Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6915

6915 - وقال : وسمعت أبا الفيض يقول : اعلموا أن من أراد أن يلقى العدو بغير سلاح خفت أن لا يسلم من القتل

وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو الفیض سے وہ کہتے ہیں۔ یقین جانئے کہ جو شخص اردہ کر تا ہےکہ وہ بغیر ہتھیار کے دشمن سے مقابلہ کرے وہ ڈرتا ہے کہ قتل سے نہیں بچ سکے گا۔

أَبَا الْفَيْضِ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6915

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6916

6916 - قال : وسمعت ذا النون يقول : وأتاه رجل فقال : يا أبا الفيض رحمك الله دلني على طريق الصدق والمعرفة بالله ؟ قال : يا أخي أد إلى الله صدق حالتك التي أنت عليها على موافقة الكتاب والسنة ولا ترق حيث لم ترق فتزل قدمك فإنه إذا زل بك لم تسقط وإذا ارتفعت أنت سقطت وإياك أن تترك ما تراه يقينا لما ترجوه شكا

وہ کہتے ہیں کہ میں نے ذوالنون مصری سے سنا وہ کہتے تھے کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا اے ابو الفیض اللہ تجھ پر رحم فرمائے آپ مجھے سچائی کا اور معرفت باللہ کا راستہ بتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اے بھائی آپ اپنی سچی حالت کو جس پر آپ ہیں اللہ کے حوالے کر دیجئے کتاب وسنت کے مطابق اور آپ ایسی جگہ اوپر چڑھنے اور ترقی کی کوشش نہ کریں جہاں آپ نہ چڑ ھ سکیں ورنہ تیرا قدم پھسل جائے گا اگر قدم ویسے پھیلے تو تم نہیں کرو گے لیکن جب آپ اونچائی پر ہوں اور پیر پھسل جائے تو آپ گر جائیں گے اور بچائیے خود کواس بات سے کہ آپ اس چیز کو چھوڑ دیں جس کو آپ یقینی سمجھتے ہیں اس چیز کے لئے جس کی آپ امید بھی غیر یقینی رکھتے ہیں۔

يا أبا الفيض رحمك الله دلني على طريق الصدق والمعرفة بالله ← وأتاه رجل ← ذَا النُّونِ،

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6916

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6917

6917 - قال : وسمعت ذا النون يقول : وسئل متى يجوز للرجل أن يقول أراني الله كذا وكذا ؟ قال : إذا لم يطق نطق ذلك ثم قال ذا النون : أكثر الناس إشارة إلى الله في الظاهر أبعدهم إلى الله

فرماتے ہیں کہ میں نے ذوالنون مصری سے سنا فرماتے تھے جب کہ ان سے پو چھا گیا تھا کہ انسان کے لئے یہ کب جائز ہوتا ہے کہ وہ یہ کہے کہ اللہ نے مجھے فلاں فلاں چیز دکھائی ہے؟ آپ نے فرمایا کہ جب وہ اس بات کے بولنے کی طاقت نہ رکھے۔ اس کے بعد ذوالنون نے فرمایا کہ اکثر لوگوں کا ظاہر میں اللہ کی طرف اشارہ ان کو اللہ سے دور کر دیتا ہے۔

ذا النون أكثر الناس إشارة إلى الله في الظاهر أبعدهم إلى الله ← إذا لم يطق نطق ذلك ثم ← أراني الله كذا وكذا ← وسئل متى يجوز للرجل أن ← وَسَمِعْتُ ذَا النُّونِ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6917

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6918

6918 - قال : وسمعت ذا النون يقول : كلت ألسن المحققين لك عن الدعاوى ونطقت ألسن المدعين في الدعاوى

کہتے ہیں کہ میں نے سنا ذوالنون سے وہ کہتے تھے۔ اہل حقیقت کی زبانیں تیرے لئے دعوؤں سے گنگ ہوتی ہیں۔ اور محض زبانی دعوے کرنے والوں کی زبانیں دعوے کرنے کے لئے بولتی رہتی ہیں۔

الدعاوى ونطقت ألسن المدعين في الدعاوى ← كلت ألسن المحققين لك ← وَسَمِعْتُ ذَا النُّونِ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6918

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6919

6919 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر القاضي قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أبو بكر محمد بن إسحاق الصغاني أنا سعيد بن أبي مريم أنا عبد الله بن سويد بن حبان من أهل مصر عن عمرو بن الحارث يحدث عن أبيه حدثني أبو صخر عن أبي حازم عن سهل بن سعد أنه سمعه يقول : بينا نحن عند رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يصف الجنة حتى انتهى ثم قال : فيها ما لا عين رأت ولا أذن سمعت ولا خطر على قلب بشر ثم قرأ هذه الآية : { تتجافى جنوبهم عن المضاجع } الآيتين قال أبو صخر : فذكرت ذلك للقرظي فقال : إنهم أخفوا الله عز و جل عملا وأخفى لهم ثوابا قدموا على الله عز و جل فأقر تلك الأعين قد أخرجه مسلم من حديث ابن وهب عن أبي صخر دون حكاية أبي صخر عن القرظي

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے کو ابو بکر قاضی نے دونوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابو بکر محمد بن اسحٰق صفانی نے ان کو سعید بن ابی مریم نے ان کو عبداللہ بن سوید بن حبان نے اہل مصر سے۔ ان کوعمرو بن حارث نے وہ حدیث بیان کرتے ہیں اپنے والد سے ان کو ابو صخر نے ابو حازم سے اس نے سہل بن سعد سے وہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے تھے اور وہ جنت کی تعریف فرما رہے تھے یہاں تک کہ آپ نے بات پوری کر لی اس کے بعد پھر فرمایا کہ جنت میں وہ دو چیزیں ہیں جن کو نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا ہے اور نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بندے کے دل میں آئی میں اس کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی:تتجافی جنوبھم عن المضاجع (دو آیات) کہ نیک لوگوں کی کروٹیں ان کے بستروں سے الگ ہو جاتی ہیں۔ ابو صخر نے کہا میں نے اس بات کو قرظی کے سامنے ذکر کیا تو اس نے کہا کہ وہ انسان سے اپنے عمل کو اللہ کے لئے چھپاتے ہیں اور ان کے لئے ثواب بھی اللہ فی رکھتے ہیں وہ اللہ کے آگے پیش کرتے ہیں۔ جس سے وہ آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے ابن وہب کی حدیث سے اس نے ابو صخر سے بغیر حکایت کرنے ابو صخر کے قرظی سے۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← أَبُو صَخْرٍ، ← أَبِيهِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عبد الله بن سويد بن حبان من أهل مصر ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← أبو بكر محمد بن إسحاق الصغاني، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بَكْر القاضي

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6919

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6920

6920 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد ابن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا محمد بن أبي بكر نا معتمر قال : سمعت الحكم بن أبان يحدث عن الغطريف عن جابر بن زيد عن ابن عباس : عن النبي صلى الله عليه و سلم عن الروح الأمين قال : يؤتى بحسنات العبد وسيئاته فيقتص بعضها ببعض وإن بقيت حسنة وسع الله له في الجنة قال : فدخلت على رداد فحدث بمثل هذه فقلت : فإن ذهبت الحسنة ؟ قال : أولئك الذين يتقبل الله منهم ويتجاوز عن سيئاتهم الآية قلت : أفرأيت قوله { فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين } قال : العبد يعمل سرا أسره الله عز و جل لم يعلم به الناس فأسر الله عز و جل له يوم القيامة قرة أعين

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد مقریٔ نے ان کو حسن بن حمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابو بکر نے ان کو معتمر نے انہوں نے سنا حکم بن ابان سے وہ حد بیث بیان کرتے ہیں غطریف سے وہ جابر بن زید سے وہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کو روح الامین نے فرمایا قیامت میں بندے کی نیکیاں اور اس کی برائیاں لائی جائیں کی اور بعض کے لئے بعض سے قصاص لیا جائے گا۔ اس کے بعد اگر کوئی نیکی بچ رہے گی تو اس کے لئے جنت میں اللہ وسعت کرے گا۔ کہتے ہیں کہ میں روا دیر داخل ہوا۔ اس نے اسی کی مثل حدیث بیان کی تو میں نے کہا کہ اگر نیکیاں ساری قصاص میں چلی گئیں تو کیا ہو گا ؟ فرمایا کہ وہی لوگ ہیں کہ اللہ جن سے قبول فرمائے گا اور ان کی غلطیوں سے درگزر کرے گا یہ آیت پڑھی: اولئک الذین یتقبل اللہ منھم ویتجاوز عن سیئاتھم پوری آیت۔ میں نے عرض کی آپ کیا فرماتے ہیں اس آیت کے بارے میں: فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین کوئی نفس نہیں جانتا ہو کچھ ان کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ جب چھپ کر عمل کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کو چھپا کر رکھتا ہے لوگ اس کو نہیں جانتے لہٰذا بندے سے بھی اللہ تعالیٰ چھپا کر رکھتا ہے اس کے لئے ایسا عمل آنکھوں کی ٹھنڈک ہو گا۔

الرُّوحِ الْأَمِينِ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، ← الغطريف ← الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، ← مُعْتَمِرٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الحسن بن محمد ابن إسحاق ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6920

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6921

6921 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في الأمالي نا أبو الفضل الحسن بن يعقوب العدل نا السري بن خزيمة نا محمد بن عبد الله الرقاشي نا معتمر : يذكره بإسناده نحوه 6921 - مكرر ـ سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول : سمعت أبا الفرج الورثاني يقول : سمعت أبا الطيب المعلى يقول : قال أحمد بن أبي الحواري : قلت لأبي سليمان : صليت صلاة في خلوة فوجدت لها لذة قال : وأي شيء ألذ فيها قلت : حيث لم يرني أحد فقال : إنك لضعيف حيث خطر بقلبك ذكر الخلق

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے امالی میں کو ابو الفضل حسن بن یعقوب مدل نے ان کو سری بن خزیمہ نے ان کو محمد بن عبداللہ رقاشی نے ان کو معتمر نے وہ اس کو ذکر کرتے ہیں اپنی اسناد کے ساتھ اسی کی مثل۔ (مکر رہے) میں نے سنا ابو عبدالرحمٰن سلمی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو الفرج ورثانی سے اس نے سنا ابو الطیب معلیٰ سے وہ کہتے ہیں کہ احمد بن ابو الحواری نے کہا کہ میں نے کہا ابو سلیمان ہے۔ آپ نے خلوت میں نماز پڑھی ہے اور اس کی لذت بھی آپ نے پائی ہے۔ اور اس میں سب سے زیادہ لذت والی کیا چیز ہے؟ پھر میں نے ہی کہا جس جگہ مجھے کوئی بھی نہ دیکھ رہاہو۔ انہوں نے فرمایا کہ تم کمزور ہو بلکہ وہ جگہ جہاں تیرے دل میں مخلوق کی کھنکے۔

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6921

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6922

6922 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الوليد نا إبراهيم بن محمود قال : سمعت يونس بن عبد الأعلى يقول : قال الشافعي رحمه الله : يا أبا موسى لو جهدت كل الجهد على أن ترضي الناس كلهم فلا سبيل له فإذا كان عليك فأخلص عملك ونيتك لله عز و جل

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الولید نے ان کو ابراہیم بن محمود نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا یونس بن عبدا لاعلیٰ سے وہ کہتے ہیں شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا اے ابو موسیٰ اگر آپ انتہائی کوشش اس بات پر صرف کر ڈالیں کہ آپ سب لوگوں کو خوش کر لیں تو اس کی کوئی سبیل نہیں ہے جب یہ بات سچ ہے تو پھر اپنے عمل کو اور اپنی نیت صرف اور صرف اللہ کے لئے خالص کر لیجئے۔

یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← إبراهيم بن محمود ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6922

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6923

6923 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني علي بن محمد المروزي نا محمد بن عبدك حدثني مصعب بن بشر نا شيبان بن أبي شيبان المطوعي قال : قال لي معدان : يا شيبان لا ترد بعملك غير الله فإن سفيان الثوري قال : يا معدان لا ترد بعملك غير الله فإنه براءة من الشرك حدثني أبو الزبير عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول الله تبارك وتعالى : كل من عمل عملا أراد به غيري فأنا منه بريء

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن محمد مروزی نے ان کو محمد بن مبارک نے ان کو مصعب بن بشر نے ان کو شیبان بن ابو شیبان معلوعی نے کہتے ہیں مجھ سے معدان نے کہا اے شیبان اپنے عمل کے ساتھ غیر اللہ کا ارادہ نہ کرنا۔ بے شک سفیان ثوری نے کہا تھا۔ اے سعد ان اپنے کسی عمل کے ساتھ غیر اللہ کا ارادہ کرنا یہی شرک سے بیزاری ہے۔ مجھے حدیث بیان کی ابو الزبیر نے باہر سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں۔ ہر وہ شخص جو عمل کرے جس سے وہ میرے ماسوا کا ارادہ کرے میں اس سے بیزار ہوں۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← يا معدان لا ترد بعملك غير الله فإنه براءة من الشرك ← لي معدان يا شيبان لا ترد بعملك غير الله فإن سفيان الثوري ← شيبان بن أبي شيبان المطوعي ← مصعب بن بشر ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدَكَ، ← علي بن محمد المروزي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6923

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6924

6924 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا يحيى بن منصور القاضي نا علي بن سعيد العسكري نا طاهر بن خالد بن نزار قال : سمعت أبي يقول : قال سفيان الثوري : الزهد زهدان زهد فريضة وزهد نافلة فأما الفريضة فإنه واجب عليك وهو أن تدع الفخر والكبر والعلو والرياء والسمعة والتزين للناس وأما زهد النافلة فهو أن تدع ما أعطى الله تعالى من الحلال فإذا تركت شيئا من ذلك صار فريضة عليك ألا تتركه إلا الله عز و جل وإن أردتم أن تدركوا ما عند الله عز و جل فكونوا في هذه الدنيا بمنزلة الأضياف

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو یحییٰ بن منصور قاضی نے ان کو علی بن سعید عکسری نے ان کو طاہر بن خالد بن نزار نے اس نے سنا اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ سفیان ثوری نے کہا زید دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک وہ زہد جو کہ فرض ہے۔ دوسرا وہ جو نفل ہے۔ جو فرض ہے وہ تو تم پر لازم ہے۔ وہ یہ ہے کہ تم فخر کرنے کو تکبر کو، بڑائی کو ، ریا کاری کو، شہرت پسندی کو ،لوگوں کے لئے بننے سنور نے کو چھوڑ دو اور زہد نفلی یہ کہ تم اس حلال کو بھی ترک کر دو اللہ نے حلال کیا ہے۔ جب تم اس میں سے کسی شئی کو ترک کرو گے تو تمہارے اوپر فرض ہو جائےگا کہ تم اس کو بھی محض اللہ کے لئے ہی چھوڑ دو اور اگر تم یہ چھا ہو کہ تم وہ چیز پالو جو اللہ کے پاس ہے تو تم اس دنیا میں بمنزلہ مہمانوں کے ہو جاؤ۔

أَبِي ← طَاهِرُ بْنُ خَالِدِ بْنِ نِزَارٍ، ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْعَسْكَرِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6924

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6925

6925 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أخبرني جعفر بن محمد بن نصير حدثني الجنيد بن محمد قال : سمعت السري بن المغلس وقد ذكر الناس قال : لا تعمل لهم شيئا ولا تترك لهم شيئا ولا تعط لهم شيئا ولا تكشف لهم شيئا قال الجنيد : يريد بهذا القول أن تكون أعمالك كلها لله وحده قال : وسمعته يقول : إذا أحسست بإنسان يريد أن يدخل علي فقلت كذا بلحيتي وأمر يده على لحيته كأنه يريد أن يسويها من أجل دخول الداخل عليه فخفت أن يعذبني الله على ذلك بالنار 6925 - مكرر ـ قال : وسمعت السري يقول : إنما أذهب أكثر أعمال القراء العجب وخفي الرياء أو كلام نحو هذا

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی جعفر بن محمد بن بصیر نے ان کو جنید بن محمد نے انہوں نے سنا سری بن مفلس سے۔ اس نے لوگوں کا تذکرہ کیا تھا۔ اورفرمایا کہ۔ نہ تو ان کے لئے تو کسی شئی کا عمل کر اور نہ ہی ان کے لئے تو کسی شئی کو ترک کر اور نہ ہی تو ان کی رضا کے لئے کوئی شئی دے۔ اور نہ ہی ان کے لئے کوئی چیز تو ظاہر کر۔ جنید بغدادی نے فرمایا کہ اس قول سے ان کی مراد ہے کہ تیرے تمام اعمال اللہ وحدہ کے لئے ہونے چاہئیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا وہ کہتے تھے کہ جب میں کسی انسان کے بارے میں محسوس کرتا ہوں کہ وہ مجھ سے ملنے کے لئے آ رہا ہے تو میں اپنی داڑھی کو درست کرتا ہوں ہاتھ پھیر کر اپنی داڑھی پر انہوں نے دیکھایا جیسے کہ وہ کسی آنے والے کی وجہ سے داڑھی کو برابر اور درست کر رہے ہیں۔فرمایا کہ میں ڈرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس کی وہ بھی مجھے کہیں جہنم کے مذاب میں مبتلا نہ کر دے۔ (مکر رہے) کہتے ہیں کہ میں نے نا حضرت کی سقطی سے وہ کہتے تھے۔ سوائے اس نے نہیں یعنی یقینی بات یہ ہے کہ قاریوں ے اللہ اعمال کو عجب یعنی خود پسندی لے ذوبی ہے اور مخفی ریاکاری یا کوئی کلام تھا اسی کے مثل۔

السري بن المغلس وقد ← الْجُنَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6925

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6926

6926 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أبي علي نا محمد بن أحمد بن يوسف نا أبو حاتم الرازي نا قماز بن مطيع نا حماد بن يحيى نا محمد بن واسع عن مطرف بن الشخير قال : من صفا عمله صفا له اللسان الصالح ومن خلط خلط له

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن ابو علی نے ان کو محمد بن احمد بن یوسف نے ان کو ابو حاتم رازی نے ان کو قمار بن مطیع نے ان کو حماد بن یحییٰ نے ان کو محمد بن واسع نے ان کو مطرف بن شخیر نے وہ کہتے ہیں۔ جس کا عمل خالص اور شفاف ہوتا ہے اس کی زبان بھی صالح اور شفاف ہوتی ہے اور جو عمل میں ملاوٹ کرتا ہے اس کی زبان میں بھی ملاوٹ ہوتی ہے۔

من صفا عمله صفا له اللسان الصالح ومن خلط خلط له ← مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ← حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى، ← قماز بن مطيع ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← محمد بن أحمد بن يوسف ← أبو الحسن علي بن أبي علي

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6926

chevron_left Previous
1…91011…16
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood