Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1808

1808 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا عثمان بن أحمد السماك ثنا أبو حسين الحسن بن عمرو السبيعي المروزي قال : سمعت بشر بن الحارث : و جاوؤا إليه أصحاب الحديث يوما و أنا حاضر فقال لهم بشر ما هذا الذي أرى معكم قد أظهرتموه قالوا يا أبا نصر نطلب هذه العلوم لعل الله ينفع بها يوما فإن علمتم أنه يجب عليكم فيها زكاة كما يجب على أحدكم إذا ملك مائتي درهم خمسة دراهم فكذلك يجب على أحدكم إذا سمع مائتي حديث أن يعمل بخمسة أحاديث و إلا فانظروا أيش يكون هذا عليكم غدا قال البيهقي رحمه الله : و أصله أراد من الأحاديث التي وردت في الترغيب في النوافل و أما الواجبات فيجب العمل بجميعها

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن بشران نے ان کو عثمان بن احمد سماک نے ان کو ابو حسین بن عمرو سبیعی مروزی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا بشر بن حارث سے ۔ جبکہ ان کے پاس ایک دن اصحاب حدیث آئے ہوئے تھے۔ اور میں بھی وہاں موجود تھا۔ چنانچہ بشر نے ان سے کہا یہ کیا چیز ہے جو میں تمہارے ساتھ دیکھتا ہوں جسے تم نے ظاہر کیا ہے ۔ ان لوگوں نے کہا اے ابو نصر ہم یہ علوم طلب کرتے ہیں ۔ شاید اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے کسی دن فائدہ دے فرمایا اگر تم لوگ یہ سمجھو کہ تمہارے اوپر اس میں زکوٰۃ ہے جیسے تمہارے ایک انسان پر اس وقت زکوٰۃ واجب ہوتی ہے جب وہ دو سو درہم کا مالک بن جاتا ہے تو پانچ دراہم بطور زکوٰۃ دینا لازم ہوتے ہیں تم لوگوں پر اسی طرح اس وقت یہ لازم ہوتا ہے جب تم میں سے کوئی شخص دو سواحادیث سن لیتا ہے کہ وہ ان میں سے پانچ احادیث پر ضرور عمل کرے وگرنہ نظر ڈالو کہ تمہارے اورپر کل کتنا بڑا بوجھ ہوگا۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ۔ اس فرمان کا اصل مطلب یہ ہے کہ ان کی مراد ان احادیث کے بارے میں تھی جو ترغیب کے بارے میں آئی ہیں نوافل کے سلسلے میں ہیں ۔ رہے واجبات تو ان میں سے تو تمام احادیث پر عمل لازمی ہے ۔

لهم بشر ما هذا الذي أرى معكم قد أظهرتموه ← حَاضِرٌ ← بشر بن الحارث و جاوؤا إليه أصحاب الحديث يوما و ← أبو حسين الحسن بن عمرو السبيعي المروزي ← عثمان بن أحمد السماك ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1808

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1809

1809 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا ثنا أبو العباس الأصم ثنا عبد الملك بن عبد الحميد الرقي ثنا روح ثنا هشام عن الحسن قال : قد كان الرجل يطلب العلم فلا يلبث أن يرى ذلك في تخشعه و هديه و لسانه و بصره و بره

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافط نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس اصم نے ان کو عبدالملک بن عبدالحمید رقی نے ان کو روح نے ان کو ہشام نے ان کو حسن نے وہ کہتے ہیں کہ ۔ ایک آدمی طالب علم ہوتا تھا (ہر وقت علم کی طلب میں لگا رہتا تھا) یہاں تک کہ یہ بات اس کی عاجزی سے اور اس کی عادت سے اور اس کی زبان سے اور اس کی نیکی سے واضح طور پر دیکھی جاتی تھی۔

الْحَسَنِ، ← هِشَامٍ ← رَوْحٌ، ← عبد الملك بن عبد الحميد الرقي ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1809

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1810

1810 - أخبرنا : أبو عبد الله الحافظ أخبرني إبراهيم بن عصمة بن إبراهيم ثنا أبي ثنا يحيى بن يحيى أنا سعير بن الخمس عن سليمان الأعمش قال : كان الرجل يسمع الحديث الواحد فيعرفه في عمله و قوله

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافط نے ان کو خبر دی ابراہیم بن عصمہ بن ابراہیم نے ان کو ان کے والد نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو سعید بن خمس نے ان کو سلیمان اعمش نے انہوں نے فرمایا ۔ ایک آدمی ایک حدیث سنتا تھا تو اس کے علم سے اس کی خوشبو آتی تھی۔

كان الرجل يسمع الحديث الواحد فيعرفه في عمله و قوله ← سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ← سُعَيْرُ بْنُ الْخِمْسِ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1810

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1811

1811 - أخبرنا الإمام أبو طاهر أنا محمد بن عمر بن حفص ثنا يزيد بن الهيثم أبو خالد ثنا إبراهيم بن نصير قال : قال الفضيل بن عياض : من أوتي علما لا يزداد فيه خوفا و حزنا و بكاء خليق بأن لا يكون أوتي علما ينفعه ثم قرأ { أفمن هذا الحديث تعجبون * وتضحكون ولا تبكون }

ہمیں خبر دی ہے امام ابو طاہر نے ان کو محمد بن عمر بن حفص نے ان کو یزید بن ھیثم ابو خالد نے ان کو ابراہیم بن نصیر نے وہ کہتے ہیں کہ فضیل بن عیاض نے کہا کہ جس شخص کو ایسا علم ملے کہ جس سے اس کے خوف خدا میں ار حزن و بکاء میں اضافہ نہ ہو وہ اسی قابل ہے کہ اس کوعلم غیر نافع ملے ۔ اس کے بعد انہوں نے یہ آیت پڑھی:۔ " افمن ھذا الحدیث تعجبون وتضحکون ولا تبکون"۔ کیا اس بات سے ( قرآن سے ) تعجب کرتے ہو اور تم اس پر ہنستے ہو روتے نہیں ہو۔

إبراهيم بن نصير ← يزيد بن الهيثم أبو خالد ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ، ← الْإِمَامُ أَبُو طَاهِرٍ

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1811

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1812

1812 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت أبا جعفر محمد بن أحمد بن سعيد الرازي يقول : سمعت أبا الفضل العباس بن حمزة يقول : سمعت ذا النون يقول : كان الرجل من أهل العلم يزداد بعلمه بغضا للدنيا و تركا لها و اليوم يزداد الرجل بعلمه للدنيا حبا ولها طلبا و كان الرجل ينفق ماله على علمه و اليوم يكسب الرجل بعلمه للدنيا حبا و لها طلبا كان يرى على صاحب العلم زيادة في باطنه و ظاهرة و اليوم ترى على كثير من أهل العلم فساد الباطن و الظاهر

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو جعفر محمد بن احمد بن سعید رازی سے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا ابوالفضل عباس بن حمزہ سے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا ذولنون مصری سے پہلے اہل میں سے کوئی آدمی ہوتا تھا تو اس کے علم کی وجہ سے دنیا سے اس کے بغض میں اضافہ ہو جاتا تھا اور ترک دنیا میں بھی اور آج ایسا دور ہے کہ انسان کی علم کی وجہ سے دنیا کی محبت اور دنیا کی طلب میں اضافہ ہو جاتا ہے پہلے تو صاھب علم کے ظاہر و باطن میں نکھار آجاتا تھا اور آج کل اکثر اہل علم میں ظاہر اور باطن کا فساد دیکھنے میں آتا ہے ۔

ذَا النُّونِ، ← أبا الفضل العباس بن حمزة ← أبا جعفر محمد بن أحمد بن سعيد الرازي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1812

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1813

1813 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو محمد الحسن بن محمد الأسفرائيني ثنا سعيد بن عثمان الحناط قال : سمعت ذا النون المصري يقول : صفة الحكيم ألا يطلب بحكمته المنزلة و الشرف فإذا أحب الحكيم الرئاسة زال حب الله من قلبه لما غلب عليه من حب ثناء المسلمين له فصار لا يلفظ بمسموع ينفع للذي غلب على قلبه من حب تبجيل الناس له

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافط نے ان کو ابو محمد حسن بن محمد اسفرئینی نے ان کو سعید بن عثمان حناط نے ۔ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ذولنون مصری سے کہتے تھے کہ ۔ حکیم اور دانا کی شان یہ ہے کہ وہ اپنی حکمت و دانائی کے ذریعے دنیاوی عزت و مقام طلب نہ کرے حکیم جب ریاست و سرداری کو پسند کرتا ہے تو اس کے دل سے اللہ کی محبت زائل ہو جاتی ہے ۔ اس لئے کہ اس پر اس بات کا غلبہ آجاتا ہے کہ مسلمان ابھی اس کی تعریف کریں ۔ لہذا اس کی کیفیت کچھ ایسی ہو جاتی ہے کہ وہ ایک بھی لفظ نہیں بولتا جس سے لوگوں کا نفع ہو کیونکہ اس کے دل پر لوگوں سے اپنی تعریف و تعظیم کی باتیں سننے کے جذبے کا غلبہ ہو جاتا ہے ۔

ذَا النُّونِ الْمِصْرِيَّ ← سعيد بن عثمان الحناط ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1813

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1814

1814 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت محمد بن أحمد الرفا يقول سمعت أبا بكر بن عثمان يقول : كتب أبو عثمان إلى محمد بن الفضل يسأله ما علامة الشقاوة فقال : ثلاثة أشياء أحدها : أن يرزق العمل و يحرم الإخلاص و الثاني : أن يبرز صحبة الصالحين و لا يحترم لهم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن احمد رفا نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو بکر بن عثمان سے وہ کہتے ہیں کہ ابو عثمان نے محمد بن فضل کو خط لکھا اور ان سے پوچھا کہ شقاوت کی اور بد بختی کی علامات کیا ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ تین چیزیں ہیں ایک تو یہ کہ اسے عمل کی توفیق تو میسر ہو جائے عمل خوب کرے مگر اخلاص سے محروم ہو دوسری یہ کہ صالحین کی صحبت تو ظاہر کرے یعنی بظاہر نیکوں میں نشست و برخاست رکھے مگر ان کا احترام نہ کرے ۔

أبو عثمان إلى محمد بن الفضل يسأله ما علامة الشقاوة ← أبا بكر بن عثمان ← محمد بن أحمد الرفا ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1814

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1815

1815 - سمعت أبا عبد الرحمن يقول سمعت عبد الله بن المطلب سمعت عبد الله بن محمد بن عبيد التميمي يقول : ثلاثة مفقودة و ثلاثة موجودة العلم موجود و العمل مفقود و العمل موجود و الإخلاص فيه مفقود و الحب موجود و الصدق فيه مفقود

میں نے سنا ہے ابو عبدالرحمٰن سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبداللہ بن عبدالمطلب سے انہوں نے سنا عبداللہ بن محمد بن عبید تمیمی سے وہ کہتے ہیں ( اس دور میں ) تین چیزیں غایب ہیں اور تین چیزیں موجود ہیں۔ علم موجود ہے اور علم پر عمل مفقود ہے ۔ عمل موجود ہے اور اس میں اخلاص مفقود ہے ۔ محبت موجود ہے اور اس میں سچائی مفقود ہے ۔

عبد الله بن محمد بن عبيد التميمي ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُطَّلِبِ ← أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1815

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1816

1816 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي ثنا العباس بن يوسف الشكلي قال : سمعت يحيى بن الحسن القريشي يقول : أربعة أشياء في الناس عزيزة : عالم يستعمل لعلمه و حكيم ينطق من قلبه و زاهد ليس له طمع و عائذ ليس له علاقة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافط نے ان کو ابو سعید احمد بن یعقوب ثقفی نے ان کو عباس بن یوسف شکلی نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا یحییٰ بن حسین قریشی سے وہ کہتے ہیں چار چیزیں لوگوں میں کم یاب ہیں یعنی تقریباً مفقود ہیں۔ عالم جو اپنے علم کو استعمال کرے حکیم جو اپنے دل سے بولے اور تارک الدنیا زاہد جسے طمع نہ ہو اور پناہ لینے والا جس کا کوئی تعلق نہ ہو۔

يحيى بن الحسن القريشي ← العباس بن يوسف الشكلي ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1816

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1817

1817 - سمعت محمد بن الحسين بن محمد يقول سمعت محمد بن عبد الله يقول : سمعت محمد بن الفضل يقول : ذهاب الإسلام من أربعة أوله لا يعملون بما يعلمون و الثاني : يعملون بما لا يعلمون و الثالث : يتعلمون ما لا يعلمون و الرابع : يمنعون الناس من التعليم

میں نے سنا محمد بن حسین بن محمد سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن عبداللہ سے وہ کہتے ہیں ۔ میں نے سنا محمد بن فضل سے وہ کہتے ہیں کہ :۔ اسلام کا مٹنا چار چیزوں سے ہے ۔ پہلی بات لوگ اپنے علم کے مطابق عمل کریں گے ۔ دوسری بات جو بات نہ جانتے ہوں گے اس پر عمل کریں گے ( یعنی بغیر علم و مسئلہ کے) تیسری وہ چیزیں سیکھیں گے جو نہیں چاہییں گے ۔ چوتی بات لوگوں کو تعلیم سے روکیں گے۔

مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ،

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1817

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1818

1818 - سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول : سمعت أبا بكر محمد بن محمد بن شاذان يقول : سمعت محمد بن يعقوب الترمذي قال : سمعت أبا بكر الوراق يقول : الناس ثلاثة العلماء و الأمراء و الفقراء فإذا فسد الأمراء فسد المعاش و إذا فسد العلماء فسدت الطاعات و إذا فسدت الفقراء فسدت الأخلاق

میں نے سنا ابو عبدالرحمٰن سلمی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو بکر بن محمدن شاذان سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا محمد بن یعقوب ترمذی سے انہوں نے کہا میں نے سنا ابوبکر وراق سے وہ کہتے تھے لوگ تین طرح کے ہیں ۔ علماء ، امرآء اور فقرآء۔ جب امراء میں فساد اور خرابی آجائے تو معاش اور اجتماعی زندگی میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے اور علماء میں فساد اور خرابی پیدا ہو جائے تو طاعت و عبادات کے نظام میں فساد آ جاتا ہے اور جب فقراء میں فساد آجائے تو اخلاق و عادات میں فساد آجاتا ہے ۔

أَبَا بَكْرٍ الْوَرَّاقَ، ← محمد بن يعقوب الترمذي ← أبا بكر محمد بن محمد بن شاذان ← أبا عبد الرحمن السلمي

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1818

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1819

1819 - أخبرنا محمد بن محمد بن محمش أنا أبو بكر الفحام ثنا محمد بن يحيى ثنا محمد بن يوسف عن سفيان قال : قال عمر بن عبد العزيز : من لم يعد كلامه من عمله كثرت خطاياه و من عمل بغير علم كان ما يفسد أكثر مما يصلح

ہمیں خبر دی ہے محمد بن محمد بن محمش نے ان کو ابوبکر فحام نے ان کو محمد بن یحییٰ نے ان کو محمد بن یوسف نے سفیان سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا۔ جو شخص اپنے کلام کو اپنے عمل میں نہ گردانے اس کے گناہ زیادہ ہو جاتے ہیں اور جو شخص علم کے بغیر عمل کرے وہ اصلاح کم اور فساد زیادہ کرے گا۔

سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أبو بكر الفحام، ← محمد بن محمد بن محمش

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1819

chevron_left Previous
1…678…17
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood