شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6854
6854 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشعراني نا جدي نا نعيم بن حماد نا ابن المبارك أنا معمر عن عبد الكريم الجزري عن طاوس عن ابن عباس قال : قال رجل : يا رسول الله إني أقف الموقف أريد وجه الله وأريد أن يرى موطني فلم يرد عليه رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى نزلت { فمن كان يرجو لقاء ربه فليعمل عملا صالحا ولا يشرك بعبادة ربه أحدا } رواه عبدان عن ابن المبارك فأرسله لم يذكر فيه ابن عباس
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو اسماعیل بن محمد بن فضل بن محمد شعرانی نے ان کو ان کے دادا نعیم بن حماد نے ان کو ابن مبارک نے ان کو معمر نے ان کو عبدالکریم الجزری نے ان کو طاؤس نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ بے شک میں اللہ کے سامنے کھڑا ہونے سے بھی واقف ہوں میں عمل سے اللہ کی رضا کا ارادہ کرتا ہوں۔ اور میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ میرا ٹھکانہ بھی دیکھا جائے (یعنی لوگ دیکھیں) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ یہی آیت نازل ہوئی کہ جو شخص اپنے رب کی ملاقات کا یقین رکھتا ہے اس کو چاہئے کہ وہ عمل صالح کرے اوراپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔ اس کو روایت کیا ہے عبدان نے ابن مبارک سے اس نے اس کو مرسل کیا ہے اس نے اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔
رَجُلٌ: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← عَبْدِ الْکَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ← مَعْمَرٌ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشعراني، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6854
