Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5499

5500 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة و أبو بكر بن إبراهيم الفارسي أنا أبو عمرو بن مطر ثنا إبراهيم بن علي ثنا يحيى بن يحيى ثنا مسلم بن خالد الزنجي عن مصعب بن محمد مولى للأنصار يقال له شرحبيل حدثه عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من اشترى سرقة و هو يعلم أنها سرقة فقد اشترك في عارها و إثمها

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے اور ابو بکر محمد بن ابراہیم فارسی نے ان کو ابو عمرو بن مطر نے ان کو ابراہیم بن علی نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو مسلم بن خالد زنجی نے ان کو مصعب بن محمد مولیٰ انصار نے اس کو شرحبیل کہا جاتا تھا اس نے ان کو حدیث بیان کی ابو ہریرہ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا جو شخص چوری کا مال خریدے اور وہ جانتا ہو کہ یہ مال چوری کا ہے وہ اس کے عیب اور گناہ میں برابر کا شریک ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُصْعَبِ بْنِ مُحَمَّدٍ، مَوْلًى لِلْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ شُرَحْبِيلُ ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أبو نصر بن قتادة و أبو بكر بن إبراهيم الفارسي

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › And it is a chapter on seizing the forbidden money and includes the prohibition of stealing and blocking the road · Hadith 5499

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5500

5501 - حدثنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي أنا أبو حامد بن الشرقي أنا أحمد بن يوسف و محمد بن الحسين بن طرخان ثنا أبو حذيفة ثنا سفيان عن هشام بن عروة عن أبيه عن سعيد بن زيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من سرق شبرا من أرض طوقه من سبع أرضين من نار جهنم أخرجاه في الصحيح من وجه آخر عن هشام

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو الحسن محمد بن حسین بن داؤد علوی نے ان کو ابو حامد بن شرقی نے ان کو احمد بن یوسف نے اور محمد بن حسین بن طرخان نے ان کو ابو حذیفہ نے اور ان کو سفیان نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو سعید بن زید نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص ایک بالشت بھر زمین چوری کرے گا اس کو جہنم کی آگ میں سات زمینوں تک سے کاٹ کر طوق پہنایا جائے گا۔ بخاری مسلم نے اس کو نقل کیا ہے صحیح میں دوسرے طریق سے ہشام سے۔

سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← أحمد بن يوسف و محمد بن الحسين بن طرخان ← أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › And it is a chapter on seizing the forbidden money and includes the prohibition of stealing and blocking the road · Hadith 5500

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5501

5502 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الفضل بن حميرويه الهروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا أحمد بن يونس ثنا ابن أبي ذئب عن الحارث بن عبد الرحمن عن أبي سلمة عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال : لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم الراشي و المرتشي

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو الفضل بن حمیرویہ ھروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو اسد بن یونس نے ان کو ابن ابی ذئب نے حارث بن عبدالرحمٰن سے اس نے ابو سلمہ سے اس نے عبداللہ بن عمرو بن العاص سے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی تھی رشوت دینے والے پر اور رشوت لینے والے پر۔

لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم الراشي و المرتشي ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو الفضل بن حميرويه الهروي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › And it is a chapter on seizing the forbidden money and includes the prohibition of stealing and blocking the road · Hadith 5501

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5502

5503 - أخبرنا أبو نصر ثنا أبو الفضل ثنا أحمد بن نجدة ثنا أحمد بن يونس ثنا أبو بكر عن ليث عن أبي الخطاب عن أبي زرعة عن ثوبان قال : لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم الراشي و المرتشي و الرائش ـ قال الذي يعمل بينهما ـ و إن هذا الفيء لا يحل منه خيط و لا مخيط لا آخذ و لا معطي و إن المختلعات هن المنافقات و ما من امرأة تسأل زوجها الطلاق من غير بأس فتجد ريح أو قال رائحة الجنة و رواه يحيى بن أبي زائدة عن ليث عن أبي الخطاب عن أبي قزعة عن أبي إدريس عن ثوبان رواه المعتمر بن سليمان عن ليث عن أبي إدريس عن ثوبان في الراشي و المرتشي و الرائش

ہمیں خبر دی ابو نصر نے ان کو ابو الفضل نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو ابو بکر نے ان کو لیث نے ان کو ابو الخطاب نے ان کو ابو زرعہ نے ان کو ثوبان وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے لعنت فرمائی تھی رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر اور رشوت دلوانے والے پر یعنی جو شخص دینے لینے والے کے درمیان کام کرتا ہے۔ اور بے شک یہ غنیمت کا مال ہے جس میں کچھ بھی حلال نہیں ہے نہ دھاگہ نہ سوئی (کے برابر کوئی شئی) نہ لینے والا نہ دینے والا اور بے شک طلاق مانگنے والیاں منافق ہیں۔ نہیں کوئی عورت جو اپنے شوہر سے طلاق مانگتی ہے بغیر پریشانی اور تکلیف کے یا غربت کے پس وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گی۔ اس کو یحییٰ بن ابو زائدہ نے روایت کیا ہے لیث سے اس نے ابو الخطاب سے اس نے ابو قزعہ سے اس نے ابو ادریس سے اس نے ثوبان سے اور اس کو روایت کیا ہے معتمر بن سلیمان نے اس نے لیث سے اس نے ابو ادریس سے اس نے ثوبان سے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے اور رشوت دلوانے والے کے بارے۔

ثَوْبَانَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← أَبِي الْخَطَّابِ ← لَيْثٌ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ ← أبو نصر

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › And it is a chapter on seizing the forbidden money and includes the prohibition of stealing and blocking the road · Hadith 5502

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5503

5504 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا عبيد بن شريك ثنا عبد الوهاب ثنا ابن عيينة عن عمار الدهني عن سالم بن أبي الجعد عن مسروق بن الجدع قال : سألت عبد الله عن السحت أهو في الحكم قال : { و من لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الكافرون } فقرأ الآيات كلها و لكن السحت أن يستعين الرجل برجل على مظلمة إمام فيهدي له قال : فاستعان رجل مسروقا على مظلمة ظلمها بعض عمال لابن زياد أو زياد فأعانه حتى استخرجها له فأهدى له جارية فردها و قال : لا طلب لك حاجة أبدا أخبرني ابن مسعود أن ذلك السحت

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو عبید بن شریک نے ان کو عبدالوہاب نے ان کو ابن عیینہ نے ان کو عمار دھنی نے ان کو سالم بن ابو الجعد نے ان کو مسروق بن اجدع نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبداللہ سے سحت کے بارے میں کیا وہ حکم اور فیصلہ کے بارے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ: ومن لم يحكم بما انزل اللّٰه فاولئك هم الكافرون۔ جو شخص اللہ کی کتاب کے ساتھ فیصلہ نہ کرے وہی لوگ کافر ہیں۔ انہوں نے یہ ساری آیات پڑھ دیں لیکن سحت وہ کوئی آدمی کسی آدمی کے ذریعے صاحب اقتدار کے ظلم و زیادتی کے خلاف مدد طلب کرے اور اس کو کوئی ھدیہ دے۔ فرمایا کہ ایک آدمی نے حضرت مسروق سے مدد طلب کی اس زیادتی کے خلاف جو ابن زیاد کے بعض گورنروں نے اس کے ساتھ زیادتی کی تھی۔ یا خود زیاد نے کی تھی مسروق نے اس کی مدد کر دی جس کی وجہ سے اس نے اسے چھوڑ دیا تھا۔لہذا اس آدمی نے ایک لونڈی مسروق کے لئے ھدیہ کی تو انہوں نے وہ واپس کر دی۔اور فرمایا کہ میں آئندہ تیری کوئی حاجت اس سے طلب نہیں کروں گا۔ مجھے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خبر دی تھی یہ حرام ہے۔ (سحت۔ رشوت۔ حرام کمائی۔ مال حرام کو کہتے ہیں۔ مترجم۔)

السحت أهو في الحكم ← سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ ← مسروق بن الجدع ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← عَمَّارِ الدُّهْنِيِّ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › And it is a chapter on seizing the forbidden money and includes the prohibition of stealing and blocking the road · Hadith 5503

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5504

5505 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي ثنا سعيد بن مسعود ثنا النضر بن شميل أنا شعبة ثنا عون بن أبي جحيفة قال : سمعت أبي أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لعن آكل الربا و مؤكله رواه البخاري في الصحيح عن أبي الوليد عن شعبة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن احمد محبوبی نے ان کو سعید بن مسعود نے ان کو نضر بن شمیل نے ان کو شعبہ نے ان کو عون بن ابو حنیفہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اپنے والد سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ نے لعنت فرمائی ہے سود کھانے والے کو اور کھلانے والے کو اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں ابو الولید سے اس نے شعبہ سے۔

أَبِي ← عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، ← شُعْبَةُ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › And it is a chapter on seizing the forbidden money and includes the prohibition of stealing and blocking the road · Hadith 5504

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5505

5506 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق أنا أبو المثنى ثنا محمد بن كثير ثنا هشيم قال : سمعت أبا الزبير المكي يحدث عن جابر بن عبد الله قال : لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم آكل الربا و مؤكله و شاهديه و كاتبه و قال : هم سواء رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن الصباح و غيره عن هشيم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحٰق نے ان کو ابو لمثنیٰ نے ان کو محمد بن کثیر نے ان کو ھثیم نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو الزبیر مکی سے وہ حدیث بیان کرتے تھے جابر بن عبداللہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی تھی سود کھانے والے پر اور کھلانے والے پر اور اس کے دونوں گواہوں پر اور سود کو لکھنے والے پر۔ اور فرمایا تھا کہ وہ سب برابر ہیں۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے محمد بن صباح سے اور دیگر نے ھثیم سے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ ← هُشَيْمٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو الْمُثَنَّى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › And it is a chapter on seizing the forbidden money and includes the prohibition of stealing and blocking the road · Hadith 5505

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5506

5507 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو جعفر بن مطر أنا أبو خليفة ثنا محمد بن كثير أنا سفيان عن الأعمش عن عبد الله بن مرة عن الحارث بن عبد الله أن عبد الله بن مسعود قال : لعن آكل الربا و مؤكله و كاتبه و شاهداه إذا علموا به و الواشمة و المستوشمة للحسن و لاوي الصدقة و المرتد أعرابيا بعد هجرنه ملعون على لسان محمد صلى الله عليه و سلم يوم القيامة

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو مقدم بن مطر نے ان کو ابو خلیفہ نے ان کو محمد بن کثیر نے ان کو سفیان نے ان کو اعمش نے ان کو عبداللہ بن مرہ نے حارث بن عبداللہ سے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا۔ (حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے) لعنت فرمائی تھی سود کھانے والے کھلانے والے سود کو لکھنے والے اس کی گواہی دینے والوں پر جب کہ وہ اس کو جانتے ہوں اور گودنے والی اور گود وانے والی پر (یعنی جو عورتیں جسم کو گود کر نیل بھرتی ہیں یا بھرواتی ہیں) خوبصورتی کے لئے۔ صدقہ اور زکوٰۃ روک لینے والا۔ ہجرت کرنے کے بعد دوبارہ واپس پھر جانے والا یہ سب ملعون ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر قیامت کے دن۔

الحارث بن عبد الله أن عبد الله بن مسعود ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ، ← أبو جعفر بن مطر ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › And it is a chapter on seizing the forbidden money and includes the prohibition of stealing and blocking the road · Hadith 5506

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5507

5508 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا الحسن بن محمد الزعفراني ثنا عفان ثنا عبد الواحد بن زياد ثنا مجالد عن الشعبي عن الحارث عن علي قال : لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم عشرة آكل الربا و مؤكله و شاهديه و كاتبه و الواشمة و المستوشمة و مانع الصدقة و الحال و المحلل له

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو حسن بن محمد زعفرانی نے ان کو عفان نے ان کو عبدالواحد بن زیاد نے ان کو مجاہد نے ان کو شعبی نے ان کو حارث نے ان کو علی نے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس قسم کے لوگوں کو لعنت کی تھی۔ سود کھانے والا کھلانے والا دو گواہی دینے والے اس کو لکھنے والا اور گودنے والی اور گودوانے والی صدقہ زکاۃ نہ دینے والا۔ حلالہ کرنے والا،اور جس کے لئے حلالہ کیا جائے۔

عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← عَفَّانُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › And it is a chapter on seizing the forbidden money and includes the prohibition of stealing and blocking the road · Hadith 5507

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5508

5509 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا يحيى بن جعفر ثنا عبد الوهاب هو ابن عطاء أنا عوف عن أبي رجاء عن سمرة قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : رأيت ليلة أسري بي رجلا في نهر يلقم الحجارة فسألت من هذا فقيل هذا آكل الربا

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو یحییٰ بن جعفر نے ان کو عبدالوہاب نے ان کو ابن عطا نے ان کو عوف بن ابورجاء نے ان کو سمرہ نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اس رات دیکھا جس رات میں مجھے سیر کرائی گئی تھی ایک آدمی کو جو ایک نہر میں تیر رہا تھا اور وہ پتھر کو لقمہ بنا رہا تھا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے کہا گیا کہ یہ سود خور ہے۔

سَمُرَةَ ← أَبِي رَجَاءٍ، ← عَوْفٌ، ← عبد الوهاب هو ابن عطاء ← يَحْيَی بْنُ جَعْفَرٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › And it is a chapter on seizing the forbidden money and includes the prohibition of stealing and blocking the road · Hadith 5508

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5509

5510 - أخبرنا أبو عمرو الأديب أنا أبو بكر الإسماعيلي أخبرني الحسن بن سفيان ثنا محمد بن أبو بكر المقدمي ثنا يحيى يعني ابن سعيد عن عوف ثنا أبو رجاء ثنا سمرة بن جندب : عن النبي صلى الله عليه و سلم في رؤياه قال : فأتينا على نهر أحسب أنه قال : أحمر مثل الدم فإذا في النهر رجل يسبح و إذا على الشط رجل قد جمع حجارة كثيرة و إذا ذلك السابح يسبح ثم يأتي ذلك الذي جمع الحجارة فيغفر له فاه فلقيه حجرا قال : فلينطق به فيسبح ما يسبح ثم يرجع إليه كلما رجع إليه فغرفاه فألقمه حجرا قلت : ما هذا قالا : انطلق فذكر الحديث ثم قال في التفسير : و أما الرجل الذي يسبح في النهر و يلقم الحجر فإنه آكل الربا أخرجه البخاري في الصحيح من حديث عوف

ہمیں خبر دی ابو عمرو ادیب نے ان کو ابو بکر اسماعیل نے ان کو خبر دی حسن بن سفیان نے ان کو محمد بن ابو بکر مقدمی نے ان کو یحییٰ نے ان کو ابن سعید نے ان کو عوف نے ان کو ابورجاء نے ان کو سمرہ بن جندب نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے خواب کے بارے میں آپ نے فرمایا۔ پھر ہم لوگ ایک نہر پر آئے میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا کہ وہ سرخ تھی خون کی مثل اچانک دیکھا تو اس میں ایک آدمی تیر رہا ہے اور نہر کے کنارے پر ایک آدمی کھڑا ہے جس نے بہت سارے پتھر جمع کر رکھے ہیں تیرنے والا تیرتا ہوا جب اس کے قریب آتا ہے جس نے پتھر جمع کر رکھے ہیں۔ تو اس کے سامنے منہ کھول لیتا ہے اور وہ پتھر اٹھا کر اس کے منہ میں مار دیتا ہے وہ پتھر لے کر تیرتا ہوا چلا جاتا ہے۔اور جتنا تیرنا چاہتا ہے تیر کر واپس اس کی طرف آتا ہے جب اس کے پاس آتا ہے تو منہ کھول لیتا ہے وہ پتھر اس کے منہ میں مارتا ہے میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ دونوں نے کہا کہ آپ چلئے۔ پھر آپ نے پوری حدیث ذکر کی اس کے بعد اس کی تشریح میں فرمایا کہ بہر حال جو شخص نہر میں تیرتا ہے اور پتھر کو لقمہ دیا گیا ہے وہ سود خور ہے۔ بخاری نے اس کو حدیث عوف سے نقل کیا ہے۔

فأتينا على نهر أحسب ← سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← أَبُو رَجَاءٍ، ← عَوْفٌ، ← يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ- ← محمد بن أبو بكر المقدمي ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › And it is a chapter on seizing the forbidden money and includes the prohibition of stealing and blocking the road · Hadith 5509

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في قبض اليد على الأموال المحرمة و يدخل فيه تحريم السرقة و قطع الطريق · حديث 5510

5511 - أخبرنا أبو محمد جناح بن نزير الكوفي بها أنا أبو جعفر بن دحيم ثنا أحمد بن حازم أنا أبو نعيم و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد ثنا تمتام ثنا أبو نعيم ثنا شريك عن الركين بن الربيع عن أبيه عن عبد الله رفعه قال : الربا و إن كثر فإن عاقبته يصير إلى قل

ہمیں خبر دی ابو محمد جناح بن نذیر کوفی نے کوفے میں اور ابو جعفر بن رحیم نے ان کو احمد بن حازم نے ان کو ابو نعیم نے ان کو شریک نے دکین بن ربیع سے ان کے والد سے اس نے عبداللہ سے اس نے اس کو مرفوع کیا ہے اس نے کہا کہ سود اگرچہ بہت زیادہ ہو اس کا انجام کمی کی طرف ہوتا ہے۔

الربا و إن كثر فإن عاقبته يصير إلى قل ← عَبْدِ اللَّهِ رَفَعَهُ ← أَبِيهِ ← الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← شَرِيکٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← تَمْتَامٌ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← أبو نعيم و ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ ← أبو محمد جناح بن نزير الكوفي بها

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › And it is a chapter on seizing the forbidden money and includes the prohibition of stealing and blocking the road · Hadith 5510

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood