شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6975
6975 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس الأصم نا الربيع بن سليمان نا أيوب بن سويد نا أبو زرعة قال : خرج الضحاك ابن قيس فاستسقى بالناس ولم يمطروا ولم يروا سحابا قال الضحاك : أين يزيد بن الأسود ؟ فقال : هذا أنا قال : نعم فاستشفع لنا إلى الله عز و جل أن يسقينا فقام فعطف برأسه على منكبيه وحسر عن ذراعيه فقال : اللهم إن عبادك هؤلاء استشفعوا بي إليك فما دعا إلا ثلاثا حتى مطروا مطرا كادوا يغرقون منه ثم قال : إن هذا شهرني فأرحني فما لبث بعد ذلك إلا جمعة حتى مات
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو ایوب بن سوید نے ان کو ابو زرعہ نے وہ کہتے ہیں کہ ضحاک بن قیس نکلے اور انہوں نے لوگوں کو نماز استسقاء پڑھائی مگر نہ تو بارش ہوئی اور نہ ہی انہوں نے بادل دیکھا ضحاک نے کہا کہ کہاں ہے یزید بن اسود؟ اس نے کہا کہ میں یہ موجود ہوں۔انہوں نے کہا کہ۔ آپ ہمارے لئے اللہ کی بارگاہ میں شفاعت کیجئے کہ ہمارے لئے بارش فرمائے۔ وہ اٹھے اور اپنے سر کو کندوں پر جھکایا اور آستین اوپر کو چڑھائیں۔ اور دعا شروع کی اے اللہ تیرے ان بندوں نے مجھے تیری بارگاہ میں سفارشی بنایا ہے۔ صرف تین بار ہی دعا کی تھی یہاں تک کہ بارش ہو گئی اتنی بارش ہوئی کہ قریب تھے کہ وہ ڈوب جاتے اس سے اس کے بعد انہوں نے کہا کہ اس بارش نے مجھے مشہور کر دیا ہے لہٰذا اب مجھے اس شہرت سے چھٹکارا دے دے اس کے بعد وہ صرف ایک جمعہ تک زندہ رہے پھر انتقال کر گئے۔
ھَذَا ← الضحاك أين يزيد بن الأسود ← خرج الضحاك ابن قيس فاستسقى بالناس ولم يمطروا ولم يروا سحابا ← أَبُو زُرْعَةَ ← اَیُّوْبُ بْنُ سُوَیْدٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى
Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6975
