Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السادس والأربعون من شعب الإيمان ‹ ـ باب في السرور بالحسنة والاغتمام بالسيئة · حديث 6989

6989 - أخبرنا الاستاذ أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر الأصبهاني نا أبو بشر يونس بن حبيب نا أبو داود نا جرير بن حازم نا عبد الملك بن عمير عن جابر بن سمرة قال : خطبنا عمر بن الخطاب بالجابية فقال : قام فينا رسول الله صلى الله عليه و سلم مقامي فيكم قال : فذكر الحديث إلى أن قال : ومن سرته حسنته وساءته سيئته فهو مؤمن

ہمیں خبر دی استاذ ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر اصفہانی نے ان کو ابو بشر یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو جریر بن حازم نے ان کو عبدالملک بن عمیر نے ان کو جائر بن سمرہ نے وہ کہتے ہیں مقام جابیہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہم لوگوں کے سامنے تقریر فرمائی اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بیچ کھڑے ہوئے تھے اسی مقام پر جہاں میں کھڑ ا ہوں اور فرمایا تھا (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے) حدیث ذکر فرمائی یہاں تک کہ فرمایا: وہ شخص جس کو اس کی نیکی سے خوشی ہو (اس کو نیکی اچھی لگے) اور برائی سے خوشی نہ ہوا (یعنی برائی اس کو بری لگے۔)وہ مومن ہے۔

ومن سرته حسنته وساءته سيئته فهو مؤمن ← الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ ← قام فينا رسول الله صلى الله عليه و سلم مقامي فيكم ← خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالْجَابِيَةِ، ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أبو بشر يونس بن حبيب ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← الْأُسْتَاذُ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Forty-sixth of the people of faith › Chapter on pleasure with good and complaining about bad · Hadith 6989

شعب الإيمان · السادس والأربعون من شعب الإيمان ‹ ـ باب في السرور بالحسنة والاغتمام بالسيئة · حديث 6990

6990 - أخبرنا أبو القاسم عبد الخالق بن علي بن عبد الخالق المؤذن أخبرنا أبو بكر بن حبيب نا أبو بكر بن العوام نا أبو عامر العقدي نا هشام الدستوائي عن يحيى بن أبي كثير عن زيد بن سلام عن جده ممطور عن أبي أمامة : أن رجلا سأل النبي صلى الله عليه و سلم ما الإيمان ؟ قال : إذا سائتك سيئاتك وسرتك حسناتك فأنت مؤمن قال : فما الإثم ؟ قال : إذا حل في صدرك شيء فدعه

ہمیں خبر دی ابو القاسم عبدالخالق بن علی بن عبد الخالق مؤذن نے ان کو خبر دی ابو بکر بن حبیب نے ان کو ابو بکر بن عوام نے ان کو ابو عامر عقدی نے ان کو ہشام دستوانی نے ان کو یحییٰ بن ابی کثیر نے ان کو زید بن سلام نے اپنے دادا ممطور سے اس نے ابو امامہ سے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ایمان کیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تیری برائیاں تجھے بری لگیں اور تیری نیکیاں تجھے اچھی لگیں پس تو مومن ہے اس نے پوچھا کہ گناہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ جب کوئی چیز تیرے دل میں کھٹکے بس اس کو چھوڑ دے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← جَدِّهِ مَمْطُورٍ، ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ الْعَوَّامِ، ← أبو بكر بن حبيب ← أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ

Shuab ul Iman · Forty-sixth of the people of faith › Chapter on pleasure with good and complaining about bad · Hadith 6990

شعب الإيمان · السادس والأربعون من شعب الإيمان ‹ ـ باب في السرور بالحسنة والاغتمام بالسيئة · حديث 6991

6991 - وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق أنا موسى بن الحسن بن عباد نا عبد الله بن بكر السهمي نا هشام الدستوائي : فذكره

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحاق نے ان کوموسیٰ بن حسن بن عیاد نے ان کو عبداللہ بن بکر سہمی نے ان کو ہشام دستوائی نے۔ اس نے مذکورہ حد یث ذکر کی۔

هشام الدستوائي فذكره ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَکْرٍ السَّهْمِيُّ ← مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-sixth of the people of faith › Chapter on pleasure with good and complaining about bad · Hadith 6991

شعب الإيمان · السادس والأربعون من شعب الإيمان ‹ ـ باب في السرور بالحسنة والاغتمام بالسيئة · حديث 6992

6992 - حدثنا محمد بن الحسن بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن أبي عثمان قال : قالت عائشة : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : اللهم اجعلني من الذين إذا أحسنوا استبشروا وإذا أساؤوا استغفروا

ہمیں حدیث بیان کی محمد بن حسن بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو علی بن زید نے ان کو ابو عثمان نے وہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: اللھم اجعلنی من الذین اذا احسوا الستبشروا واذا اساؤ وا استغفروا اے اللہ مجھے ان لوگوں میں سے بنا جو جب نیکی کرتے ہیں خوش ہو جاتے ہیں اور جب برائی کرتے ہیں تو استغفار کرتے ہیں۔

اللهم اجعلني من الذين إذا أحسنوا استبشروا وإذا أساؤوا استغفروا ← عائشة كان رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي عُثْمَانَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Forty-sixth of the people of faith › Chapter on pleasure with good and complaining about bad · Hadith 6992

شعب الإيمان · السادس والأربعون من شعب الإيمان ‹ ـ باب في السرور بالحسنة والاغتمام بالسيئة · حديث 6993

6993 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو محمد دعلج بن أحمد السجزي نا محمد بن علي بن زيد الصائغ نا سعيد بن منصور نا يعقوب بن عبد الرحمن و عبد العزيز بن محمد عن عمرو مولى المطلب عن المطلب عن أبي موسى الأشعري : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من عمل سيئة وكرهها حين يعمل وعمل حسنة فسر بها فهو مؤمن

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو محمد دعلج بن احمد سنجری نے ان کو محمد بن علی بن زید صائغ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو یعقوب بن عبدالرحمٰن نے اور عبد العزیز بن محمد نے عمرو مولیٰ مطلب سے اس نے مطلب سے اس نے ابو موسیٰ اشعری سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص برائی کا ارتکاب کرے تو اس کو برا سمجھے جب اس کا عمل کرے۔ اور نیکی کا عمل کرے تو اس سے خوش ہو وہ مومن ہے۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← الْمُطَّلِبِ ← عَمْرِو مَوْلَی الْمُطَّلِبِ ← يعقوب بن عبد الرحمن و عبد العزيز بن محمد ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ ← أَبُو مُحَمَّدٍ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-sixth of the people of faith › Chapter on pleasure with good and complaining about bad · Hadith 6993

شعب الإيمان · السادس والأربعون من شعب الإيمان ‹ ـ باب في السرور بالحسنة والاغتمام بالسيئة · حديث 6994

6994 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا هشام بن علي نا عبد الله بن عبيد بن عقيل نا عبد الله بن جعفر المديني عن عمرو بن أبي عمرو عن المطلب بن حنطب عن أبيه عن أبي موسى الأشعري : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من سرته حسنته وساءته سيئته فهو مؤمن كذا قال : عن أبيه ورواية الجماعة عن عمرو ليس فيه عن أبيه

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ہشام بن علی نے ان کو عبداللہ بن عبید بن عقیل نے ان کو عبداللہ بن جعفر مدینی نے ان کو عمرو بن ابو عمرو نے ان کو مطلب بن عبداللہ بن حنطب نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو موسیٰ اشعری نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا جس شخص کو اس کی نیکی اچھی لگے اور اس کی برائی اس کو بری لگے وہ مؤمن ہے۔ اسی طرح کہا اس نے اپنے والد سے اور جماعت کی روایت عمرو سے ہے۔ اور اس سند میں اپنے والد سے کا ذکر نہیں ہے۔

أَبِيهِ ← عمرو ليس فيه ← أبيه ورواية الجماعة ← من سرته حسنته وساءته سيئته فهو مؤمن كذا ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← أَبِيهِ ← الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْطِبٍ ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← عبد الله بن جعفر المديني ← عبد الله بن عبيد بن عقيل ← هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Forty-sixth of the people of faith › Chapter on pleasure with good and complaining about bad · Hadith 6994

شعب الإيمان · السادس والأربعون من شعب الإيمان ‹ ـ باب في السرور بالحسنة والاغتمام بالسيئة · حديث 6995

6995 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر محمد بن أحمد بن سعيد نا العباس بن حمزة نا مخلد بن عمرو البلخي نا عبد الرحمن بن محمد المحاربي نا عطاء بن السائب عن أبيه عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أربعة في حديقة قدسية في الجنة المعتصم بلا إله إلا الله لا يشك فيها ومن إذا عمل حسنة سرته وحمد الله عليها ومن إذا عمل سيئة ساءته واستغفر الله منها وإذا أصابته مصيبة قال : إنا لله وإنا إليه راجعون

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفرمحمد بن احمد بن سعید نے ان کو عباس بن حمزہ نے کو مخلد بن عمرو بلخی نے ان کو عبدالرحمٰن بن محمد عارفی نے ان کو عطاء بن سائب نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا کہ چار شخص ایسے ہیں جو جنت کے مقدس باغ میں ہوں گے۔ اس عقیدہ کو مضبوطی سے پکڑنے والا کہ اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے (معبود، مشکل کشا، ماجت روا) اس میں ذرہ برابر شک نہ کرے۔ وہ شخص جو جس وقت عمل کر کے کسی نیکی کا تو اس کو خوشی ہو اور وہ اس پر اللہ کا شکر کرے۔ اور وہ شخص جو گناہ کا عمل کرے تو اس کو برا لگے اور وہ اللہ سے استغفار کرے اس کے بارے میں اور وہ شخص کہ جب اس کو کوئی مصیبت پہنچے تو وہ یہ کہے انا للہ وانا الیہ راجعون بے شک ہم سب اللہ ہی کے لئے ہیں اور بے شک ہم اللہ ہی کی طرف واپس جانے والے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ. ← مخلد بن عمرو البلخي ← الْعَبَّاسُ بْنُ حَمْزَةَ ← أبو جعفر محمد بن أحمد بن سعيد، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-sixth of the people of faith › Chapter on pleasure with good and complaining about bad · Hadith 6995

شعب الإيمان · السادس والأربعون من شعب الإيمان ‹ ـ باب في السرور بالحسنة والاغتمام بالسيئة · حديث 6996

6996 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة من أصل كتابه أنا أبو الحسن محمد بن الحسن السراج نا الحسين بن المثنى البصري نا عفان نا حماد بن سلمة عن ثابت عن أبي عثمان عن عائشة : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه كان يقول : اللهم اجعلني من الذين إذا أحسنوا استبشروا وإذا أساؤوا استغفروا قال الحليمي رحمه الله : ومعنى هذا والله أعلم أن من عمل حسنة فسره أن وفقه الله تعالى لها ويسرها له حتى حصلت في ميزانه فجلس كما يجلس المهنئ فرحا مسرورا بما يرجوه من رحمة الله وفضله أو عمل سيئة فساءته أن خلا بالله تعالى ونفسه حتى عمل بما سوله له الشيطان وجلس كما يجلس المصاب مهموما كئيبا حزينا حياء من الله تعالى وخوفا من مؤاخذته فذلك دليل على صدق إيمانه وخلوص اعتقاده فإن الثقة بالوعد والوعيد لا يكون إلا من قوة التصديق بالله ورسوله قال أحمد رحمه الله : ولذا جاء هذا التفسير مرفوعا بلفظ موجز قال : إن المؤمن إذا عمل حسنة رجا ثوابها وإذا عمل سيئة خاف عقابها

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے اپنی اصل تحریر سے۔ ان کو ابو الحسن محمد بن حسن سران نے ان کو حسین ، بن مثنی بصری نے ان کو عفان نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ثابت نے ان کو ابو عثمان نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ فرماتے تھے۔ اے اللہ مجھے ان لوگوں میں بنا دے جس وقت وہ نیکی کریں خوش ہو جا ئیں اور جب کوئی گناہ کریں تو اللہ سے معافی مانگیں۔ شیخ حلیمی رحمہ اللہ علیہ ے فرمایا اس کا معنی یہ ہے کہ جو شخص نیکی کا عمل کرے اور اس کو خوشی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس نیکی کی توفیق دی ہے اور اس کو اسی نے اس کے لئے آسمان کیا ہے جس کے نتیجے میں اس کے ترازو میں (ثواب) حاصل ہوا ہے لہذا وہ شخص ایسے بیٹھے جیسے کوئی مبارک باد لینے والا خوش خوش بیٹھتا ہے اس لئے کہ اس کو اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کی امید ہوتی ہے۔ یا وہ شخص برا عمل کرے تو اس کو خود کو بھی برا لگے کہ اس نے اللہ کے ساتھ خلوت میں ہوتے ہوئے یہ عمل کیوں کر لیا جو شیطان نے اس کے لئے آراستہ کر دیا تھا اور وہ شخص ایسے بیٹھے جیسے کوئی مصیبت زدہ پریشاں مغموم اور گھٹا گھٹا بیٹھتا ہے اللہ تعالیٰ سے شرم کرتے ہوئے اور اس کی طرف سے مواخذے کا ڈر رکھتے ہوئے۔ تو یہ کیفیت پیدا ہو جانا اس کے سچے ایمان پر اور خلوص اعتقاد پر دلیل ہے اس لئے کہ وعد اور وعید کا یقین محض یقین اور تصدیق باللہ اور تصدیق بالرسول کی قوت سے ہوتا ہے۔ امام احمد نے فرمایا کہ اسی لئے یہ تفسیر مرفوعاً آئی ہے مختصر الفاظ کے ساتھ۔ فرمایا کہ مومن جب کوئی نیکی کا عمل کرتا ہے تو اس کے ثواب کی امید رکھتا ہے اور جب کوئی برا عمل کرتا ہے اس کے عذاب سے ڈرتا ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِي عُثْمَانَ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ

Shuab ul Iman · Forty-sixth of the people of faith › Chapter on pleasure with good and complaining about bad · Hadith 6996

شعب الإيمان · السادس والأربعون من شعب الإيمان ‹ ـ باب في السرور بالحسنة والاغتمام بالسيئة · حديث 6997

6997 - أخبرنا أبو الحسين الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا سعيد بن منصور نا خلف عن سيار عن أبي وائل قال : انطلقت أنا وأخي حتى دخلنا على الربيع بن خيثم فإذا هو جالس في مسجده فسلمنا عليه فرد علينا السلام ثم قال : ما جاء بكم ؟ قلنا جئنا لتذكر الله عز و جل ونذكره معك وتحمد الله ونحمده معك قال : فرفع يديه يقول : الحمد لله لم تقولا جئناك تشرب فنشرب معك ولا جئناك تزني فنزني معك

ہمیں خبر دی ابو الحسین فضل قطان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو خلف بن خلیفہ نے ان کو سیار نے ان کو ابو وائل نے وہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے بھائی ربیع بن خیثم کے پاس گئے وہ اپنی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ہم نے کو سلام کیا انہوں نے ہمارے سلام کا جواب دیا اس کے بعد پوچھا کہ آپ لوگ کیسے آئے؟ ہم نے کہا کہ تم اس لئے آئیں ہیں کہ آپ اللہ کا ذکر کریں گے تو ہم بھی آپ کے ساتھ ذکر کریں گے اور آپ اللہ کی حمد کریں تو ہم بھی ساتھ غند کریں گے کہتے ہیں انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور فرمایا اللہ کا شکر ہے کہ تم دونوں نے یہ نہیں کہا کہ آپ کھا ئیں گے تو ہم بھی ساتھ کھائیں گے پئیں گے تو ہم بھی آپ کے ساتھ پئیں گے۔ اور یہ بھی نہیں کہیں کہ نام اس لئے آئے ہیں کہ آپ گناہ اور بدکاری کریں گے اور ہم بھی آپ کے ساتھ کریں گے۔

أَبِي وَائِلٍ ← سَيَّارٍ، ← خلف ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أبو الحسين الفضل القطان

Shuab ul Iman · Forty-sixth of the people of faith › Chapter on pleasure with good and complaining about bad · Hadith 6997

شعب الإيمان · السادس والأربعون من شعب الإيمان ‹ ـ باب في السرور بالحسنة والاغتمام بالسيئة · حديث 6998

6998 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن ابن عجلان قال : قيل للقمان : أي الناس أغنى قال : من رضي بما أعطى قيل : فأي الناس خير ؟ قال : الغني قيل : غنى المال ؟ قال : لا ولكن الذي إذا طلب عنده خير وجد قيل : فأي الناس شر ؟ قال : الذي لا يبالي أن يراه الناس مسيئا فأما من سرته حسنته من حيث يثنى ويذكر عنه فقد جاء عن النبي صلى الله عليه و سلم يعني ما

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ابن عجلان نے وہ کہتے ہیں کہ لقمان حکیم سے پوچھا گیا کہ سب لوگوں سے زیادہ غنی کون ہے؟ فرمایا کہ جو شخص اس پر راضی ہو جائے جو کچھ اس کو ملے۔ پھر پوچھا گیا کہ سب لوگوں سے بہتر کون ہے؟ فرمایا کہ وہی جو غنی ہے۔ پوچھا گیا کہ کیا آپ کی مراد مال کے غنی سے ہے، فرمایا کہ نہیں بلکہ وہ شخص جس کے پاس سے جو بھی خیر طلب کی جائے اس کے پاس موجود ہو۔ پھر پوچھا گیا کہ بدتر انسان کون ہے؟ فرمایا کہ شخص جس کو بھی پروا نہ ہو کہ لوگ اس کو برائی کرتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ بہرحال وہ شخص جس کو اس کی نیکی اچھی لگے اس حیثیت سے کہ اس کی تعریف کی جائے اور اس کا تذکرہ ہو تو اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے (جو آگے مذکور ہے۔)

الذي لا يبالي ← لا ولكن الذي إذا طلب عنده خير وجد قيل فأي الناس شر ← الغني قيل غنى المال ← من رضي بما أعطى قيل فأي الناس خير ← قيل للقمان أي الناس أغنى ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Forty-sixth of the people of faith › Chapter on pleasure with good and complaining about bad · Hadith 6998

شعب الإيمان · السادس والأربعون من شعب الإيمان ‹ ـ باب في السرور بالحسنة والاغتمام بالسيئة · حديث 6999

6999 - حدثنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي إملاء أنا عبد الله بن محمد بن الحسن الشرقي نا عبد الله بن هاشم نا وكيع نا شعبة عن أبي عمران الجوني عن عبد الله بن الصامت عن أبي ذر أنه قال : يا رسول الله أرأيت الرجل يعمل لله العمل يحبه الناس عليه ؟ قال : تلك عاجل بشرى المؤمن رواه مسلم عن أبي بكر و إسحاق عن وكيع

ہمیں حدیث بیان کی ابو الحسن محمد بن حسین بن داؤد علوی نے بطور املا ء کے ان کو عبداللہ بن محمد بن حسن شرقی نے ان کو عبداللہ بن ہاشم نے ان کو وکیع نے ان کو شعبہ نے ان کو ابو عمران جونی نے ان کو عبداللہ بن صامت نے ان کو ابو ذر نے وہ کہتے ہیں کہ یا رسول اللہ اس آدمی کے بارے میں بتائیے جو اللہ کے لئے عمل کرتا ہے کہ اس پر لوگ بھی اس کو پسند کریں ؟ فرمایا: یہ شخص مؤمن کی خریداری کے ساتھ جلدی کرنے والا ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ابو بکر سے اور اسحاق سے اس نے وکیع سے۔

أَبِي ذَرٍّ أَنَّهُ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ ھَاشِمٍ، ← عبد الله بن محمد بن الحسن الشرقي ← أبو الحَسَن محمد بن الحُسَين بن داود العلوي إملاء

Shuab ul Iman · Forty-sixth of the people of faith › Chapter on pleasure with good and complaining about bad · Hadith 6999

شعب الإيمان · السادس والأربعون من شعب الإيمان ‹ ـ باب في السرور بالحسنة والاغتمام بالسيئة · حديث 7000

7000 - وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أحمد بن سلمان الفقيه نا عبد الملك بن محمد الرقاشي نا عبد الصمد بن عبد الوارث نا شعبة وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر بن إسحاق الفقيه نا إسماعيل بن قتيبة نا يحيى بن يحيى أنا حماد بن زيد جميعا عن أبي عمران الجوني عن عبد الله بن الصامت عن أبي ذر قال : قيل لرسول الله صلى الله عليه و سلم : أرأيت الرجل يعمل العمل الصالح والناس يحمدونه على ذلك ؟ قال : تلك عاجل بشرى المؤمن في الدنيا رواه مسلم عن يحيى بن يحيى وعن محمد بن المثنى عن عبد الصمد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو عبدالملک بن محمد رقاشی نے ان کو عبدالصمد بن عبد الوارث نے ان کو شعبہ نے اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر بن اسحاق فقیہ نے ان کو اسماعیل بن قتیبہ نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو حماد بن زید نے سب نے ابو عمران جونی سے اس نے عبداللہ بن صامت سے اس نے ابو ذر سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا۔ آپ اس شخص کے بارے میں فرمائیے جو شخص عمل صالح کرتا ہے اور لوگ اس پر تعریف کرتے ہیں اس کی ؟ فرمایا کہ شخص مومن کی خریداری کے ساتھ دنیامیں جلدی کرنے والا ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے یحییٰ بن یحییٰ سے اور محمد بن مثنی سے اس نے عبدالصمد سے۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ جَمِيعًا ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-sixth of the people of faith › Chapter on pleasure with good and complaining about bad · Hadith 7000

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood