Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6951

6951 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا الحسن بن علي بن عفان نا ابن نمير عن الأعمش عن شقيق عن عبد الله قال : كيف أنتم إذا لبستكم فتنة يربوا فيها الصغير ويهرم فيها الكبير يجري عليها الناس يتخذونها سنة إذا غير منها شيء قيل غيرت السنة فقيل متى ذلك يا أبا عبد الرحمن ؟ قال : إذا كثرت قراؤكم وكثرت أمراؤكم وقلت أمناؤكم والتمست الدنيا بعمل الآخرة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو ابن نمیر نے ان کو اعمش نے ان کو شقیق نے ان کو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب تمہیں فتنہ لپٹ جائے گا۔ جس میں چھوٹا پرورش پا کر بڑا ہو جائے گا اور بڑا، بوڑھا ہو جائے گا لوگ اسی پر چلیں گے اسی کو سنت کے طور پر اپنالیں گے جب اس میں سے کوئی چیز بدل جائے گی تو کہیں گے سنت بدل گئی ہے طریقہ بدل گیا ہے ان سے پوچھا کیا یہ کب ہو گا اے ابو عبدالرحمٰن؟ فرمایا جس وقت تمہارے قاری زیادہ ہو جائیں گے اور تمہارے امیر بہت ہو جائیں گے۔ اور تمہارے امانت دار کم ہو جائیں گے اور آخرت کے عمل کے بدلے میں دنیا حاصل کی جائے گی۔

عَبْدُ اللَّهِ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6951

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6952

6952 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس الأصم نا يحيى بن أبي طالب أنا عبد الوهاب هو ابن عطاء أنا أبو عثمان ثنا أبو سلمة عن عمران القصير قال : بلغني أن في جهنم واديا تعوذ منه جهنم في كل يوم أربع مائة مرة أعد ذلك للمرائين من القراء وروي فيه حديث مرفوع ذكرناه في كتاب البعث

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا ہمیں خبر دی ابو العباس اصم نے انہیں یحییٰ بن ابی طالب نے انہیں عبدالوہاب نے انہیں حریری نے ابو الورد سے اس نے وہب بن منبہ سے کہا بنی اسرائیل میں فاسق قاری ظاہر ہوا اور عنقریب تم میں بھی ظاہر ہوں گے۔

عِمْرَانُ الْقَصِيرُ، ← أَبُو سَلَمَةَ ← أَبُو عُثْمَانَ ← عبد الوهاب هو ابن عطاء ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6952

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6953

6953 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس الأصم نا يحيى بن أبي طالب أنا عبد الوهاب نا الجريري عن أبي الورد عن ابن وهب بن منبه قال : ظهرت في بني إسرائيل قراء فسقة وسيكثرون فيكم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں کو ابو العباس اصم نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو عبدالوہاب نے جو ابن عطاء ہیں ان کو ابو عثمان نے ان کو ابو سلمہ نے ان کو عمران قصیر نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ جہنم کے اندر ایک وادی ہے جس سے جہنم ہر روز چار سو بار پناہ مانگتی ہے اور وہ ریاکاری کرنے والے دکھاوا کرنے والے قاریوں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ اور اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی مروی ہے ہم نے اس کو کتاب البعث میں ذکر کر دیا ہے۔

ظهرت في بني إسرائيل قراء فسقة وسيكثرون فيكم ← ابن وهب بن منبه ← أَبِي الْوَرْدِ، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6953

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6954

6954 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني محمد بن صالح بن هانئ نا أبو الفضل أحمد بن الحسن المستملي نا محمد بن مقاتل المروزي نا يوسف بن عطية وكان من أهل السنة عن ثايت عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يكون في آخر الناس عباد جهال وقراء فسقة يوسف بن عطية كثير المناكر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن صالح بن ہانی نے ان کو ابو الفضل احمد بن حسن مستملی نے ان کو محمد بن مقاتل مروزی نے ان کو یوسف بن عطیہ نے اور وہ امت کے پیروکاروں میں سے تھا۔ وہ حضرت انس سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آخری لوگوں میں عابد جاہل ہوں گے اور قاری فاسق ہوں گے۔ یوسف بن عطیہ بہت منکر روایتیں بیان کرتا ہے۔

أَنَسٍ، ← ثايت ← يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ وَكَانَ مِنْ أَهْلِ السُّنَّةِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ الْمَرْوَزِيٌّ ← أبو الفضل أحمد بن الحسن المستملي ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6954

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6955

6955 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو يوسف يعقوب بن محمد بن إسحاق بن زيد المذكر نا أبو بكر محمد بن ياسين بن النضر نا أبي نا إبراهيم بن عيسى الطلقاتني نا أبو حفص البصري عن مالك بن دينار قال : مثل قراء هذا الزمان مثل رجل نصب فخا فوقع عصفور في فخه فقال : ما لي أراك سجينا في التراب ؟ فقال : التواضع قال : فلم حنيت ظهرك ؟ قال : من طول العبادة قال : فما هذه الجنة المنصوبة قيل قال : أعددتها للصائمين فلما نسي تناول الحبة فوقع الفخ على عنقه فخنقته فقال العصفور : إن كان العباد يخنقون خنقك فلا خير في العباد اليوم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو یوسف یعقوب بن محمد بن اسحاق بن زید واعظ نے ان کو ابو بکر محمد بن یاسین بن نصر نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابراہیم بن عیسیٰ طالقانی نے ان کو ابو حفص بصری نے ان کو مالک بن دینار نے وہ کہتے ہیں کہ اس دور کے قاریوں کی مثال اس آدمی جیسی ہے۔ جو شکار کا جال نصب کرتا ہے اس کے پھندے پر ایک چیز یا آ کر بیٹھتی ہے اور وہ اس سے پوچھتی ہے، تجھے کیا ہوا کہ میں تجھے ہر وقت مٹی میں قید دیکھتی ہوں؟ وہ کہتا ہے کہ میں عاجزی کرتا ہوں وہ پوچھتی ہے کہ یہ تمہاری کمر کیوں جھک گئی ہے؟ وہ کہتا ہے کہ یہ لمبی عبادت کرنے کی وجہ سے ٹیڑھی ہوئی ہے۔ وہ پوچھتی ہے کہ یہ سامنے ڈھال کیسی ہے؟ وہ کہتا کہ میں یہ روزہ داروں کے سایہ حاصل کرنے کے لئے نصب کر رکھی ہے۔ جب وہ بے دھیان ہوتی ہے تو دانہ چگنے لگتی ہے۔ اتنے میں جال کا پھندا اس کی گردن میں آن پڑتا ہے وہ اس کوگردن سے پکڑ لیتا ہے۔ اب چڑیا کہتی ہے کہ اگر عابد تیری طرح گردن سے دبوچتے ہیں اس دور میں (تو اللہ ایسے عابدوں سے بچائے) ان میں کوئی خیر نہیں ہے۔

أعددتها للصائمين فلما نسي تناول الحبة فوقع الفخ على عنقه فخنقته ← فما هذه الجنة المنصوبة قيل ← من طول العبادة ← فلم حنيت ظهرك ← التواضع ← ما لي أراك سجينا في التراب ← مثل قراء هذا الزمان مثل رجل نصب فخا فوقع عصفور في فخه ← مَّالِکِ بْنِ دِیْنَارٍ ← أَبُو حَفْصٍ الْبَصْرِيُّ، ← إبراهيم بن عيسى الطلقاتني ← أَبِي ← أبو بكر محمد بن ياسين بن النضر ← أبو يوسف يعقوب بن محمد بن إسحاق بن زيد المذكر ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6955

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6956

6956 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور الهروي نا أحمد بن نجدة نا سعيد بن منصور نا أبو معشر عن محمد بن كعب قال : جاءه رجل قال : إنما في بعض الكتب إن الله عبادا ألسنتهم أحلى من العسل وقلوبهم أمر من الصبر يلبسون للناس مسوك الضأن من اللين يحتلبون الدنيا بالدين قال الله تعالى : علي يجترئون وبي يغترون بعزتي لأتيحن لهم فتنة تدع العليم فيها حيران فقال محمد بن كعب : هذا في كتاب الله عز و جل : { ومن الناس من يعجبك قوله في الحياة الدنيا ويشهد الله على ما في قلبه وهو ألد الخصام } قال الرجل : قد علمنا فيما أنزلت فقال له محمد : إن الأمر ينزل في رجل ثم يكون عاما

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور ہروی نے ان کو احمد بن نجیدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو ابو معشر نے ان کو محمد بن کعب نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اس نے کہا کہ پکی بات ہے۔ بعض کتابوں میں دیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کی زبانیں شہد سے زیادہ میٹھی ہیں اور ان کے دل ایلوا(مصّبر) سے زیادہ کڑوے ہیں وہ لوگوں کے آگے بھیٹر کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں (نرم ہو کر) اور وہ دین کے ساتھ دنیا کو دوھ لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ مجھ پر دلیر ہو جاتے ہیں۔(یعنی نافرمانی کرتے ہیں) میرے ساتھ غفلت برتتے ہیں (یعنی میرے احکام پر عمل نہیں کرتے۔) مجھے اپنی عزت کی قسم ہے میں ان کے لئے ایسافتنہ برپا کروں گا۔جس میں بڑے بردبار بھی پریشان ہو جائیں گے۔ محمد بن کعب نے کہا کہ یہ بات کتاب اللہ میں بھی ہے۔ ومن الناس من یعجبک قولہ فی الحیات الدنیا ویشھد اللہ علی مافی قلبہ وھو الد الخصام بعض لوگ ایسے ہیں جن کی باتیں تمہیں بہت اچھی لگتی ہیں اور ان کے دل میں کیا ہے وہ اس پربھی اللہ کو گواہ کرتے ہیں حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہیں۔اس آدمی نے کہا ہم جانتے ہیں کہ یہ آیت جس چیز کے بارے میں اتری تھی، محمد بن کعب نے ان سے کہا کہ بے شک ایک حکم کسی ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوتا ہے مگر اس کے بعد وہ حکم عام ہو جاتا ہے۔

إنما في بعض الكتب ← جاءه رجل ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، ← أبو معشر ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ الْهَرَوِىُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6956

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6957

6957 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو محمد عبد الخالق بن الحسن المعلم نا إسحاق بن الحسن الحربي نا أبو نعيم نا جعفر بن برقان أخبرني أبو راشد حدثني ابن وهب بن منبه قال : أجد في كتاب الله المنزل أناسا يدينون بغير العبادة يحتلبون الدنيا بعمل الآخرة يلبسون للناس مسوك الضأن قلوبهم كقلوب الذئاب وألسنتهم أحلى من العسل وأنفسهم أمر من الصبر فبي يغترون وإياي يجترئون أقسمت لأبعثن عليهم فتنة أترك الحليم فيها حيران

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو محمد عبدالخالق بن حسن معلم نے ان کو اسحٰق بن حسن حربی نے ان کو ابو نعیم نے ان کو جعفر بن برقان نے ان کو خبر دی ابو راشد نے ان کو وہب بن منبہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں اللہ کی نازل کردہ کتاب میں کچھ لوگ پاتا ہوں جو عبادت کرنے کے بغیر دینداری دکھائیں گے۔ آخرت کے عمل کے بدلے میں دنیا کو دوھیں گے۔ لوگوں کے سامنے بھیڑ کا لبادہ اوڑھیں گے (بے ضرر دکھائیں گے۔) ان کے دل بھیریوں کے دلوں جیسے ہوں گے۔ ان کی زبانیں شہد سے زیادہ میٹھی ہوں گی۔مگر ان کے نفس ایلوا سے زیادہ کڑوے ہوں گے۔ وہ میرے بارے میں غفلت کریں گے۔ اور مجھ پر ہی دلیر ہوں گے (ایک تعبیر یہ ہے کہ وہ میرے ہی بارے میں دھوکہ دیں گے اور فریب خوردہ ہوں گے اور میرے ہی خلاف جسارت کریں گے) میں قسم کھاتا ہوں کہ میں ان پر ایسا فتنہ بھیجوں گا کہ جو حوصلہ مندوں کو حیران پریشان کر دے گا۔

ابن وهب بن منبه ← أبو راشد ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ ← أبو محمد عبد الخالق بن الحسن المعلم ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6957

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6958

6958 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الحسن بن علي بن عفان نا زيد بن الحباب حدثني عبد الرحمن بن شريح الإسكندراني نا شرحبيل بن يزيد المعافري قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أكثر منافقي أمتي قراؤها قال الإمام أحمد : كذا قال زيد بن الحباب شرحبيل وقال ابن المبارك : عن عبد الرحمن بن شرحبيل في إحدى الروايتين المعافري عن شرحبيل بن يزيد وتابعه ابن وهب

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کوزید بن حباب نے ان کو عبدالرحمٰن بن شریح اسکندرانی نے ان کو شرحبیل بن یزید معافری نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتے تھے۔ میری امت کے زیادہ تر منافق اس امت کے قاری ہوں گے۔ امام احمد نے فرمایا اسی طرح کہا تھا زید بن حباب شرحبیل نے اور ابن مبارک نے فرمایا کہ عبدالرحمٰن بن شرحبیل بن یزید سے مروی ہے اور ابن و ہب نے اس کا متابع بیان فرمایا ہے۔

شرحبيل بن يزيد وتابعه ابن وهب ← عبد الرحمن بن شرحبيل في إحدى الروايتين المعافري ← زيد بن الحباب شرحبيل وقال ابن المبارك ← الإمام أحمد كذا ← أَكْثَرُ مُنَافِقِي أُمَّتِي قُرَّاؤُهَا. ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← شُرَحْبِيلُ بْنُ يَزِيدَ الْمُعَافِرِيُّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ الْإِسْکَنْدَرَانِيُّ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6958

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6959

6959 - كما أخبرناه أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا أبو عثمان أنا عبد الله بن المبارك ح قال يعقوب : ونا محمد بن يحيى أنا ابن وهب جميعا عن عبد الرحمن بن شريح حدثني شرحبيل بن يزيد المعافري عن محمد بن هدبة عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أكثر منافقي أمتي قراؤها رواه الحسين بن الحسن المروزي عن ابن المبارك في كتاب الرقائق وقال شرحبيل بن يزيد : عن عبد الله بن عمرو

ہمیں اس کی خبر دی ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابو عثمان نے ان کو عبد الله بن مبارک نے ’’ح‘‘ کہا یعقوب نے اور ہمیں خبر دی محمد بن یحییٰ نے ان کو ابن وھب نے سب نے عبدالرحمٰن بن شریح سے ان کو شرحبیل بن یزید معافری نے ان کو محمد بن ھدبہ نے ان کو عبداللہ بن عمرو بن العاص نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے اکثر منافق اس امت کے قاری ہوں گے۔ اور اس کو روایت کیا ہے حسین بن حسن مروزی نے ان کو ابن مبارک نے کتاب الرقائق میں اور کہا شرحبیل بن یزید نے عبداللہ بن عمر سے۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← مُحَمَّدِ بْنِ هُدْبَةَ ← شُرَحْبِيلُ بْنُ يَزِيدَ الْمُعَافِرِيُّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ جَمِيعًا ← يعقوب ونا محمد بن يحيى ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← أَبُو عُثْمَانَ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، ← كَمَا

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6959

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6960

6960 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس الأصم نا محمد بن إسحاق الصغاني نا منصور بن سلمة أنا الوليد بن المغيرة قال أبو سلمة : ولم أر بمصر أثبت منه أنا مشرح بن هاعان عن عقبة بن عامر : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه كان يقول : أكثر منافقي هذه الآمة قراؤها

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو خندہ بن اسحٰق صنعانی نے ان کو منصور بن سلمہ نے ان کو دلید بن مغیرہ نے کہ کہا ابو سلمہ نے اور میں نے مصر میں ان سے زیادہ پکا راوی نہیں دیکھا کہ ہمیں خبر دی مشرح بن عاہان نے عقبہ بن عامر سے اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ فرماتے تھے۔ اس امت کے زیادہ تر منافق اس امت کے قاری ہوں گے۔

أكثر منافقي هذه الأمة قراؤها ← رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه كان ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ ← أبو سلمة ولم أر بمصر أثبت منه ← الْوَلِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ← مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6960

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6961

6961 - أخبرني أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو الفضل بن إبراهيم نا أحمد بن سلمة قال : سمعت إسحاق بن إبراهيم يقول : في الرجل الذي ترك كيتين قال : إنما ترك الصلاة عليه لأنه كان من أهل الصفة وهو يظهر أنه فقير ليس له شيء وإنه من أهل الصفة : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ترك كيتين أي لمثله كيتان

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الفضل بن ابراہیم نے ان کو احمد بن سلمہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اسحاق بن ابراہیم سے وہ کہتے ہیں اس شخص کے بارے میں جس نے دو داغ یا دو ڈنگ چھوڑے۔ فرمایا سوائے اس کے نہیں کہ اس کے ذمہ ترک صلوٰۃ نہیں تھی کیونکہ وہ اہل صفہ میں سے تھا اور وہ ظاہر کرتا تھا کہ وہ فقیر ونادار ہے اس کے پاس کوئی شئی نہیں ہے بے شک وہ اہل صفہ میں سے تھا رسول اللہ نے فرمایا کہ اس نے وہ داغ چھوڑے ہیں (یعنی گرم کر کے داغنے والی دو چیزیں) یعنی اس جیسے کے لئے دو داغ دینے والی چیزیں ہیں۔

في الرجل الذي ترك كيتين ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6961

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6962

6962 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا حماد بن زيد عن عاصم بن بهدلة عن زر عن عبد الله قال : توفي رجل من أهل الصفة فوجدوا في شملته دينارين : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كيتان

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو حماد بن زید نے ان کو عالم بن بہدلہ نے ان کو ذر نے ان کو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ اہل صفہ میں سے ایک آدمی کا انتقال ہو گیا لوگوں نے اس کے پکڑی کے سرے میں دو دینار پائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دونوں گرم داغ ہیں۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم كيتان ← توفي رجل من أهل الصفة فوجدوا في شملته دينارين ← عَبْدُ اللَّهِ ← زِرٍّ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6962

chevron_left Previous
1…1213141516
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood