Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1880

1880 - أخبرنا أبو سعد الماليني قال : سمعت أبا بكر محمد بن نصر بن جعفر الروياني الصوفي يقول : سمعت أبا بكر الشبلي يقول : كان بدء أمري أني نوديت يا أبا بكر ليس لهذا أردناك و لا بهذا أمرناك فتركت خدمة المعتضد و نظرت في الناسخ و المنسوخ و التأويل و التفسير و التحليل و التحريم و سمعت الحديث و الفقه و كتاب المبتدأ و غير ذلك ثم بدت علي حقيقة أذهبت عني ما سوى الله فإذا الله الله

ہمیں خبر دی ہے ابو سعد مالینی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو بکر محمد بن نصر بن جعفر رویانی صوفی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو بکر شبلی سے وہ کہتے تھے میرے تصوف کی ابتداء یوں تھی کہ مجھے آواز آئی اے ابو بکر ہم نے تجھ سےاس چیز کا ارادہ نہیں کیا تھا اورنہ ہی اس چیز کا تجھے حکم دیا تھا۔ چنانچہ میں نے خلیفہ معتضد باللہ کی خدمت اور نوکری چھوڑ دی اور میں نے ناسخ اور منسوخ میں اور تاویل و تفسیر میں اور تحلیل و تحریم میں غور و فکر کیا۔ اور حدیث اور فقہ کا سماع کیا کتا المبتداء وغیرہ کتب کا اس کے بعد مجھ پر حقیقت منکشف ہوئی جس نے مجھ سے ہر ماسوا اللہ کو دور کر دیا چنانچہ بس باقی اللہ اللہ رہ گیا۔

أَبَا بَكْرٍ الشِّبْلِيَّ، ← أبا بكر محمد بن نصر بن جعفر الروياني الصوفي ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1880

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1881

1881 - حدثنا أبو حازم الحافظ أخبرني أبو منصور محمد بن أحمد الأزهري قال : سمعت محمد بن إسحاق السعدي يقول : سمعت علي بن خشرم يقول : كثيرا ما ابن عيينة يقول : توفيق قليل خير من علم كثير

ہمیں حدیچ بیان کی ہے ابو حازم نے ان کو خبر دی ہے ابو منصور محمد بن احمد زہری نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن اسحاق سعدی سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا علی بن خشرم نے وہ کہتے ہیں اکثر ابن عیینہ کہا کرتے تھے ۔ کہ عمل کی تھوڑی سی توفیق بہت سارے علم سے بہتر ہے ۔

توفيق قليل خير من علم كثير ← كثيرا ما ابن عيينة ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← محمد بن إسحاق السعدي ← أبو منصور محمد بن أحمد الأزهري ← أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ،

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1881

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1882

1882 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو عثمان البصري ثنا أبو أحمد الفراء ثنا سليمان بن حرب ثنا حماد بن أبي التياح قال : قال مطرف : أتى على الناس زمان خيرهم في دينهم المتسارع و سيأتي على الناس زمان خيرهم في دينهم المتأني قال : أبو أحمد سألت علي بن عثام عن تفسير هذا الحديث فقال : كانوا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم و أصحاب إذا أمروا بالشيء تسارعوا إليه و أما اليوم فينبغي للمؤمن أن يتبين فلا يقدم إلا على ما يعرف

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ ان کو عثمان بصری نے ان کو ابو احمد فراء نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو حماد بن ابو تیاح نے وہ کہتے ہیں کہ مطرف نے کہا ۔ لوگوں پر ایک ایسا وقت آیا تھا کہ ان میں سے بہتر وہ ہوتا تھا جو دین میں ایک دوسرے سے سبقت کرتا تھا۔ اور عنقریب ایک وقت آئے گا کہ ان میں سے بہتر وہ ہوگا جو تاخیر کرنے والا ہو۔ ابو احمد نے کہا کہ میں نے علی بن عثام سے پوچھا اس حدیث کی تفسیر کے بارے میں انہوں نے فرمایا : لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ اور س کے اصحاب کے ساتھ ہوتے تھے ۔ جب ان کو کسی چیز کاحکم دیا جاتا تو اس کی طرف جلدی کرتے اور آج مؤمنوں کے لیے مناسب ہے کہ وہ خوب تحقیق کریں عمل کرنے کی جسارت اس وقت کریں جب اچھی طرح جان لیں۔

حماد بن أبي التياح ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← أَبُو أَحْمَدَ الْفَرَّاءُ، ← أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1882

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1883

1883 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس بن يعقوب ثنا العباس ابن الوليد أخبرني أبي قال : سمعت ابن جابر يحدث عن رجل يقال له سعدان أبي الحارث فسأله عن الحسن بن أبي الحسن قال له كيف عقله فأخبره فقال ابن منبه أما تتحدث أو تجد في الكتاب أنه ما أتى الله عبدا علما فعمل به في سبيل الله فيسلبه عقله حتى يقبضه إليه قال العباس قال أبي : ما أحصي كما سألني الأوزاعي عن حديث البصري يقول يا وليد حدثني بحديث البصري عن ابن منبه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس بن یعقوب نے ان کو عباس بن ولید نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی میرے والد نے انہوں نے سنا ابن جابر سے وہ حدیث بیان کرتے تھے ایک آدمی سے جسے ( سعدان ) کہا جاتا تھا ابو الحارث چنانچہ انہوں نے پوچھا اس کے بارے میں حسن بن ابوالحسن سے فرمایا کہ اس کی عقل کیسی ہے پھر اس کو خبر دی ابن منبہ نے کیا آپ حدیث بیان نہیں کرتے یا یوں کہا کہ ۔ کیاآپ کتاب میں نہیں پاتے کہ بے شک جس بندے کو اللہ تعالیٰ علم عطا کرتے ہیں ۔ وہ اس کے ساتھ اللہ کی راہ میں عمل پیرا ہوتا ہے پھر اس کی عقل چھین لیں (ایسا نہیں کرتے) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو اپنی طرف قبض کر لیں یعنی فوت ہونے تک ۔ عباس نے کہا کہ میرے والد نے کہا تھا میں گن نہیں سکتا کہ محمد اوزاعی نے حدیث بصری کے بارے میں کتنے سوال کئے۔ کہتے تھے ۔ اے ولید مجھے حدیچ بصری ابن منبہ کی روایت سے حدیث بیان کی۔

ابن منبه أما تتحدث أو تجد في الكتاب ← لَهُ كَيْفَ عَقْلُهُ ← الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ← رجل يقال له سعدان أبي الحارث فسأله ← ابْنِ جَابِرٍ ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ ابْن الْوَلِيدِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1883

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1884

1884 - حدثنا أبو سعد الزاهد ثنا أبو سعيد إسماعيل بن أحمد التاجر أنا عبد الله بن محمد المنيعي ثنا محمود بن غيلان المروزي ثنا وكيع قال : سمعت إسماعيل بن إبراهيم بن مجمع بن حارثة يقول : كنا نستعين على حفظ الحديث بالعمل به

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو سعد زاہد نے ان کو ابو سعید اسماعیل بن احمد تاجر نے ان کو عبداللہ بن محمد منیعی نے ان کو محمود بن غیلان مروزی نے ان کو وکیع نے انہوں نے سنا اسماعیل بن ابراہیم بن مجمع بن حارثہ نے وہ کہتے ہیں ۔ کہ ہم لوگ حدیث یا د کرنے کے لئے اس پر عمل کرنے کے ساتھ مدد لیتے تھے۔

«كُنَّا نَسْتَعِينُ عَلَى حِفْظِ الْحَدِيثِ بِالْعَمَلِ بِهِ ← إسماعيل بن إبراهيم بن مجمع بن حارثة ← وَكِيعٌ، ← مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ الْمَرْوَزِيُّ ← عبد الله بن محمد المنيعي ← أبو سعيد إسماعيل بن أحمد التاجر ← أبو سعد الزاهد

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1884

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1885

1885 - قال : و قال الحسن بن صالح : كنا نستعين على طلبه بالصوم

انہوں نے فرمایا ، کہ حسن بن صالح نے فرمایا ۔ ہم لوگ حدیث کو طلب کرنے کے لئے روزہ رکھنے کے ساتھ مدد لیتے تھے۔

الحسن بن صالح كنا نستعين على طلبه بالصوم ← و،

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1885

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1886

1886 - أخبرنا أبو القاسم عبد العزيز بن محمد بن شبان العطار ببغداد ثنا أبو بكر الجعابي الحافظ ثنا محمد بن عبد الله بن عبد السلام ثنا محمد بن عبد الرحمن بن الأشعث ثنا أبو مسهر عن سعيد بن عبد العزيز قال : إذا كان علم الرجل حجازيا و حكمته عراقيا و طاعته شامية فناهيك به

ہمیں خبر ابوالقاسم ۔ عبدالعزیز بن محمد بن شبان عطار سے بغداد میں ان کو ابوبکر حفظ نے ان کو محمد بن عبداللہ بن عبدالسلام نے ان کو محمد بن عبدالرحمٰن بن اشعث سے ان کو ابوم سہر نے ان کو سعید بن عبدالعزیز نے انہوں نے فرمایا کہ جب کسی شخص کا علم حجازی ہو اور اس کی حکمت عراقی ہو اور اس کی اطاعت شامی ہو پس کافی ہے تجھ کو۔

سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← اَبُوْ مُسْھِرٍ، ← محمد بن عبد الرحمن بن الأشعث ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أبو بكر الجعابي الحافظ ← أبو القاسم عبد العزيز بن محمد بن شبان العطار ببغداد

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1886

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1887

1887 - أخبرنا أبو عبد الله بالحافظ ثنا محمد بن صالح بن هانئ ثنا القاسم بن خالد بن قطن المروزي ثنا أبو الربيع الزهراني ثنا عبد القاهر بن شعيب بن الحبحاب ثنا هشام بن حسان عن المحسن : في قوله : اللهم ربنا آتنا في الدنيا حسنة و في الآخرة حسنة قال : في الدنيا العلم و العبادة و في الآخرة الجنة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن صالح بن ھانی نے ان کو قاسم بن خالد بن قطن مروزی نے ان کو ابو ربیع زہرانی نے ان کو عبد القاہر بن شعیب بن حجاب نے ان کو ہشام بن حسان نے محسن سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں :۔ "اللھم ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الا خر ۃ حسنۃ"۔ اے اللہ اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی۔ فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ دنیا میں علم اور عبادت عطا کر اور آخرت میں جنت عطا کرے۔

هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← الْقَاسِمُ بْنُ خَالِدِ بْنِ قَطَنٍ الْمَرْوَزِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ← أَبُو عَبْد اللَّهِ

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1887

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1888

1888 - أخبرنا أبو سعيد عبد الرحمن بن محمد بن شبانه الشاهد بهمدان ثنا أبو حاتم أحمد بن عبد الله البستي ثنا إسحق بن إبراهيم البستي ثنا الحسن بن علي الحلواني ثنا عبد الله بن نمير الهمداني الكوفي ثنا معاوية النضري عن نهشل عن الضحاك عن الأسود عن عبد الله بن مسعود قال : لو أن أهل العلم صانوا العلم و وضعوه عند أهله لسادوا به أهل أعيانهم أو قال أهل زمانهم لكن بذلوه لأهل الدنيا لينالوا من دنياهم فهانوا على أهلها سمع نبيكم صلى الله عليه و سلم يقول : من جعل الهم هما واحدا هم آخرته كفاه الله عز و جل ما همه من أمر دنياه و من تشعبت به الهموم لأحوال الدنيا لم يبال الله في أي أوديتها هلك و كذلك رواه محمد بن عبد الله بن نمير عن أبيه

ہمیں خبر دی ہے ابو سعید عبدالرحمٰن بن محمد بن شبانہ شاہد نے ھمدان میں ان کو ابو حاتم بن عبداللہ بستی نے ان کو اسحاق بن ابراہیم بستی نے ان کو حسن بن علی حلوانی نے ان کو عبداللہ بن نمیر ہمدانی کوفی نے ان کو معاذ نضری نے ان کو مہشل نے ضحاک سے اس نے اسود سے اس نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے وہ فرماتے ہیں ۔ اگر اہل علم علم کی حفاظت کریں اور علم کو سکھائیں جو اس کا اہل ہو تو وہ اس کے ذریعے اپنے اہل زمانہ پر سرداری کریں گے ۔ یا فرمایا تھا اہل زمانہ پر لیکن انہوں نے اس کو خرچ ہے اہل دنیا کے لئے تاکہ ان کو دنیا کو وہ حاصل کر سکیں لہذا وہ ان کے آگے بے قدر ہو گئے جو اس کے اہل تھے ۔میں نے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سنا وہ فرماتے تھے ۔ جو شخص بہت سارے غموں کو ایک آخرت کا غم بنادے اللہ تعالیٰ اس کو کفایت کرے گا اس غم سے جو اس کے امر دنیا میں سے ہوگا اور جو شخص کے احوال دنیا کے اعتبار سے مختلف ہم و غم ہو جائیں اللہ تعالیٰ اس کی پرواہ نہیں کرتے کہ وہ غموں کی کسی وادی میں ہلاک ہو جائے۔ اسی طرح اس کو روایت کیا ہے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے اپنے والد سے۔

لَوْ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← الْأَسْوَدِ، ← الضَّحَّاكُ، ← نَهْشَلٍ، ← مُعَاوِيَةُ النَّضْرِيُّ ← عبد الله بن نمير الهمداني الكوفي ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ← إسحق بن إبراهيم البستي ← أبو حاتم أحمد بن عبد الله البستي ← أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَبَانَةَ الشَّاهِدُ

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1888

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1889

1889 - سمعت أبا عبد الرحمن يقول : سمعت محمد بن عباس الضبي يقول : سمعت أبا بكر بن ( ) يقول ثنا مجزاة بن محمد ثنا الحسن بن عبد الرحمن البغداداي ثنا يحيى بن اليمان عن سفيان قال : العالم طبيب الدين و الدراهم داء الدين فإذا اجتر الطبيب الداء إلى نفسه فمتى يداوي غيره

میں نے سنا ابو عبدالرحمٰن سے وہ کہتے تھے میں نے سنا محمد بن عباس ضبی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو بکر بن۔۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی مجزاۃ بن محمد نے ان کو حسن بن عبدالرحمٰن بغدادی نے ان کو یحییٰ بن یمان نے ان کو سفیان نے وہ کہتے ہیں کہ : عالم دین کا طیب ہوتا ہے اور دراہم (روپیہ پیسہ) دین کی بیماری ہے جب کوئی طبیب بیمار کو اپنی طرف کھینچ لے گا تو وہ دوسروں کا علاج کب کرے گا۔

سُفْيَانَ، ← يحيى بن اليمان ← الحسن بن عبد الرحمن البغداداي ← مجزاة بن محمد ← أبا بكر بن ← محمد بن عباس الضبي ← أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1889

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1890

1890 - أخبرنا أبو سعد الماليني ثنا أبو بكر محمد بن عبد الله الرازي يقول : سمعت أبا عمر البيكندي يقول : سمعت أبا عبد الله المغربي يقول : من أحب الدنيا فلا ينصحك و من أحب الآخرة فلا يصحبك لا تبرح تصبح من قد دان نفسه

ہمیں خبر دی ہے ابو سعید مالینی نے ان کو ابوبکر محمد بن عبداللہ رازی نے انہوں نے سنا ابو عمر بیکندی سے وہ کہتے کہ انہوں نے سنا ابو عبداللہ مغربی سے وہ کہتے ہیں ۔ جو شخص دنیا کو محبوب رکھتا ہے وہ تجھے نصیحت نہیں کرتا اور جو شخص آخرت سے محبت کرتا ہے وہ تیرے ساتھ ہم نشینی نہیں کرتا تو ہمیشہ وہ بن جو اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے ۔

أبا عبد الله المغربي ← أبا عمر البيكندي ← أبو بكر محمد بن عبد الله الرازي ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1890

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1891

1891 - أخبرنا أبو حسين بن بشران أنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السماك قال : و قال المروزي حدثني عبد الصمد بن محمد قال : بشر بن الحارث : العالم طبيب الدين و الدراهم داء الدين فإذا كان الطبيب يجر إلى نفسه الداء فمتى يداوي نفسه و قال ليس يعد شهداء الخلق إلا العلماء أخزلته الدنيا و ذهب أهل الخير

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو عثمان بن احمد بن سماک نے وہ کہتے ہیں کہ مروزی نے کہا ۔ مجھے حدیث بیان کی ہے عبدالصمدبن محمد نے وہ کہتے ہیں کہ بشر بن حارث نے کہا تھا۔ کہ عالم دین کا طبیب اور دراہم دین کی بیماری ہیں جب کوئی طبیب بیامر کو اپنی طرف کھینچتا ہو وہ اپنے نفس کا علاج کب کرے گا۔ اور فرمایا کہ مخلوق کے شاہد اور گواہ علماء ہی شمار ہوتے ہیں ۔ ان کو جب دینار رسوا کردے تو اہل خیر ختم ہو گئے۔

عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← المروزي ← و، ← أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ ← أبو حسين بن بشران

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1891

chevron_left Previous
1…121314…17
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood