Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6854

6854 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشعراني نا جدي نا نعيم بن حماد نا ابن المبارك أنا معمر عن عبد الكريم الجزري عن طاوس عن ابن عباس قال : قال رجل : يا رسول الله إني أقف الموقف أريد وجه الله وأريد أن يرى موطني فلم يرد عليه رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى نزلت { فمن كان يرجو لقاء ربه فليعمل عملا صالحا ولا يشرك بعبادة ربه أحدا } رواه عبدان عن ابن المبارك فأرسله لم يذكر فيه ابن عباس

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو اسماعیل بن محمد بن فضل بن محمد شعرانی نے ان کو ان کے دادا نعیم بن حماد نے ان کو ابن مبارک نے ان کو معمر نے ان کو عبدالکریم الجزری نے ان کو طاؤس نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ بے شک میں اللہ کے سامنے کھڑا ہونے سے بھی واقف ہوں میں عمل سے اللہ کی رضا کا ارادہ کرتا ہوں۔ اور میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ میرا ٹھکانہ بھی دیکھا جائے (یعنی لوگ دیکھیں) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ یہی آیت نازل ہوئی کہ جو شخص اپنے رب کی ملاقات کا یقین رکھتا ہے اس کو چاہئے کہ وہ عمل صالح کرے اوراپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔ اس کو روایت کیا ہے عبدان نے ابن مبارک سے اس نے اس کو مرسل کیا ہے اس نے اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔

رَجُلٌ: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← عَبْدِ الْکَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ← مَعْمَرٌ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشعراني، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6854

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6855

6855 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا محمد بن أحمد بن حامد العطار نا أحمد بن الحسن الصوفي نا يحيى بن معين نا عمر بن عبيد عن عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير : { ولا يشرك بعبادة ربه أحدا } قال : لا يرائي

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو محمد بن احمد بن حامد عطار نے ان کو احمد بن حسن صوفی نے آپ کو یحییٰ بن معین نے ان کو عمر بن عبید نے ان کو عطاء بن سائب نے ان کو سعید بن جبیر نے کہ ولا یشرک بعبادۃ ربہ احداً اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔سعید بن جبیر نے کہا کہ مطلب ہے کہ ریا کاری نہ کرے۔

لا يرائي ← سعيد بن جبير ولا يشرك بعبادة ربه أحدا ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← عُمَرُ بْنُ عُبَیْدٍ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الصُّوفِيِّ ← محمد بن أحمد بن حامد العطار، ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6855

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6856

6856 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان نا أحمد بن يوسف السلمي نا عبيد الله بن موسى أنا أبو جعفر الرازي ح وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني عبد الرحمن بن حمدان الجلاب بهمدان نا إسحاق بن أحمد الخزاز نا إسحاق بن سليمان الرازي نا أبو جعفر الرازي عن الربيع عن أنس بن مالك : عن النبي صلى الله عليه و سلم وفي رواية الفقيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من فارق الدنيا على الإخلاص لله وعبادته وحده لا شريك له وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة فارقها والله عنه راض وهو دين الله الذي جاءت به الرسل وبلغوه عن ربهم من قبل مرج الأحاديث واختلاف الأهواء وتصديق ذلك في كتاب الله عز و جل زاد الفقيه في آخر ما أنزل فإن تابوا وأقاموا وآتوا الزكاة فخلوا سبيلهم قال الفقيه في روايته قال : توبتهم خلع الأوثان وعبادتها وقال أبو عبد الله : في روايته فإن تابوا يقول خلعوا الأوثان وعبادتها قال في آية أخرى فإن تابوا وأقاموا الصلاة وآتوا الزكاة فاخوانكم في الدين لم يذكر الفقيه وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة في أوله

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ان کو عبیداللہ بن موسیٰ نے ان کو ابو جعفر رازی نے ’’ح‘‘ ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی عبدالرحمٰن بن حمدان نے الجلاب نے ہمدان میں ان کو اسحاق بن احمد خزاز نے ان کو اسحاق بن سلیمان رازی نے ان کو ابو جعفر رازی نے ان کو ربیع نے ان کو انس بن مالک نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اورفقیہ کی ایک روایت میں ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دنیا سے رخصت ہوا اللہ کے لئے عمل کو خالص کرتے ہوئے اور اس کی عبادت کرتے ہوئے درانحالیکہ وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔اور نماز کو قائم رکھتے ہوئے زکوٰۃ ادا کرتے کرتے وہ دنیا سے اسی طرح جدا ہو گا کہ اس سے اللہ راضی ہو گا یہی اللہ کا دین ہے جس کو لے کر رسول آئے تھے اور اس کو اپنے رب کی طرف سے انہوں نے پہنچایا تھا۔ احادیث اور باتوں کے گڈ مڈ ہونے سے قبل اور ہوا وہوس کی کثرت سے پہلے۔ اور اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں ہے۔ ابو طاہر فقیہ نے یہ اضافہ کیا ہے۔اسی کے آخر میں جو نازل ہوا(یہ ہے) اگر وہ توبہ کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو۔ کہا فقیہ نے اپنی روایت میں انہوں نے کہا ان کی توبہ سے مراد بتوں کو چھوڑ دینا ہے اور ان کی عبادت کو بھی۔ ابو عبداللہ نے کہا کہ اس کی روایت میں ہے۔ کہ اگر وہ توبہ کریں۔ کہتے ہیں کہ چھوڑ دیں بتوں اور ان کی عبادت کو دوسری آیت میں فرمایا کہ: فان تابو او اقاموا الصلوٰۃ واتوا الزکوٰۃ فاخو انکم فی الدین کہ اگر وہ توبہ کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو وہ تمہارے بھائی ہیں دین میں۔ اور فقیہ ظاہر نے۔ نماز قائم کرنے زکوۃ ادا کرنے کا اول میں ذکر نہیں کیا۔

النبي صلى الله عليه و سلم وفي رواية الفقيه ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الرَّبِيعِ، ← أبو جعفر الرازي ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ← إسحاق بن أحمد الخزاز ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمْدَانَ، ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← أبو جعفر الرازي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6856

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6857

6857 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنا الحسين بن محمد بن زياد نا محمد بن يحيى القطيعي نا عبد العزيز بن عبد الصمد نا أبو عمران الجوني عن أبي فراس رجل من أسلم قال : نادى رجل فقال يا رسول الله ما الإيمان ؟ قال : الإخلاص

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحٰق فقیہ نے ان کو حسین بن محمد بن زیاد نے ان کو محمد بن یحییٰ قطعی نے ان کو عبدالعزیز بن عبد الصمد نے ان کو ابو عمران جونی نے ان کو فراس نے وہ ایک تھے قبیلہ اسلم سے وہ کہتے ہیں ایک آدمی نے آواز لگائی یا رسول اللہ ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ اخلاص۔

نادى رجل فقال: ← أبي فراس رجل من أسلم ← أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقَطِيعِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6857

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6858

6858 - وأخبرنا به في موضوع آخر بهذا الإسناد عن أبي فراس رجل من أسلم قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : سلوني عما شئتم فنادى رجل يا رسول الله ما الإسلام ؟ قال : إقام الصلاة وإيتاء الزكاة قال : فما الإيمان ؟ قال : الإخلاص قال : فما اليقين ؟ قال : التصيق بالقيامة

اور ہمیں خبر دی اس کے ساتھ دوسرے مقام برای اسناد کے ساتھ ابو فراس جو کہ بنو اسلم سے ایک آدمی تھے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چاہو تم مجھ سے پوچھ سکتے ہو ایک آدمی نے آواز لگائی یا رسول اللہ ! اسلام کیا ہے؟ آپ نے جواب دیا نماز قائم کرنا ، زکٰوۃ ادا کرنا، اس شخص نے پھر پوچھا کہ ایمان کیا ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ اخلاص۔ اس شخص نے پوچھا کہ یقین کیا ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ قیامت کی تصدیق کرنا۔ (یعنی قیامت کے آنے کو سچ ماننا۔)

أبي فراس رجل من أسلم ← وأخبرنا به في موضوع آخر بهذا الإسناد

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6858

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6859

6859 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا القرشي حدثني أحمد بن عيسى المصري نا عبد الله بن وهب أخبرني يحيى بن أيوب عن ابن زحر عن ابن أبي عمران عن عمرو بن مرة عن معاذ بن جبل أنه قال : لرسول الله صلى الله عليه و سلم حين بعثه إلى اليمن يا رسول الله أوصيني قال أخلص دينك يكفيك القليل من العمل وكذلك رواه يونس بن عبد الأعلى عن ابن وهب و عمرو بن مرة هذا هو الجهمي كذا قال : شيخنا أبو عبد الله إنما أراد عمرو بن مرة الذي له صحبة وقد قال : في موضع آخر نا أبو العباس بن يعقوب نا بحر بن نصر نا عبد الله بن وهب أخبرني يحيى بن أيوب عن عبيد الله بن زحر عن الوليد بن عمران عن عمرو بن مرة الجهمي عن معاذ بن جبل أنه قال : لرسول الله صلى الله عليه و سلم حين بعثه إلى اليمن يا رسول الله أوصيني قال : أخلص دينك يكفيك القليل من العمل هذا هو الكوفي الذي ليست له صحبة ولا أدرك معاذ فيكون الحديث مرسلا والله أعلم أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار عن ثابت عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نية المؤمن أبلغ من عمله هذا إسناد ضعيف

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا قرشی نے ان کو حدیث بیان کی احمد بن عیسیٰ مصری نے ان کو عبداللہ بن وہب نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے ان کو ابن زحر نے ان کو ابن ابی عمران نے ان کو عمرو بن مرہ نے ان کو معاذ بن جبل نے انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب آپ نے ان کو یمن بھیجا تھا۔ عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے وصیت فرمائیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے دین کو خالص کر لیجئے آپ کو تھوڑا سا عمل بھی پورا ہو جائے گا۔ اور اسی طرح روایت کیا ہے اس کو یونس بن عبدالاعلیٰ نے ابن وہب سے اور عمرو بن مرہ سے جس کو صحبت رسول حاصل ہے۔ اور تحقیق انہوں نے دوسرے مقام پر کہا ہے کہ ہمیں خبر دی ابو العباس بن یعقوب نے کو بحر بن نصر نے کو عبداللہ بن وہب نے ان کو خبر دی یحییٰ بن ایوب نے ان کو عبیداللہ بن زحر نے کو ولید بن عمران نے ان کوعمرو بن مرہ جملی نے ان کو معاذ بن جبل نے کہ انہوں نے عرض کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب انہوں نے اس کو یمن بھیجا یا رسول اللہ ! مجھے وصیت فرمائیے آپ نے فرمایا کہ اپنے دین کو خالص کر لیجئے تمہیں قلیل عمل بھی کفایت کرے گا۔ یہ راوی و ہی کوفی ہے جس کو صحبت رسول حاصل نہیں ہے اور اس نے حضرت معاذ کو بھی نہیں پایا تھا لہٰذا یہ حدیث مرسل ہوئی۔ واللہ اعلم۔ ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ثابت نے ان کو انس رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مؤمن کی نیت اس کے عمل سے زیادہ بلیغ ہوتی ہے۔ یہ اسناد ضعیف ہے۔

لرسول الله صلى الله عليه و سلم حين بعثه إلى اليمن ← مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّهُ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← ابْنُ أَبِي عِمْرَانَ ← ابْنِ زَحْرٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا الْقُرَشِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6859

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6860

6860 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سئل الأستاذ أبو سهل الصعلوكي : عن قول النبي صلى الله عليه و سلم : نية المرء خير من عمله قال : لأن النية في مخلص الأعمال لمقابلة الرياء و العجب 6860 - مكرر ـ قال الإمام أحمد : وأخبرنا أبو محمد بن يوسف قال : سمعت أبا الحسين بن أحمد بن زكريا الأديب بهمدان سمعت أبا الحسن علي بن عبد الله يقول : سمعت أحمد بن يحيى ثعلب يقول : سمعت ابن الأعرابي يقول : نية المؤمن خير من عمله لأن النية لا يدخلها الفساد والعمل يدخله الفساد وإنما أراد بالفساد بالرياء فيرجع ذلك إلى ما قال : الاستاذ أبو سهل وقد قيل : النية دون العمل قد تكون طاعة قال النبي صلى الله عليه و سلم : من هم بحسنة فلم يعملها كتبت له حسنة قالوا : والعمل دون النية لا يكون طاعة

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے وہ کہتے ہیں کہ استاذ ابو سہیل صعلوکی سے کسی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے بارے میں پوچھا۔نیۃ المرء خیر من عملہ کہ آدمی کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے۔ انہوں نے جواب دیا۔ اس لئے کہ نیت اعمال کے اخلاص کی جگہ ہے اور عمال ریاء اور خود پسندی کے مقابلہ کے لئے ہیں۔ (منکر ہے) امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو الحسین بن احمد بن زکریا ادیب سے حمدان میں وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو الحسن علی بن عبداللہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا احمد بن یحییٰ ثعلب سے انہوں نے سنا ابن اعرابی سے وہ کہتے ہیں کہ انسان کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے۔ اس لئے کہ نیت میں فساد اور خرابی نہیں داخل ہوتا اور عمل میں فساد داخل ہو جاتا ہے۔فساد سے انہوں نے ریاء ود یکھاوا مراد لیا ہے۔ اسی طرف راجع ہوتا ہے جو استاذ ابو سہل نے کہا تھا۔ اور تحقیق کہا گیا ہے کہ نیت عمل کے بغیر بھی کبھی عبادت ہوتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نیکی کا ارادہ کرے اور اس کا عمل نہ کرے اس کے لئے نیکی لکھی جاتی ہے۔ حالانکہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ عمل نیت کے بغیر اطاعت نہیں ہوتا۔

أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6860

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6861

6861 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا محمد بن أحمد بن حمدان أنا الحسن بن سفيان نا أبو موسى إسحاق بن إبراهيم الهروي نا أبو معاوية السنجاري عمرو بن عبيد الجبار نا عبيد بن حسان عن عبد الحميد بن ثابت بن ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم أخبرني أبي عن جدي ثوبان قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : طوبى للمخلصين أولئك مصابيح الدجى تتجلى عنهم كل فتنة ظلماء

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو محمد بن احمد بن حمدان نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو ابو موسیٰ اسحاق بن ابراہیم ہروی نے ان کو ابو معاویہ سنجاری نے ان کو عمرو بن عبید جبار نے ان کو عبیدہ بن حسان نے ان کو عبدالحمید بن ثابت بن ثوبان مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خبر دی ان کے والد نے ان کو ان کے دادا ثوبان نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کہتے ہیں کہ مبارک ہے واسطے مخلصین کے وہ لوگ اندھیروں میں چراغ ہیں ہر تاریک فتنہ ان سے واضح ہوتا ہے۔

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6861

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6862

6862 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا حاجب بن أحمد نا عبد الرحيم بن منيب نا الفضيل بن عياض عن منصور بن مجاهد : وتبتل إليه تبتيلا قال : أخلص إليه إخلاصا

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو عاجب بن احمد نے ان کو عبدالرحیم بن منیب نے ان کو فضل بن عیاض نے ان کو منصور نے ان کو مجاہد نے۔ اس قول باری تعالیٰ کے بارے میں: وتیتل الیہ تبیلاً اسی کی طرف سب سے منقطع ہو جا۔ مجاہد نے فرمایا کہ اخلص الیہ اخلاصاً خالص ہو جائے اسی کی طرف خالص ہونا۔

أخلص إليه إخلاصا ← منصور بن مجاهد وتبتل إليه تبتيلا ← الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6862

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6863

6863 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصنعاني نا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق عن معمر عن أيوب عن أبي قلابة قال : قال عمر : ما قوام هذا الأمر يا معاذ ؟ قال : الإسلام وهي الفطرة والإخلاص وهي الملة والطاعة وهي العصمة وسيكون بعدك اختلاف ثم قال : فقام عمر مدبرا فقال : أما إن شأنك خير من شأنهم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صنعانی نے ان کو اسحاق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ایوب نے ان کو ابو قلابہ نے وہ کہتے ہیں کہ کہا عمر رضی اللہ عنہ نے کہ اس معاملے کا دارومدار کیا ہے۔ فرمایا کہ اسلام یہ فطرت ہے اور اخلاص ہے، یہ ملت ہے، اور اطاعت ہے۔ اور یہ عصمتہ وتحفطہ ہے۔ عنقریب تمہارے بعد اختلاف ہو گا۔ اس کے بعد کہتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے منہ پھیرتے ہوئے اور فرمایا کہ خبردار تیری حالت اس کی حالت سے بہتر ہے۔

أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6863

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6864

6864 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو عمرو بن مطر و محمد بن يزيد العدل قالا : نا يوسف بن موسى المروروذي نا يحيى بن عثمان نا بقية عن سلام بن صدقة عن زيد بن أسلم عن الحسن عن أبي الدرداء : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الاتقاء على العمل أشد من العمل إن الرجل ليعمل العمل فيكتب له عمل صالح معمول به في السر يضعف أجره سبعين ضعفا فلا يزال به الشيطان حتى يذكره للناس الثنية ويحب أن يذكر به ويحمد عليه فيمحي من العلانية ويكتب رياء فاتقى الله امرؤ صان دينه عن الدنيا وقال غيره وصان دينه فإن الرياء شرك وقد مضى ذكره

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابو عمرو بن مطر نے اور محمد بن یزید عدل نے دونوں نے کہا ان کو خبر دی یوسف بن موسیٰ مروزی نے ان کو یحییٰ بن عثمان نے ان کو بقیہ نے ان کو سلام بن صدقہ نے ان کو زید بن اسلم نے ان کو حسن بن ابی درداء نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ بے شک عمل پر تقویٰ اختیار کرنا عمل سے زیادہ ضروری ہے بے شک ایک آدمی البتہ عمل کرتا ہے اور اس کے لئے عمل صالح لکھا جاتا ہے جو خلوت میں کیا ہوا عمل ہوتا ہے اس میں ستر گنا اجر بڑھا دیا جاتا ہے۔ شیطان ہمیشہ اس کے پیچھے لگا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کولوگوں کے سامنے ذکر کر دیتا ہے اور اس عمل کو ظاہر کر دیتا ہے لہٰذا پھر وہ مخفی کی بجائے ظاہری عمل لکھ دیا جاتا ہے اور اس کے اجر کا اضافہ مٹا دیا جاتا ہے۔ پھر شیطان اس کے نیچے پڑا رہتا ہے حتٰی کہ وہ کو دو بار لوگوں کے آگے ذکر کر دیتا ہے پھر وہ یہ پسند کرنے لگ جاتا ہے اس کے عمل کا تذکرہ کیا جاتا رہے اور اس کی تعریف کی جاتی رہے لہٰذا پھر وہ ظاہر عمل سے مٹا کر دیا اور دکھاوے کے خانے میں لکھ دیا جاتا ہے پس اللہ سے ڈرے وہ آدمی جو اپنے دین کو دنیا سے بچانا چاہتا ہے۔ اور اس کے علاوہ دیگر نے کہا ہے۔ جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ اپنے دین کو بچاتا ہے۔ بے شک دکھاوا کرنا شرک ہے۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← الْحَسَنِ، ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← سلام بن صدقة ← بَقِيَّةُ ← يَحْيَی بْنُ عُثْمَانَ ← يوسف بن موسى المروروذي ← أبو عمرو بن مطر و محمد بن يزيد العدل ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6864

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6865

6865 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو قالا : نا الأصم أنا العباس بن الوليد بن مزيد أخبرني أبي قال : سمعت الضحاك بن عبد الرحمن يقول : سمعت بلال بن سعد يقول : عباد الرحمن إن العبد ليعمل الفريضة الواحدة من فرائض الله عز و جل وقد أضاع ما سواها فما زال يمنيه الشيطان فيها ويزين له حتى ما يرى شيئا دون الجنة فقبل أن تعملوا فانظروا ماذا تريدون بها فإن كانت خالصة لله فأمضوها وإن كانت لغير الله فلا تشقوا على أنفسكم فلا شيء لكم فإن الله عز و جل لا يقبل من العمل إلا ما كان خالصا فإنه قال : إليه يصعد الكلم الطيب والعمل الصالح يرفعه

6865 ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو سعید بن ابو عمرو نے دونوں کو اصم نے ان کو عباس بن ولید بن مزید نے ان کو خبر دی ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ضحاک بن عبدالرحمٰن سے انہوں نے سنا بلال بن سعد سے اے رحمٰن کے بندو! بے شک ایک بندہ کسی ایک فریضہ پر عمل پیرا ہوتا ہے اللہ کے فرائض میں سے اور اس کے سوا دیگر فرائض کو ضائع کر دیتا ہے۔ اور شیطان ہمیشہ اس کو امیدیں دلاتا رہتا ہے اور اس کے عمل کو اس کے لئے خوبصورت بتاتا رہتا ہے۔ حتٰی کہ وہ غیبت کے سوا کچھ نہیں دیکھتا۔ لہٰذا تم لوگ عمل کر نے سے پہلے یہ کھایا کرو کہ تم اس سے کیا ارادہ کر رہے ہو۔ اگر وہ خالص اللہ کے لئے ہے تو اس کو جاری رکھو اور اگر غیر اللہ کے لئے ہے تو پھر اپنے نفسوں پر شقاوت و بدبختی نہ بناؤ اس لئے کہ پھر تمہارے لئے کوئی شئی نہیں ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ عمل میں سے صرف اتنی ہی قبول کرتا ہے جو خالص ہو وہ فرماتا ہے کہ الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ اسی طرف بلند ہوتے ہیں پاک کلمے اور وہ صرف عمل صالح کو اوپر اٹھاتا ہے۔

بِلَالِ بْنِ سَعْدٍ، ← الضَّحَّاکِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدَ ← الأَصَمُّ: ← أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6865

chevron_left Previous
1…456…16
Next chevron_right

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood