Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6975

6975 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس الأصم نا الربيع بن سليمان نا أيوب بن سويد نا أبو زرعة قال : خرج الضحاك ابن قيس فاستسقى بالناس ولم يمطروا ولم يروا سحابا قال الضحاك : أين يزيد بن الأسود ؟ فقال : هذا أنا قال : نعم فاستشفع لنا إلى الله عز و جل أن يسقينا فقام فعطف برأسه على منكبيه وحسر عن ذراعيه فقال : اللهم إن عبادك هؤلاء استشفعوا بي إليك فما دعا إلا ثلاثا حتى مطروا مطرا كادوا يغرقون منه ثم قال : إن هذا شهرني فأرحني فما لبث بعد ذلك إلا جمعة حتى مات

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو ایوب بن سوید نے ان کو ابو زرعہ نے وہ کہتے ہیں کہ ضحاک بن قیس نکلے اور انہوں نے لوگوں کو نماز استسقاء پڑھائی مگر نہ تو بارش ہوئی اور نہ ہی انہوں نے بادل دیکھا ضحاک نے کہا کہ کہاں ہے یزید بن اسود؟ اس نے کہا کہ میں یہ موجود ہوں۔انہوں نے کہا کہ۔ آپ ہمارے لئے اللہ کی بارگاہ میں شفاعت کیجئے کہ ہمارے لئے بارش فرمائے۔ وہ اٹھے اور اپنے سر کو کندوں پر جھکایا اور آستین اوپر کو چڑھائیں۔ اور دعا شروع کی اے اللہ تیرے ان بندوں نے مجھے تیری بارگاہ میں سفارشی بنایا ہے۔ صرف تین بار ہی دعا کی تھی یہاں تک کہ بارش ہو گئی اتنی بارش ہوئی کہ قریب تھے کہ وہ ڈوب جاتے اس سے اس کے بعد انہوں نے کہا کہ اس بارش نے مجھے مشہور کر دیا ہے لہٰذا اب مجھے اس شہرت سے چھٹکارا دے دے اس کے بعد وہ صرف ایک جمعہ تک زندہ رہے پھر انتقال کر گئے۔

ھَذَا ← الضحاك أين يزيد بن الأسود ← خرج الضحاك ابن قيس فاستسقى بالناس ولم يمطروا ولم يروا سحابا ← أَبُو زُرْعَةَ ← اَیُّوْبُ بْنُ سُوَیْدٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6975

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6976

6976 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو بن السماك نا أحمد بن محمد السكري نا إبراهيم بن النجيد حدثني الحسن بن القاسم قال : سمعت بشر بن الحارث قال : كتب حذيفة إلى يوسف بن أسباط يا أخي إني أخاف عليك أن يكون بعض محاسننا أضر عليك في القيامة من مساوئنا قال : وكتب إليه أيضا حتى لا يكون في موضوع إذا جئت إلى البقال فقلت : أعطني مطهرتك قال : هات كساءك أو ضع كساءك

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو عمرو بن سماک نے ان کو احمد بن محمد سکری نے ان کو ابراہیم بن جنید نے ان کو حسن بن قاسم نے انہوں نے سنا بشر بن حارث سے وہ کہتے ہیں کہ حذیفہ نے لکھا یوسف بن اسباط کی طرف اے بھائی میں ڈرتا ہوں آپ کے اوپر کہ ہماری بعض نیکیاں قیامت کے دن زیادہ مضر ہوں آپ کے اوپر ہماری برائیوں سے۔انہوں نے فرمایا اس نے ان کی طرف یہ بھی لکھا کہ حتٰی کہ نہ ہو کسی جگہ۔ جب میں آتا ہوں سبزی والے تو میں کہتا ہوں کہ مجھے اپنا طہارت والا برتن دیجئے اس نے کہا کہ لایئے اپنی چادر دیجئے یا یوں کہا کہ رکھئے ایسی چادر۔

حذيفة إلى يوسف بن أسباط يا أخي إني أخاف عليك ← بِشْرُ بْنُ الْحَارِثِ ← الحسن بن القاسم ← إبراهيم بن النجيد ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6976

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6977

6977 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا أحمد بن عيسى نا ابن وهب عن عمرو بن الحارث و ابن لهيعة عن يزيد بن أبي حبيب عن سنان بن سعيد عن أنس بن مالك : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال : حسب امرئ من الشر إلا من عصمه الله أن يشير إليه الناس بالأصابع في دينه ودنياه

ہمیں خبر دی ابو الحس علی بن مقریٔ نے ان کوحسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو احمد بن یحییٰ نے ان کو ابن وہب نے ان کو عمرو بن حارث اور ابن لہیعہ نے ان کو یزید بن ابی حبیب نے ان کو سنان بن سعید نے ان کو انس بن مالک نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہوں نے کہا کسی آدمی کے برا ہونے کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ لوگ اس کے دین میں یا دنیا میں انگلیاں اٹھائیں۔ مگر وہ جس کو اللہ بچائے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← سنان بن سعيد ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← عمرو بن الحارث و ابن لهيعة ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أحمد بن عيسى، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6977

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6978

6978 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أحمد بن عدي نا علي بن الحسين بن عبد الرحيم نا إسحاق الحنظلي أنا كلثوم بن محمد بن أبي سدرة الحلبي نا عطاء بن أبي مسلم الخراساني عن أبي هريرة : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : بحسب امرئ من الشر أن يشار إليه في دينه ودنياه إلا من عصمه الله وبه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : المكر والخديعة في النار قلت : رواه أيضا عبد العزيز بن حصين عن ابن أمية عن الحسن عن أبي هريرة والإسناد ضعيف

ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو احمد بن عدی نے ان کو علی بن حسین بن عبدالرحیم نے ان کو اسحٰق حنظلی نے ان کو کلثوم بن محمد بن ابو سدرہ حلبی نے ان کو عطاء بن ابو مسلم خراسانی نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی مرد کے بارے میں اتنی برائی بہت ہے کہ اس کے دین یا دنیا میں اس کی طرف انگلیاں انھیں مگر جس کو اللہ حفاظت فرمائے۔ اور اسی سند کے ساتھ مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ مکر اور دھوکہ کرنے والا جہنمی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس کو بھی عبد العزیز بن احمد بن حصین نے روایت کیا ہے ابن امیہ سے اس نے حسن سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور اسناد ضعیف ہے۔

بحسب امرئ من الشر ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ الْخُرَاسَانِيُّ، ← كُلْثُومُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سِدْرَةَ الْحَلَبِيُّ، ← إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ ← علي بن الحسين بن عبد الرحيم، ← أحمد بن عدي ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6978

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6979

6979 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا جعفر بن محمد نا أبو جعفر النفيلي نا كثير بن مروان القدسي حدثني إبراهيم بن أبي عبلة عن عقبة بن وشاح عن عمران بن حصين قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كفى بالمرء إثما أن يشار إليه بالأصابع قالوا : يا رسول الله وإن خيرا ؟ قال : فإن كان خيرا فهي مذلة إلا من رحم الله وإن كان شرا فيه فهو شر كثير بن مروان هذا غير قوي أخبرنا الحسين بن الفضل أنا أبو سهل بن زياد القطان نا إسحاق بن الحسن الحربي نا عفان نا حماد بن سلمة أنا الحجاج الأسود عن معاوية بن قرة قال : من يدلني على بكاء بالليل بسام النهار

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو جعفر بن محمد نے ان کو ابو جعفر نفیلی نے ان کو کثیر بن مروان مقدسی نے ان کو ابراہیم بن ابو عبلہ نے ان کو عقبہ بن وشاج نے ان کو عمران بن حصین نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مرد کے لئے اتنی گناہ کافی ہے اس کی طرف انگلیوں سے اشارے کئے جائیں۔ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ! کیا اگرچہ اچھائی کے اور خیر کے ساتھ بھی ہوں ؟ فرمایا اگرچہ خیر کے ساتھ ہوں تو یہ (شہرت اور اشارے) ذلیل کرنے والے ہیں مگر جس کو اللہ رحم کرے۔ (اور اگر وہ اشارے یا وہ شہرت) برائی کی ہو تو وہ برائی ہی ہے اس سند میں کثیر بن مروان غیر قوی ہے۔ ہمیں خبر دی حسین بن فضل نے ان کو ابو سہل بن زیاد بن قطان نے ان کو اسحٰق بن حسن حربی نے ان کو عفان نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو حجاج بن اسود نے ان کو معاویہ بن قرہ نے وہ کہتے ہیں کہ جو شخص مجھے رات کے وقت رونے کی خبر دے وہ دن کو موت کی خبر دے گا۔ نے ان کو ابو سفیان نے ان کو سفیان ثوری نے ان کو زید نے وہ کہتے ہیں کہ جب کسی آدمی کا باطن ظاہر سے افضل ہوا (یعنی خلوت جلوت سے افضل ہو) پس یہی اصل فضیلت و بزرگی ہے اور جب ظاہر باطن اور خلوت جلوت برابر ہوں یہ ادھار ہے اور جب اس کا ظاہر صرف اچھا ہو اس کے باطن سے پس یہی جورو ظلم ہے۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← عقبة بن وشاح ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ← كثير بن مروان القدسي ← أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6979

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6980

6980 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر بن بالويه نا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي نا محمد بن حميد أبو سفيان عن سفيان الثوري عن زيد قال : إذا كانت سريرة الرجل أفضل من علانيته فذلك الفضل وإذا كانت سريرة الرجل وعلانيته سواء فذلك النصف وإذا كانت علانيته أفضل من سريرته فذلك الجور

Not Found

زيد1 ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَبُو سُفْيَانَ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6980

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6981

6981 - سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول : سمعت منصور بن عبد الله يقول : سمعت العباس بن عبد الله الواسطي يقول : سمعت العباس بن عبد الله الواسطي يقول : سمعت إبراهيم بن يونس يقول : سمعت ذا النون يقول : إياك أن تكون بالمعرفة مدعيا أو تكون بالزهد محترفا أو تكون بالعبادة متعلقا

میں نے سنا ابو عبدالرحمٰن سلمی سے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا منصور بن عبداللہ سے انہوں نے سنا عباس بن عبداللہ واسطی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابراہیم بن یونس سے اس نے سنا ذوالنون مصری سے وہ کہتے تھے بچانا تم اپنے آپ کو اس بات سے کہ تم معرفت الہٰی کے دعویدار بنو۔ یا زاہد من الدنیا ہو نے کے معترف ہو۔ یا عابد ہونے کا دم بھرو۔ (مکرر ہے) انہوں نے فرمایا کیا تم جانتے نہیں کہ جب تم معرفت میں اپنے نفس کی طرف اشارہ کرو گے کئی چیزوں کا تم ان کے حقائق سے خالی ہو گے۔ تو تم اس چیز کا دعویٰ کرنے والے ہو گے اور جب تم زہد میں کسی ایک حالت کے ساتھ موصوف ہوں گے جب کہ تمہارے ساتھ دیگر احوال خالی بھی ہوں گے تو گویا تم اس کے بھی معترف ہوں گے۔ اور جب تم عبارت کے ساتھ اپنا تعلق بتلاؤ گے دل کا اور یہ گمان کرو گے کہ تم اپنی عبادت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے نجات پاؤ گے نہ یہ کہ تم اللہ کی توفیق کے ساتھ عبادت میں لگے ہو تو تم تعلق عبادت کے ساتھ جوڑو گے۔ عبادت کے مالک کے ساتھ نہیں اور اس کا تمہارے اوپر احسان کرنے والی ذات کے ساتھ نہیں۔

ذَا النُّونِ، ← إبراهيم بن يونس ← العباس بن عبد الله الواسطي ← العباس بن عبد الله الواسطي ← مَنْصُورَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← أبا عبد الرحمن السلمي

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6981

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6982

6982 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا أبو عثمان الحناط قال : سمعت ذا النون يقول : إياك أن تكون بالمعرفة مدعيا أو تكون بالزهد محترفا أو تكون بالعبادة متعلقا فقيل له : فسر لنا ذلك رحمه الله 6982 - مكرر ـ فقال أما علمت : أنك إذا أشرت في المعرفة إلى نفسك بأشياء أنت معرى عن حقائقها كنت مدعيا وإذا كنت في الزهد موصوفا بحالة وبك دون الأحوال كنت محترقا وإذا علقت بالعبادة قلبك وظننت أنك تنجو من الله تعالى بالعبادة لا بالله في العبادة كنت بالعبادة متعلقا لا بوليها والمنان بها عليك

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو ابوعثمان حناط نے انہوں نے سنا ذوالنون مصری سے وہ کہتے تھے۔ کہ تم معرفت کا دعویٰ کرنے سے بچو زہد کے اقرار سے اور عبادت کے اعتراف سے بچو۔ ان سے کہا گیا کہ آپ ہمارے لئے اس کی وضاحت فرمائیے۔ (مکرر ہے) انہوں نے فرمایا کیا تم جانتے نہیں کہ جب تم معرفت میں اپنے نفس کی طرف اشارہ کرو گے کئی چیزوں کا تم ان کے حقائق سے خالی ہو گے۔ تو تم اس چیز کا دعویٰ کرنے والے ہو گے اور جب تم زہد میں کسی ایک حالت کے ساتھ موصوف ہوں گے جب کہ تمہارے ساتھ دیگر احوال خالی بھی ہوں گے تو گویا تم اس کے بھی معترف ہوں گے۔ اور جب تم عبارت کے ساتھ اپنا تعلق بتلاؤ گے دل کا اور یہ گمان کرو گے کہ تم اپنی عبادت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے نجات پاؤ گے نہ یہ کہ تم اللہ کی توفیق کے ساتھ عبادت میں لگے ہو تو تم تعلق عبادت کے ساتھ جوڑو گے۔ عبادت کے مالک کے ساتھ نہیں اور اس کا تمہارے اوپر احسان کرنے والی ذات کے ساتھ نہیں۔

ذَا النُّونِ، ← أَبُو عُثْمَانَ الْحَنَّاطُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6982

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6983

6983 - أخبرنا أبو سعد عبد الملك بن أبي عثمان الزاهد نا أبو الفضل أحمد بن أبي عمران بمكة أنا أبو بكر أحمد بن محمد البغوي قال : قال الجنيد : معاشر الفقراء إنما عرفتم به وأكرمتم من أجله فإذا خلوتم فانظروا كيف تكونون معه

ہمیں خبر دی ابو سعد بن عبد الملک بن ابو عثمان زاہد نے ان کو ابو الفضل احمد بن ابی عمران نے مکہ میں ان کو ابو بکر احمد بن محمد بغوی نے وہ کہتے ہیں کہ جنید نے کہا۔اے فقراء کی جماعت! تم لوگ اسی فقر کے ساتھ پہچانے جاتے ہو اور اسی کی وجہ سے تمہیں عزت ملی ہوئی ہے جب تم خلوق میں ہوا کر تو دیکھا کرو کہ تم اس کے ساتھ کیسے ہو؟ (یعنی تم فقر کی اور معرفت کی کتنی رہیں ہے رکھا رہے ہو۔)

أبو بكر أحمد بن محمد البغوي ← أبو الفضل أحمد بن أبي عمران بمكة ← أَبُو سَعْدٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الزَّاهِدُ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6983

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6984

6984 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا عبد الله بن محمد الرازي نا إبراهيم بن زهير نا مكي بن إبراهيم نا جعفر بن حسان عن محمد بن واسع قال : قال لقمان لابنه : يا بني اتق الله لا ترى أنك تخشى يكرمونك وقليل فاجر

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو عبداللہ بن محمد رازی نے ان کو ابراہیم بن زہیر نے ان کو مکی بن ابراہیم نے ان کو جعفر بن حسان نے ان کو محمد بن واسع نے وہ کہتے ہیں کہ لقمان حکیم نے اپنے بیٹے سے کہا تھا۔اے بیٹے ! اللہ سے ڈرنا یہ نہ کھانا کہ تم ہی ڈرتے ہو اللہ سے تیرا کرام کریں لوگ اور تیرا دل فاجر ہو۔

مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ← جعفر بن حسان ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ زُهَيْرٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّازِيُّ، ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6984

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6985

6985 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ الغضائري نا أحمد بن سلمان نا إسماعيل نا سليمان بن حرب نا حماد بن زيد قال : سمعت أبي حدث عن بعض أشياخه أن لقمان قال لابنه : لا تري الناس أنك تخشى الله يكرموك وقلبك فاجر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ عضائری نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو اسماعیل نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو حماد بن زید نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اپنے والد سے وہ حدیث بیان کرتے تھے اپنے بعض شیوخ سے کہ انہوں نے کہا کہ لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا تھا۔ لوگوں کوتم نہ دیکھنا کہ تم اللہ سے ڈرتے ہو کہ لوگ تمہارا اکرام کریں حالانکہ تمہارا دل گنہگار ہو۔

لابنه لا تري الناس أنك تخشى الله يكرموك وقلبك فاجر ← بعض أشياخه أن لقمان ← أَبِي: حَدَّثَ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو عبد الله الحافظ الغضائري

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6985

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6986

6986 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت أبا بكر الرازي يقول : سمعت الكتاني وسأله بعض المريدين فقال له : أوصني فقال : كن كما ترى الناس وإلا فأبن للناس كما تكون

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو بکر رازی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا الکتانی سے اور ان سے پوچھا بعض مرید بن نے اور ان سے عرض کیا کہ آپ مجھے کوئی وصیت کیجئے۔ اس نے کہا کہ تو ایسا ہو جا جیسا تو لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو دکھاتا ہے وگرنہ جیسا تو ہے وہی حقیقت لوگوں کے سامنے ظاہر کر دے۔

لَهُ أَوْصِنِي ← الكتاني وسأله بعض المريدين ← أبا بكر الرازي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6986

chevron_left Previous
1…13141516
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood