Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6829

6829 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا العباس بن محمد نا يعقوب بن إبراهيم بن سعد نا أبي عن صالح بن كيسان عن ابن شهاب عن محمود بن الربيع وهو الذي مج رسول الله صلى الله عليه و سلم في وجهه من بئرهم أن شداد بن أوس بن ثابت بن أخي حسان بن ثابت بكى و محمود جالس معه قال : يا نعايا العرب قال : فقلت له ما يبكيك يرحمك الله ؟ قال : إن أخوف ما أخاف على هذه الأمة الرياء والشهوة الخفية إنكم إذا لا تؤتون إلا من قبل الرؤوس الذين إذا أمروا بخير أطيعوا وإذا أمروا بشر أطيعوا وما المنافق ؟ إن المنافق كالبذخ اختنق في ريقه لا يضره إلا نفسه كذا قال : ومن وجه آخر عن شداد بن أوس مسندا بهذا اللفظ

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد نے ان کو یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو صالح بن کیسان نے ان کو ابن شہاب نے ان کو محمود بن ربیع نے یہ وہی صاحب ہیں رسول اللہ نے جن کے منہ میں کلی بھر کر ڈالی تھی ان کے کنویں سے۔ یہ کہ شداد بن اوس بن ثابت بن اخی حسان بن ثابت رو پڑے اور محمود بیٹھے ہوئے تھے ان کے ساتھ انہوں نے کہا اے عرب کے ناعیوموت کی خبریں لانے والو! کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا آپ کیوں رو رہے ہیں اللہ آپ پر رحم کرے؟ فرمایا اس امت پر سب سے زیادہ ڈر کی بات جس سے میں ڈرتا ہوں وہ ہے ریاکاری اور دکھاوا اور چھپ کر جنسی خواہش پوری کرنا۔ بے شک تم لوگ اس وقت نہیں دیئے جاؤ گے مگر سروں کی جانب سے وہ جو جب ان کو غیر کا حکم ملے اطاعت کریں اور جب شر کا حکم ملے جب بھی اطاعت کریں۔ منافق کون ہے؟ بے شک منافق مثل منکر ہے۔ اپنی تھوک گھوٹ لیتا ہے روک لیتا ہے، اس کونہیں نقصان دیتی مگراس کے نفس کو۔ اس طرح کہا ہے۔ اور دوسرے طریق سے مروی ہے شداد بن اوس سے جو کہ مسند ہے اس لفظ کے ساتھ۔

Hadith 6829

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6830

6830 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس الأصم نا الحسن بن علي بن عفان نا زيد بن الحباب نا عبد الواحد بن زيد البصري نا عبادة بن نسي الكندي عن شداد بن أوس : أنه دخل عليه وهو في مصلاه يبكي فقيل ما يبكيك ؟ فقال : حديث ذكرته سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم فقيل له وما هو ؟ قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم إني أتخوف على أمتي من بعدي الشرك والشهوة الخفية قلت : يا رسول الله أوتشرك أمتك من بعدك ؟ قال : يا شداد إنهم لا يعبدون شمسا ولا قمرا ولا حجرا ولا وثنا ولكن يراؤون بأعمالهم قلت : يا رسول الله وما الشهوة الخفية ؟ قال : يصبح أحدهم صائما فتعرض له شهوة من شهواته فيواقع شهوته ويدع صومه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کومحمد بن موسیٰ نے دونوں کو ابو العباس اصم نے ان کو حسین بن علی بن عفان نے ان کو زید بن حباب نے ان کو عبدالواحد بن زید بصری نے ان کو عبادہ بن نسی کندی نے ان کو شداد بن اوس نے کہ وہ اس پر داخل ہوئے وہ اپنے فیصلے پر رو رہے تھے ان سے کہا گیا کہ آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ فرمایا ایک حدیث ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی وہ مجھے یاد آ گئی تھی۔ پوچھا گیا کہ وہ کون سی حدیث ہے فرمایا کہ میں نے سنا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا تھا کہ میں ڈرتا ہوں اپنی امت پر میرے بعد شرک کرنے سے اور چوری چھپے جنسی خواہش پوری کرنے سے۔ میں نے عرض کی تھی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ کی امت آپ کے بعد شرک کرے کی؟ فرمایا اے شداد بے شک وہ لوگ چاند سورج کی عبادت نہیں کریں گے نہ ہی پتھروں کی اور بتوں کی بلکہ وہ اپنے اعمال میں دکھاوے کریں گے میں نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) خفیہ شہوت سے کیا مراد ہے؟ فرمایا صبح کرے کا الگ ان کا درانحالیکہ وہ روزہ دار ہو گا لہٰذا اس کی شہوات و خواہشات میں سے کوئی شہوت و خواہش اس کے آگے آ جائے گی اور وہ اپنی اسی خواہش میں پڑ جائے گا اور اپنے روزے کو بھی وہ نظر انداز کر دے گا۔

شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← عبادة بن نسي الكندي ← عبد الواحد بن زيد البصري ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Hadith 6830

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6831

6831 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد بن شريك نا ابن أبي مريم نا أبي الزناد وحدثني عمرو بن أبي عمرو عن عاصم بن عمر عن قتادة عن محمود بن لبيد : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن أخوف ما أخاف عليكم الشرك الأصغر قال : وما الشرك الأصغر ؟ قال : الرياء إن الله يقول : يوم يجازي العباد بأعمالهم اذهبوا إلى الذين كنتم تراؤون في الدنيا فانظروا هل تجدوا جزاء أو خيرا

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید بن شریک نے ان کو ابو مریم نے ان کو ابو الزناد نے ان کو عمرو بن ابو عمرو نے ان کو عاصم بن عمر نے ان کو قتادہ نے ان کو محمود بن لبید نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک سب سے زیادہ خوف ناک بات جو میں ڈرتا ہوں تمہارے بارے میں وہ ہے شرک اصغر۔ اس نے کہا کہ شرک اصغر کیا ہے؟ فرمایا ریا کاری کرنا۔ بے شک اللہ تعالیٰ فرمائے گا جس دن بندوں کو ان کے اعمال کی جزا دی جائے گی۔ کہ تم لوگ دکھاوے کے لئے عمل کرنے والے دنیا میں دکھاوا کرتے تھے ذرا نظر ماروان کے پاس کوئی جزا کوئی بدلہ کوئی خبر ہے تمہیں دینے کے لئے۔ جن کو تم دیکھاتے تھے۔

مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← قَتَادَةَ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ← أبي الزناد وحدثني عمرو بن أبي عمرو ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← أحمد بن عبيد بن شريك ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 6831

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6832

6832 - أخبرنا أبو سعيد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي نا محمد بن الحسين بن مكرم ثنا محمود بن غيلان نا أبو أحمد الزبيري نا كثير بن زيد عن ربيح بن عبد الرحمن بن أبي سعيد عن أبيه عن جده قال : كنا نتناوب النبي صلى الله عليه و سلم نبيت عنده فذكره وقال فيه أخاف عليكم أخوف من المسيخ الشرك الخفي أن يقول الرجل يعمل لمكان الرجل

ہمیں خبر دی ابو سعید مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی نے ان کو محمد بن حسین بن مکرم نے ان کو محمود بن غیلان نے ان کو ابو احمد زبیری نے ان کو کثیر بن زید نے ربیع بن عبدالرحمٰن نے بن ابو سعید نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ تم لوگ باری باری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے اور ان کے پاس رات گزارتے تھے پھر اس نے اس حدیث کو ذکر کیا ہے اور اس میں کہا ہے کہ میں ڈرتا ہوں تمہارے اوپر مسیح دجال کے ڈر سے زیادہ ڈرنا۔ شرک خفی سے کہ کیسے کوئی آدمی اور عمل کرے بندے کو دیکھانے کے لئے۔

الرجل يعمل لمكان الرجل ← فيه أخاف عليكم أخوف من المسيخ الشرك الخفي أن ← كنا نتناوب النبي صلى الله عليه و سلم نبيت عنده فذكره ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← رُبَيْحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُکْرَمٍ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ

Hadith 6832

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6833

6833 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال البزاز نا أبو الأزهر نا الفريابي نا سفيان عن مغيرة عن أبي العالية عن أبي بن كعب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بشر هذه الأمة بالسناء والرفعة والنصرة والتمكين في الأرض لمن عمل منهم عمل الآخرة للدنيا لم يكن له في الآخرة نصيب كذا رواه محمد بن يوسف الفريابي عن الثوري ورواه زيد بن الحباب وغيره عن الثوري عن المغيرة الخراساني عن الربيع بن أنس عن أبي العالية عن أبي

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو حامد بن بلال بزاز نے ان کو ابو ازہر فریابی نے ان کو سفیان نے مغیرہ سے ان کو ابوالعالیہ نے ان کو ابی بن کعب نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بشارت دے دو اس امت کو بلندی اور رفعت ملنے اور نصرت کی۔ اور دھرتی پر حکومت ملنے کی اور اس شخص کے لئے جوان میں سے آخرت کا کوئی عمل کرے گا دنیا کے لئے اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ اسی طرح اس کو روایت کیا ہے محمد بن یوسف فریابی نے ثوری سے اور اس کو روایت کیا ہے زید بن حباب وغیرہ نے حزار ثوری سے اس نے مغیرہ خراسانی سے اس نے ربیع بن انس سے اس نے ابو العالیہ سے اس نے ابی سے۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← مُغِيرَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْفِرْيَابِيُّ، ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّازُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Hadith 6833

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6834

6834 - أخبرناه أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا الحسن بن علي بن عفان نا زيد بن الحباب نا سفيان : فذكره ورواه قبيصة عن سفيان عن أيوب عن أبي العالية

ہمیں اس کی خبر دی ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو زید بن حباب نے ان کو سفیان نے اس نے اسی حدیث کو ذکر کیا ہے اور اس کو روایت کیا ہے قبیصہ نے سفیان سے اس نے ایوب سے اس نے ابو العالیہ سے۔

أَبِي الْعَالِيَةِ ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← سفيان فذكره ورواه قبيصة ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 6834

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6835

6835 - أخبرناه علي بن أحمد بن عبدان نا أبو القاسم الطبراني نا حفص بن عمر نا قبيصة نا سفيان عن أبي أيوب عن أبي العالية عن أبي بن كعب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بشر هذه الأمة بالتيسير والسناء والرفعة في الدين والتمكين في البلاد والنصر فمن عمل منهم عملا بعمل الآخرة للدنيا فليس له في الآخرة من نصيب قال الحليمي رحمه الله : فثبت بالقرآن والسنة أن كل عمل أمكن أن يراد به وجه الله إذا لم يعمل لمجرد التقرب به إليه وابتغاء رضوانه حبط ولم يستوجب به ثوابا إلا أن لذلك تفصيلا وهو أن العمل إن كان من جملة الفرائض فمن أداه وأراد به الفرض غير أنه أداه بنية الفرض ليقول الناس أنه فعول لكذا إبطالا لرضوان الله واتقاء لسخطه سقط عنه الفرض ولم يؤاخذ به في الآخرة ولم يعاقب به التارك ولكنه لا يستوجب به ثوابا إنما ثوابه ثناء الناس عليه في الدنيا ومدحهم إياه بما فعل وإن كان العمل من باب التطوع يفعله يريد به وجوه الناس دون وجه الله تعالى جده فإن أجره يحبط ولا يحصل من عمله على شئ يكون له كما حصل الأول على سقوط الفرض عنه ثم يعاقبهما على أنهما عملا لا لوجه الله تعالى وتماما ثواب الله بمحمدة الناس يحتمل وجهين أحدهما أن يقال أن الذي جاء به الحديث من قول الله عز و جل فقد قيل ذلك اذهبوا به إلى النار إخبار بأن المرائي يعاقب عن عدوله عن قصد وجه الله إلى وجه الناس ومعنى هذا أنه استخف وجه الله واستهان نعمته فلم يجز أن يقصر ذلك عن ذنب غيره والذنوب كلها موجبة للعقاب فكذلك هذا قلت إلا أن يعفو الله والوجه الآخر أنه لا يعاقب ولا يثاب ومعنى الحديث أن هذه الأعمال التي راياها لا تنفعه فيثقل بها ميزانه ويرجح بها كفة الطاعات كفه المعاصي لا إنه يعاقب على الرياء بالنار إنما عقوبة الرياء إحباط العمل فقط ووجه هذا أنه عمل ما عمل عبادة لله عز و جل إلا أنه أراد بعمله حمد الناس فإذا أحيل عليهم فقد جوزي بصنيعه وليس وراء ذلك ذنب يستوجب عقابا لأن جميع عمله شيئان أحدهما فعل لم يخل من أن يكون فعله عبادة لله تعالى لأنه لو أراد عبادة غيره لكفر والآخر قصده أن يمدحه الناس بفعله لا أن يثاب عليه فأما الأول فليس بذنب وأما الثاني فهو الذنب فإذا لم يتب وقصر على قول الناس فقد جوزي فثبت أن ذلك قصارى أمره والله أعلم قال الإمام أحمد رحمه الله تعالى : فعلى تأويل الخبر حين أمر به فألقي في النار أن يكون له ذنوب غير ذلك ولم يرجح بهذا الذي عمله رياء كفة الطاعات كفة المعاصي فعوقب بمعاصيه لا بما فعل رياء والله أعلم والحديث الذي رويناه عن أبي بن كعب عن النبي صلى الله عليه و سلم وكذلك حديث أنس كالدلالة على هذا الوجه

ہمیں خبر دی اس کی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو ابو القاسم طبرانی نے ان کو حفص بن عمر نے ان کوقبیصہ نے ان کو سفیان نے ان کو ابو ایوب نے ان کو ابو العالیہ نے ان کو ابی بن کعب نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ بشارت دے دیجئے آپ اس امت کو ، آسانی کر دینے کی اور عظمت اور رفعت کی دین کے اندر۔ اور تمکین فی الارض یعنی شہروں میں حکومت ملنے کی۔ اور قدرتی نصرت ومدد۔ جو شخص ان میں سے کوئی عمل آخرت دنیا کے لئے کرے گا اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: قرآن اور سنت سے ثابت ہے کہ ہر وہ عمل جس میں یہ ممکن ہو کہ اس کے ساتھ اللہ کی رضا کا ارادہ کیا جائے اس کو جس وقت محض تقرب الہٰی کے لئے نہ کیا جائے اور محض اس کی رضا کو طلب کرنے کے لئے نہ کیا جائے تو وہ ضائع کر دیا جاتا ہے اور اسے عمل کے ساتھ ثواب بھی مرتب نہیں ہوتا۔ ہاں مگر یہ ہے کہ اس مسئلے میں تفصیل ہے وہ یہ ہے کہ وہ پھل اگر جملہ فرائض میں سے ہو تو جو شخص اس کو ادا کرتا ہے، اور اس کے ساتھ فرض کا ارادہ کرتا ہے اور اس کو ادا کرتے ہوئے فرض کی نیت کے سوا یہ خیال بھی کرتا ہے کہ لوگ یہ نہیں کہ وہ یہ عمل کرتا ہے اور بہت نمازی ہے وغیرہ تو ایسے کرنے سے عمل سے اللہ کی رضا باطل ہو جاتی ہے مگر وہ شخص اللہ کی ناراضگی سے بچ جاتا ہے۔ اور اس کے ذمے سے فرض ساقط ہو جاتا ہے چنانچہ اس سے آخرت میں اس عمل کے بارے میں مؤاخذہ نہیں ہو گا اور اس کو فرض کے تارک کی سزا بھی نہیں ملے گی۔ مگر یہ عمل مستوجب ثواب بھی نہیں ہو گا۔ اس کا ثواب صرف اس عمل پر لوگوں کا تعریف کر دینا ہے دنیا میں اور خصوصی طور پر اس کے فعل پر اس کی تعریف کر دیتا ہے۔ اورا کر وہ عمل نفل کے قبیل سے ہے اور عمل کرنے والا اس کو کر کے اس کے ساتھ لوگوں کی رضا اور خوشی کا ارادہ کرتا ہےاللہ تعالیٰ کی رضا کا نہیں کرتا۔ تو ایسے عمل کا اجر تباہ کر دیا جاتا ہے اور اس کے عمل سے ایسی کوئی شئی اس کو حاصل نہیں ہوتی جو بندے کے لئے ہو جیسے پہلے والے عمل سے کچھ حاصل ہوتا ہے اور اس کے عمل سے ایسی کوئی شے اس کو حاصل نہیں ہوتی جو بندے کے لئے ہو جیسے پہلے والے عمل سے کچھ حاصل ہوتا ہے مثلاً اس کے ذمے سے فرض کا ساقط ہو جانا۔ اس تفصیل کے بعد۔ ایسے دونوں عمل کرنے والوں کواللہ تعالیٰ اس بات پر سزا دے گا کہ ان دونوں نے یہ عمل لوجہ اللہ کیوں نہیں کیا اور اس کے ثواب کی تکمیل کے طور پر لوگوں سے تعریف سنے کوبھی شامل کیا۔ دو وجوہ کا احتمال رکھتا ہے۔ وجداول :۔۔۔۔۔یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ (ریاء کار کو) فرمائیں گے (کہ تم نے یہ چاہا تھا کہ لوگ تمہیں ایسا ایسا کہیں) اور وہ کہہ دیا گیا تھا لہٰذا لے جاؤ اس کو جہنم کی طرف۔ یہ اطلاع ہے کہ ریا کار کو لوجہ اللہ کے قصد سے لوجہ الناس کے قصد کی طرف عدول کرنے کی سزا ضرور دی جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے وجہ اللہ اوراللہ کی رضاء کو ہلکا اور بے وزن سمجھا اور اس کی نعمت کی توہین کی علاوہ ازیں اور بھی اس میں گناہ ہو سکتے ہیں، اور گناہ کوئی بھی ہوں سب کے سب موجب سز انہیں اسی طرح یہ بھی ہیں۔ میں کہوں گا کہ ہاں (ایک صورت بخشنے کی ہے) وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خود اسے معاف کر دے۔ وجہ ثانی :۔۔۔۔۔یا توجیہ ثانی یہ ہے کہ دو شخص نہ سزا دیا جائے گا اور نہ ثواب دیا جائیگا۔ (مگر پھر سوال ہو گا کہ حدیث میں جو کچھ آیا ہے اس کا کیا حل ہے) تو یہ کہا جائے گا کہ یا اعمال جن میں اس نے ریا کاری کی تھی اس کو ایسا فائدہ نہیں دیں گے جن کے ساتھ ترازو میں وزان زیادہ ہو جائے اور وہ بھاری ہو جائے اور ان کے ساتھ اطاعات والا پلڑا معاصی والے پلڑے سے تھک جائے۔ یہ نہیں کہ یہ ریاکاری پر اس کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ سوائے اس کے نہیں کہ ریا کاری کی سزا عمل کوا کارت کر دینا اور ضائع کر دیتا ہے فقط۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے جو کچھ بھی عمل کیا تھا وہ عمل اللہ کی عبادت کے طور پر کیا تھا، ہاں مگر یہ بات ہے کہ اس نے اپنے عمل کے ساتھ لوگوں کے تعریف کرنے کا بھی ارادہ کر لیا تھا۔ پس جس وقت ان پر یہ ارادہ مسلط ہو گیا تو اس کو اس کے فعل کی جزا دی کی اور اس کے لئے اس کے سوا دوسرا ایسا کوئی گنا نہیں تھا جو مستو جب سزا ہوتا۔ اس لئے کہ اس کا پور اعمل دو چیزیں ہیں۔ ایک تو فعل ہے جواس بات سے خالی نہیں ہو سکتا کہ اس کا کرنا اللہ کی عبادت ہے۔ کیونکہ اگر اس کا ارادہ اللہ کی عبادت کا نہ ہوتا بلکہ کسی اور کی عبادت کا ہوتا یعنی وہ غیر اللہ کی عبادت کا ارادہ کرے تو کافر ہو جائے۔ اور دوسری چیز عمل کر نے والے کا یہ قصد وارادہ ہے کہ لوگ اس کے فعل پر اس کی تعریف کریں۔ یہ ارادہ نہیں کہ اس پر ثواب دیا جائے گا۔ (جہاں تک ان دونوں چیزوں کا تعلق ہے) تو پہلی چیز کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور دوسری چیز گناہ ہے پس جب اس نے توبہ نہیں کی اور لوگوں کی بات پر رک گیا تو تحقیق اس کی جزا دیا گیا لہٰذا ثابت ہوا کہ یہ اسی کے امر کی کوتاہی ہے۔ واللہ اعلم۔ امام احمد نے فرمایا: اس مذکور تفصیل کی بنیاد پر حدیث کی یہ تاویل ہو گی کہ جس وقت جہنم میں ڈالا جائے گا اس وقت اس ریاکاری کے علاوہ بھی اس کے گناہ ہوں گے لہٰذا ان گناہوں اور اس ریاکاری کے ساتھ مل کر طاعات کا پلہ معاصی کے پلے پر بھاری نہیں ہو سکا لہٰذا وہ اپنے گناہوں کی سزاد یا جائے گا۔ اس فعل کی نہیں جو اس نے بطور ریاکاری کے کیا تھا۔ واللہ اعلم۔ اور وہ حدیث جو ہم نے روایت کی ہے ابی بن کعب سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور اسی طرح حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث وہ اسی صورت کی دلالت کی طرح ہیں۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← أَبِي أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ← أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 6835

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6836

6836 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان نا أحمد بن عبيد الصفار نا تمام بن محمد بن غالب نا إبراهيم بن عرعرة نا الحارث بن غسان أبو غسان نا أبو عمران الجوني نا أنس : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : يجاء بأعمال بني آدم فيصب بين يدي الله تعالى يوم القيامة في صحف مختمة فيقول : خذوا وألقوا هذا فيقولون والله ما علمنا إلا خيرا قال : إن عمله كان لغيري وإني لا أقبل إلا ما ابتغي به وجهي كذلك رواه جماعة عن الحارث بن غسان وفي حديث تميم بن طرفة عن الضحاك بن قيس الفهري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله عز و جل يقول : أنا خير شريك فمن أشرك معي شركا فهو لشريكي يا أيها الناس أخلصوا أعمالكم لله عز و جل فإن الله عز و جل لا يقبل إلا ما أخلص له ولا تقولوا هذا لله وللرحم فإنها للرحم فليس لله عز و جل منها شيء ولا تقولوا هذه لله ولوجوهكم ليس منها شيء أخبرنا أبو بكر بن الحارث الفقيه أنا علي بن عمر نا يحيى بن صاعد و جعفر بن محمد بن يعقوب الصيدلي قالا نا إبراهيم بن مجشر نا عبيد بن حميد حدثني عبد العزيز بن رفيع وغيره عن تميم عن طرفه فذكره

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو تمام بن محمد بن غالب نے ان کو ابراہیم بن عرعرہ نے ان کو حارث بن غسان نے ان کو ابو غسان نے ان کو ابو عمران جونی نے ان کو انس نے ان کو نبی کریم نے آپ نے فرمایا۔ بنی آدم کے اعمال قیامت میں لائے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے آگے مہر زدہ صحیفوں میں لے جائیں گے اللہ تعالیٰ حکم دے گا۔ پھینک دو ان کو وہ کہیں گے اللہ کی قسم نہیں جانتے ہم صرف خیر ہی ہیں یہ (یعنی ان میں کوئی برائی اور گناہ نہیں ہے۔) اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ بے شک اس کا عمل میرے لئے نہیں تھا بلکہ غیر اللہ کے لئے تھا اور بے شک میں قبول نہیں کرتا مگر صرف وہی جس کے ساتھ میری رضا طلب کی گئی ہو۔ اسی طرح اس کو روایت کیا ہے حسان بن غسان سے۔ اور تمیم بن طرفہ کی روایت ہے ضحاک بن قیس فہری سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ میں بہتر ہوں شریکوں کی نسبت۔ جو شخص میرے ساتھ کسی کوشریک کرے گا وہ عبادت اسی شریک کے لئے ہے۔ اے لوگو اپنے اعمال کو اللہ کے لئے خاص کرو بے شک اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرتا مگر صرف اسی عبادت کو جو اسی کے لئے خالص کر دی گئی ہو یوں نہ کہو کہ یہ اللہ کے لئے اور یہ رحم کے لئے ہے (یعنی فلاں تعلق اور رشتہ کے لئے ہے) اور یہ رحم کے لئے ہے اللہ کے لئے اس میں سے کچھ بھی نہیں ہے اور یہ بھی نہ کہو کہ یداللہ کے لئے ہے اور یہ تمہاری رضاء کے لئے ہے اس میں سے اللہ کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ اور ہمیں خبر دی ابو بکر بن حارث فقیہ نے ان کو علی بن عمر نے ان کو یحییٰ بن صاعد نے اور جعفر بن محمد بن محمد یعقوب صیدلی نے انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ابراہیم بن مجثر نے ان کو عبیدہ بن حمید نے۔ ان کو حدیث بیان کی عبدالعزیز بن رفیع وغیرہ نے تمیم سے اس نے طرفہ سے اس نے مذکورہ حدیث ذکر کی۔

أَنَسٍ، ← أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ← الحارث بن غسان أبو غسان ← إبراهيم بن عرعرة ← تمام بن محمد بن غالب ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 6836

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6837

6837 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصفار نا إسماعيل بن إسحاق القاضي نا عبد الله بن مسلمة نا مالك عن يحيى بن سعيد عن محمد بن إبراهيم عن علقمة بن وقاص عن عمر بن الخطاب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنما الأعمال بالنية وإنما لامرئ ما نوى فمن كانت هجرته إلى الله ورسوله فهجرته إلى الله ورسوله ومن كانت هجرته لدنيا يصيبها أو امرأة يتزوجها فهجرته إلى ما هاجر إليه روياه عن القعنبي عن مالك

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو اسماعیل بن اسحاق قاضی نے ان کو عبداللہ بن مسلمہ نے ان کو مالک نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو محمد بن ابراہیم نے ان کو علقمہ بن وقاص نے ان کو عمر بن خطاب نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اعمال نیتوں کے ساتھ میں بے شک آدمی کے لئے وہی کچھ ہے جو کچھ وہ نیت کرے و شخص جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے بس اس کی ہجرت تو اللہ اور رسول کی طرف ہے اور جس کی ہجرت دنیا کی طرف ہے وہ اس کو پالے گا، یا عورت کے لئے ہے کہ وہ اس سے نکاح کر لے گا۔ الغرض انسان کی ہجرت اسی کے لئے مانی جائے گی جس کے لئے اس نے ہجرت کی۔ بخاری و مسلم نے اس کو روایت کیا ہے قعنبی سے اس نے مالک سے۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 6837

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6838

6838 - أخبرنا عبد الله بن يوسف أنا أبو سعيد الأعرابي نا سعدان بن نصر نا أبو معاوية نا عاصم الأحول عن أبي العالية قال : كنا نحدث منذ خمسين سنة أن الأعمال تعرض على الله عز و جل فما كان منها له قال : هذا لي وأنا أجزي به وما كان لغيره قال اطلبوا ثواب هذا ممن علمتموه له وكنا نحدث منذ خمسين سنة أن الرجل إذا حبس بمرض قال الله عز و جل : اكتبوا لعبدي مثل ما كان يعمل في صحته حتى أقبضه أو أخلي سبيله وكنا نحدث منذ خمسين سنة أن من مرض مرضا أشرف فيه على نفسه كان من ذنوبه كيوم ولدته أمه أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا العباس بن محمد نا عبيد الله بن موسى نا بشير أبو إسماعيل عن عكرمة عن ابن عباس قال : من راءى بشيء في الدنيا من عمله وكله الله إليه يوم القيامة وقال : انظر هل يغني عنك شيئا

ہمیں خبر دی عبداللہ بن یوسف نے ان کو ابو سعید اعرابی نے ان کو سعدان بن نصر نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو عاصم احول نے ان کو ابوالعالیہ نے ہم لوگ پچاس سال سے حدیث بیان کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے آگے اعمال پیش کئے جاتے ہیں۔ان میں سے جو خالص اسی کے لئے ہوں۔ وہ فرماتا ہے کہ یہ میرے لئے ہے میں اس کی جزا دوں گا۔ اور جو عمل اللہ کے سوا کسی اور کے لئے ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کا ثواب اسی سے لے لو جس کے لئے یہ عمل کیا تھا اور ہم لوگ پچاس سال سے یہ حدیث بیان کر رہے ہیں کہ بندہ جب کسی مرض میں پھنس جاتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے کے لئے نیکیاں لکھو جیسے تم اس کی صحت میں اس کے لئے لکھتے تھے یہاں تک کہ یا تو میں اس کو قبض کر لوں یا میں اس کو تندرست کر دوں۔ اور نام لوگ پچاس سال سے حدیث بیان کر رہے ہیں کہ جو شخص کسی بیماری میں مبتلا ہو جائے۔ اور اس میں وہ موت کے قریب ہو جاے اس کے گناہ ایسے ہو جاتے ہیں جیسے اس کی ماں نے آج ہی اس کو جنم دیا ہے۔ ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو عباس بن محمد نے ان کو عبیداللہ بن موسیٰ نے ان کو بشر نے ان کو ابو اسماعیل نے ان کو عکرمہ نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ جو شخص دنیا میں کسی عمل کا دکھاوا کرے اللہ تعالیٰ اس کا عمل اسی بندے کے حوالے کر دے گا اور فرمائے گا کہ ذرا دیکھ کیا وہ تجھے کوئی فائدہ دے سکتا ہے۔

أَبِي الْعَالِيَةِ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو سَعِيدٍ الْأَعْرَابِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ،

Hadith 6838

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6840

6840 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس المحبوبي نا سعيد بن مسعود نا يزيد بن هارون وتلا فليعمل عملا صالحا ولا يشرك بعبادة ربه أحدا فقال : أخبرنا ابن أبي ذئب عن بكير بن عبد الله بن الأشج عن الوليد بن السرج عن أبي هريرة : أن رجلا قال : يا رسول الله الرجل يجاهد في سبيل الله وهو يبغي من عرض الدنيا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا أجر له فأعظم الناس ذلك فعاد الرجل فقال لا أجر له قال أحمد : وهذا مع ما قبله يؤكد ما اختاره الحليمي

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محبوبی نے ان کو سعید بن مسعود نے ان کو یزید بن ہارون نے اور اس نے یہ آیت پڑھی۔ فلیعمل عملاً صالحاً ولا یشرک بعبادۃ ربہ احداً جو شخص اپنے رب کی ملاقات کی امید رکھتا ہے اس کو چاہئے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے خبر دی ہے ابن ابو ذہب نے ان کو بکیر بن عبداللہ بن اشج نے ان کو ولید بن سرج نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ایک آدمی اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے اور وہ اس کے ساتھ دنیا کی عزت طلب کرتا ہے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا اس کے لئے کوئی اجر نہیں ہے اس نے لوگوں اس سے بہت بڑا جان لیا ہے۔ دوبارہ سوال کیا اس آدمی نے آپ نے فرمایا کہ اس کے لئے کوئی اجر نہیں ہے۔ امام احمد نے فرمایا یہ حدیث مقابل والی حدیث کے ساتھ مل کر اس موقف کو پکا کرتی ہے جس کو شیخ حلیمی نے اختیار کیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا ← الوليد بن السرج ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← يزيد بن هارون وتلا فليعمل عملا صالحا ولا يشرك بعبادة ربه أحدا ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 6840

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6841

6841 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس الأصم نا إبراهيم بن مرزوق نا عثمان بن عمر نا شعبة عن سماك بن حرب عن مري بن قطري عن عدي بن حاتم قال : قلت يا رسول الله إن أبي كان يقري الضيف ويحب الضيافة ويذكر أشياء من مكارم الأخلاق قال : إن أباك أراد أمرا فأدركه قال سماك : يقول الذكر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں کو ابو العباس اصم نے ان کو ابراہیم بن مرزوق سے ان کو عثمان بن عمر نے ان کو شعبہ نے سماک بن حرب سے اس نے مری بن قطری سے اس نے عدی بن حاتم سے اس نے کہا یا رسول اللہ ! میرے والد مہمان نوازی کرتے تھے۔ اور مہمان نوازی کرنے کو پسند کرتے تھے اور اس نے کئی دیگر کئی باتیں اچھے اخلاق میں سے گنوائیں (کہ وہ کرتے تھے) حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرے والد نے ایک چیز کا ارادہ کیا تھا اس نے اس کو پالیا تھا۔ سماک نے کہا کہ آپ کی مراد بھی ذکر کرنا۔ یعنی اس کا ارادہ یہ ہوتا تھا کہ لوگ اس کی نیکیوں اور اچھائیوں کو یاد کریں۔

قُلْتُ ← عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← مُرِّيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Hadith 6841

chevron_left Previous
1234…16
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood