شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في نشر العلم و ألا يمنعه أهله و إذا حضر العالم · حديث 1760
1760 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني علي بن محمد المروزي أخبرني أبو علي السامي حدثني أحمد بن يونس قال : سمعت السري بن المغلس العابد يقول : إن لله عبادا قطع الأسباب من قلوبهم و ولي سياستهم و تقويمهم فاستقاموا بتوفيق الله عز و جل و لم يتخذوا من دونه وليا مرشدا و صرف آخرين أمرهم بقيام في الأسباب فطلبوا العلم و اقتبسوه فكانوا بمنزلة السراج على قارعة الطريق تستضيء الناس و لا ينقص
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے علی بن محمد مروزی نے ان کو خبر دی ابو علی سامی نے ان کو حدیث بیان کی ہے احمد بن یونس نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا سری بن مغلس عابد سے وہ کہتے تھے بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے ہیں کہ جن کے دلوں سے اسباب کی حیثیت ختم ہو چکی ہے ۔ اور ان کے سیاست کے والی ہونے کی اور ان کے درست کرنے کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ وہ محض اللہ کی عطاء کردہ توفیق کے ساتھ سیدھے اور درست چلتے ہیں۔ اللہ کے سوا انہوں نے کوئی اپنا دوست بنایا ہے اور نہ ہی کوئی مرشد اور رہنما بنایا ہے بالآخر انہوں نے اپنا معاملہ اسباب کے قائم کرنے پر دیا ہے چنانچہ انہوں نے علم کو طلب کیا ہے اور اسی کا اقتباس کیا ہے لہذا وہ لوگ بمنزلہ اس چراغ کے ہو گئے جو راستے کے بیچ میں ہوں جس سے لوگ روشنی حاصل کر رہے ہیں۔ لیکن اس کی روشنی کم نہیں ہوتی۔
السري بن المغلس العابد ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← أبو علي السامي ← علي بن محمد المروزي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Hadith 1760
