شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6829
6829 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا العباس بن محمد نا يعقوب بن إبراهيم بن سعد نا أبي عن صالح بن كيسان عن ابن شهاب عن محمود بن الربيع وهو الذي مج رسول الله صلى الله عليه و سلم في وجهه من بئرهم أن شداد بن أوس بن ثابت بن أخي حسان بن ثابت بكى و محمود جالس معه قال : يا نعايا العرب قال : فقلت له ما يبكيك يرحمك الله ؟ قال : إن أخوف ما أخاف على هذه الأمة الرياء والشهوة الخفية إنكم إذا لا تؤتون إلا من قبل الرؤوس الذين إذا أمروا بخير أطيعوا وإذا أمروا بشر أطيعوا وما المنافق ؟ إن المنافق كالبذخ اختنق في ريقه لا يضره إلا نفسه كذا قال : ومن وجه آخر عن شداد بن أوس مسندا بهذا اللفظ
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد نے ان کو یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو صالح بن کیسان نے ان کو ابن شہاب نے ان کو محمود بن ربیع نے یہ وہی صاحب ہیں رسول اللہ نے جن کے منہ میں کلی بھر کر ڈالی تھی ان کے کنویں سے۔ یہ کہ شداد بن اوس بن ثابت بن اخی حسان بن ثابت رو پڑے اور محمود بیٹھے ہوئے تھے ان کے ساتھ انہوں نے کہا اے عرب کے ناعیوموت کی خبریں لانے والو! کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا آپ کیوں رو رہے ہیں اللہ آپ پر رحم کرے؟ فرمایا اس امت پر سب سے زیادہ ڈر کی بات جس سے میں ڈرتا ہوں وہ ہے ریاکاری اور دکھاوا اور چھپ کر جنسی خواہش پوری کرنا۔ بے شک تم لوگ اس وقت نہیں دیئے جاؤ گے مگر سروں کی جانب سے وہ جو جب ان کو غیر کا حکم ملے اطاعت کریں اور جب شر کا حکم ملے جب بھی اطاعت کریں۔ منافق کون ہے؟ بے شک منافق مثل منکر ہے۔ اپنی تھوک گھوٹ لیتا ہے روک لیتا ہے، اس کونہیں نقصان دیتی مگراس کے نفس کو۔ اس طرح کہا ہے۔ اور دوسرے طریق سے مروی ہے شداد بن اوس سے جو کہ مسند ہے اس لفظ کے ساتھ۔
Hadith 6829
