Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6878

6878 - وأخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت محمد بن الحسن البغدادي يقول : سمعت جعفرا يقول : سمعت الجريري يقول : سمعت سهلا يقول : نظر الأكياس في تفسير الإخلاص فلم يجدوا غير هذا أن يكون حركاته وسكوته في سره وعلانيته لله وحده لا شريك له لا يمازحه شيء نفس ولا هوى ولا دنيا

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے اس نے سنا محمد بن حسن بغدادی سے انہوں نے سنا جعفر ہے۔اس نے جریری سے اس نے سہل سے انہوں نے فرمایا کہ داناؤں نے اور عقلمندوں نے اخلاص کی تفسیر کے بارے میں غور کیا تو انہوں نے اس کے سوا نہیں پائی کہ بندے کی تمام حرکات وسکنات خواہ وہ خلوت میں ہوں یا جلوت میں صرف اللہ وحدہ لاشریک کے لئے ہوں جس میں کسی شئی کی ملاوٹ نہ ہو نہ نفس کی نہ ہوا وہوس کی نہ دنیا کی۔

سهلا ← الْجُرَيْرِيِّ، ← جَعْفَرًا ← محمد بن الحسن البغدادي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6878

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6879

6879 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت علي بن بندار يقول : سمعت عبد الله بن محمود يقول : سمعت محمد بن عبد ربه يقول : سمعت الفضيل يقول : ترك العمل من أجل الناس رياء والعمل من أجل الناس شرك والإخلاص أن يعافيك الله عنهما

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے اس نے سناعلی بن بندار سے انہوں نے سنا عبداللہ بن محمود سے انہوں نے محمد بن عبدالبر سے انہوں نے سنا فضیل بن عیاض سے انہوں نے فرمایا لوگوں کی وجہ سے عمل کو چھوڑ دینا ریاکاری ہے۔ اور لوگوں کی وجہ سے عمل کرنا شرک ہے اور اخلاص یہ ہے اللہ آپ کو ان دونوں سے بچا لے۔

الْفُضَيْلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَحْمُودٍ ← علي بن بندار ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6879

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6880

6880 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت أبا الحسين الفارسي يقول : سمعت فارسا يقول : سمعت يوسف بن الحسين يقول : سمعت ذا النون يقول : الإخلاص نفي المعارضة في السر والعلانية حتى لا يداخله في الخلق رياء ولا يزين عمله من أجلهم ولا يداخله من نفس عجب ولا استكبار

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے انہوں نے سنا ابو الحسین فارسی سے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا فارس سے انہوں نے سنا یوسف بن حسین سے انہوں نے سنا ذوالنون سے وہ کہتے ہیں کہ خلوت میں اور جلوت میں معاوضہ کی نفی کرنا اخلاص ہے اس قدر کہ نہ تو اس میں مخلوق کے لئے ریاکاری کو داخل ہونے دے۔ نہ ان کے عمل کو اچھا کرے اور نہ اس میں اپنے نفس کی طرف سے خود پسندی اور بڑائی کرنے کو داخل ہونے دے۔

ذَا النُّونِ، ← يُوسُفُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← فَارِسًا، ← أَبَا الْحُسَيْنِ الْفَارِسِيَّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6880

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6881

6881 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : كان أبو عثمان السمرقندي كثيرا يقول : قال : لي أستاذي أبو عثمان إنك تنسب إلى الرياء والسمعة وكل شيء في كثرة صلاة فلا ينال به ولا تدع عادتك فيها

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ ابو عثمان سمرقندی اکثریہ کہتے تھے۔ کہ میرے استاذ ابو عثمان نے مجھ سے کہا تو ریاکاری اور شہرت پسندی کی طرف منسوب کیا جائے کا حالانکہ ہر چیز کثرت نماز میں ہے۔ جو نہ بھی حاصل ہوتی ہو (یا مشکل الحصول ہو) لہٰذا اس کی عادت بنا اس کی عادت کو ترک نہ کر۔

كان أبو عثمان السمرقندي كثيرا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6881

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6882

6882 - وأخبرنا أبو بكر القاضي أنا حاجب بن أحمد نا محمد بن حماد نا أبو معاوية عن الأعمش عن خثيمة عن الحارث بن قيس قال : إذا كنت في شيء من أمر الدنيا فتوخ وإذا كنت في شيء من أمر الآخرة فامكث ما استطعت وإذا جاءك الشيطان وأنت تصلي فقال إنك ترئي فزد وأطل

ہمیں خبر دی ابو بکر قاضی نے ان کو صاجب بن احمد نے ان کو محمد بن حماد نے جب تو کسی دنیوی معاملے میں مصروف ہو تو جلدی کر اور جب تو کسی دینی معاملے میں ہو تو رک جا شہر جا، جس قد راستطاعت ہو اور جب تیرے پاس شیطان آ جائے اور تو نماز پڑھ رہا ہو اور وہ کہے کہ تو تو ریاکاری کر رہا ہے تو تم اور زیادہ کرو اور لمبی کر دو۔

الْحَارِثِ بْنِ قَيْسٍ ← خُثَيْمَةَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ، ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6882

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6883

6883 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا عبد الله بن أحمد بن سعد الحافظ نا أبو عبد الله البوشنجي نا ابن عائشة نا إبراهيم بن حبيب بن الشهيد وأثنى عليه ابن عائشة قال وكان ثقة : نا عوف قال : سمعت محمد بن سيرين يقول : ما أراد رجل من الخير شيئا إلا سار في قلبه سوارته فإذا كانت الأولى فلا تهدينك الآخرة قال إبراهيم بن حبيب فحدثت به أبي فقال : كان الحسن يقوله

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو عبداللہ بن احمد بن سعد حافظ نے ان کو ابو عبداللہ بوشنجی نے ان کو ابن عائشہ نے ان کو ابراہیم بن حبیب بن شہید نے اور اس پر ابن عائشہ نے تعریف کی ہے فرمایا کہ وہ ثقہ تھا ان کو خبر دی عوف نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن سیرین سے وہ کہتے ہیں کہ جب بھی کوئی آدمی خیر میں سے کسی شئی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے دل میں خفیہ وسوسے آنے لگتے ہیں لہٰذا تجھے پہلا آ جائے تو آخری تجھے سست اور ڈھیلا نہ کر دے۔

أثنى عليه ابن عائشة ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ← ابْنُ عَائِشَةَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبُوشَنْجِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعْدٍ الْحَافِظُ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6883

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6884

6884 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو الحسن الكازري أنا علي بن عبد العزيز عن أبي عبيد قال : سمعت ابن عدي يحدث عن عوف عن الحسن قال : ما من أحد عمل عملا إلا سار في قلبه سورتان فإذا كانت الأولى مهما فلا تهيدنه الآخرة قال : أبو عبيد يقول : لا يصرفنه عن ذلك ولا يزيله والذي أراد ما يريد الحسن بقوله فلا تهيدنه الآخرة يقول : إذا يقول : إذا صحت نيته في الأول ما يريد الأمر من البر فعرض له الشيطان فقال : إنك تريد بهذه الرياء فلا يمنعنه من ذلك الأمر الذي قد تقدمت فيه نيته وهذا شبيه بالحديث الآخر إذا أتاك الشيطان وأنت تصلي فقال : إنك ترائي فزدها طولا

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابو الحسن کا رزی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو ان کے والد عبید نے انہوں نے سنا ابن عدی سے وہ حد یث بیان کرتے ہیں عوف سے وہ حسن سے وہ کہتے ہیں کہ جو بھی شخص کوئی عمل کرتا ہے تو اس کے دل میں کئی کئی اندیشے اور شکوک داخل ہو جاتے ہیں جب پہلا واقع ہو جائے ان میں سے تو اس کو آخری سست اور بے ہمت نہ بنادے۔ اور ابو عبید نے کہا کہ اس سے مراد ہے کہ وہ اس کونہ تو اس سے ہٹا سکے اور نہ اس کو ختم کر سکے۔ اور وہ چیز جو حسن بصری نے مراد لی ہے اپنے اس قول سے کہ فلا تھبیلنہ الاٰخرۃ وہ کہنا چاہتے ہیں کہ جب اس کی نیت پہلے میں صحیح ہو گی۔اس میں جواس نے نیکی کرنے کا ارادہ کیا ہے اور شیطان آڑے آئے گا اور وہ کہے گا کہ تو تو اس عمل سے ریا کاری کر رہا ہے تو شیطان کا اس کو یہ کہنا اس نیکی سے اس کو نہ روک دے جس میں پہلے سے نیت کر چکا ہے۔ یہ قول ایک دوسری حدیث کے مشابہ ہے کہ جب تیرے پاس شیطان آئے اور تو نماز میں ہو اور وہ یہ وسوسہ پیدا کرے کہ تو تو ریاکاری کر رہا ہے۔ پس اس کو چاہئے کہ دو اور زیادہ پڑھے اور لمبی پڑھے۔

الْحَسَنِ، ← عَوْفٌ، ← ابن عَدِيّ ← اَبِیْ عُبَیْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْحَسَنِ الْكَازِرِيُّ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6884

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6885

6885 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو نصر محمد بن أحمد بن عمر قال : سمعت أبا عثمان سعيد بن إسماعيل يقول : صدق الإخلاص نسيان رؤية الخلق لدوام النظر إلى الخالق والأخلاص أن تريد بقلبك وبعملك وعلمك وفعلك رضا الله تعالى خوفا من سخط الله كأنك تراه بحقيقة علمك بأنه يراك حتى يذهب الرياء عن قلبك ثم تذكر منه الله عليك إذا وفقك لذلك العمل حتى يذهب العجب من قلبك وتستعمل الرفق في عملك حتى تذهب العجلة من قلبك وقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما جعل الرفق في شيء إلا زانه وما نزع من شيء إلا شانه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو نصیر محمد بن احمد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو عثمان سعید بن اسماعیل سے وہ کہتے ہیں کہ اخلاص کی سچائی، مخلوق کی طرف سے ان کی طرف دیکھنے کو بھول جاتا ہے۔ بوجہ خالق کی طرف دوام نظر کے اور اخلاص یہ ہے کہ تم اپنے عمل، فعل، علم اور قلب کے ساتھ صرف اللہ کی رضا کا ارادہ کرو اللہ کی ناراضگی کے خوف سے۔ گویا کہ آپ اس کو اپنے علم کی حقیقت سے دیکھ رہے ہیں بایں طور کہ وہ آپ کو دیکھ رہا ہے یہاں تک کہ تیرے دل سے ریا چلا جائے اس کے بعد تو اپنے اوپر اللہ کے احسان کو یاد کر لے کہ اس نے تجھے اس عمل کی توفیق دی ہے۔ یہاں تک کہ تیرے دل سے خود پسندی چلی جائے اور اپنے عمل میں رفق اورنرمی کو استعمال کر یہاں تک کہ تیرے دل سے عجلت اور جلد بازی چلی جائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ جس چیز میں رفق شامل ہو جاتا ہے وہ اس کو خوبصورت بنا دیتا ہے۔ اور جس چیز سے نرمی نکل جاتی ہے اس کو عیب دار کر دیتی ہے۔

أَبَا عُثْمَانَ سَعِيدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ ← أبو نصر محمد بن أحمد بن عمر ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6885

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6886

6886 - قال أبو عثمان : والعجلة اتباع الهوى والرفق اتباع السنة فإذا فرغت من عملك وجل قلبك خوفا من الله أن يرد عليك عملك فلا يقبله منك قال الله تعالى : { والذين يؤتون ما آتوا وقلوبهم وجلة أنهم إلى ربهم راجعون } من جمع هذه الخصال الأربعة كان مخلصا في عمله إن شاء الله

ابو عثمان نے کہا: عجلت اتباع ہوا ہے اور رفق اتباع سنت ہے جب آپ اپنے عمل سے فارغ ہوں گے تو آپ کا دل اللہ کے خوف سے کانپ اٹھے۔ کہ کہیں وہ تیرا عمل تیرے اوپر رد نہ کر دے اور وہ اس کو تجھ سے ہٹا نہ سے ارشاد باری تعالیٰ ہے: والذین یؤتون ماتوا وقلوبھم وجلۃ انھم الی ربھم راجعون وہ لوگ ہیں جو عطا کئے جاتے ہیں جوانہوں نے عمل کیا حالانکہ ان کے دل کانپ رہے ہوتے ہیں کہ دو اپنے رب کی طرف جانے والے ہیں۔ جو شخص یہ چاروں خصال جمع کر لے وہ انشاءاللہ اپنے عمل میں خالص ہو گا۔

أَبُو عُثْمَانَ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6886

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6887

6887 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا جعفر بن محمد بن نصير نا أبو محمد الجريري قال سهل بن عبد الله التستري : لم يتخلص من هذه الثلاثة إلا صديق : العجب والذكر والدعوى ولم يتخلص منها إلا عرف نعم الله عليه في مسالك الروح وعرف تقصيره في أداء الشكر فمن كان هكذا سلم قال : وأنا جعفر الخلدي قال : سمعت الخواص يقول : العجلة تمنع من إصابة الحق قال : وأنا جعفر قال : سمعت إبراهيم الخواص يقول : الناس يروني وإما أعمل وإما أتكلف من الشدة وركوب الأمور الصعبة وحملي على نفسي يظنون أني أعمل في رفع الدرجات وإنما أعمل في فكاك رقبتي من الله أو كما قال : وسمعت إبراهيم يقول : لو علم الناس كيفية ذل العارف في نفسه لرجموه بالحجارة ولو عرفوا كيفية عزته عند الله لعبدوه من دون الله

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو جعفر بن محمد بن نصیر نے ان کو ابو محمد جریری نے ان کو سہل بن عبداللہ تستری نے ان تین حصال سے کوئی چھٹکارا نہیں پاسکتا سوا صدیق کے، عجب اور خود پسندی تذکرہ کرنا اور دعویٰ کرنا اور نہیں چھٹکارا پا سکتا ان سے مگر جو اپنے اوپر اللہ کی نعمتوں کو جانے مسالک روح میں اور اپنی کوتاہی کو جانے ادا کریں۔ جو شخص ایسا بن جائے وہ بچ جائے گا۔ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی جعفر خلدی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا۔ ابراہیم خواص سے وہ کہتے تھے کہ عجلت مانع ہوتی ہے اصابت حق سے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے جعفر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابراہیم خواص سے وہ کہتے ہیں کہ لوگ مجھ کو دیکھتے ہیں اور میں یا تو عمل کرتا ہوں یا تکلف کرتا ہوں سختی کی وجہ سے اور مشکل امور کے کرنے کی وجہ سے اور میرے نفس پر میرے بوجھ ڈالنے کی وجہ سے وہ گمان کرتے ہیں کہ میں ترقی درجات میں عمل کرتا ہوں حالانکہ میں تو سیدھی بات پوچھو تو اللہ سے اپنی گردن چھٹرانے ہی کے لئے عمل کرتا ہوں یا جیسے انہوں نے فرمایا۔ اور میں نے سنا ابراہیم خواص سے فرماتے تھے کہ اگر لوگ عارف کی عاجزی وذلت کی حالت کو جان لیں تو اس کو پتھر مار کر ہلاک کر دیں اور اگر اللہ کے نزدیک اس کی عزت اور اس کے مقام کو پہچان لیں تو اللہ کے سوا اس کی عبادت شروع کر دیں۔

أبو محمد الجريري ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6887

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6888

6888 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا جعفر بن محمد قال : سمعت أبا محمد الجريري يقول : سمعت سهل بن عبد الله يقول : لا يعرف الرياء إلا مخلص ولا يعرف النفاق إلا مؤمن ولا يعرف الجهل إلا عالم ولا يعرف المعصية إلا مطيع قال : وسمعت سهل بن عبد الله يقول : اجتهد أهل العلم والمعرفة في ترك الإثم في سرهم وعلانيتهم فأدخل الله عليهم الضراء والنفع والنصب فأسلموا الأمر إلى الله تعالى فاستغنوا بالله عمن سواه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو جعفر بن محمد نے انہوں نے سنا ابو محمد جریری سے انہوں نے سنا سہل بن عبداللہ سے وہ فرماتے ہیں کہ ریاکاری کو مخلص ہی پہچانتا ہے نفاق کو مومن ہی پہنچانتا ہے۔ جہالت کو عالم ہی پہچانتا ہے۔ معصیت کو اطاعت شعار ہی پہچانتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سہل بن عبداللہ سے وہ کہتے تھے کہ اہل علم اور اہل معرفت خلوت میں اور جلوت میں گناہوں کو ترک کر دینے کی کوشش کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان پر نفع اور نقصان اور مشقت بھیج دیتے ہیں لہٰذا وہ معاملہ اللہ کے سپرد کر دیتے ہیں لہٰذا جس سے واللہ کے ماتھے اس کے ماسوا سے بے پرواہ ہو جاتے ہیں۔

سَهْلَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، ← أبا محمد الجريري ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6888

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6889

6889 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا عمر بن مدرك البامي نا عيد السلام بن مطين نا سليمان بن المغيرة عن يونس بن عبيد قالا : لا يزال العبد بخير ما علم الذي يفسد عليه عمله

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو عمر بن مدرک الیامی نے ان کو عبدالسلام بن مطین نے ان کو سلیمان بن مغیرہ نے ان کو یونس بن عبید نے وہ کہتے ہیں کہ بندہ ہمیشہ خیر کے ساتھ رہتا ہے جب تک و واس چیز کو جان لے جو اس کے عمل کو خراب کرتی ہے۔

لا يزال العبد بخير ما علم الذي يفسد عليه عمله ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← عيد السلام بن مطين ← عمر بن مدرك البامي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6889

chevron_left Previous
1…678…16
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood