Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1916

1916 - حدثنا أبو سعد الزاهد أنا أبو الحسن علي بن عبد الله بن جهضم بمكة ثنا أبو بكر محمد بن عيسى ثنا علي بن عبد الحميد الغضايري قال : سمعت محمد بن السماك يقول : كم من مذكر بالله ناس لله و كم من مخوف بالله جريء على الله و كم من داع إلى الله فار من الله و كم من تال كتاب الله منسلخ من آيات الله

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو سعد زاہد نے ان کو ابوالحسن علی بن عبداللہ جہضم نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابو بکر محمد بن عیسیٰ نے ان کو علی بن عبدالحمید غصایری نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ہے محمد بن سماک سے وہ کہتے ہیں ۔ کتنے اللہ کو یاد کرنے والے ایسے ہیں جو خود اللہ کو بھلانے والے میں اور کتنے اللہ سے ڈرانے والے ایسے ہیں جو اللہ پر جری ہیں اور کتنے اللہ کی طرف دعوت دینے والے ہیں جو خود اللہ سے بھاگتے ہیں اور کتنے کتاب اللہ کی تلاوت کرنے والے ایسے ہیں جو خود اللہ کی آیات سے نکل جانے والے ہیں۔

محمد بن السماك ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الغَضَايِرِيُّ، ← أبو بكر محمد بن عيسى ← أبو الحسن علي بن عبد الله بن جهضم بمكة ← أبو سعد الزاهد

Hadith 1916

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1917

1917 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسين و أبو سعيد محمد بن موسى قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا سعيد بن عامر عن هشام الدستوائي قال : قرأت في كتاب بلغني أنه من كلام عيسى ابن مريم صلوات الله عليه : تعملون للدنيا و أنتم ترزقون فيها بغير العمل و لا تعملون للآخرة و أنتم لا ترزقون فيها إلا بالعمل ويلكم علماء السوء الأجر تأخذون و العمل تضيعون يوشك رب العمل أن يطلب عمله و توشكون أن تخرجوا من الدنيا العريضة إلى ظلمة القبر و ضيقه الله نهاكم الخطايا كما أمركم بالصيام و الصلاة كيف يكون من أهل العلم من سخط رزقه و احتقر منزلته و علم أن ذلك من علم الله و قدرته كيف يكون من اتهم الله في اقضاله فليس يرضى بشيء أصابه كيف يكون من أهل العلم من دنياه آثر عنده من آخرته و هو في دنياه أفضل رغبة كيف يكون من أهل العلم من مصيره إلى آخرته و هو مقبل على دنياه و ما بصره انتهى إليه أو قال أحب إليه مما ينفعه كيف يكون من أهل العلم من يطلب الكلام ليخبر به و لا يطلبه ليعمل به

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر احمد بن حسین اور ابو سعید محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق صغانی نے ان کو سعید بن عامر نے ان کو ہشام دستوائی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک کتاب میں پڑھا تھا جس کے بارے میں مجھے یہ خبر پہنچی تھی کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کی کلام ہے صلوات اللہ علیہ تم لوگ کام دنیا کے کرتے ہو اور دنیا میں رہ کر رزق بغیر عمل کے دئیے جاتے ہو۔ آخرت کے لئے تم عمل نہیں کرتے ہو۔ جب کہ تم وہاں عمل کے بغیر رزق نہیں دئیے جاؤ گے ۔ تمہارے ہلاکت ہو اےعلماء سوء تم اجر حاصل کر لیتے ہو اور عمل ضائع کر دیتے ہو ۔ قریب ہے کہ عمل کا مالک تم سے عمل مانگ بیٹھے اور قریب ہے کہ تم اس چوڑی دنیا سے تنگ و تاریک قبر کی طرف نکالے جاؤ گے اللہ نے تمہیں گناہوں سے منع فرمایا ہے بالکل اسی طرح جس طرح اس نے تمہیں روزوں کا حکم دیا ہے اور نمازوں کا۔ وہ شخص اہل علم میں سے کیسے ہو سکتا ہے جس کا وہاں رزق تنگ ہو جائے اور مقام ذلت والا ہو جائے ۔ اور یہ جانتا ہوں کہ یہ سب اللہ کے علم میں سے ہے اور اس کی قدرت سے ہے وہ کیسے اہل علم میں سے ہو سکتا ہے جو شخص اللہ تعالیٰ پر تہمت لگائے اس کے فیصلوں میں وہ کسی شے کے ساتھ راضی نہیں ہو سکتا جو اس کو پہنچے ، وہ شخص اہل علم میں سے کیسے ہو سکتا ہے ، جو اپنی دنیا کی طرف ہے ۔ جو کچھ دیکھتا ہے اسی کی طر ف پہنچتا ہے یا فرمایا کہ وہ شخص صرف اپنی منفعت اور مفاد کو محبوب رکھتا ہے ۔ وہ کیسے اہل علم سے ہو سکتا ہے جو کلام کو اس لئے طلب کرے تاکہ اس کے بارے میں لوگوں کو خبر دے یہ نہیں کہ وہ اس پر خود بھی عمل پیرا ہو سکے۔

هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو بكر أحمد بن الحسين و أبو سعيد محمد بن موسى

Hadith 1917

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1918

1918 - أخبرنا محمد بن أبي المعروف أنا أبو سهل الاسفرايني ثنا أبو جعفر الحذاء ثنا علي بن المديني ثنا حماد بن زيد ثنا يزيد بن حازم عن عمه جرير بن زيد قال : سمعت تبيعا يقول : إني لأجد نعت أقوام يتفقهون لغير الله و يتعلمون لغير العبادة و يلتمسون الدنيا بعمل الآخرة يلبسون جلود الضأن على قلوب الذئاب فبي يغترون و إياي يخادعون فبي حلفت لأتيحن لهم فتنة تترك الحليم فيها حيران

ہمیں خبر دی ہے محمد بن ابو المعروف نے ان کو ابوسہل اسفرائنی نے ان کو ابو جعفر حذا ء سے ان کو علی بن مدینی نے ان کو حماد بن زید نے ان کو یزید بن حازم نے اپنے چچا جریر بن زید نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک تبیع و مددگار سے سنا ۔ وہ کہتے تھے ۔ میں لوگوں کا یہ حال دیکھ رہا ہوں کہ وہ فقہ غیر اللہ کے لئے سیکھتے ہیں ۔ اور علم عبادت کے سوا دوسرے مقصد کے لئے سیکھتے ہیں ، اور آخرت کے عمل کے بدلے میں دنیا طلب کرتے ہیں ۔ اور بھیڑیوں جیسے دلوں پر بھیڑ کا چمڑا پہنتے ہیں۔ (یعنی بھیڑ نما بھیڑیے ہیں) مجھ پر مجبور اور فریفتہ ہیں اور مجھ کو ہی دھوکہ دیتے ہیں ، اور میں اپنے آپ کی قسم کھاتا ہوں کہ میں بھی ان کے لئے ایسا فتنہ برپا کرتا ہوں جس میں بڑا بردبار بھی حیران رہ جاتا ہے ۔

تُبَيْعًا ← عمه جرير بن زيد، ← يَزِيدَ بْنِ حَازِمٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْحَذَّاءُ، ← أبو سهل الاسفرايني ← محمد بن أبي المعروف

Hadith 1918

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1919

1919 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو عبد الله العصمي أخبرني أحمد بن محمد بن رزين عن علي بن خشرم قال : قال سفيان بن عيينة قال بعض الفقهاء : كان يقال العلماء ثلاثة : عالم بالله و عالم بأمر الله و عالم بالله و بأمر الله فأما العالم بالله فهو الذي يخاف الله و لا يعلم السنة و أما العالم بأمر الله فهو الذي يعلم السنة و لا يخاف الله و أما العالم بالله و بأمر الله فهو الذي يعلم السنة و يخاف الله فذلك الذي يدعى عظيما في ملكوت السموات

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو خبر دی ہے ابو عبداللہ عصمی نے ان کو خبر دی ہے احمد بن محمد بن رزین نے ان کوعلی بن خشرم نے وہ کہتے ہیں کہ سفیان بن عیینہ نے کہا کہ بعض فقہا نے کہا ہے کہ علماء تین قسم کے ہیں ۔ ایک عالم باللہ دوسرا عالم بامر اللہ تیسرا عالم باللہ و بامراللہ۔ وہ عالم جو صرف اللہ کو جانتا ہو وہ عالم صرف اللہ کے حکم کو جانے وہ عالم جو اللہ کو جانے اور اللہ کے حکم کو بھی جانے بہرحال عالم باللہ وہ ہے جو اللہ سے ڈرتا ہے لیکن سنت کو نہیں جانتا۔ عالم بامر اللہ وہ ہے جو سنت کو تو جانے مگر اللہ کا خوف نہ رکھے۔اور عالم باللہ اور بامر اللہ وہ ہے جو سنت کو بھی جانے اور اللہ سے بھی ڈرے یہی وہ شخص ہے جو کائنات سماعی میں عظیم انسان کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔

سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← أحمد بن محمد بن رزين ← أبو عبد الله العصمي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1919

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1920

1920 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا عبد الرحمن بن إبراهيم ثنا الوليد بن مسلم ثنا القاسم بن هزان قال : سمعت الزهري يقول : لا يوثق للناس عمل عامل لا يعلم و لا يرضى يقول : عالم لا يعمل

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو عبدالرحمٰن بن ابراہیم نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کو قاسم بن ہزان نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا زہری سے وہ کہتے تھے ۔ کسی عامل کا عمل لوگوں کے لئے بھروسے کے قابل ہوتا جو عامل اس کو جانتا نہ ہو ، نہ ہی راضی ہو کہیں گے ایسا عالم ہے جو عمل نہیں کرتا ۔

عالم لا يعمل ← لا يوثق للناس عمل عامل لا يعلم و لا يرضى ← الزُّهْرِيِّ، ← القاسم بن هزان ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Hadith 1920

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1921

1921 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن عفان ثنا أبو أسامة عن أبي الأشهب قال : قال الحسن : من قال قولا حسنا و عمل عملا حسنا فخذوا عنه و إذا قال قولا حسنا و عمل عملا سيئا فلا تأخذوا عنه

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر احمد بن حسن نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن عفان نے ا ن کو ابو اسامہ ان کو ابو الا شہب نے وہ کہتے ہیں حسن نے کہا ، جو شخص اچھی بات کرے اور اچھا عمل کرے اس سے علم اورنصیحت لے لوو اور جب کوئی شخص اچھی بات کرے اور عمل برا کرے اس سے مت لو۔

قولا حسنا و عمل عملا سيئا فلا تأخذوا عنه ← قولا حسنا و عمل عملا حسنا فخذوا عنه و إذا ← الحسن من ← أَبِي الْأَشْهَبِ ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَفَّانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ

Hadith 1921

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1922

1922 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الخضر بن أبان ثنا سيار ثنا جعفر عن مالك بن دينار قال : قرأت في التوراة إنه ليس منا فعل بالعلم و لم يعمل بما قد علمت يكون مثلك مثل رجل حزم حزمة من حطب فحملها فلن يستطع بها فوضعها و جمع إليها

اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ا ن کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو خضرت بن ابان نے ان کو سیار نے ان کو جعفر نے ان کو مالک بن دینار نے وہ فرماتے ہیں ۔ کہ میں نے توراۃ میں پڑھا تھا کہ وہ آدمی ہم میں سے نہیں ہیں جو علم تو سیکھے اور تم جانتے ہو اگر اس پر عمل نہ کرے تو تیری مثال اس آدمی جیسی ہو گی جو لکڑیوں کی گٹھڑی باندے جب اٹھانا چاہے تو اٹھا نہ سکے تو اسے نیچے رکھ دے اور اس میں مزید لکڑیاں ڈالنا شروع کر دے۔

مَّالِکِ بْنِ دِیْنَارٍ ← جَعْفَرٌ، ← سَيَّارٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1922

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1923

1923 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس الأصم ثنا العباس بن الوليد ثنا أبي ثنا الأوزاعي يقول : من أخذ بنوادر العلماء فبفيه الحجر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ابو العباس اصم نے ان کو عباس بن ولید نے ان کو ان کے والد نے ان کو اوزاعی نے وہ کہتے ہیں کہ جو شخص علماء کے صرف نو ادرات کو اخذ کرے ( یعنی ان کے پورے علم و عمل کو مشعل راہ بنائے) پس اس کے منہ میں پتھر ہوں۔

من أخذ بنوادر العلماء فبفيه الحجر ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1923

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1924

1924 - قال : و سمعت الأوزاعي يقول : إن معالي المسائل تحدث قسوة في القلوب و غفلة و إعجابا

اور میں نے اوزاعی سے سنا وہ فرماتے تھے ۔ کہ بے شک بڑے بڑے معاملات دلوں کی سختی ذکر اللہ سے غفلت ، عجب اور خود پسندی کو جنم دیتے ہیں ۔

إن معالي المسائل تحدث قسوة في القلوب و غفلة و إعجابا ← الْاَوْزَاعِیُّ ← و،

Hadith 1924

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1925

1925 - قال و ثنا الأوزاعي نبئت أنه كان يقول : ويل للمتفقين لغير العبادة و المستحلين الحرمات بالشبهات

اوزاعی نے کہا کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ وہ کہتے تھے ہلاکت ہے ان لوگوں کے لئے جو غیر عبادت پر تو متفق ہیں اور محرمان کو مشتبہات کی وجہ سے حلال ٹھہرا لیتے ہیں۔

ويل للمتفقين لغير العبادة و المستحلين الحرمات بالشبهات ← الأوزاعي نبئت أنه كان ← و،

Hadith 1925

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1926

1926 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت علي بن أبي عمرو البلخي يقول ثنا سليمان بن أحمد اللخمي ثنا الحسن بن العباس ثنا عمرو بن رافع ثنا الحكم بن بشير عن عمرو بن قيس الملائي قال : قال إبليس ثلاث من كن فيه أدركت فيه حاجتي من استكتم عمله و نسى ذنوبه و أعجب برأيه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا علی بن ابو عمرو بلخی سے وہ کہتے ہیں کہ ان کو بیان کیا سلیمان بن احمد لخمی نے ان کو حسن بن عباس نے ان کو عمرو بن رافع نے ان کو حکم بن بشیر نے ان کو عمرو بن قیس ملائی نے وہ کہتے ہیں کہ ابلیس نے کہا تین صفات ایسی ہیں کہ وہ جس شخص میں پائی جائیں۔ اس سے اپنی حاجت پورا کرا لیتا ہوں ۔ جو شخص اعمال لوگوں سے چھپائے ۔ جو شخص اپنے گناہ کر کے بھول جائے ۔ جس میں عجب اور خود پسندی ہو۔

عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ، ← الْحَكَمُ بْنُ بَشِيرٍ، ← عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ← الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ ← عَلِيَّ بْنَ أَبِي عَمْرٍو الْبَلْخِيَّ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 1926

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1927

1927 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق قال : سمعت أبا الحسن بن حماد الكوفي يقول سمعت أحمد بن علي النحوي يقول : سمعت وهبا بن علي يقول : كان ابن السماك الواعظ بالكوفة قال في بعض مجالسه من ذكر النار فبكى و أبكى و وعظ و ذكر و جرى مجلس حسن جميل فلما كان في المجلس الثاني دفعت إليه رقعة كان فيها ( يا أيها الرجل المعلم غيره هلا لنفسك كان ذا التعليم ) ( تصف الدواء من السقام لذي الضنام كيما يصح به و أنتم سقيم ) ( و أراك تلقح بالرشاد عقولنا نصحا و أنت من الرشاد عديم ) فمرض من ذلك مرضا شديدا و توفي منه رحمه الله

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحاق نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوالحسن بن حماد کوفی سے انہوں نے سنا احمد بن علی نحوی سے انہوں نے سنا وھب بن علی سے وہ کہتے ہیں کہ ابن سماک واعظ کوفہ میں رہتے تھے انہوں نے اپنی کسی محفل میں آگ کا تذکرہ کیا تو رو پڑے اور دوسرے لوگوں کو بھی رولا دیا۔ اور وعظ کیا اور نصیحت کی اور ایک خوبصورت اور اچھی مجلس جاری ہو گئی جب وہ کسی دوسری مجلس میں پہنچے۔ تو انہیں ایک پرچہ دیا گیا جس میں یہ شعر لکھے ہوئے تھے ۔ اے دوسروں کو سکھانے والے آدمی ، کیا ہوا تیرے نفس کو کہ وہ بھی صاحب تعلیم ہوتا تم دل کے مریض کے امراض کی دو بتلاتے ہو، تاکہ وہ اس کے ساتھ تندرست ہو جائے حالانکہ تم خو مریض ہو ۔ میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ تم ہدایت کرنے سے ہماری عقلوں کی رہنمائی کرتے ہو نصیحت کے ساتھ حالانکہ تم خود ہدایت سے محروم ہو۔ چنانچہ اس مرض کے ساتھ مریض ہو گئے شدید طریقے سے اور اسی سے وفات پاگئے۔

النار فبكى و أبكى و وعظ و ← في بعض مجالسه من ← كان ابن السماك الواعظ بالكوفة ← وهبا بن علي ← أحمد بن علي النحوي ← أبا الحسن بن حماد الكوفي ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Hadith 1927

chevron_left Previous
1…14151617
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood