شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6951
6951 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا الحسن بن علي بن عفان نا ابن نمير عن الأعمش عن شقيق عن عبد الله قال : كيف أنتم إذا لبستكم فتنة يربوا فيها الصغير ويهرم فيها الكبير يجري عليها الناس يتخذونها سنة إذا غير منها شيء قيل غيرت السنة فقيل متى ذلك يا أبا عبد الرحمن ؟ قال : إذا كثرت قراؤكم وكثرت أمراؤكم وقلت أمناؤكم والتمست الدنيا بعمل الآخرة
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو ابن نمیر نے ان کو اعمش نے ان کو شقیق نے ان کو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب تمہیں فتنہ لپٹ جائے گا۔ جس میں چھوٹا پرورش پا کر بڑا ہو جائے گا اور بڑا، بوڑھا ہو جائے گا لوگ اسی پر چلیں گے اسی کو سنت کے طور پر اپنالیں گے جب اس میں سے کوئی چیز بدل جائے گی تو کہیں گے سنت بدل گئی ہے طریقہ بدل گیا ہے ان سے پوچھا کیا یہ کب ہو گا اے ابو عبدالرحمٰن؟ فرمایا جس وقت تمہارے قاری زیادہ ہو جائیں گے اور تمہارے امیر بہت ہو جائیں گے۔ اور تمہارے امانت دار کم ہو جائیں گے اور آخرت کے عمل کے بدلے میں دنیا حاصل کی جائے گی۔
عَبْدُ اللَّهِ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6951
