Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6842

6842 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسن علي بن محمد المصري نا يحيى بن أيوب نا سعيد بن أبي مريم نا يحيى بن أيوب و ابن لهيعة قالا : نا عمارة بن غزية عن يعلى بن شداد بن أوس أنه حدثه عن أبيه قال : كنا على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم نعد الشرك الأصغر الرياء

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو الحسن علی بن محمدمصری نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے ان کو سعید بن ابی مریم نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے اور ابن لہیعہ نے دونوں کو عمارہ بن غزیہ نے ان کو یعلیٰ بن سداد بن اوس نے کہ انہوں نے اس کو حدیث بیان کی اپنے والد سے انہوں نے کہا کہ ہم لوگ عہد رسول میں ریا کاری کرنے کو چھوٹا شرک کہتے تھے۔

أَبِيهِ ← يَعْلَى بْنِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ أَنَّهُ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← يحيى بن أيوب و ابن لهيعة ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 6842

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6843

6843 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسين و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس الأصم نا محمد بن إسحاق الصغاني نا عمار بن صالح نا ابن لهيعة عن عبد ربه بن سعيد عن يعلى بن شداد عن أبيه قال : كنا نعد الرياء في زمن النبي صلى الله عليه و سلم الشرك الأصغر

ہمیں خبر دی ابو بکر احمد بن حسین نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو العباس اصم نے ان کو محمد بن اسحاق صغانی نے ان کو عمار بن صاح نے ان کو ابن لہیعہ نے ان کو عبدربہ بن سعید نے یعلیٰ بن شداد سے اس نے اپنے والد سے اس نے کہا کہ تم لوگ زمانہ رسول میں ریاکار کوشرک اصغر شمار کرتے تھے۔

أَبِيهِ ← يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ، ← عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَمَّارُ بْنُ صَالِحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو بكر أحمد بن الحسين و محمد بن موسى

Hadith 6843

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6844

6844 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق أنا العباس بن الفضل الأسفاطي نا أبو الوليد نا عبد الحميد بن بهرام عن شهر بن حوشب عن عبد الرحمن بن غنم عن شداد عن أبيه قال : كنا نعد الرياء في زمن النبي صلى الله عليه و سلم الشرك الأصغر وبهذا الإسناد عن شداد بن أوس سمع النبي صلى الله عليه و سلم يقول : من صام يرائي فقد أشرك ومن صلى يرائي فقد أشرك ومن تصدق يرائي فقد أشرك

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحاق نے ان کو عباس بن فضل اسفاطی نے ان کوا بو الولید نے ان کو عبد الحمید بن بہرام نے ان کو شہر بن حوشب نے کو عبدالرحمٰن غنم نے ان کوشداد نے ان کے والد سے فرماتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ کے زمانے میں ریاکاری کو شرک اصغر شمار کرتے تھے۔ اور اسی اسناد کے ساتھ شداد بن اوس سے مروی ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا وہ کہتے تھے۔ جس شخص نے دکھاوے کے لئے روزہ رکھا اس نے شرک کیا اور جس نے دکھاوے کے لئے نماز پڑھی اس نے شرک کیا اور جس نے دکھاوے کے لئے صدقہ کیا اس نے شرک کیا۔

Hadith 6844

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6845

6845 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن القاضي نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أبو عتبة نا بقية نا الفزاري من ليث عن مجاهد في : قول الله عز و جل : { والذين يمكرون السيئات لهم عذاب شديد ومكر أولئك هو يبور } قال : هم المراؤون

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر بن حسن قاضی نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابو عتبہ نے ان کو بقیہ نے ان کو فزاری نے لیث سے اس نے مجاہد سے اللہ کے اس فرمان کے بارے میں۔ والذین یمکرون السبات لھم عذاب شدید و مکر اولئک ھویبور جو لوگ برائی کی تدبیر کرتے ہیں ان کے لئے شدید عذاب ہے اور ان لوگوں کی تدبیر ہلاکت ہے۔ فرمایا کہ وہی لوگ ریاکاری کرنے والے ہیں۔

هم المراؤون ← مجاهد في قول الله عز و جل ← الفزاري من ليث ← بَقِيَّةُ ← أَبُو عُتْبَةَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن القاضي

Hadith 6845

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6846

6846 - أخبرنا أبو عبد الله و أبو بكر قالا : نا أبو العباس نا محمد بن إسحاق الصنعاني نا معاوية بن عمرو عن أبي إسحاق الفزاري عن ليث عن مجاهد وحدثنيه رجل عنه قال : والذين يمكرون السيئات الرياء { ومكر أولئك هو يبور }

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ اور ابو بکر نے دونوں نے کیا ان کو خبر دی ہے ابو العباس محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو معاویہ بن عمرو نے ان کو ابو اسحٰق فزاری نے ان کو لیث نے ان کو مجاہد نے اور ایک آدمی نے مجھ کو حدیث بیان کی ہے ان سے فرمایا کہ والذین یمکرون السینات جو لوگ برائی کی تدبیریں کرتے ہیں۔اس سے مراد ریا کاری کرنا ہے۔ ان کی تدبیر ہلاکت میں ہے۔

والذين يمكرون السيئات الرياء ومكر أولئك هو يبور ← مجاهد وحدثنيه رجل عنه ← لَيْثٌ، ← أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← أبو عبد الله و أبو بكر

Hadith 6846

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6847

6847 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي نا أحمد بن نجدة نا سعيد بن منصور نا ابن المبارك عن أبي سنان قال : قال مجاهد : والذين يمكرون السيئات قال أصحاب الرياء : 6847 - مكرر ـ قال : ونا سعيد نا سفيان عن ليث بن أبي سليم عن شهر بن حوشب في قوله : إليه يصعد الكلم الطيب والعمل الصالح يرفعه قال : العمل الصالح يرفع الكلام الطيب والذين يمكرون السيئات قال : الذين يراؤون قال سفيان : المكر العمل

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو ابن مبارک نے ان کو ابو سنان نے وہ کہتے ہیں کہ کہا مجاہد نے والذین یمکرون السبنات جو لوگ برائی کی تدبیر کرتے ہیں۔ فرمایا وہ اصحاب رباء ہیں یعنی دکھاوا کرنے والے لوگ۔ (مکر رہے) فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر دی سعید نے ان کو سفیان نے ان کو لیث بن ابی سلیمان نے ان کو شہر بن حوشب نے اللہ کے اس فرمان کے بارے میں۔ الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ پاک کلمات اس کی طرف اوپر کو چڑھ جاتے ہیں۔ اور عمل صالح کو وہ اوپر اٹھا لیتا ہے۔ فرمایا کہ عمل صالح کلام طیب کو اونچا کرتا ہے۔ اور والذین یمکرون السینات اس سے مراد ہے وہ لوگ جو دیکھاوا کرتے ہیں۔ سفیان نے کہا کہ مکر مکمل ہوتا ہے۔

سفيان المكر العمل ← الذين يراؤون ← العمل الصالح يرفع الكلام الطيب والذين يمكرون السيئات ← شهر بن حوشب في قوله إليه يصعد الكلم الطيب والعمل الصالح يرفعه ← ليث بن أبي سليم ← سُفْيَانَ، ← ونا سعيد ← أصحاب الرياء مكرر ← مجاهد والذين يمكرون السيئات ← أَبِي سِنَانٍ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Hadith 6847

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6848

6848 - أخبرنا أبو محمد المحسن بن علي بن المؤمل أنا أبو عثمان عمرو بن عبد الله البصري نا أبو أحمد بن عبد الوهاب أنا يعلى بن عبيد نا الأعمش عن شمر بن عطية عن شهر بن حوشب عن عمارة قال : يجاء بالدنيا يوم القيامة فيقال : ميزوا ما كان منها لله عز و جل فيماز ويرمى سائره في النار

ہمیں خبر دی ابو محمد محسن بن علی بن مومل نے ان کو ابو عثمان عمرو بن عبداللہ بصری نے ان کو ابو احمد بن عبدالوہاب نے ان کو یعلیٰ بن عبید نے ان کو اعمش نے ان کو شمر بن عطیہ نے ان کوشہر بن حوشب نے ان کو عمارہ نے وہ کہتے ہیں۔ قیامت کے دن دنیا کو لایا جائے گا۔ اور کہا جائے گا کہ علیحدہ کر اس میں سے جو کچھ اللہ کے لئے تھا لہٰذا علیحدہ کرلیا جائے گا اور باقی ساری دنیا جہنم میں ڈال دی جائے گی۔

عُمَارَةَ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← أبو أحمد بن عبد الوهاب، ← أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، ← أبو محمد المحسن بن علي بن المؤمل

Hadith 6848

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6849

6849 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس الأصم نا العباس الدوري نا مالك بن إسماعيل أبو غسان نا قيس بن الربيع عن شمر بن عطية عن شهر بن حوشب عن عمرو بن عنبسة قال : إذا كان يوم القيامة جيء بالدنيا فيميز منها ما كان لغير الله رمي الله به في نار جهنم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان دونوں کو ابو العباس اصم نے ان کو عباس دوری نے ان کو مالک بن اسماعیل نے ان کو ابو غسان نے ان کو قیس بن ربیع نے ان کوشمر بن عطیہ نے ان کو شہر بن حوشب نے ان کو عمرو بن عنبسہ نے وہ کہتے ہیں قیامت کے دن دنیا کو پیش کیا جائے گا پھر اس میں جو کچھ اللہ کے لئے تھا اس کو علیحدہ اور جو غیراللہ کے لئے تھا کو علیحدہ کر لیا جائے گا اور اس کو جہنم میں چھینک دیا جائے گا۔

عَمْرِو بْنِ عَنْبَسَةَ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ, أَبُو غَسَّانَ، ← الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Hadith 6849

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6850

6850 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا يحيى بن أبي طالب أنا عبد الوهاب بن عطاء أنا عثمان أبو سلمة عن عمران القصير قال : بلغني إن في جهنم واديا تتعوذ منه جهنم كل يوم أربع مائة مرة أعد ذلك للمرائين من القرائين

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ اور محمد بن موسیٰ نے دونوں کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو عبدالوہاب بن عطاء نے ان کو عثمان ابو سلمہ نے کو عمر قصیر نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ بے شک جہنم میں ایک وادی جس سے جہنم چار سو مرتبہ روزانہ پناہ مانگتی ہے وہ ردیوں کے اس طبقے کے لئے ہے جو (قراء میں) ریاکاری کرتے ہیں۔

عِمْرَانُ الْقَصِيرُ، ← عثمان أبو سلمة ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Hadith 6850

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6851

6851 - أخبرنا أبو بكر الفارسي أنا أبو إسحاق الأصبهاني نا أبو أحمد بن فارس نا البخاري نا ثابت بن محمد نا عمار بن سيف عن أبي معاذ عن ابن سيرين عن أبي هريرة قال : خرج النبي صلى الله عليه و سلم فقال : تعوذوا بالله من جب الحزن فقيل من يسكنه ؟ قال المراؤون بأعمالهم قال البخاري : أبو معاذ لا يعرف له سماع من ابن سيرين وهو مجهول قال الإمام أحمد رحمه الله : وأمثاله فيمن يكون من أعماله مراءاة للخلق لا يبقى له شيء أراد به وجه الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابو بکر فارسی نے ان کو ابو اسحاق اصفہانی نے ان کو ابو احمد بن فارس نے ان کو خبر دی بخاری نے ان کو خبر دی ثابت بن محمد نے ان کو عمار بن یوسف نے ان کو ابو معاذ نے ان کو ابن سیرین نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ اللہ کی پناہ مانگو جب الحزن سے۔ کہا گیا کہ اس میں کون رہے گا ؟ فرمایا کہ اپنے اعمال میں ریاکاری کرنے والے امام بخاری نے فرمایا کہ ابن سیرین سے ابو معاذ کا سماع ثابت نہیں ہے۔اور وہ خود مجہول راوی ہے۔ امام احمد بن حنبل نے فرمایا کہ مذکورہ حدیث کے امثال ان لوگوں میں ہیں جن کے اعمال مخلوق کے دیکھاوے کے لئے ہوتے ہیں اس کے لئے کوئی شئی باقی نہیں رہتی اس سے مراد لی ہے اللہ کی رضا۔

البخاري أبو معاذ لا يعرف له سماع من ابن سيرين وهو مجهول ← المراؤون بأعمالهم ← تعوذوا بالله من جب الحزن فقيل من يسكنه ← خرج النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← أَبِي مُعَاذٍ ← عَمَّارُ بْنُ سَيْفٍ، ← ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْبُخَارِيِّ ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ ← أَبُو إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ

Hadith 6851

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6852

6852 - وقد أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قال : نا أبو العباس الأصم نا يحيى بن أبي طالب قال : قال أبو نصر : يعني عبد الوهاب : سئل الكلبي وأنا شاهد عن قول الله عز و جل : { فمن كان يرجو لقاء ربه فليعمل عملا صالحا ولا يشرك بعبادة ربه أحدا } فقال : نا أبو صالح عن عبد الرحمن بن غنم أنه كان في مسجد دمشق مع نفر من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم فيهم معاذ بن جبل فقال : عبد الرحمن يا أيها الناس إن خوف ما أخاف عليكم الشرك الخفي فقال معاذ بن جبل : اللهم غفرا أوما أوما سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : حيث ودعنا إن الشيطان قد أيئس أن يعبد في جزيرتكم هذه ولكن يطاع فيما تحتقرون من أعمالكم فقد رضي فقال عبد الرحمن : أنشدك الله يا معاذ فقد رضي فقال عبد الرحمن : أنشدك الله يا معاذ : أما سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من صام رياء فقد أشرك ومن تصدق رياء فقد أشرك ومن صلى رياء فقد أشرك ؟ فقال معاذ : لما تلا رسول الله صلى الله عليه و سلم هذه الآية : { فمن كان يرجو لقاء ربه } الآية قال : فشق على القوم ذلك واشتد عليهم فقال صلى الله عليه و سلم : أفلا أفرجها عنكم ؟ فقالوا بلى يا رسول الله فرج الله عنك الهم والأذى قال : هي مثل الآية التي في الروم { وما آتيتم من ربا ليربو في أموال الناس فلا يربو عند الله } فقال صلى الله عليه و سلم : من عمل رياء لم يكتب له ولا عليه قال الإمام أحمد رحمه الله : وهذا إن صح يشهد لما اختاره الحليمي من الوجه الآخر وقوله فقد أشرك يريد والله أعلم فقد أشرك في ارادته بعمله غير الله فيقول الله عز و جل أنا منه بريء وهو للذي أشرك

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو العباس اصم نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے وہ کہتے ہیں کہ کیا ابو نصر نے یعنی عبدالوہاب نے کہ کلبی سے پوچھا گیا تھا اور میں موجود تھا۔ اس قول باری کے بارے میں فمن کان برحو القاء ربہ فلیعمل عملاً صالحاً ولا یشرک بعبادۃ ربہ احداً انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ابو صالح نے عبدالرحمٰن بن غنم سے جب وہ دمشق کی مسجد میں پہنچے تو بعض اصحاب رسول کے ساتھ بیٹھے تھے۔ ان میں حضرت معاذ بن جبل بھی تھے۔ عبدالرحمٰن نے کہا اے لوگو بے شک سب سے زیادو ڈر کی بات جو میں تمہارے بارے میں ڈرتا ہوں وہ شرک خفی ہے۔ حضرت معاذ نے فرمایا: اے اللہ تو معاف فرما کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا فرماتے تھے۔ جب ہم لوگوں سے الوداعی خطاب فرمایا تھا کہ بے شک شیطان مایوس ہو چکا ہے اس بات سے کہ تمہارے جزیرے میں اس کی عبادت کیا جائے گی اسی جزیرے میں۔ لیکن اس کی اطاعت کی جائے گی ان اعمال میں جن کو تم لوگ حقیر سمجھتے ہو وہ اس پر بھی خوش ہو گیا ہے تو عبدالرحمٰن نے کہا میں تجھے اللہ کی قسم دیتا ہوں اے معاذ وہ راضی ہو گیا ہے۔ عبدالرحمٰن نے کہا کہ میں تجھے اللہ کی قسم دیتا ہوں اے معاذ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنافر ماتے تھے۔ جو شخص دکھاوے کے لئے روزہ رکھے اس نے شرک کیا؟ اور جس نے دکھاوے کے لئے نماز پڑھی اس نے بھی شرک کیا؟ حضرت معاذ نے فرمایا کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی فمن یرجوا القآء ربہ الخ جو شخص اپنے رب کو ملنے کی امید رکھتا ہے۔ اس کو چاہئے کہ وہ عمل صالح کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔فرمایا کہ یہ آیت لوگوں پر مشکل گزری حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ کیا میں اس کو آسمان کردوں تم سے؟ لوگوں نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ اللہ تعالیٰ آپ سے تکلیف اور پریشانی دور کرے گا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ اس آیت کی طرح ہے جو سورۂ روم میں ہے۔ وما اتیتم من ربًا لیربوا فی اموال الناس فلا یربوا عنداللہ جو تم ربا دیتے ہو تاکہ لوگوں کے مالوں میں اضافہ ہو وہ اللہ کے نزدیک اضافہ نہیں ہوتا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بطور ربا کے عمل کرے وہ عمل نہ تو اس کے فائدے کے لئے لکھا جاتا ہے نہ نقصان کے لئے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا: یہ روایت اگرچہ صحیح ہے۔ تو یہ شہادت دیتی ہے اس کے لئے جس موقف کو حلیمی نے اختیار کیا ہے وجہ ثانی کے طور پر۔ باقی رہا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول کہ فقد اشرک اس نے شرک کیا۔ واللہ اعلم۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارادہ کیا ہو گا کہ اس شخص نے شرک کیا اپنے ارادے میں اپنے عمل کے ساتھ غیر اللہ کے لئے اس لئے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں اس عمل سے لاتعلق ہوں وہ اس کے لئے جس کوشریک بنایا گیا تھا۔

عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← أَبُو صَالِحٍ، ← قول الله عز و جل ← شَاهِدٌ ← أبو نصر يعني عبد الوهاب سئل الكلبي ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى ← وقد

Hadith 6852

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6853

6853 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا الحسن الطرائفي نا عثمان بن سعيد نا عبد الله بن صالح عن معاوية بن صالح عن علي بن أبي طلحة عن ابن عباس في : قوله عز و جل : { فمن كان يرجو لقاء ربه فليعمل عملا صالحا ولا يشرك بعبادة ربه أحدا } أنزلت في المشركين الذين عبدوا مع الله غيره وليست هذه في المؤمنين في قوله : { فويل للمصلين * الذين هم عن صلاتهم ساهون } هم المنافقون كانوا يراؤون المؤمنين بصلاتهم إذا حضروا ويتركونها إذا غابوا ويمنعونهم العارية بغضة لهم وهي الماعون كذا رواه علي بن أبي طلحة وقد

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحاق نے ان کو حسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو عبداللہ بن صالح نے ان کو معاویہ بن صالح نے ان کو علی بن ابی طلحہ نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اللہ کے اس قول کے بارے میں فمن کان یرجو لقاء ربہ فلیعمل عملاً صالحاً ولا یشرک بعبادۃ ربہ احد ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ ان مشرکوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے اللہ کی عبادت کے ساتھ ساتھ غیر اللہ کی عبادت کی تھی۔ یہ آیت مؤمنوں کے بارے میں نہیں ہے۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ فویل للملصلن الذین ھم عن صلٰوتھم ساھون ہلاکت ہے ایسے نمازیوں کے لئے جو اپنی نمازوں سے غافل ہیں ابن عباس نے فرمایا کہ اس سے مراد منافق ہیں۔ کیونکہ وہ لوگ مؤمنوں کو اپنی نمازیں دکھلاتے تھے جب آ جاتے تھے اور جب غائب ہوتے تھے تو نمازیں چھوڑ دیتے تھے۔ اور مسلمانوں سے بغض رکھتے ہوئے ادھار کی چیز دینے کو منع کر دیتے تھے یہی خیر مراد ہے الماعون کے لفظ سے۔ اس کو اسی طرح روایت کیا ہے علی بن طلحہ نے۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← الحسن الطرائفي ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Hadith 6853

chevron_left Previous
12345…16
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood