤں سے زیادہ بڑا ہے اور بے شک سب سے بڑا سود یا گناہ کسی مسلمان مرد کی عزت ہے (ضائع کرنا ہے) ابو مجاہد اس کے ساتھ منفرد ہے۔ وہ عبداللہ بن کیسان مروزی سے وہ ثابت سے جو کہ منکر الحدیث ہے۔

الربا و عظم شأنه ← خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← أبو مجاهد ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← محمد بن موسى الباساني ← أبو العباس القاسم بن القاسم السياري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › And it is a chapter on seizing the forbidden money and includes the prohibition of stealing and blocking the road · Hadith 5522

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood