شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1808
1808 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا عثمان بن أحمد السماك ثنا أبو حسين الحسن بن عمرو السبيعي المروزي قال : سمعت بشر بن الحارث : و جاوؤا إليه أصحاب الحديث يوما و أنا حاضر فقال لهم بشر ما هذا الذي أرى معكم قد أظهرتموه قالوا يا أبا نصر نطلب هذه العلوم لعل الله ينفع بها يوما فإن علمتم أنه يجب عليكم فيها زكاة كما يجب على أحدكم إذا ملك مائتي درهم خمسة دراهم فكذلك يجب على أحدكم إذا سمع مائتي حديث أن يعمل بخمسة أحاديث و إلا فانظروا أيش يكون هذا عليكم غدا قال البيهقي رحمه الله : و أصله أراد من الأحاديث التي وردت في الترغيب في النوافل و أما الواجبات فيجب العمل بجميعها
ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن بشران نے ان کو عثمان بن احمد سماک نے ان کو ابو حسین بن عمرو سبیعی مروزی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا بشر بن حارث سے ۔ جبکہ ان کے پاس ایک دن اصحاب حدیث آئے ہوئے تھے۔ اور میں بھی وہاں موجود تھا۔ چنانچہ بشر نے ان سے کہا یہ کیا چیز ہے جو میں تمہارے ساتھ دیکھتا ہوں جسے تم نے ظاہر کیا ہے ۔ ان لوگوں نے کہا اے ابو نصر ہم یہ علوم طلب کرتے ہیں ۔ شاید اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے کسی دن فائدہ دے فرمایا اگر تم لوگ یہ سمجھو کہ تمہارے اوپر اس میں زکوٰۃ ہے جیسے تمہارے ایک انسان پر اس وقت زکوٰۃ واجب ہوتی ہے جب وہ دو سو درہم کا مالک بن جاتا ہے تو پانچ دراہم بطور زکوٰۃ دینا لازم ہوتے ہیں تم لوگوں پر اسی طرح اس وقت یہ لازم ہوتا ہے جب تم میں سے کوئی شخص دو سواحادیث سن لیتا ہے کہ وہ ان میں سے پانچ احادیث پر ضرور عمل کرے وگرنہ نظر ڈالو کہ تمہارے اورپر کل کتنا بڑا بوجھ ہوگا۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ۔ اس فرمان کا اصل مطلب یہ ہے کہ ان کی مراد ان احادیث کے بارے میں تھی جو ترغیب کے بارے میں آئی ہیں نوافل کے سلسلے میں ہیں ۔ رہے واجبات تو ان میں سے تو تمام احادیث پر عمل لازمی ہے ۔
لهم بشر ما هذا الذي أرى معكم قد أظهرتموه ← حَاضِرٌ ← بشر بن الحارث و جاوؤا إليه أصحاب الحديث يوما و ← أبو حسين الحسن بن عمرو السبيعي المروزي ← عثمان بن أحمد السماك ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ
Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1808
