Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السادس والأربعون من شعب الإيمان ‹ ـ باب في السرور بالحسنة والاغتمام بالسيئة · حديث 7001

7001 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أحمد بن سلمان النجاد إملاء نا عبد الملك بن محمد نا عبد الصمد بن عبد الوارث نا شعبة عن أبي عمران الجوني عن عبد الله بن الصامت عن أبي ذر أنهم قالوا : يا رسول الله الرجل يعمل لآخرته ويحبه الناس ؟ قال : تلك عاجل بشرى المؤمن

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو احمد بن سلمان نجار نے بطور املاء کے ان کو عبدالملک بن محمد نے ان کو عبد الصمد بن عبدالوارث نے ان کو شعبہ نے ان کو ابو عمران جونی نے ان کو عبداللہ بن صامت نے ان کو ابو ذر نے کہ ان لوگوں نے کہا یا رسول اللہ کوئی آدمی اپنی آخرت کے لئے عمل کرتا ہے اور اس لئے کہ لوگ اس سے محبت کریں؟ فرمایا کہ یہ شخژ مؤمن کی متاع خرید کے ساتھ جلدی کرنے والا ہے۔

أبي ذر أنهم ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أحمد بن سلمان النجاد إملاء ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Forty-sixth of the people of faith › Chapter on pleasure with good and complaining about bad · Hadith 7001

شعب الإيمان · السادس والأربعون من شعب الإيمان ‹ ـ باب في السرور بالحسنة والاغتمام بالسيئة · حديث 7002

7002 - وأخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أحمد بن سلمان : فذكره بإسناده مثله

اور ہمیں خبر دی ہے اور زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو احمد بن سلمان نے اس نے اس کو ذکر کیا ہے اسی کی اسناد کے ساتھ اسی کی مثل۔

أحمد بن سلمان فذكره بإسناده مثله ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Forty-sixth of the people of faith › Chapter on pleasure with good and complaining about bad · Hadith 7002

شعب الإيمان · السادس والأربعون من شعب الإيمان ‹ ـ باب في السرور بالحسنة والاغتمام بالسيئة · حديث 7003

7003 - وأخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب أنا داود نا سعيد بن سنان أبو سنان نا حبيب بن أبي ثابت عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قيل يا رسول الله يعمل العمل يسره وإذا طلع عليه سره ذلك وأعجبه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : له أجران أجر العلانية وأجر السر قال يونس : ذكر عن أبي عبيد أنه فسره أن لا يكون اطلع عليه على عمل سوء قال أحمد : وروى هذا الحديث الأعمش عن حبيب بن أبي صالح عن النبي صلى الله عليه و سلم

اور ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو داؤد نے ان کو سعید بن سنان نے ان کو حبیب بن ابو ثابت نے ان کو ابو صالح نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ کہا گیا یا رسول اللہ کوئی آدمی عمل کرتا ہے جو اس کو خوش لگتا ہے اور جب اس پر کوئی مطلع ہوتا ہے تو بھی اس کوخوشی ہوتی ہے اور زیادہ اچھا لگتا ہے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! اس کے لئے دو اجر ہیں ظاہر عمل کرنے کا بھی اور خفیہ کرنے کا بھی کہا یونس نے ابو عبید سے ذکر کیا گیا ہے کہ اس نے اس کی تفسیر کی ہے کہ اس کے برے عمل پر کوئی مطلع نہ ہو امام نے فرمایا کہ اس حدیث کو اعمش نے روایت کیا ہے حبیب بن ابو صالح ے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔

قِيلَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ أَبُو سِنَانٍ ← دَاوُدُ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Forty-sixth of the people of faith › Chapter on pleasure with good and complaining about bad · Hadith 7003

شعب الإيمان · السادس والأربعون من شعب الإيمان ‹ ـ باب في السرور بالحسنة والاغتمام بالسيئة · حديث 7004

7004 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو عبد الرحمن السلمي من أصله قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الحسن بن إسحاق بن يزيد العطار نا أحمد بن أسد الكوفي نا يحيى بن اليمان عن سفيان عن حبيب بن أبي ثابت عن ذكوان عن ابن مسعود قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : إني أعمل العمل أسره فيظهر فأفرح به فقال : كتب لك أجران

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو عبدالرحمٰن سلمی نے اپنی اصل کتاب سے۔ان دونوں کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن اسحاق بن یزید عطار نے ان کو احمد بن اسد کوفی نے ان کو یحییٰ بن یمان نے ان کو سفیان نے ان کو حبیب بن ابو ثابت نے ان کو ذکوان نے ان کو ابن مسعود نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وسلم) میں کوئی عمل کرتا ہوں تو مجھے وہ اچھا لگتا ہے پھر وہ لوگوں کے آگے ظاہر ہو جاتا ہے تو اور زیادہ خوشی ہوتی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے لئے دو اجر ہیں۔

لَکَ أَجْرَانِ ← إني أعمل العمل أسره فيظهر فأفرح به ← جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← ذَكْوَانَ، ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← سُفْيَانَ، ← يحيى بن اليمان ← أحمد بن أسد الكوفي ← الحسن بن إسحاق بن يزيد العطار ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو عبد الرحمن السلمي من أصله

Shuab ul Iman · Forty-sixth of the people of faith › Chapter on pleasure with good and complaining about bad · Hadith 7004

شعب الإيمان · السادس والأربعون من شعب الإيمان ‹ ـ باب في السرور بالحسنة والاغتمام بالسيئة · حديث 7005

7005 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأخبرني أبو بكر بن إسحاق نا محمد بن سليمان نا أحمد بن أسد أبو عاصم البجلي : فذكره بإسناده مثله زاد أجر السر والعلانية

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ابو بکر احمد بن اسحاق نے ان کو محمد بن سلیمان نے ان کو احمد بن اسد نے ان کو ابو عاصم بجلی نے۔ پھر اس نے ذکر کیا اس کو اس کی اسناد کے ساتھ اسی کی مثل اس نے اضافہ بھی کیا ہے۔ کہ ظاہر عمل اور مخفی عمل کا اجر ہے۔

مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-sixth of the people of faith › Chapter on pleasure with good and complaining about bad · Hadith 7005

شعب الإيمان · السادس والأربعون من شعب الإيمان ‹ ـ باب في السرور بالحسنة والاغتمام بالسيئة · حديث 7006

7006 - وأخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو حامد أحمد بن محمد بن إسماعيل بن نعيم نا محمد بن عبد الله بن سليمان الحضرمي نا أحمد بن أسد البجلي : فذكره بإسناده قال الحليمي رحمه الله : فروي عن عبد الرحمن بن مهدي أن معناه فإذا اطلع عليه سرني ليقتدي بي ويعمل مثل عملي ليس أنه يسره أن يذكر ويثني عليه وإنما هو كقوله صلى الله عليه و سلم : من سن سنة حسنة فله أجرها وأجر من عمل بها

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو حامد احمد بن محمد بن اسماعیل بن نعیم نے ان کو محمد بن عبداللہ بن سلیمان حضرمی نے ان کو احمد بن اسد بجلی نے اس نے اس کو ذکر کیا ہے اس کی اسناد کے ساتھ۔ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ روایت کی گئی ہے عبدالرحمٰن بن مہدی ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ جب اس عمل پر کسی کو آگاہی ہوتی ہے تو مجھے خوشی ہوتی ہے تاکہ وہ آدمی میری اقتداء کرتے ہوئے میرے جیسا عمل کرے یہ مطلب نہیں کہ اس کو یہ خوشی ہوتی ہے کہ اس کا ذکر کیا جائے اور اس پر اس کی تعریف کی جائے بلکہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کی طرح ہے کہ جو شخص اچھا طریقہ جاری کرے اس کے لئے اس کا اجر بھی ہے اور اس کا اجر بھی جو اس پر عمل کرے گا۔

الحليمي فروي ← أحمد بن أسد البجلي فذكره بإسناده ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْحَضْرَمِيُّ ← أبو حامد أحمد بن محمد بن إسماعيل بن نعيم ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-sixth of the people of faith › Chapter on pleasure with good and complaining about bad · Hadith 7006

شعب الإيمان · السادس والأربعون من شعب الإيمان ‹ ـ باب في السرور بالحسنة والاغتمام بالسيئة · حديث 7007

7007 - وكما روي : أن رجلا قام الليل يصلي فرآه جار له فقام يصلي فغفر للأول يعني أن الثاني أخذ عنه وتابعه وهذا محتمل ومحتمل غيره وهو أنه إذا عمل خيرا سره أن يذكر به فيكون محمودا في الناس لا مذموما ولا حمد أبلغ من أن يقال : أنه قوام بحق ربه وليس هذا من المراءاة في شيء إنما المراءاة أن يعمل الخير لا يريد به وجه الله تعالى ولا يبتغي به مرضاته ولا ثوابه إنما يريد به أن يقول الناس هذا رجل خير فأما أن يعمل لله بالحقيقة ويسره أن يعمل الناس منه أنه من عمال الله فإن مدحوه مدحوه بصلاحه لعبادة الله لا لغير ذلك مما يتمدح به الناس ويثني بعضهم على بعض من أمور الدنيا فليس هذا من الرياء في شيء إلا ترى أن الله تعالى ذم قوما يحبون أن يحمدوا بما لم يفعلوا ذلك على أن من أحب أن يحمد بما فعل فلا ذم فكيف يذم من أراد أن يكون إضافته إلى الله تعالى لا إلى غيره كما جعل مخه مقصورا على عبادته دون غيرها إنما المذموم من يعمل ما أمر أن يبتغي به وجهه مريدا به وجه غيره والفرق بينهما ظاهر لمن أنصف قال : واحتج ذلك القائل بأن الحديث جاء بكراهية أن يزكي الرجل في وجهه فيقال له هذا أن يثنى عليه في وجهه فيمتلئ منه عجبا ومدحا و يقول : في نفسه أنا الممدوح بكذا و كذا ويستهين بذلك غيره وما قلنا غير هذا وهو أن يسمع الرجل يضاف إلى مولاه بالطاعة وحسن العبادة يسره أن الله تعالى أنزله منزلة الكرامة من نفسه وجمع له بين الحسنيين أحدهما أن وفق لعبادته والأخرى أن جعله ما إذا مدح باسمه وأضيف إلى ما يكون مرجعه إليه من عبادته ولم يجعله يمدح بما يمدح به أنباء الدنيا وأهلها الراكنون إليها وبينهما بون بعيد ولولا أن هذا هكذا لما كان ذلك بشرى المؤمن كما قال النبي صلى الله عليه و سلم : قام الإمام أحمد رحمه الله :

جیسے روایت کی گئی ہے کہ ایک آدمی نے رات کو کھڑے ہو کر نماز پڑھی اس کا پڑوسی اسے دیکھ رہا تھا اس نے اسے دیکھ کر اٹھ کر نماز پڑھ لی لہٰذا پہلے شخص کی مغفرت ہو گئی اس لئے کہ دوسرے نے یہ عمل اسی کو دیکھ کر کیا تھا اوراس کی تابعداری کی تھی۔ یہ روایت اسی بات کا احتمال رکھتی ہے۔ ایک احتمال اور بھی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اسی پہلے نے جب اچھا عمل کیا تو اس کو یہ بات اچھی لگی کہ وہ اس نیکی کا تذکرہ کر ے لہٰذا وہ لوگوں میں محمود بن جائے مذموم نہ ہو۔ یعنی اس کی تعریف ہو برائی نہ ہو۔ اور اس سے زیادہ کا عمل اور بلیغ تعریف کوئی نہیں ہو سکتی کہ یہ کہا جائے کہ فلاں شخص اپنے رب کا حق ادا کرنے والا ہے اس بات کا ریاکاری سے کوئی تعلق نہیں ہے یقیناً ریاکاری یہ ہے کہ عمل کرنے والا کوئی اچھا عمل کرے مگر اس کے ساتھ وہ اللہ کی ذات کا ارادہ نہ کرے اور نہ ہی اس کے ساتھ اللہ کی رضامندی طلب کرے نہ اللہ کا ثواب طلب کرے۔ بلکہ یہ ارادہ کرے کہ لوگ یہ کہیں کہ یہ اچھا آدمی ہے۔ بہرحال اگر کوئی شخص عمل کرتا ہے اللہ کے لے صحیح اور حقیقی طور پر اوراس کو یہ بات اچھی لگے کہ اس کو کچھ کرلوگ بھی اچھا عمل کریں تو ایسا شخص اللہ کے لئے عمل کرنے والوں میں سے ہے۔ اگر لوگ ایسے شخص کی تعریف کرتے ہیں تو اس کی تعریف کرتے ہیں اس کی نیکی کی وجہ سے جو اللہ کی عبادت کی وجہ سے ہے غیراللہ کی عبادت کے لئے یا کسی اور وجہ سے نہیں، جس کے ساتھ لوگ تعریف کرتے ہیں یا بعض ان کے بعض کی تعریف کرتے ہیں دنیاوی امور میں سے یہ عبادت کسی طرح بھی ریاء میں سے نہیں ہے۔ کیا آپ دیکھتے نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی مذمت کی ہے جو یہ پسند کرتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ ان کی تعریف ہو ایسے عمل کی وجہ سے جو انہوں نے سرے سے کیا ہی نہیں۔ (سورۃ آل عمران) اس آیت سے یہ ثابت ہوا کہ جو شخص یہ چا ہے کہ اس کی تعریف ہو ایسے عمل کی وجہ سے جو اس نے واقعی کیا ہے اس کی اللہ نے مذمت نہیں کی تو پھر اللہ تعالیٰ کیسے مذمت کرے گا ایسے آدمی کی جو یہ ارادہ کرے کہ اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو غیر کی طرف نہ ہو جیسے کوئی شخص اپنے دل دماغ کو صرف اللہ کی عبادت پر ہی بند رکھے غیراللہ کی طرف نہیں جانے دے۔ مذموم وہ شخص ہے جو ایسا عمل کرے جس کو اللہ کی ذات کے لئے کرنے کا حکم ہے اور وہ غیر ارادہ کرتے ہوئے کرے دونوں کے درمیان فرق ظاہر ہے انصاف کرنے والے کے لئے۔ فرمایا کہ اس بات کے قائل نے یہ دلیل پکڑی ہے کہ حدیث اس بات کی کراہیت کے بارے میں آئی ہے بایں طور کہ اس کی ذات کے سامنے پاک ہے۔ اور اس کے بارے میں کہا جائے کہ اس کی تعریف کی جاتی ہے اسی عمل کرنے پر اس کے سامنے جس کی وجہ سے وہ عجب اور خود پسندی سے اور تعریف سے بھر جائے اور اپنے دل میں یہ کہیے کہ میں ممدوح ہوں اور میری فلاں فلاں تعریف کی جاتی ہے اور اس کے ساتھ وہ اپنے سوا دوسروں کی توہین و تذلیل کرے۔ اور ہم نے جو کہا تھا وہ اس کے علاوہ ہے وہ یہ ہے کہ آدمی ہے کہ دو اپنے مولیٰ کی طرف نسبت کیا جاتا ہے اطاعت کی وجہ سے اور حسن عبادت کی وجہ سے یہ بات اس کو خوش کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ایک عزت کے مقام پر فائز کیا ہے اس کے نفس کو اور اس کے لئے دو خوبیاں جمع کر دی ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ اس کو اللہ نے اپنی عبادت کرنے کی توفیق عطا کی ہے۔ اور دوسری یہ کہ اس کو اللہ نے ایسا بنایا ہے کہ اللہ کے نام کے ساتھ اس کی مدح کی جاتی ہے۔ اور اس کی نسبت کی جاتی ہے اس چیز کی طرف جو اسی ذات کی طرف رجوع کرتی ہے یعنی اللہ کی عبادت وغیرہ۔ اور اس کو ایسا نہیں بنایا کہ ایسی چیزوں کے ساتھ اس کی تعریف کی جاتی ہو جن کے ساتھ دنیا والوں کی تعریف کی جاتی ہے اور اہل دنیا کی جو دنیا کی طرف ہی جھکے ہوئے ہیں۔ دونوں طرح کے لوگوں میں بہت دور دراز کا فاصلہ ہے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی اور وہ لوگ ایسے نہ ہوتے تو یہ مؤمن کی بشارت اور متاع نہ ہوتی جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا۔ امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا:

في نفسه

Shuab ul Iman · Forty-sixth of the people of faith › Chapter on pleasure with good and complaining about bad · Hadith 7007

شعب الإيمان · السادس والأربعون من شعب الإيمان ‹ ـ باب في السرور بالحسنة والاغتمام بالسيئة · حديث 7008

7008 - والذي روينا فيما مضى : في معنى الإخلاص : أن الذي لا يحب أن يحمد على عمله فهو أن يكون عمله لله لا ليحمد ثم إن علم به فحمد عليه وسره ذلك فلا يخرجه من الإخلاص كما روينا في سائر الحديث والله أعلم والذي رواه الحليمي عن عبد الرحمن بن مهدي فقد رويناه أيضا عن ابن عيينة كما

وہ حدیث جو ہم نے روایت کی ہے گذشتہ مقام پر اخلاص کے مفہوم کے بارے میں یہ کہ وہ شخص جو نہیں پسند کرتا کہ اس کے عمل پر اس کی تعریف کی جائے۔ وہ یہ ہے کہ اس کا عمل اللہ کے لئے ہو، اس لئے کہ اس کی تعریف کی جائے اس کے بعد اگر اس کا عمل معلوم ہو جاتا ہے اور اس پر اس کی تعریف کی جاتی ہے اور اس سے اس کو خوشی ہوتی ہے تو یہ بات اس کو اخلاص سے نہیں نکال دیتی۔ جیسے ہم نے تمام حدیثوں میں روایت کیا ہے۔ واللہ اعلم اور وہ حدیث جس کو حلیمی نے عبدالرحمٰن بن مہدی سے روایت کیا ہے۔ تحقیق ہم نے اس کو بھی روایت کیا ہے ابن عیینہ سے جیسے:

ابن عيينة كما ← عبد الرحمن بن مهدي فقد رويناه أيضا

Shuab ul Iman · Forty-sixth of the people of faith › Chapter on pleasure with good and complaining about bad · Hadith 7008

شعب الإيمان · السادس والأربعون من شعب الإيمان ‹ ـ باب في السرور بالحسنة والاغتمام بالسيئة · حديث 7009

7009 - أخبرنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني نا أبو الطيب المظفر بن سهل الخليلي القائد بمكة نا إسحاق بن أيوب بن حسان الواسطي عن أبيه قال : سمعت سفيان بن عيينة : وقد سأله رجل عن قول الصحابي للنبي صلى الله عليه و سلم إني لأسر العمل فإذا اطلع عليه سرني ؟ قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لك أجران أجر السر وأجر العلانية

ہمیں اس کی خبر دی ہے عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو الطیب مظفر بن سہل خلیلی قائد نے مکہ مکرمہ میں ان کو اسحاق بن ایوب بن حسان واسطی نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا سفیان بن عیینہ سے اور ان سے ایک آدمی نے سوال کیا تھا اس صحابی کے قول کے بارے میں جو اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ میں عمل کو پوشیدہ رکھتا ہوں جب اس پر کوئی مطلع ہو جاتا ہے تو مجھے خوشی ہوتی ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرے لئے دو اجر ہیں مخفی عمل کرنے کا بھی اور ظاہر عمل کا بھی۔

سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ، وَقَدْ سَأَلَهُ رَجُلٌ ← أَبِيهِ ← إِسْحَاقُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ حَسَّانَ الْوَاسِطِيُّ، ← أَبُو الطِّيبِ الْمُظَفَّرُ بْنُ سَهْلٍ الْخَلِيلِيُّ الْقَائِدُ، بِمَكَّةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-sixth of the people of faith › Chapter on pleasure with good and complaining about bad · Hadith 7009

شعب الإيمان · السادس والأربعون من شعب الإيمان ‹ ـ باب في السرور بالحسنة والاغتمام بالسيئة · حديث 7010

7010 - قال ابن عيينة : هذا من أجود الأحاديث وأحكمها لرجل يسر العبادة فيطلع عليه مطلع فيعمل بمثل عمله فسره إذا بلغه أن فلانا قد عمل بما عملت وكذلك قال النبي صلى الله عليه و سلم : من سن سنة حسنة فله أجرها وأجر من عمل بها وأما قول عبد الرحمن ففيما

ابن عیینہ نے کہا کہ یہ اجود اور احکم احادیث میں سے ہے کسی آدمی کے بارے میں جو عبادت کو چھپا کر کرتا ہے پھر اسی پر کوئی آگاہ ہونے والا کا ہو جاتا ہے پھر وہ بھی عمل کرتا ہے اس کی عمل کی مثل اور اس پہلے شخص کو خوشی ہوتی ہے یہ جان کر کہ فلاں نے وہی عمل کیا ہے جو میں نے کیا تھا اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا تھا کہ جو شخص اچھی سنت اور اچھا طریقہ جاری کرتا ہے اس کے لئے اس کا اپنا اجر بھی ہے اور اس کا اجر بھی جو اس پر عمل کرے گا۔ بہرحال عبدالرحمٰن کا قول تو وہ اس بارے میں ہے۔

Shuab ul Iman · Forty-sixth of the people of faith › Chapter on pleasure with good and complaining about bad · Hadith 7010

شعب الإيمان · السادس والأربعون من شعب الإيمان ‹ ـ باب في السرور بالحسنة والاغتمام بالسيئة · حديث 7011

7011 - أخبرنا السلمي أنا أبو الحسن الكارزي نا علي بن عبد العزيز قال : قال أبو عبيد : في حديث النبي صلى الله عليه و سلم : أن رجلا قال يا رسول الله إني أعمل العمل أسره فإذا اطلع عليه سرني ؟ فقال : لك أجران أجر السر وأجر العلانية قال أبو عبيد : حدثناه أبو معاوية عن الأعمش عن حبيب بن أبي ثابت عن صالح يرفعه قال أبو عبيد : قال ابن مهدي : وجهه عندي أنه إنما يسر به إذا اطلع عليه ليستن به قال أبو عبيد : يعني أنه ليس يسر به وليس للحديث عندي وجه الإمام قال : ثم استدل أبو عبيد بما روينا عن ابن عيينة وبما حكاه الحليمي من قيام الرجل من الليل واقتضاء جاره به فكلاهما من احتجاج عبيد به

ہمیں خبر دی سلمی نے ان کو ابو الحسن کارزی نے ان کو علی بن عبد العزیز نے وہ کہتے ہیں کہ ابو عبید نے کہا حدیث نبی کریم میں کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ! میں کوئی عمل کرتا ہوں تو میں اس کو چھپاتا ہوں پھر جب اس کے اوپر کسی کو آگاہی ہو جاتی ہے تو مجھے اس پر بھی خوشی ہوتی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیرے لئے دو اجر ہیں خلوت کا بھی اور جلوت کا بھی۔ ابو عبداللہ نے کہا کہ ابن مہدی نے کہا میں نزدیک اس کی توجیہ یہ ہے کہ وہ شخص اس عمل کے ظاہر ہونے پر اس لئے خوش ہوتا اور آگاہی ہو جانے پر تاکہ اس عمل کو طریقہ بنایا جائے اور اس کو نمونہ بنا کر اس پر عمل کیا جائے۔ ابو عبید نے کہا یعنی وہ محض اس عمل پر خوش نہیں ہوتا۔ میرے نزدیک حدیث کی توجیہ وہ نہیں جو امام نے کی۔ کہتے ہیں کہ اس کے بعد ابو عبید نے اس حدیث کے ساتھ استدلال کیا جس کو ہم نے ابن عیینہ سے روایت کیا ہے۔ اور اس حدیث کے ساتھ بھی جس کو حلیمی نے بیان کیا ہے۔ رات کو ایک آدمی کا قیام کرنا۔ اور اس کے پڑوسی کا اس کی اقتدا کے طور پر نماز پڑھنا۔ دونوں کے ساتھ عبیدہ نے احتجاج کیا ہے۔

أبو عبيد في حديث النبي صلى الله عليه و سلم أن رجلا ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ← السلمي

Shuab ul Iman · Forty-sixth of the people of faith › Chapter on pleasure with good and complaining about bad · Hadith 7011

شعب الإيمان · السادس والأربعون من شعب الإيمان ‹ ـ باب في السرور بالحسنة والاغتمام بالسيئة · حديث 7012

7012 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا عيسى بن حماد القاضي ببغداد نا محمد بن جرير الطبري نا سعيد بن عمرو السكوني نا بقية بن الوليد عن عبد الملك بن مهران عن عثمان بن زائدة عن نافع عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : عمل السر افضل من العلانية والعلانية أفضل لمن أراد الاقتداء به تفرد به بقية عن عبد الملك بن مهران هذا

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو عیسیٰ بن حماد قاضی نے بغداد میں ان کو محمد بن جریری طبری نے ان کو سعید بن عمرو کوفی نے ان کو بقیہ بن ولید نے ان کو عبدالملک بن مہران نے ان کو عثمان بن زائدہ نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ خلوت کا عمل جلوت سے بہتر ہے افضل ہے۔ اور ظاہر کر کے عمل کرنا افضل ہے اس شخص کے لئے جو اس لیے کرے کہ اس کو دیکھ کر کوئی دوسرا اس کی اقتدا کرے۔ اس روایت میں بقیہ راوی متفرد ہے عبدالملک بن مہران سے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُثْمَانَ بْنِ زَائِدَةَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مِهْرَانَ ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو السَّكُونِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ الطَّبَرِيُّ، ← عيسى بن حماد القاضي ببغداد ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-sixth of the people of faith › Chapter on pleasure with good and complaining about bad · Hadith 7012

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood