Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في نشر العلم و ألا يمنعه أهله و إذا حضر العالم · حديث 1760

1760 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني علي بن محمد المروزي أخبرني أبو علي السامي حدثني أحمد بن يونس قال : سمعت السري بن المغلس العابد يقول : إن لله عبادا قطع الأسباب من قلوبهم و ولي سياستهم و تقويمهم فاستقاموا بتوفيق الله عز و جل و لم يتخذوا من دونه وليا مرشدا و صرف آخرين أمرهم بقيام في الأسباب فطلبوا العلم و اقتبسوه فكانوا بمنزلة السراج على قارعة الطريق تستضيء الناس و لا ينقص

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے علی بن محمد مروزی نے ان کو خبر دی ابو علی سامی نے ان کو حدیث بیان کی ہے احمد بن یونس نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا سری بن مغلس عابد سے وہ کہتے تھے بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے ہیں کہ جن کے دلوں سے اسباب کی حیثیت ختم ہو چکی ہے ۔ اور ان کے سیاست کے والی ہونے کی اور ان کے درست کرنے کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ وہ محض اللہ کی عطاء کردہ توفیق کے ساتھ سیدھے اور درست چلتے ہیں۔ اللہ کے سوا انہوں نے کوئی اپنا دوست بنایا ہے اور نہ ہی کوئی مرشد اور رہنما بنایا ہے بالآخر انہوں نے اپنا معاملہ اسباب کے قائم کرنے پر دیا ہے چنانچہ انہوں نے علم کو طلب کیا ہے اور اسی کا اقتباس کیا ہے لہذا وہ لوگ بمنزلہ اس چراغ کے ہو گئے جو راستے کے بیچ میں ہوں جس سے لوگ روشنی حاصل کر رہے ہیں۔ لیکن اس کی روشنی کم نہیں ہوتی۔

السري بن المغلس العابد ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← أبو علي السامي ← علي بن محمد المروزي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1760

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في نشر العلم و ألا يمنعه أهله و إذا حضر العالم · حديث 1761

1761 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السماك ثنا فتح بن سحنون العابد حدثني عباس بن يزيد ثنا حباب بن موسى قال : عوتب ابن المبارك فيما يفرق المال في البلدان و لا يفعل في أهل بلده فقال : إني لأعرف مكان لهم فضل و صدق و طلبوا الحديث فأحسنوا الطلب للحديث حاجة الناس إليهم شديدة و قد احتاجوا فإن تركناهم ضاع علمهم و إن أغنيناهم بثوا العلم لأمة محمد صلى الله عليه و سلم فلا أعلم بعد النبوة درجة أفضل من بث العلم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عمر و عثمان بن احمد بن سماک نے ان کو فتح بن سحنون عابد نے ان کو عباس بن یزید نے ان کو حباب بن موسیٰ نے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مبارک کو سرزنش اس بارے میں کی گئی تھی کہ وہ اپنا مال شہروں میں تقسیم کراتے تھے اور اپنے شہر والوں میں تقسیم نہیں کرتے تھے انہوں نے فرمایا کہ میں جہاں خرچ کرتا ہوں میں جانتا ہوں کہ وہ زیادہ ضرورت مند ہیں اور وہ حدیث طلب کرتے ہیں اور طلب حدیث کو اچھے طریقے سے کرتے ہیں ۔ لوگوں کو اس مال کی حاجت شدید ہوتی ہے ۔ وہ محتاج ہیں اگر کوئی بھی ان کی سر پرستی نہیں کریں گے تو ان کا علم ضائع ہو جائے گا بے شک ان کے اغنیا ء نے امت محمدیہ کے لیے علم کو پھیلا دیا ہے ۔ میں نبوت کے بعد علم پھیلانے سے کسی شے کا افضل درجہ نہیں جانتا۔

حباب بن موسى ← عَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ ← فتح بن سحنون العابد ← أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1761

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في نشر العلم و ألا يمنعه أهله و إذا حضر العالم · حديث 1762

1762 - أخبرنا أبو عبد الله أنا جعفر بن محمد قال : سمعت أبا محمد الجريري يقول : سمعت سهلا يقول : شكر العلم التعليم و شكر العمل مزيد المعرفة

ہمیں خبر دی ہے عبداللہ نے ان کو جعفر بن محمد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو محمد جریر سے وہ کہتے تھے کہ میں نے سنا سہل سےوہ کہتے تھے ۔ علم کا شکر تعلیم ہے اور عمل کا شکر معرفت کی زیادتی ہے ۔

شكر العلم التعليم و شكر العمل مزيد المعرفة ← سهلا ← أبا محمد الجريري ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← أَبُو عَبْد اللَّهِ

Hadith 1762

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في نشر العلم و ألا يمنعه أهله و إذا حضر العالم · حديث 1763

1763 - حدثنا أبو الحسن محمد بن ظفر بن محمد العلوي أنا أبو الحسن علي بن عمرو بن سهل البغدادي ثنا عبد الغافر بن سلامة الحمصي ثنا أبو حميد ثنا أبو حيوه حدثني أبو سبأ عتبة بن تميم التنوخي عن أبي عمير الصوري قال : كلمة لك من أخيك خير لك من مال يعطيك لأن الكلمة تنجيك و المال يطغيك و قد روى لي هذا المعنى بما

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو الحسن محمد بن ظفر بن محمد علوی نے آپ کو ابو الحسن علی بن سہل بغدادی نے ان کو عبدالغافر بن سلماہ حمصی نے ابو حمید نے ان کو ابوحیون نے ان کو ابو ساء عتبہ بن تمیم تنوخی نے ان کو ابو عبید صوری نے انہوں نے کہا تیرے لئے تیرے بھائی کی طرف خیر کا کلمہ اس مال سے بہتر ہے جو وہ تجھے عطاء کرے کیونکہ ایک کلمہ تجھے نجات دلا سکتا ہے اور مال تجھے گمراہ کر سکتا ہے ۔ اور میرے لئے یہی مفہوم آنے والی روایت سے مروی ہے ۔

أبي عمير الصوري ← أبو سبأ عتبة بن تميم التنوخي ← أَبُو حَيْوَةَ ← أَبُو حُمَيْدٍ: ← عَبْدُ الْغَافِرِ بْنُ سَلَامَةَ الْحِمْصِيُّ ← أبو الحسن علي بن عمرو بن سهل البغدادي ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ ظُفُرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَلَوِىُّ

Hadith 1763

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في نشر العلم و ألا يمنعه أهله و إذا حضر العالم · حديث 1764

1764 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا محمد بن عبد الله بن حميرويه الهروي أنا أحمد بن نجده ثنا سعيد بن منصور ثنا إسماعيل بن عياش عن عمارة بن عزيه عن عبد الله بن أبي جعفر عن عبد الله بن عمرو بن العاص : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما أهدى المرء المسلم لأخيه هدية أفضل من كلمة حكمة يزيده الله بها هدى أو يرده بها عن ردى تابعه يحيى بن يحيى عن إسماعيل بن عياش و في إسناد هذا الحديث إرسال بين عبيد الله و عبد الله

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو محمد بن عبداللہ بن حمیرویہ ھروی نے۔ ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو اسماعیل بن عیاش نے ان کو عمارہ بن عزیہ نے ان کو عبداللہ بن ابو جعفر نے ان کو عبداللہ بن عمرو بن عاص نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایک مسلمان کوئی خیر اپنے دوسرے مسلمان بھائی کے لئے نہیں ہدیہ کرتا ہے جو حکمت و دانائی کے کلمے سے بہتر و افضل ہو۔ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہدایت کو زیادہ کرتے ہیں اس کے ذریعے اس سے کسی نقصان دہ کو دور کرتے ہیں۔یحییٰ بن یحییٰ نے اس کے متابع کو بیان کیا ہے ۔ اسماعیل بن عیاش سے اور اس حدیث کی اسناد میں عبید اللہ اور عبداللہ کے درمیان ارسال ہے روایت مرسل ہے۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← عمارة بن عزيه ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← محمد بن عبد الله بن حميرويه الهروي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Hadith 1764

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في نشر العلم و ألا يمنعه أهله و إذا حضر العالم · حديث 1765

1765 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس الأصم ثنا الحسن بن مكرم ثنا يزيد بن هارون ثنا جرير ثنا سلمان بن مسهر قال : سمعت كثير بن مرة الخضرمي يقول : لا تحدث بالحكمة عند السفهاء فيكذبوك و لا تحدث بالباطل عند الحكماء فيمقتوك و لا تمنع العلم أهله فتأثم و لا تحدث به غير أهله فتجهل إن عليك في علمك حقا إن عليك في مالك حقا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو حسن بن مکرم نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو جریر نے ان کو سلیمان بن مسھر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا کثیر بن مرہ حضرمی سے وہ کہتے ہیں ۔آپ حکمت و دانائی کی باتیں بیوقوفوں کے سامنے نہ کیا کریں اس لئے کہ وہ ایک جھوٹا سمجھیں گے ۔اور جھوٹی باتیں حکماء کے سامنے نہ کریں اس لئے کہ وہ تم پر سخت ناراض ہوں گے ۔ اور علم کے مستحق علم کو نہ روکئے آپ گنہگار ہو جائیں گے ۔ اور نااہل کے آگے علم کو بیان نہ کیجئے ورنہ آپ خود جاہل بن جائیں گے ۔ بے شک تیرے اوپر تیرے علم کے بارے میں حق ہے ، بے شک تیرے اوپر تیرے مال میں بھی حق ہے۔

كثير بن مرة الخضرمي ← سلمان بن مسهر ← جَرِيرٌ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1765

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في نشر العلم و ألا يمنعه أهله و إذا حضر العالم · حديث 1766

1766 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا محمد بن عبد الله بن محمد بن صبيح الحميري ثنا عبد الله بن محمد المديني ثنا إسحاق الحنظلي ثنا بقية عن الوليد بن كامل البجلي عن نصر بن علقمة عن عبد الرحمن بن عائذ عن المقدام بن معدي كرب : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا حدثتم الناس عن ربهم فلا تحدثوهم بما يغرب عليهم و يشق عليهم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو محمد بن عبداللہ بن محمد بن صحیح خمیری نے ان کو عبداللہ بن محمد مدینی نے ان کو اسحاق حنظلی نے ان کو بقیہ نے ولید بن کامل بجلی سے ان کو نصر بن علقمہ نے عبدالرحمٰن بن عائد سے مقدام بن معدیکرب سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم لوگوں کو کچھ بیان کرنے لگے تو ان کو ایسی بات بیان کرو جو غائب ہو اور ان پر مشقت ہون۔

ربهم فلا تحدثوهم بما يغرب عليهم و يشق عليهم ← "إِذا حدّثْتُمُ النّاسَ ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ ← نَصْرِ بْنِ عَلْقَمَةَ، ← الوليد بن كامل البجلي ← بَقِيَّةُ ← إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ ← عبد الله بن محمد المديني ← محمد بن عبد الله بن محمد بن صبيح الحميري ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 1766

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في نشر العلم و ألا يمنعه أهله و إذا حضر العالم · حديث 1767

1767 - أنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أبو بكر أحمد بن عاصم النبيل قاضي أصبهان ثنا الحوطي عبد الوهاب بن نجده ثنا سويد بن عبد العزيز عن نوح بن ذكوان عن أخيه عن الحسن عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هل تدرون من أجود جودا ؟ قالوا الله و رسوله أعلم قال : الله أجود و جودا ثم أنا أجود بني آدم و أجود من بعدي رجل علم علما فنشره يأتي يوم القيامة أميرا وحده قال : أمة وحده

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو سعید بن ابو عمر و نے دونوں نے کہا ان کو خبر دی عباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابوبکر احمد بن عاصم نبیل قاضی اصفہانی نے ان کو بیان کیا حوظی عبدالوہاب بن نجدہ نے ان کو سوید بن عبدالعزیز نے نوح بن ذکوان سے ان کو ان کے بھائی نے حسن سے انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے وہ فرماتے ہیں کہ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ کیا تم جانتے ہو کہ سخاوت کے اعتبار سے کون سب سے زیادہ سخی ہے ۔ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہتر جانتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سخاوت کے اعتبار سے سب سے زیادہ سخی اللہ تعالیٰ ہے ۔ پھر میں بنی آدم میں سب سے زیادہ سخی ہوں اور میرے بندوں میں زیادہ سخی وہ شخص ہوگا جو علم سیکھے گا پھر اس کو پھیلائے گا قیامت کے دن آئے گا کہ وہ اکیلا امیر ہو گا فرمایا۔ وہ اکیلا ایک امت یعنی ایک جماعت ہوگا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← أَخِيهِ ← نوح بن ذكوان ← سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← الْحَوْطِيُّ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو بكر أحمد بن عاصم النبيل قاضي أصبهان ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو

Hadith 1767

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في نشر العلم و ألا يمنعه أهله و إذا حضر العالم · حديث 1768

1768 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا إسماعيل بن الفضل البلخي ثنا محمد بن مصفا ثنا بقية ثنا الزبيدي عن الزهري عن السائب بن يزيد : أنه لم يكن يقص على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم و لا على عهد أبي بكر و كان أول من قص تميم الداري فاستأذن عمر أن يقص على الناس قائما فأذن له عمر رضي الله عنه و قد ذكرنا في كيفية نشر العلم و فضلة بعض ما جاء فيهما من الآثار في كتاب المدخل من أراد ذلك رجع إليه إن شاء الله

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمدبن عبید نے ان کو اسماعیل بن فضل بلخی نے ان کو محمد بن مصفا نے ان کو بقیہ نے ان کو زبیری نے زہری سے اس نے سائب بن یزید سے کہ انہوں نے عہد رسول عہد بدر میں کوئی قصہ بیان نہیں کیا تھا اور وہ بیمار تھے جنہوں نے تمیم داری سے قصہ بیان کیا انہوں نے حضرت عمر سے اجازت طلب کی کہ وہ لوگوں کے سامنے قصہ بیان کریں۔ حضرت عمر نے ان کو اجازت دی ۔ اور ہم نے علم نشر کرنے کی کیفیت اور اس کی فضیلت میں وہ حدیثیں بیان کی ہیں جو اسی بارے میں آثار آئے ہیں کتاب المدخل میں جو شخص اس کا ارادہ کرے اس کی طرف رجوع کرے۔

الزُّهْرِيِّ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← بَقِيَّةُ ← محمد بن مصفا ← إسماعيل بن الفضل البلخي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 1768

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1769

1769 - عن أبي هريرة رضي الله عنه أنه قال : لولا آية في كتاب الله لما حدثتكم ثم قرأ : { و إذ أخذ الله ميثاق الذين أوتوا الكتاب لتبيننه للناس و لا تكتمونه } و يريد المتعلم عبادة الله عز و جل فطلب علم الدين ليوصل بما يتعلمه إلا العمل بما يرضى الله عنه و أن يكثر العلماء فيكون ذلك أحوط للعلم و أحرى لبقائه إن انقرض أحدهم و بالله التوفيق

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ اگر قرآن میں یہ آیت نہ اتری ہوتی تو میں تمہیں حدیث بیان نہ کرتا اس کے بعد انہوں نے یہ آیت پڑھی:۔ " واذا خذاللہ میثاق الذین او توالکتا لتبیننہ للناس ولا تکتمونۃ"۔ (یاد کرو اس وقت کو) جب اللہ ٰ نے ان لوگوں سے پکا عہد لیا تھا جو کتاب دئیے گئے ہیں کہ تم اس کو لوگوں کے لئے ضرور بیان کرو گے اور اسے بالکل نہیں چھپاؤ گے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ

Hadith 1769

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1770

1770 - و قد أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس السياري و أبو محمد بن حكيم قالا : ثنا أبو الموجه ثنا سعيد بن منصور المكي ثنا فليح عن أبي طوالة عن سعيد بن يسار عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من تعلم علما يبتغي به وجه الله تعالى لا يتعلمه إلا ليصب به عرضا من الدنيا لم يجد عرف الجنة قال فليح : عرفها ريحها

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس سیاری نے اور ابو محمد بن حکم نے دونوں نے کہا ان کو حدیث بیان کی ہے ابو الموجہ نے ان کو سعید بن منصور مکی نے ان کو فلیح نے ان کو ابو طوارلہ نے ان کو سعید بن یسار نے ان کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے علم حاصل کرتا جاتا ہے اس سے دینوی اسباب و مال یا جاہ کے لئے طلب کرتا ہے وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا ۔ فلیح نے کہا عرفھا سے مراد اس کی خوشبو ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، ← أَبِي طُوَالَةَ ← فُلَيْحٌ، ← سعيد بن منصور المكي ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← أبو العباس السياري و أبو محمد بن حكيم ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و قد

Hadith 1770

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1771

1771 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الحسين محمد بن أحمد بن تميم القنطري ثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السلمي ثنا سعيد بن أبي مريم ثنا يحيى بن أيوب عن ابن جريج عن أبي الزبير عن جابر بن عبد الله : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا تعلموا العلموا لتباهوا به العلماء أو تماروا به السفهاء و لا لتحيزوا به المجالس فمن فعل ذلك فالنار النار

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابولحسین محمد بن تمیم قنطری نے ان کو ابو اسماعیل محمد بن اسماعیل سلمی ان کو سعید بن ابو مریم نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے ابن جریج سے اس نے ابوزیبر سے اس نے جابر بن عبداللہ سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا علم اس لئے حاصل کرو کہ تم اس کے ذریعے علماء پر فخر کرو ( انہیں حقیر دیکھو) یا بے وقوفوں کے آگے بڑ مارو ان پر رعب جھاڑو اور اس لئے بھی نہیں کہ اس کے ذریعے تم مجالس میں اور محافل کی زینت بنو جس نےایسا کیا ب آگ ہے اس کے لئے آگ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السلمي ← أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1771

chevron_left Previous
1234…17
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood