Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1844

1844 - أخبرنا أبو عبد الرحمن قال : سمعت أبا زيد المروزي يقول : سمعت إبراهيم بن شيبان يقول : من أراد أن يتعطل و يتبطل فليزم الرخص

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو زید مروزی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابراہیم بن شیبان سے وہ کہتے ہیں کہ جو شخص چاہتا ہے کہ آخرت سوال اور جواب داری سے بچا رہے اور نڈر بنا رہے اسے چاہیے کہ رخصتوں کو لازم پکڑے۔

من أراد أن يتعطل و يتبطل فليزم الرخص ← إبراهيم بن شيبان ← أبا زيد المروزي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1844

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1845

1845 - أخبرنا أبو سعد الزاهد ثنا علي بن عبد الله بن جهضم بمكة أخبرنا أبو بكر محمد بن سعيد قال : سمعت الجنيد بن محمد يقول : ويل للقائلين بالحق العاملين بالباطل كيف خالقت أفعالهم و أقوالهم ادعوا في الدينا منازل الصديقين فنزلوا في الآخرة منازل المجرمين

ہمیں خبر دی ہے ابو سعید زاہد نے ان کو علی بن عبداللہ بن جہضم نے مکہ میں ان کو خبر دی ابوبکر محمد بن سعید نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا جنید بن محمد سے وہ کہتے تھے کہ ۔ ان حق گوئی کرنے والوں کے لئے ہلاکت ہے جو خود باطل پر عمل کرتے ہیں ان کے اقوال کیسے ان کے افعال کی خلاف ہو جاتے ہیں ۔ دنیا میں تو وہ صدیقین کی منزلوں و مرتبوں کا دعویٰ کرتے ہیں مگر وہ آخرت میں مجرموں کے مقام کھڑے ہوں گے۔

الْجُنَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ، ← أبو بكر محمد بن سعيد ← علي بن عبد الله بن جهضم بمكة ← أبو سعد الزاهد

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1845

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1846

1846 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق الإسفرايني ثنا أبو عثمان الحناط قال : سمعت السري يقول : سمعت بعض الحكماء يقول : ويل للقائلين بالحق العاملين بالباطل الذين قالوا الحسنات و عملوا السيئات كيف ( ) قولهم إذا خالفوا أمر الله و نزل بأعمالهم منازل المجرمين

ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافط نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق اسفرئنی نے ان کو عثمان حناط نے انہوں نے سنا سری سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حکماء سے سنا وہ کہتے تھے ان حق گوئی کرنے والوں کے لئے ہلاکت ہے جو خود باطل پر عمل پیرا ہیں باتیں حسنات کی کرتے ہیں اور عمل سیئات کے کرتے ہیں کیسے ہیں ان کے اقوال ( یعنی ان کی کیا حیثیت ہے جب کہ وہ اللہ کے حکم کی مخالفت کرتے اور اپنے اعمال کے اعتبار سے مجرمین کے مقام پر اتر چکے ہیں۔

ويل للقائلين بالحق العاملين بالباطل الذين ← بَعْضَ الْحُكَمَاءِ ← السَّرِيُّ، ← أَبُو عُثْمَانَ الْحَنَّاطُ، ← الحسن بن محمد بن إسحاق الإسفرايني ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1846

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1847

1847 - أخبرنا محمد بن عبد الله ثنا الحسن ثنا أبو عثمان قال : سمعت الحسن بن عيسى مولى ابن المبارك يقول : سمعت ابن المبارك يقول : أما الناس العلماء و الملوك الزهاد و السفلة الذي يأكل بدينه أموال الناس بالباطل ثم قرأ : { يا أيها الذين آمنوا إن كثيرا من الأحبار والرهبان ليأكلون أموال الناس بالباطل } قال : يأكلون الدنيا بالدين قال : فبكى فضيل بن عياض بكاء شديد ثم قال : كذب من قال أنه لا يأكل بدينه أنا و الله آكل بديني

ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ نے ان کو حسن نے ان کو ابو عثمان نے انہوں نے سنا حسن بن عیسیٰ سے جو حضرت ابن مبارک کے مولیٰ ہیں انہوں نے حضرت ابن مبارک سے سنا فرماتے تھے بہرحال لوگوں میں علماء ہیں ، بادشاہ ہیں ، تارک الدنیا ہیں اور عاجز اور حقیر لوگ بھی ہیں جو اپنے دین کی وجہ سے باطل طریقے پر لوگوں کے مال کھاتے ہیں ۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی ۔ "یا ایھا الذین آمنو ا ن کثیر امن الاحبار والرھبان لیا کلون اموال الناس بالباطل"۔ اے ایمان والو بے شک بہت سارے لوگ علماء میں سے اور پیروں میں سے ایسے ہیں جو ناحق لوگوں کے مال کھاتے ہیں اور فرمایا کہ دین کے بدلے میں دنیا کھاتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ فضیل بن عیاض رو پڑے اور سخت روئے ۔ پھر کہنے لگے کہ جھوٹ کہتا ہے وہ جو یہ کہتا ہے کہ وہ اپنے دین کے ذریعے نہیں کھاتا اللہ کی قسم میں اپنے دین کے ذریعے ہی کھاتا ہوں۔

ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى مَوْلَى ابْنِ الْمُبَارَكِ ← أَبُو عُثْمَانَ ← الْحَسَنِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1847

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1848

1848 - أخبرنا أبو عبد الله أنا الحسن ثنا أبو عثمان ثنا أحمد بن أبي الحواري قال : سمعت إسحاق بن خلف و كان الخائفين لله قال : ـ أحمد بن سلم ما نذاكر العلم إلا بالغفلة عن العبادة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ نے ان کو حسن نے ان کو ابو عثمان نے ان کو احمد بن ابی حواری نے کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا اسحاق بن خلف سے وہ اللہ سے ڈرنے والے لوگوں میں سے تھے۔ احمد بن سلم نے کہا ہم علم کا مذاکرہ صرف عبادت سے غفلت کے ساتھ کرتے ہیں ۔

العبادة ← أحمد بن سلم ما نذاكر العلم إلا بالغفلة ← إسحاق بن خلف و كان الخائفين لله ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← أَبُو عُثْمَانَ ← الْحَسَنِ، ← أَبُو عَبْد اللَّهِ

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1848

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1849

1849 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو عبد الله بشر بن محمد قال : ثنا الحسين بن منصور ثنا أبو العباس عبد السلام بن الوليد ثنا أحمد بن عبد الله بن أبي الحواري حدثني أخي محمد قال : قال علي بن الفضيل لأبيه : و أبه ما أحلى كلام أصحاب محمد صلى الله عليه و سلم قال : يا بني و تدري لما حلا ؟ : لا يا أبه قال : لأنهم أرادوا به الله تبارك و تعالى

ہمیں خبر دی ہے ابو سعد مالینی نے ان کو ابو عبداللہ بشر بن محمد نے وہ کہتے ہیں کہ حسین بن منصور نے حدیث بیان کی ان کو ابوالعباس عبدالسلام بن ولید سے ان کو احمد بن عبداللہ بن ابو الحواری نے ان کو حدیث بیان کی ان کے بھائی محمد نے کہتے ہیں کہ علی بن فضیل نے اپنے والد سے کہا ہے ابا جان کس قدر بیٹھا ہے اصحاب محمد کا کلام انہوں نے جواب دیا اے بیٹے کیا تمہیں معلوم ہے یہ میٹھاس کیوں ہے ؟ اس نے کہا نہیں اے ابا جان ۔ فرمایا کہ یہ اس لئے میٹھاس ہے کہ انہوں نے اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کو چاہاہے ۔

أخي مُحَمَّد ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْحَوَارِيِّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ الْوَلِيدِ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ ← أبو عبد الله بشر بن محمد ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1849

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1850

1850 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا الحسين بن الحسن الطوسي أنا أبو خالد العقيلي ثنا عبد الرحمن بن حماد الثقفي ثنا الأعمش عن إبراهيم قال : يطلع قوم من الجنة إلى قوم من النار يقولون من أدخلكم النار و إنما دخلنا الجنة بتأديبكم و تعليمكم فيقولون إنا كنا نأمركم بالخير و لا نفعله

ہمیں خبر دی ہے ابوعلی روذباری نے ان کو حسین بن حسن طوسی نے ان کو ابو خالد عقیلی نے ان کو عبدالرحمٰن بن حماد ثقفی نے ان کو اعمش نے ان کو ابراہیم نے وہ کہتے ہیں کہ اہل جنت میں سے ایک جماعت اہل جہنم کی طرف جھانکے گی اور کہے گی کون سی چیز تمہیں جہنم میں لے آئی ہم تو جنت میں اس لئے آگئے ہیں کہ ہم تمہارے ادب سکھانے کی وجہ سے اور تمہاری اچھی تعلیم دینے کی وجہ سے آئے ہیں۔ جہنمی جواب دیں گے کہ ہم تم لوگوں کو خیر کا حکم دیتے تھے مگر ہم اس کو نہیں کرتے تھے (اس لئے ہم جہنم میں داخل کر دئیے گئے ہیں )۔

إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← عبد الرحمن بن حماد الثقفي ← أبو خالد العقيلي ← الحسين بن الحسن الطوسي، ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1850

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1851

1851 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن المقرئ قالا : ثنا أبو العباس هو الأصم ثنا الخضر ثنا سيار ثنا جعفر قال : سمعت مالكا بن دينار قرأ هذه الآية : { و ما أريد أن أخالفكم إلى ما أنهاكم عنه } قال : فاسلمى في القيامة مالك الصادق أو مالك الكاذب

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو محمد بن مقری نے دونوں نے کہا کہ ہمیں بیان کیا ہے ابو العباس اصم نے ان کو خضر نے ان کو سیار نے ان کو جعفر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا مالک بن دینار سے انہوں نے یہ آیت پڑھی:۔ "وما ارید ان اخالفکم الیٰ مانھکم عنہ"۔ میں تمہیں اس سے روکنے کے لئے تمہاری مخالفت کا ارادہ نہیں کرتا ۔ فرمایا کہ ۔ قیامت میں مجھے نام دیا جائے گا ( معلوم نہیں ) مالک صادق یا مالک کاذب؟

فاسلمى في القيامة مالك الصادق أو مالك الكاذب ← مالكا بن دينار قرأ هذه الآية ← جَعْفَرٌ، ← سَيَّارٍ، ← الْخَضِرُ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن المقري

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1851

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1852

1852 - أخبرنا الحسن بن محمد بن حبيب من أصل حدثني أبو جعفر محمد بن صالح ثنا الحسين بن الفضل ثنا الحكم بن موسى ثنا الفرج بن فضالة عن لقمان قال : كان أبو الدرداء يقول : إنما أخشى من ربي يوم القيامة أن يدعوني على رؤوس الخلائق فيقول لي : يا عويمر فأقول لبيك ربي فيقول لي ما عملت فيما عملت

ہمیں خبر دی ہے حسن بن محمد بن حبیب نے اصل سے انہوں نے کہا کہ مجھے حدیث بیان کی ہے ابو جعفر محمد بن صالح نے ان کو حسین بن فضل نے ان کو حکم بن موسیٰ نے ان کو فرج بن فضالہ نے ان کو لقمان نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو درداء فرماتے تھے بے شک میں ڈرتا ہوں اپنے رب سے کہ کل قیامت کے دن وہ مجھے لوگوں کو رو برو بلا کر یہ نہ کہہ دے اے عویمر میں کہوں حاضر ہوں اے میرے رب اور وہ مجھے کہہ دے جس قدر تیرا علم تھا اس میں سے کتنے پر آپ نے عمل کیا تھا؟

لي ما عملت فيما عملت ← لي يا عويمر فأقول لبيك ربي ← إنّما أخشى من ربي يومَ القيامة أنْ يدعوَني على رؤوس الخلائِقِ ← كَانَ أَبُو الدَّرْدَاءِ ← لُقْمَانُ، ← الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ] ← الحسن بن محمد بن حبيب من أصل

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1852

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1853

1853 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق في آخرين قالوا : ثنا أبو العباس الأصم أنا العباس بن الوليد بن مزيد ثنا أبي ثنا الضحاك بن عبد الرحمن قال : سمعت بلال بن سعد يقول عباد الرحمن لو قد غفرت لكم خطاياكم الماضية لكان فيما تستقبلون لكم شغلا و لو عملتم بما تعلمون لكنتم عباد الله حقا

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحاق نے انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس اصم نے ان کو عباس بن ولید بن مزید نے ان کو ان کے والد نے ان کو ضحاک بن عبدالرحمٰن نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا بلال بن سعد سے وہ کہتے تھے ۔ کہ اللہ کے بندو اگر تمہارے گذشتہ گناہ معاف بھی کر دئیے جائیں تو تمہارے ذمے ہو گا کہ تم اپنی بقیہ اور مستقبل کی زندگی کی معافی طلب کرنے کے لئے مصروف عمل ہو جاؤ اور تم اس پورے علم پر عمل پیرا ہو جاؤ جو تم علم رکھتے ہو تو تم اللہ کے سچے بندے بن جاؤ گے۔

بِلَالِ بْنِ سَعْدٍ، ← الضَّحَّاکِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ فِي آخَرِينَ،

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1853

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1854

1854 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة ثنا محمد بن أحمد بن حامد بن العطار ثنا أحمد بن حسن الصوفي ثنا يحيى بن معين ثنا عثمان بن صالح عن عبد الله بن وهب عن عمرو بن الحارث : أن رجلا كتب إلى أخ له اعلم أن الحلم لباس العلم فلا تعرض عنه

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو محمد بن احمد بن حامد بن عطار نے ان کو احمد بن حسن صوفی نے ان کو یحییٰ بن معین نے ان کو عثمان بن صالح نے ان کو عبداللہ بن وھب نے ان کو عمرو بن حارث نے کہ ایک آدمی نے اپنے بھائی کو خط لکھا بے شک بردباری علم کا لباس ہے اس کو لباس سے خالی نہ کرنا۔

إلى أخ له اعلم أن الحلم لباس العلم فلا تعرض عنه ← عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ رَجُلًا ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أحمد بن حسن الصوفي ← محمد بن أحمد بن حامد بن العطار ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1854

شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1855

1855 - ـ قال : و حدثنا يحيى ثنا حسن بن رافع عن ضمرة قال : الحلم ارفع من العقل لأن الله عز و جل تسمى باسمه

فرماتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے یحییٰ نے ان کو حسن بن رافع نے ان کو ضمرہ نے انہوں نے کہا بردباری عقل سے بہت بلند ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے حلیم اپنا نام رکھا ہے ۔

الحلم ارفع من العقل لأن الله عز و جل تسمى باسمه ← ضَمْرَةُ ← حسن بن رافع ← يَحْيَى ← و،

Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1855

chevron_left Previous
1…91011…17
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood