Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6866

6866 - أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري نا جدي يحيى بن منصور نا عمر بن حفص السدوسي نا عاصم بن علي نا أبو الأشهب عن الحسن في : قوله تعالى : { لا يذكرون الله إلا قليلا } قال : إنما قل لأنه لغير الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابو صالح بن ابو طاہر عنبری نے ان کو ان کے دادا یحییٰ بن منصور نے ان کو عمر بن حفص سدوسی نے ان کو عامر بن علی نے ان کو ابو الاشہب نے ان کو حسن نے اللہ کے اس قول کے بارے میں لایذکرون اللہ الا قلیلاً نہیں یاد کرتے اللہ کو مگر بہت کم۔ فرمایا کہ وہ قلیل اس لئے ہے کہ وہ غیر اللہ کے لئے ہے۔

إنما قل لأنه لغير الله عز و جل ← الحسن في قوله تعالى لا يذكرون الله إلا قليلا ← أَبُو الْأَشْهَبِ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ ← جَدِّيَ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ← أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6866

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6867

6867 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا جعفر بن محمد الخلدي أنا أبو محمد الجريري قال : سمعت سهل بن عبد الله التستري قال : الدنيا كلها جهل موات إلا العلم منها والعلم كله حجة على الخلق إلا العمل به والعمل كله هباء إلا الإخلاص منه والإخلاص خطب عظيم لا يعرفه إلا الله عز و جل حتى يصل الإخلاص بالموت

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو جعفر بن محمد خلدی نے ان کو ابو محمد جریری نے انہوں نے سنا سہل بن عبداللہ تستری سے انہوں نے فرمایا: ساری دنیا جاہل ہے مروہ ہے سوائے علم کےاور علم سب کا سب خلوق کے خلاف حجت ہے سوا اس کے ساتھ عمل کے (یعنی صرف وہ علم جس پر عمل بھی کیا جائے) اور عمل سب کا سب مثل غبار کے ہے سوائے اخلاص کے اس میں سے اور اخلاص امر عظیم ہے جس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں سمجھ سکتا یہاں تک کہ اخلاص موت سے ملا دے۔

سَهْلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التُّسْتَرِيُّ ← أبو محمد الجريري ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَلَدِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6867

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6868

6868 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر بن عبد العزيز قال : سمعت يوسف بن الحسين يقول سمعت ذا النون المصري يقول : الناس كلهم موتى إلا العلماء والعلماء كلهم نيام إلا العاملون والعاملون كلهم يغترون إلا المخلصين والمخلصون على خطر عظيم قال الله عز و جل : { ليسأل الصادقين عن صدقهم }

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن عبدالعزیز نے وہ کہتے ہیں کہ اس نے سنا یوسف بن حسین سے وہ کہتے ہیں کہ اس نے سناؤ ذوالنون مصری سے وہ کہتے ہیں کہ لوگ سب کے سب مردہ ہیں سوائے علماء کے اور علماء سب کے سب نیند میں ہیں سوائے عمل کرنے والوں کے اور عمل کرنے والے سارے فریب خوردہ ہیں سوائے مخلص لوگوں کے اور اخلاص والے ایک عظیم امر پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: لیسأل الصادقین عن صدقھم تاکہ مسیحوں سے ان کی سچائی کے بارے میں پوچھ لے۔

ذَا النُّونِ الْمِصْرِيَّ ← يُوسُفُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أبو بكر بن عبد العزيز ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6868

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6869

6869 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا بكير بن الحداد الصوفي بمكة نا أبو عمر محمد بن الفضل بن سلمة نا سعيد بن زنبور قال : سمعت فضيل بن عياض يقول : إن الله تعالى لا يقبل من العمل إلا ما كان خالصا ولا يقبله إذا كان خالصا له إلا على السنة سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول سمعت أحمد بن محمد بن إبراهيم النسوي يقول : سمعت أبا جعفر الفريابي يقول : سألت الجنيد ما الظرف قال : استعمال كل خلق سني واجتناب كل خلق دنيء وأن يخلص العبد العمل لربه لا يرى عمله

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے کو بکیر بن حداد صوفی نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابو عمر محمد بن فضل بن سلمہ نے ان کو سعید بن زنبور نے انہوں نے سنا فضیل بن عیاض سے وہ کہتے ہیں کہ بے شک اللہ تعالیٰ عمل میں سے وہی چیز قبول کرتا ہے جو خالص ہو اور خالص کو بھی اس وقت قبول کرتا ہے جبکہ وہ سنت اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق ہو۔ میں نے سنا ابو عبدالرحمٰن سلمی سے اس نے احمد بن محمد بن ابراہیم نسوی سے انہوں نے سنا ابو جعفر فریابی سے اس نے پوچھا جنید بغدادی سے کہ ظرف کیا ہے انہوں نے فرمایا کہ سب مخلوق کو استعمال کرنا عظمت ہے اور پوری مخلوق سے علیحدہ ہونا کمینگی ہے اور یہ کہ بندہ اپنے عمل کو اپنے رب کے لئے خالص کر دے اپنے عمل کو نہ دیکھے۔

فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← سَعِيدُ بْنُ زُنْبُورٍ، ← أبو عمر محمد بن الفضل بن سلمة ← بكير بن الحداد الصوفي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6869

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6870

6870 - أخبرنا عبد الرحمن السلمي قال : سمعت سعيد بن أحمد البلخي سمعت أبي يقول : محمد بن عبد الله يقول : سمعت خالي محمد بن الليث يقول : سمعت حامدا اللفاف يقول سمعت حاتم الأصم يقول : سمعت شقيقا يقول : إن الله عز و جل يسأل عبده عن حفظ الأمر والنهي يوم القيامة وينجيهم بالإخلاص

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے اس نے سنا سعید بن احمد بلخی سے وہ کہتے ہیں اس نے سنا اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ محمد بن عبداللہ سے اس نے اپنے ماموں محمد بن لیث سے اس نے حامد لفاف سے اس نے حاتم اصم سے اس نے سنا شقیق سے وہ کہتے ہیں کہ بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے پوچھے گا امر اور نہی کی حفاظت کرنے کے بارے میں قیامت کے دن۔ اور ان کو نجات دے گا اخلاص کے ساتھ۔

حفظ الأمر والنهي يوم القيامة وينجيهم بالإخلاص ← إن الله عز و جل يسأل عبده ← شَقِيقًا ← حَاتِمٌ الْأَصَمُّ، ← حامدا اللفاف ← خالي محمد بن الليث ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبِي ← سعيد بن أحمد البلخي ← عبد الرحمن السلمي

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6870

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6871

6871 - وبإسناده قال : قال حاتم : اطلب نفسك في أربعة أشياء العمل الصالح بغير رياء والأخذ بغير طمع والعطاء بغير منة والإمساك بغير بخل سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول : سمعت منصور بن عبد الله يقول : قال : محمد بن علي الترمذي ليس الفوز هناك بكثرة الأعمال إنما الفوز هناك بإخلاص العمل وتحسينه قال : قال محمد بن علي : من شرائط الخدام التواضع والإستسلام

اسی اسناد کے ساتھ کہا ہے کہ حاتم نے کہا تھا چار چیزوں کے اندر اپنے نفس کو تلاش کیجئے عمل صالح ریاء کے بغیر۔ لینا بغیر طمع و لالچ کے۔دنیابغیر منت واحسان کے۔ اور روک لینا بغیر بخل کے۔ وہ کہتے ہیں میں نے سنا ابو عبدالرحمٰن سلمی سے اس نے منصور بن عبداللہ سے وہ کہتے تھے۔ کہ محمد بن علی ترمذی نے کہا وہاں کامیابی کثرت اعمال کے ساتھ نہیں ہو گی بلکہ وہاں کامیابی اخلاص عمل اور حسین عمل میں ہو گی۔ اور محمد بن علی نے کہا کہ خدام کی شرائط میں سے ہے عاجزی کرنا اور سلام کرنا۔

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6871

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6872

6872 - أخبرنا أبو سعد الماليني نا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبد الرحمن الفهري نا أبو بشر عيسى بن إبراهيم قال : قال سهل بن عبد الله : اطلبوا من السر النية بالإخلاص ومن العلانية الفعل بالاقتداء وغير ذلك مغاليط

ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو ابو الحسن علی بن احمد بن عبدالرحمٰن نے ان کو ابو بشر عیسیٰ بن ابراہیم نے وہ کہتے ہیں کہ سہل بن عبداللہ نے کہا پوشیدہ رہنے سے اخلاص نیت سیکھو علانیہ اور ظاہر سے کسی کی اقتدار اور اتباع کا فعل سیکھو۔ اور اس کے علاوہ سب غلط ہے۔

أبو بشر عيسى بن إبراهيم ← أبو الحسن علي بن أحمد بن عبد الرحمن الفهري ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6872

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6873

6873 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس الأصم أنا العباس بن الوليد أخبرني أبي حدثني الضحاك قال : سمعت بلال بن سعد يقول : عباد الرحمن إن العبد ليقول قول مؤمن فلا يدعه الله وقوله حتى ينظر في عمله وإن كان قوله قول مؤمن وعمله عمل مؤمن لم يدعه الله حتى ينظر في ورعه وإن كان قوله قول مؤمن وعمله عمل مؤمن وورعه ورع مؤمن لم يدعه الله حتى ينظر ما نوى به فإن صلحت النية فبالحري أن يصلح دونه المؤمن يقول ولا يتبع قوله عمله والمنافق يقول بما يعرف ويعمل بما ينكر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو عباس بن ولید نے ان کو خبر دی میرے والد نے ان کو ضحاک نے وہ کہتے ہیں۔ میں نے سنا بلال بن سعد سے وہ کہتے ہیں کہ اے رحمٰن کے بندو! بے شک بندہ البتہ قول کرتا ہے مؤمن والی بات اللہ اس کوبھی اور اس کے قول کو بھی نظر انداز نہیں کرتا بلکہ اس کے عمل کو دیکھتا ہے اگر اس کا قول بھی مؤمن والا ہے اور عمل بھی مؤمن والا ہے، تو پھر بھی اس کو ایسے نہیں چھوڑ تے بلکہ اس کے ورع کو اور پرہیزگاری کو دیکھتے ہیں۔ اگر اس کا قول بھی مؤمن والا ہے عمل بھی مؤمن والا ہے اور تقوی ٰ بھی مؤمن والا ہے تو وہ پھر بھی اس کو نظر انداز نہیں کرتے حتٰی کہ یہ دیکھتے ہیں کہ اس کی نیت کیا ہے اگر نیت بھی درست ہوتی ہے تو وہ اس لائق ہے کہ اس کے علاوہ بھی درست ہو۔ مؤمن جو بات کرتا ہے تو اس کا قول اس کے عمل کے تابع نہیں ہوتا۔ (بلکہ عمل قول کے تابع ہوتا ہے یعنی جو کچھ کرتا ہے وہی کچھ کہتا ہے) اور منافق وہی کچھ کہتا ہے جو کچھ وہ جانتا ہے اور عمل وہ کرتا ہے جس کا وہ خود بھی انکار کرتا ہے۔

بِلَالِ بْنِ سَعْدٍ، ← الضَّحَّاكُ، ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6873

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6874

6874 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي نا عبد الرحمن بن مهدي نا سفيان عن عبد العزيز بن رفيع عن أبي تمامة الصائدي قال : قال الحواريون لعيسى ابن مريم عليه السلام ما المخلص لله ؟ قال : الذي يعمل لله عز و جل ولا يحب أن يحمده الناس عليه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو سعید بن ابو عمرو نے دونوں نے کہا ان کو خبر دی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے ان کو سفیان نے ان کو عبدالعزیز بن رفیع نے ان کو ابو تمامہ صائدی نے وہ کہتے ہیں کہ حواریوں نے عیسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا۔ اللہ کے لئے خاص عمل کرنے والا کون ہوتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ جو شخص محض اللہ کے لئے عمل کرے اور یہ بات پسند نہ کرے کہ اس عمل پر لوگ بھی اس کی تعریف کریں۔

الذي يعمل لله عز و جل ولا يحب أن يحمده الناس عليه ← الحواريون لعيسى ابن مريم ما المخلص لله ← أبي تمامة الصائدي ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6874

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6875

6875 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عمرو بن السماك نا الحسين بن عمرو قال سمعت بشرا يقول : سمعت معتمرا يقول : قال عيسى ابن مريم عليه السلام : العمل الصالح الذي لا تحب أن يحمدك الناس عليه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عمرو بن سماک نے ان کو حسین بن عمر نے انہوں نے سنا بشر سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا معتمر سے وہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے فرمایا کہ عمل صالح وہ ہے کہ جس کے بارے میں تم یہ پسند نہ کرو کہ لوگ تمہاری تعریف کریں۔

عيسى ابن مريم العمل الصالح الذي لا تحب أن يحمدك الناس عليه ← معتمرا ← بِشْرًا ← الحسين بن عمرو ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6875

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6876

6876 - حدثنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني نا منصور بن محمد بن إبراهيم قال : سمعت جعفر بن محمد يقول : سمعت الكتاني قال : سمعت أبا حمزة يقول : وقد سئل عن الإخلاص فقال : الخالص من الأعمال ما لا يحب أن يحمده عليه إلا الله عز و جل

ہمیں حدیث بیان کی ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو منصور بن احمد بن ابراہیم نے ان کو جعفر بن محمد نے انہوں نے سنا الکتانی سے انہوں نے سنا ابو حمزہ سے وہ کہتے تھے کہ ان سے اخلاص کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا اعمال میں سے خالص وہ ہے جس کے بارے میں کرنے والا یہ پسند نہ کرے کہ اس کے کرنے پر اس کی تعریف کی جائے۔

الإخلاص ← وَقَدْ سُئِلَ ← أَبَا حَمْزَةَ ← الكتاني ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← منصور بن محمد بن إبراهيم ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6876

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6877

6877 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي سمعت ابن الفرخي يقول : الإخلاص في ثلاثة أقاويل أحدها صدق القلب في طلب الثواب والثاني إرادة إخراج العمل في كل شبهة والثالث لا يحب حمد المخلوقين ولا ذمهم

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے انہوں نے سنا ابن الفرخی سے وہ کہتے ہیں کہ اخلاص کے بارے میں تین اقوال ہیں۔ اول : ۔۔۔۔۔طلب ثواب میں دل کی سچائی اخلاص ہے۔ دوم: ۔۔۔۔۔عمل کو ہر شبہ سے پاک کرنے کا ارادہ نیت کر نا اخلاص ہے۔ سوم:۔۔۔۔۔جس عمل پر مخلوق کا تعریف کرنا پسند ہو نہ برائی کرنا ہی اخلاص ہے۔

ابن الفرخي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6877

chevron_left Previous
1…567…16
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood