شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6890
6890 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي أنا ابن أبي الدنيا أنا علي ابن أبي مريم قال : سئل بعض العلماء عن الزهد فقال : من أدنى الزهد أن يعقد أحدكم في منزله فإن كان قعوده لله رضا وإلا خرج ويخرج فإن كان إخراجه لله رضا وإلا رجع فإن كان رجوعه لله رضا وإلا حسبه ويحسبه فإن كان حسبه لله رضا وإلا تكلم فقيل هذا صعب فقال : هذا هو الطريق إلى الله وإلا فلا تعلنوا قال : وأنا ابن أبي الدنيا نا عبد الملك بن عقاب الليثي قال : رأيت عامر بن عبد قيس في المنام فقلت : أي الأعمال وجدت أفضل ؟ قال : ما أريد به وجه الله عز و جل
ہمیں خبر دی ابو محمد عبداللہ بن یوسف نے ان کو ابو سعید اعرابی نے ان کو ابن ابو الدنیا نے ان کو علی بن ابی مریم نے وہ کہتے ہیں کہ بعض علماء سے زہد کے بارے میں سوال کیا گیا تھا کہ وہ کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ سب سے کم تر زہدیہ ہے کہ ایک آدمی اپنے گھر میں بیٹھ جائے (ترک دنیا کر کے) اگر اس کے بیٹھنے میں اللہ کی رضا ہو گی تو ٹھیک ورنہ وہ نکل آئے گا اور اللہ اس کو نکال دے گا (گھر سے باہر) اب اگر اس کو نکالنا اللہ کو پسند ہوا تو ٹھیک ہے ورنہ۔ واپس گھر میں لوٹ جائے اب اگرلوٹ جائے میں اس کی رضا ہو تو ٹھیک ہے ورنہ اس کو بند کر دے گا اگر اسی میں اللہ کی رضا ہوتی تو ٹھیک ورنہ کلام کرے۔ چنانچہ کہا گیا کہ یہ تو سخت مشکل ہے۔ فرمایا کہ یہی راستہ ہے اللہ کی طرف اور نہ تم لوگ اعلان و اظہار نہ کرو۔ کہتے ہیں کہ کہا ابن ابو الدنیا نے ان کوعبدالملک بن عقاب لیثی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رامر بن قیس کو دیکھا خواب میں تو میں نے کہا کہ تم نے کون سے عمل کو فضل یایا ؟فرمایا کہ جس کے ساتھ اللہ کی رضا کا ارادہ کیا جائے۔
من أدنى الزهد ← الزهد ← سُئِلَ بَعْضُ الْعُلَمَاءِ ← علي ابن أبي مريم ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ
Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6890
