Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في نشر العلم و ألا يمنعه أهله و إذا حضر العالم · حديث 1748

1748 - و روينا عن عبد الله بن عمرو : عن النبي صلى الله عليه و سلم و كل ذلك مذكور في كتاب المدخل

ہم نے روایت کیا ہے عبداللہ بن عمرو اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اور یہ سب بطریق مذکور میں کتاب المدخل میں۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← و روينا

Hadith 1748

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في نشر العلم و ألا يمنعه أهله و إذا حضر العالم · حديث 1749

1749 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ ثنا إبراهيم بن إسباط ثنا منصور بن أبي مزاحم ثنا إسماعيل بن عياش عن حميد بن أبي سويد عن عطاء بن أبي رباح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : علموا و لا تعنفوا فإن المعلم خير من المعنف تفرد به حميد هذا و هو منكر الحديث

ہمیں خبر دی ہے ابو سعید مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی حافظ نے ان کو ابراہیم بن اسباط نے ان کو منصور بن مزاحم نے ان کو اسماعیل بن عیاش نے ان کو حمید بن او سوید نے عطاء بن ابی رباح نے ان کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا علم سکھلاؤ اور شدت نہ کرو بے شک معلم بہتر شدت کرنے والے سے۔ دوسری تعبیر یہ ہے علم سکھلاؤ اور مغرور نہ بنو بے شک معلم مغرور سے بہتر ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← حُمَيْدُ بْنُ أَبِي سُوَيْدٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَسْبَاطٍ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Hadith 1749

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في نشر العلم و ألا يمنعه أهله و إذا حضر العالم · حديث 1750

1750 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا الحسن بن محمد الزعفراني ثنا إسماعيل بن علية عن أيوب عن مجاهد قال : قال علي رضي الله عنه لما نزلت { فتول عنهم فما أنت بملوم } أحزننا ذلك و قلنا أمر رسول الله أن يتول عنا فنزلت { و ذكر فإن الذكرى تنفع المؤمنين }

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو حسن بن محمد زعفرانی ان کو اسماعیل بن علیہ نے ان کو ایوب نے ان کو مجاہد نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب آیت نازل ہوئی " تفول عنھم فما أنت بملوم" ۔ پس منہ پھیر لے تو ان سے اعراض کر لے پس آپ کے اوپر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ اس آیت میں ہمیں بڑا غمگین اور فکر مند کر دیا اور ہم نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم مل گیا ہے آپ ہم سے منہ پھیر لیں اور ہم سے اعراض برتیں۔ چنانچہ اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی۔"وذکر فان الذکری تنفع المؤمنین"۔ آپ نصیحت کیجئے بے شک نصیحت فائدہ دے گی مؤمنوں کو۔

مُجَاهِدٍ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 1750

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في نشر العلم و ألا يمنعه أهله و إذا حضر العالم · حديث 1751

1751 - أخبرنا أبو حازم عثمان بن أحمد الحافظ قال : سمعت أبا الفضل أحمد بن إسماعيل بن يحيى الأزدي يقول : سمعت محمد بن أحمد بن زهير ثنا محمد بن إسماعيل البخاري ثنا علي بن عبد الله ثنا أيوب بن المتوكل قال : كان الخليل بن أحمد إذا استفاد من أحد شيئا أراه أن استفاد منه و إذا أفاد إنسانا شيئا لم يره بأن أفاده شيئا

ہمیں خبر دی ہے ابو حازم عثمان بن احمد حافظ نے انہوں نے سنا ابوالفضل احمد بن اسماعیل بن یحییٰ ازدی انہوں نے سنا محمد بن احمد بن زہیر سے انہوں نے محمد بن اسماعیل بخاری نے ان کو علی بن عبداللہ نے ان کو ایوب بن متوکل نے انہوں نے کہا کہ خلیل بن احمد جب کسی شخص سے کسی کا فائدہ طلب کرتے یا حاصل کرتے تو اس کا تذکرہ کرتے اور کسی انسان کو فائدہ پہنچاتے تو اس کا تذکرہ نہیں کرتے تھے کہ میں نے ان کو فائدہ دیا۔

أيوب بن المتوكل ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ، ← أبا الفضل أحمد بن إسماعيل بن يحيى الأزدي ← أبو حازم عثمان بن أحمد الحافظ

Hadith 1751

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في نشر العلم و ألا يمنعه أهله و إذا حضر العالم · حديث 1752

1752 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أحمد بن الفضل الأديب بهمدان يقول ثنا الصولي أنا أبو العباس قال : ثنا أبو عثمان المازني ثنا أبو الحسين الأخفش عن الخليل بن أحمد أنه قال : إنما كنت ألقى من الناس أربع رجال رجلا أعلم مني فهو يوم فائدتي أو رجلا مثلي فهو يوم مذاكرتي أو رجلا متعلما مني فهو يوم ثوابي و أجري أو رجلا دوني فيذكر أنه فوقي فذلك الذي لا أنظر إليه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن فضل ادیب نے ہمدان میں ان کو صولی نے ان کو ابوالعباس نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو حدیث بیان کی ابو عثمان مازنی سے ان کو ابو الحسن اخفش نے خلیل بن احمد سے انہوں نے کہا کہ میں کئی طرح کے لوگوں سے ملتا ہوں: (1)۔۔۔ وہ آدمی جو مجھ سے زیادہ علم رکھتا ہو کہ وہ مجھے فائدہ دے گا۔ (2) ۔۔۔ وہ آدمی جو میری مثل ہو وہ مجھ سے مذاکرہ کرے گا۔ (3)۔۔۔ وہ آدمی جو متعلم ہو یعنی مجھ سے کچھ سیکھے وہ میرے اجرو ثواب میں اضافے کا باعث بنے گا۔ (4)۔۔۔ وہ انسان جو مجھ سے دور ہے یا وہ یہ سوچتا ہے وہ مجھ سے اونچا ہے میں ایسے انسان کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔

الْخَلِيلِ بْنِ أَحْمَدَ أَنَّهُ ← أبو الحسين الأخفش ← أَبُو عُثْمَانَ الْمَازِنِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← الصولي ← أحمد بن الفضل الأديب بهمدان ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1752

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في نشر العلم و ألا يمنعه أهله و إذا حضر العالم · حديث 1753

1753 - أخبرنا أبو حازم الحافظ أنا أبو عمرو بن مطر ثنا محمد بن المنذر الهروي قال : حدثني محمود بن محمد الحلبي ثنا أبو صالح الفراء ثنا ابن المبارك عن يعقوب بن عطاء قال : كان رجل يحدث أبي بحديث كان أبي أحفظ لذلك الحديث من الرجل فجعل أبي يصغي إليه فقلت يا لرجل إن أبي يحفظ هذا الحديث قال : فصاح أبي فقال مه يا بني فلما قام الرجل قال لي أبي بني تنغض أباك إلى جليسه لقد سمعت هذا الحديث قبل أن يولد أبوه و لقد كان يحدث أخاه بالحديث و الذي يحدث بالحديث احفظ من الذي يحدثه فما يزيده على أن يقول أحسبه أراد أن يسره

ہمیں خبر دی ہے ابو حازم حافظ ابو عمر بن مطر نے ان کو محمد بن منذر ہروی نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو حدیث بیان کی محمود بن محمد حلبی نے ان کو ابو صالح فراء نے ان کو ابن مبارک نے یعقوب بن عطاء سے وہ کہتے ہیں ایک آدمی میرے والد اس کی طرف کان لگائے ہوئے بڑی توجہ سے سن رہے تھے میں نے اس آدمی سے کہا کہ میرے والد کو یہ حدیث اچھی طرح یاد ہے ۔ کہتے ہیں کہ میرے والد نے چیخ کر مجھ سے کہا کہ تم ٹھہر جاؤ بیٹا جب وہ آدمی اٹھ کر چلا گیا تو میرے والد نے مجھ سے کہا اے بیٹے تم نے اپنے باپ کو اس ہم نشین کے آگے ناکام کر دیا۔ البتہ تحقیق میں یہ حدیث اس وقت سے سن چکا تھا جب اس کا باپ بھی پیدا نہیں ہوا تھا۔ البتہ تحقیق وہ اپنے بھائی کو حدیث بیان کرتا تھا۔ اور یہ جس کو حدیث بیان کرتا ہے وہ بیان کرنے والے سے زیادہ محفوظ کرنے والا ہے یہ حدیث بیان کرکے میرے علم میں کوئی اضافہ نہیں کر رہا بلکہ صرف اس قدر کہ وہ بیان کرکے خوش ہو رہا ہے کہ اس نے مجھے حدیث سنائی ہے ۔

كَانَ رَجُلٌ ← يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← أَبُو صَالِحٍ الْفَرَّاءُ ← محمود بن محمد الحلبي ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْهَرَوِيُّ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ،

Hadith 1753

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في نشر العلم و ألا يمنعه أهله و إذا حضر العالم · حديث 1754

1754 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس الأصم ثنا الربيع بن سليمان ثنا أسد ثنا عدي بن الفضل عن حبيب الأعور عن أبي رجاء عن سليمان قال : الناس ثلاثة : سامع فغافل و سامع فتارك و سامع فعارف و من الناس حامل داء و منهم حامل شفاء و من الناس من إذا ذكرت الله عنده أعانك و أحب لك و إن نسيت ذكرك و من الناس إن ذكرت الله عنده لم يعنك و إذا نسيت لم يذكرك فتواضع لله و تخشع و ذل لله يرفعك الله و قل سلاما للقريب و البعيد فإن سلام الله لا يناله الظالمون فإن رزقك الله علما فاتبع إليه كي تعلم مما علمك الله فإن مثل العالم الذي يعلم كمثل رجل حامل سراج على ظهر الطريق فكل من مر يستضيء به و يدعو له بالبركة و بالخير و إن مثل علم لا يقال به كصنم نائم لا يأكل و لا يشرب و إن مثل حكمة لا تخرج ككنز لا ينتفع به

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس اصم نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو اسد نے ان کو عدی بن فضل نے ان کو حبیب اعور نے ان کو ابو رجاء نے ان کو سلیمان نے انہوں نے فرمایا لوگ تین طرح کے ہیں ایک وہ جو سنتے ہیں پھر بھول جاتے ہیں دوسرے وہ جو سنتے نہیں پھر چھوڑ دیتے ہیں تیسرے وہ جو سنتے ہیں اور سمجھتے ہیں بعض لوگ حامل داء اور بیماری ہیں بعض حامل شفاء ہیں۔ بعض لوگ وہ ہیں کہ جب تم ان کے آگے اللہ تعالیٰ کا تذکرہ کرو تو آپ کی اعانت کرتے ہیں اور اگر آپ بھول جائیں تو وہ آپ کو یاد دہانی کراتے ہیں۔ بعض لوگ وہ ہیں کہ اگر ان کے آگے اللہ کا ذکر کرو آپ کی اعانت نہیں کرتے اگر آپ بھول جائیں تو آپ کو یاد دہانی نہیں کرائے لہذا اللہ تعالیٰ کے لئے عاجزی کیجئے اور خشوع اور اظہار ذلت و عجز کیجئے اللہ تعالیٰ کے لئے اللہ تعالیٰ تجھے بلند کر دیں گے ۔ اور قریب اور بعید کے لیے سلام کہیے بے شک اللہ کی سلامتی کو ظالم نہیں پہنچتے ۔ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو علم عطاء کرے تو اس کی اتباع کیجئے تاکہ آپ وہ جان لیں جو کچھ اللہ نے آپ کو سکھلایا ہے ۔ بے شک اس عالم کی مثال جو علم رکھتا ہے اس آدمی جیسی ہے جو چراغ راستے میں لئے کھڑا ہے جو بھی راستے پر گذرتا ہے اس سے روشنی حاصل کرتا ہے اور اس کے لئے برکت کی دعا کرتا ہے اور خیر کی۔ اور اس علم کی مثال جو اس کے ساتھ نصیحت نہ کی جائے خاموش بت جیسی ہے جو نہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے اور اس حکمت و دانائی کی مثال جو بلند ہو جائے اس خزانے جیسی ہے جس کے ساتھ فائدہ نہ اٹھایا جائے۔

سُلَیْمَانَ ← أَبِي رَجَاءٍ، ← حبيب الأعور ← عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ، ← أسد ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Hadith 1754

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في نشر العلم و ألا يمنعه أهله و إذا حضر العالم · حديث 1755

1755 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا ثنا أبو العباس الأصم ثنا يحيى بن أبي طالب أنا عبد الوهاب أنا سعيد عن قتادة قال : إن في الحكمة مكتوبا طوبى لعالم ناطق و طوبى لمستمع واعى

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا ان کو بتایا ابو العباس رحم نے ان کو یحییٰ بن ابی طالب نے ان کو عبدالوہاب نے ان کو سعید نے ان کو قتادہ نے انہوں نے کہا بے شک حکمت کی باتوں میں لکھا ہے اس عالم کے لیے مبارک بادی ہے جو علم کے ساتھ بولتا ہے اور اس سننے والے کے لئے مبارک باد ہے جو بات محفوظ کرتا ہے ۔

إن في الحكمة مكتوبا طوبى لعالم ناطق و طوبى لمستمع واعى ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Hadith 1755

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في نشر العلم و ألا يمنعه أهله و إذا حضر العالم · حديث 1756

1756 - و أخبرنا أبو عبد الله و محمد قال : ثنا الأصم ثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا عبد الرزاق قال معمر : ما في الأرض بضاعة ينور على صاحبها أشد من العلم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ نے اور محمد بن موسیٰ نے کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس اصم نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے دھرتی پر کوئی ایسا سامان نہیں ۃے جو اس کے مالک پر روشنی پھیلائے علم سے زیادہ۔

معمر ما في الأرض بضاعة ينور على صاحبها أشد من العلم ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← الأَصَمُّ: ← أبو عبد الله و محمد ← و،

Hadith 1756

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في نشر العلم و ألا يمنعه أهله و إذا حضر العالم · حديث 1757

1757 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا بكر إسماعيل بن محمد الضرير ثنا والدي قال : سمعت بشر بن موسى يقول سمعت الأصمعي يقول : ثنا العلاء بن أسلم عن رؤبة بن العجاج قال : أتيت النسابة البكرى قال لي : من أنت ؟ قال : رؤبة بن العجاج قال : قصرت و عرفت فما جاء بك ؟ قلت طلب العلم قال : لعلك من قوم يأتوني إن حدثتهم لم يعوا عني و إن مسكت عنهم لم يسألوني قال : قلت أرجوا أن لا أكون منهم فقال لي : فما أعداء المروة قلت خبرني قال : بنو عمر السوء إن رأوا حسنا دفنوه و إن رأوا سيئا أذاعوه ثم قال لي : إن للعلم آفة و هجنة و نكرا فآفته الكذب و نكره النسيان و هجنته نشره عند غير أهله

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا ابوبکر اسماعیل بن محمد ضریر سے ان کو ان کے والد نے انہوں نے سنا بشر بن موسیٰ سے کہتے ہیں کہ میں نے سنا اصمعی سے وہ کہتے ہیں ان کو بتایا علاء بن اسلم نے ان کو اوبہ بن عجاج نے وہ کہتے ہیں میں نسابہ بکری کے پاس آیا انہوں نے مجھ سے کہا تم کون ہو؟ میں نے جواب دیا اوبہ بن عجاج ۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے تو مختصر بتایا مگر میں سمجھ گیا کس کام سے آئے ہو؟ میں نے کہا علم کی طلب مجھے لے آئی ہے ۔ انہوں نے کہا شاید تم ایسی قوم سے میرے پاس آئے ، ہو اگر میں ان کو حدیث بیان کروں تو وہ مجھ سے اس کو محفوظ نہیں کریں گے اور اگر میں عرض سے رک جاؤں تو ہ مجھ سے پوچھیں گے نہیں کہتے ہیں کہ میں نے کہا میں امید کرتا ہوں کہ میں ان میں سے نہ ہوتا ۔ اس نے مجھے کہا کہ مروہ کے دشمن کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا کہ بے شک علم کے لئے ایک مصیبت ہے اور علم کی بربادی ہے اور قدر نا شناسی ہے علم کی آفت و ہلاکت جھوٹ ہے اس کی ناقدری نسیان ہے اور اس کی بربادی اس کو ان لوگوں میں عام کرنا ہے جو اس کے اہل نہیں۔

رؤبة بن العجاج ← لِي: مَنْ أَنْتَ ← أَتَيْتُ النَّسَّابَةَ الْبَكْرِيَّ ← رؤبة بن العجاج ← العلاء بن أسلم ← الْأَصْمَعِيُّ ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← وَالِدِي ← أبا بكر إسماعيل بن محمد الضرير ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1757

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في نشر العلم و ألا يمنعه أهله و إذا حضر العالم · حديث 1758

1758 - أخبرنا عبد الخالق بن علي ثنا أبو الحسن علي بن أحمد الطفامحي قال : سمعت أحمد بن صالح يقول : سمعت زكريا الطويل يقول سمعت محمد بن الربيع يقول : سمعت الفضيل بن عياض يقول : لو أني أعلم أن أحدهم يطلب هذا العلم لله تعالى ذكره لكان الواجب علي أن آتيه في منزله حتى أحدثه

ہمیں خبر دی ہے عبدالخالق بن علی نے ان کو ابوالحسن علی بن احمد طفامحی نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا فضیل بن عیاض سے وہ کہتے ہیں کہ اگر میں یہ جان لوں کہ ان لوگوں میں سے کوئی ایک اس علم دین کو محض اللہ کی رضا کے لئے حاصل کرنا چاہتا ہے تو مجھ پر واجب ہوگا کہ میں اس کے گھر جا کر حدیث بتاؤں ۔

الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← محمد بن الربيع ← زكريا الطويل ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← أبو الحسن علي بن أحمد الطفامحي ← عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيٍّ،

Hadith 1758

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في نشر العلم و ألا يمنعه أهله و إذا حضر العالم · حديث 1759

1759 - و سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول : سمعت أبا الحسين أحمد بن محمد الفقيه يقول : سمعت أبا العباس بن عطاء يقول : الموعظة للعوام و التذكرة للخواص و النصيحة للأخوان فرض افترضه الله على عقلاء المؤمنين و لولا ذلك لبطلت السنة و لتعطلت الشريعة

اور میں نے سنا ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو الحسین احمد بن محمد فقیہ سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ابو العباس بن عطا سے وہ کہتے ہیں موعظہ اور نصیحت عوام کے لیے ہوتی ہے تذکرہ اور یاد دہانی ہوتی ہے خواص کے لئے اور نصیحت و خیر خواہی بھائیوں کے لئے فرض ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو فرض کیا ہے عقلمند مؤمنوں پر اور اگر یہ چیز نہ ہوتی تو سنت باطل ہو جاتی اور شریعت معطل ہو جاتی ۔ (اگر یہ چیز ہمیشہ جاری نہ ہو تو سنت باطل ہو جائے اور شریعت معطل ہو جائے۔ )

أبا العباس بن عطاء ← أبا الحسين أحمد بن محمد الفقيه ← أبا عبد الرحمن السلمي ← و،

Hadith 1759

chevron_left Previous
1234…17
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood