Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1904

1904 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان حدثني أحمد بن الخليل حدثني مسعود بن خلف حدثني حجاج بن محمد حدثني فضيل بن مرزوق قال : سمعت أبا إسحاق يقول للشعبي : يا شعبي وددت أني أنجو من علمي كفافا

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو احمد بن خلیل نے ان کو مسعود بن خلف نے ان کو حجاج بن محمد نے ان کو فضیل بن مرزوق نے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا ابو اسحٰق سے وہ کہتے تھے شعبی سے ۔ اے شعبی میں پسند کرتا ہوں کہ میں اپنے علم کے بطور برابر حساب کے نجات پا جاؤں۔ ( یعنی نہ دینا ہو نہ لینا ہو)

للشعبي يا شعبي وددت أني أنجو من علمي كفافا ← أَبَا إِسْحَاقَ ← فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مسعود بن خلف ← أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Hadith 1904

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1905

1905 - و بإسناده ثنا يعقوب ثنا أبو زعيم ثنا سفيان عن صالح قال : سمعت الشعبي يقول : وددت أني أنجو منه كفافا

اسی اسنا د سے یعقوب نے روایت کیا ہے ، انہوں نے ابو زعیم سے ، انہوں نے سفیان سے، انہوں نے صالح سے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے شعبی سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ مجھے امید ہے کہ میں بقدر کفایت میں بچ جاؤں گا۔

وددت أني أنجو منه كفافا ← الشَّعْبِيِّ، ← صَالِحٍ، ← سُفْيَانَ، ← أبو زعيم ← يَعْقُوبُ، ← و بإسناده

Hadith 1905

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1906

1906 - أخبرنا أبو حسين بن بشران أنا أبو عمرو بن السماك ثنا حنبل بن إسحاق حدثني أحمد بن حنبل ثنا أبو قطن قال : سمعت ابن عون يقول : وددت أني خرجت منه كفافا يعني العلم قال أبو قطن قال شعبة : ما أتى علي شيء مقيم أخاف أن يدخلني النار غيره

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو عمرو بن سماک نے ان کو حنبل بن اسحاق نے ان کو احمد بن حنبل نے ان کو ابو قطن نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابن عون سے وہ کہتے تھے میں خواہش کرتا ہوں کہ میں اس سے برابر کے حساب سے نکل جاؤں یعنی علم سے ابو قطن نے کہا کہ شعبہ نے کہا تھا۔ مجھ پر کوئی دائمی چیز ایسی نہیں آئی جس کی وجہ سے میں خوف کروں کہ وہ مجھے جہنم میں داخل کر دے گا علم کے سوا۔

شعبة ما أتى علي شيء مقيم أخاف أن يدخلني النار غيره ← أَبُو قَطَنٍ، ← وددت أني خرجت منه كفافا يعني العلم ← ابْنِ عَوْنٍ ← أَبُو قَطَنٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أبو حسين بن بشران

Hadith 1906

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1907

1907 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو الحسن المحمودي ثنا محمد بن علي الحافظ ثنا محمد بن المثنى قال : حدثني أبو الوليد ثنا أبو الأحوص قال : سمعت ابن شبرمة يقول : ـ ( منوني الأجر العظيم و ليتني نجوت كفافا لا علي و لا ليا )

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابوالحسین محمودی نے ان کو محمد بن علی حافظ نے ان کو محمد بن مثنی نے انہوں نے کہا مجھے حدیث بیان کی ہے ابو الولید نے ان کو ابوالاحوص نے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا ابن شبرمہ سے وہ کہتے ہیں ۔ مجھ پر اجر عظیم کی عنایت کا احسان کیجئے کاش کہ میں حساب برابر ہو جانے کی کیفیت سے نجات پاؤں نہ مجھ پر کچھ وبال ہو اور نہ ہی مجھے کچھ عطا ء ہو۔

منوني الأجر العظيم و ليتني نجوت كفافا لا علي و لا ليا ← ابْنِ شُبْرُمَةَ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ← أَبُو الْحَسَنِ الْمَحْمُودِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 1907

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1908

1908 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا ( ) بن عيسى بن أبي إياس ثنا سعيد بن سليمان عن عبد الله بن دكين عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جده عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى الله عليه و سلم : يوشك أن يأتي على الناس زمان لا يبقى من الإسلام إلا اسمه و لا يبقى من القرآن إلا رسمه مساجدهم عامرة و هي خراب من الهدى علماؤهم أشر من تحت أديم السماء من عندهم يمدح الفتنة

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے (1) ان کو بن عیسیٰ بن ابو ایاس نے ان کو سعید بن سلیمان نے ان کو عبداللہ بن دکیں نے ان کو جعفر بن محمد نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے ان کو علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ان کو فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ قریب ہے کہ لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اسلام کا تو محض نام ہی باقی رہ جائے گا ۔ اور قرآن کا محض خط اور تحریر باقی رہ جائے گی۔ ان لوگوں کی مساجد تو بڑی خوبصورت ہوں گی مگر ہدایت کے اعتبار سے ویران ہوں گی ، ان لوگوں کے علماء آسمان کے تحت ساری مخلوق سے زیادہ شریر اور بد تر ہوں گے انہیں کے ہاں سے فتنے اٹھیں گے۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دُكَيْنٍ، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← بن عيسى بن أبي إياس ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 1908

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1909

1909 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي ثنا عيسى بن سليمان القرشي ثنا بشر بن الوليد ثنا عبد الله بن دكين فذكره بإسناده موقوفا قال أبو أحمد حدثناه عبد السلام إدريس بن سهيل ثنا محمد بن يحيى الأزدي ثنا يزيد بن هارن ثنا عبد الله بن دكين فذكره بإسناده عن علي قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : يوشك أو لا يبقى من الإسلام إلا اسمه فذكره غير أنه قال فقهاؤهم بدل قوله علماؤهم

ہمیں خبر دی ہے ابو سعید مالینی نے ان کو ابو احمد عدی نے ان کو عیسیٰ بن سلیمان قرشی نے ان کو بشر بن ولید نے ان کو عبداللہ بن دکین نے ۔ پھر اس کو انہوں نے اپنی اسناد کے ساتھ ذکر کیا ہے بطور موقوف روایت کے ۔ وہ کہتے ہیں ابو احمد نے کہا ہم سے اسی حدیث کو بیان کیا عبدالسلام ادریس بن سہیل نے ان کو محمد بن یحییٰ ازدی نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو عبداللہ بن دکین نے پھر اس نے اس حدیث کو ذکر کیا اپنی اسناد کے ساتھ حضرت علی سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قریب ہے ۔ یا یوں فرمایا تھا کہ کچھ بھی باقی نہ رہے مگر صرف اسلام کا نام ہی رہے گا۔ پھر اس نے اس حدیث کو ذکر کیا علاوہ ازیں انہوں نے علماء کے لفظ کے بدلے میں فقہاء کا لفظ استعمال کیا ہے ۔

عَلِيٍّ، ← عبد الله بن دكين فذكره بإسناده ← يزيد بن هارن ← مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الْاَزْدِیُّ ← عبد السلام إدريس بن سهيل ← أَبُو أَحْمَدَ ← عبد الله بن دكين فذكره بإسناده موقوفا ← بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← عيسى بن سليمان القرشي ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Hadith 1909

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1910

1910 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن ( ) ثنا حفص بن محمد بن نجيح البصري ثنا بشر بن مهران عن شريك بن عبد الله النخعي عن الأعمش عن أبي وائل قال : خطب علي الناس بالكوفة فسمعته يقول في خطبته : أيها الناس إنه من يتفقر افتقر و من يعمر يبتلى و من لا يستعد للبلاء إذا ابتلى لا يصبر و من ملك استأثر و من لا يستشر يندم و كان يقول من وراء هذا الكلام : يوشك أن يبقى من الإسلام إلا إسمه و من القرآن إلا رسمه و كان يقول : ألا لا يستحي الرجل أن يتعلم و من سئل عما لا يعلم أن يقول لا أعلم مساجدكم يومئذ عامرة و قلوبكم و أبدانكم مخربة من الهدى شر من تحت ظل السماء فقهاؤكم منهم تبدأ الفتنة و فيهم تعود فقام رجل فقال ففيم يا أمير المؤمنين قال : إذا كان الفقه في رذالكم و الفاحشة في خيارهم و الملك في صغاركم فعند ذلك تقوم الساعة هذا موقوف و إسناده إلى شريك مجهول و الأول منقطع و الله أعلم

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن (1)۔۔۔۔ ہمیں حدیث بیان کی ہے حفص بن محؐد بن نجیح بصری نے ان کو بشر بن مہران نے ان کو شریک بن عبداللہ نخعی نے ان کو اعمش نے ان کو ابو وائل نے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کوفہ میں لوگوں کے سامنے خطبہ دیا میں نے اسے سنا یہ فرما رہے تھے ، اے لوگو! جو شخص زبردستی فقیر بننے کی کوشش کرتا ہے وہ حقیقتاً فقیر بن جاتا ہے ، اور جو شخص زندگی دیا جاتا ہے آزمائش میں واقع ہو جاتا ہے ۔ جو شخص اپنے آپ کو آزمائش کے لئے تیار نہیں کرتا جب آزمائش آن پڑے تو صبر نہیں کر سکتا ۔ جو شخص مالک ہوتا ہے وہ ترجیح دیتا ہے جو شخص مشورہ نہیں کرتا نادم ہو تا ہے ۔ اور وہ اس کلام کے بعد یہ کلام کرتے تھے ۔ قریب ہے کہ اسلام کا صرف نام ہی باقی رہ جائے اور قرآن کے صرف الفاظ ہی رہ جائیں ۔ اور وہ یہ بھی فرماتے تھے ، خبر دار کوئی شخص علم حاصل کرنے سے نہ شرمائے اور جس شخص سے کوئی ایسا سوال کیا جائے جو وہ نہ جانتا ہو وہ صاف صاف کہہ دے کہ میں نہیں جانتا ہو اس وقت تمہاری مساجد خوبصورت ہوں گی اور تمہارے دل اور تمہارے وجود ہدایت سے ویران ہوں گے اور آسمان کے سائے تلے سب سے زیادہ بر ترین ہوں گے تمہارے فقیہ انہیں میں سے ہوں گے ان میں سے فتنے پیدا ہوں گے اور انہیں میں لوٹیں گے چنانچہ ایک آدمی کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کس چیز کے بارے میں اے امیر المؤمنین ؟ آپ نے فرمایا کہ جب فقہ تمہارے رزیلوں میں یعنی کمینوں میں ہو اور تمہارے شرفآء میں بد کرداری ہو اور اقتدار تمہارے کم تر لوگوں اور بے عزت لوگوں کے پاس ہو پس اس وقت قیامت قائم ہو جائے گی۔ یہ روایت موقوف ہے۔ اور اس کی اسناد شریک تک مجہول ہے اور اول منقطع ہے ۔ واللہ اعلم۔

في خطبته: أيها الناس! ← خَطَبَ عَلِيٌّ النَّاسَ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّخَعِيِّ، ← بِشْرُ بْنُ مِهْرَانَ ← حفص بن محمد بن نجيح البصري ← أَحْمَدُ بْنُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 1910

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1911

1911 - أخبرنا أبو الحسين بن القطان أنا عبد الله بن جعفر بن سفيان ثنا عبد الله بن عثمان ثنا عبد الله بن المبارك أنا إسماعيل بن عياش عن أسيد بن عبد الرحمن عن عقيل بن عبد الله عن عطاء بن يزيد الليثي قال : أكثر الناس ( ) قال : إنكم أكثرتم في أرأيت ارايت لا تعلموا لغير الله ترجون الثواب من الله و لا يعجبن أحدكم علمه و إن كثر فإنه لا يبلغ عند عظمة الله ( ) من قوائم ذباب

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن قطان نے ان کو عبدالرحمٰن بن جعفر سفیان نے ان کو عبداللہ بن عثمان نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے ان کو اسماعیل بن عیاش نے ان کو اسید بن عبدالرحمٰن نے ان کو عقیل بن عبداللہ نے ان کو عطا بن یزید لیثی نے انہوں نے کہا کہ اکثر لوگ(1)۔۔۔ فرمایا کہ بے شک تم کثرت سے ریاء کاری کر جاتے ہو جس کا تم اللہ سے ثواب چاہتے ہو اور امید رکھتے ہو۔ تم میں سے کسی کو اس کا علم غرور تکبر میں مبتلا نہ کردے اگر چہ وہ زیادہ ہوتا ہم اللہ کی عظمت کو تو نہیں پہنچتا مکھی کی ٹانگوں کے برابر بھی۔

أكثر الناس ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← عقيل بن عبد الله ← أَسِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ ← عبد الله بن جعفر بن سفيان ← أبو الحسين بن القطان

Hadith 1911

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1912

1912 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا إبراهيم بن محمد بن يحيى ثنا الحسين بن هارون المراغي ثنا إبراهيم بن يوسف الرازي ثنا المسيب بن واضح قال : سمعت ابن المبارك في طريق الروم يقول : يا مسيب إن فساد العوام من قبل الخواص و إن الناس على خمس طبقات من أولهم الزهاد و هم ملوك هذه الأمة و الثاني : العلماء و هم ورثة الأنبياء و الثالث : الولاة و هم الرعاة و الرابع : التجار و هم أمناء الله في الأرض و الخامس : الغزاة و هم سيف الله في الأرض و إذا كان الزاهد راغبا فبمن يقتدي الناس و إذا كان العالم طامعا فبمن يهتدي الناس و إذا كان الراعي جائرا فإلى من يلتجئ الناس و إذا كان التاجر خائنا فبمن يأمن الناس و إذا كان الغازي مرايا فمتى يرجوا الظفر

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابراہیم بن محمد بن یحییٰ نے ان کو حسین بن ہارون مراغی نے ان کو ابراہیم بن یوسف رازی نے ان کو مسیب بن واضح نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن المبارک سے سنا روم کے راستے فرما رہے تھے ۔ اسے مسیب بے شک عوام کا فساد اور خرابی خواص کی جانب سے ہوتی ہے بے شک لوگ پانچ طبقات پر مشتمل ہیں پہلے ان میں سے زاہد اور نیک لوگ ہیں درحقیقت یہ لوگ اس امت کے بادشاہ ہیں ۔ اور دوسرے علماء ہیں جو کہ انبیاء کے وارث ہیں تیسرے حکمران ہیں وہ درحقیقت قوم کے راعی اور چرواہے ہیں اور چوتھے تاجر ہیں وہ دھرتی پر اللہ کے امین ہیں۔ پانچوین نمبر پر غازی اور مجاہد ہیں وہ دراصل دھرتی پر اللہ کی تلوار ہیں جس وقت زاہد یعنی تارک الدنیا خود دنیا میں رغبت کرنے والے بن جائیں گے تو لوگ کس کی اقتداء کریں ؟ اور جس وقت عالم طبع اور لالچ کرنے والے بن جائیں تو لوگ کس سے ہدایت حاصل کریں گے اور جس وقت چرواہے ظالم درندے بن جائیں تو پھر لوگ کس کے پاس پناہ لیں گے اور جب تاجر خیانت کرنے والے بن جائیں تو لوگ امانتیں کس کے پاس رکھوائیں گے اور جب مجاہد و غازی ریا کار ہو جائیں تو کامیابی کی امید کب ہو سکتی ہے ۔

ابن المبارك في طريق الروم ← الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ الرَّازِيُّ ← الحسين بن هارون المراغي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1912

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1913

1913 - حدثنا أبو عبد الرحمن السلمي ثنا عبد الله بن محمد بن حمدان العكبري ثنا أبو صالح محمد بن أحمد بن ثابت ثنا أبو الأحوص محمد بن الهيثم القاضي ثنا يعقوب بن كعب ثنا يحيى بن اليمان عن الحسن الخراساني عن ابن عباس قال : يأتي على الناس زمان يكون فيه علماء ينقبضون من الفقهاء و ينبسطون عند الكبراء أولئك الجبارون أعداء الرحمن

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو عبداللہ بن محمد بن حمدان عکبری نے ان کو ابو صالح محمد بن احمد بن ثابت نے ان کو ابوالا حوض محمد بن ھیثم قاضی نے ان کو یعقوب بن کعب نے ان کو یحییٰ بن یمان نے ان کو حسن خراسانی نے ان کو حضرت ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ لوگوں پر ایک وقت آئے گا اس میں علماء ایسے ہوں گے جو فقہا سے منقبض ہوں گے اور کڑکر پیچھے ہوں گے اور امیروں کبیروں کے پاس خوب پھیلیں گے یہی لوگ سرکش اور جبار ہوں گے رحمٰن کے دشمن ہوں گے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الحسن الخراساني ← يحيى بن اليمان ← يَعْقُوبُ بْنُ کَعْبٍ ← أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ← أَبُو صَالِحٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ثَابِتٍ ← عبد الله بن محمد بن حمدان العكبري ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 1913

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1914

1914 - سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول : سمعت أبا الحسن الكادزي يقول : سمعت محمد بن إسحاق بن خزيمة يقول : سمعت يونس بن عبد الأعلى يقول أخبرنا ابن وهب ثنا المنذر بن عبد الله الحزامي عن هشام بن عروة عن أبيه قال : يقال : ما شرشيء من البطالة في العالم

میں نے سنا ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ابو الحسن کا دزی ہے انہوں نے سنا محمد بن اسحاق بن خزیمہ سے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے یونس بن اعلیٰ نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے ابن وھب نے ان کو منذر بن عبداللہ حزامی نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے انہوں نے کہا کہ کہا جاتا ہے دنیا میں بہادری سے بڑی چیز اور کوئی نہیں ہے۔(ممکن ہے یہ اس لئے ہو کہ اس میں عجب اور پسند اور ریا کاری کا زیادہ امکان ہے ۔ مترجم)

يقال ما شرشيء من البطالة في العالم ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← الْمُنْذِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحِزَامِيُّ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ← أبا الحسن الكادزي ← أبا عبد الرحمن السلمي

Hadith 1914

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1915

1915 - و أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا ابن أبي عمر قال : قال سفيان : قال بعض الأمراء لأبي حازم ارفع إلي حاجتك قال : هيهات هيهات رفعتها إلى من لا تحول الحوائج دونه فما أعطاني منها قنعت و ما زوى عني منها رضيت قال : يقال ابن شهاب أنه لحلدى و ما عملت أن هذه عنده قال أبو حازم فقلت لو كنت غنيا عرفتني ثم قلت في نفسي : لا ينجو مني فقلت : كان العلماء فيما مضى يطلبهم السلطان و هم يفرون منهم و إن العلماء اليوم طلبوا حتى إذا جمعوه بحذافيره أتوا به أبواب السلاطين و السلاطين يفرون منهم و هم يطلبونهم

اور ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابن ابو عمر نے وہ کہتے ہیں کہ سفیان نے کہا کہ بعض امراء نے ابو حازم سے کہا اپنی کوئی حاجت بھی ہو ہمارے پاس لانا انہوں نے فرمایا بہت دوری ہے بہت دوری ہے ( میں اپنی حاجات آپ کو نہیں بتاؤں گا) بلکہ میں تو اس ذات کے آگے پیش کروں گا جس کے آگے سے حوائج نہیں چھپتی ہیں وہ جو کچھ مجھے دے گا میں اسی پر قناعت کروں گا اور جو کچھ مجھ سے روک لے گا اس میں سے میں اس پر راضی ہو جاؤں گا ۔ وہ فرماتے ہیں کہ کہا گیا ہے کہ ابن شہاب وہ لحلدی ہے میں نہیں جانتا کہ یہ نصیحت اس کے پاس تھی۔ ابو حازم نے کہا لہذا میں نے کہا اگر میں غنی ہوتا تو تم مجھے جانتے ہوتے۔ پھر میں نے اپنے دل ہی دل میں سوچا کہ مجھ سے نجات پائے گا۔ پس میں نے کہا ۔ پہلے وقتوں میں عالم ایسے ہوتے تھے کہ بادشاہ ان کو طلب کرتے تھے اور بلاتے تھے مگر وہ ان سے بھاگتے تھے ( یعنی ملنے سے گریز کرتے تھے ) اور آج کے دور میں علماء طلب کئے جاتے ہیں یہاں تک کہ جس وقت وہ جمع کرواتے ہیں اور اپنی جماعت کے ساتھ بادشاہوں کے دروازے پر جاتے ہیں ، اور بادشاہ ان سے بھاگتے ہیں اور وہ ان کو طلب کرتے ہیں۔

ابْنُ أَبِي عُمَرَ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ ← و،

Hadith 1915

chevron_left Previous
1…14151617
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood