Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6805

6805 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النصر الفقيه نا الحارث بن محمد نا عبد الوهاب ح وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن أبي طالب ثنا عبد الوهاب بن عطاء أخبرني ابن جريج أخبرني يونس بن يوسف عن سليمان بن يسار قال : تفرق الناس عن أبي هريرة فقال له ناقل أخو الشام يا أبا هريرة حدثنا حديثا سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن أول الناس يقضي فيه يوم القيامة رجل استشهد فأتي به فعرفه نعمه فعرفها فقال : ما علمت فيها ؟ قال : قاتلت في سبيلك حتى استشهدت قال : كذبت إنما أردت أن يقال فلان جريء فقد قيل فأمر به فحسب على وجهه حتى ألقي في النار ورجل تعلم العلم وقراءة القرآن فأتي به فعرفه نعمه فقال : ما عملت فيها ؟ قال : تعلمت العلم و قرأت القرآن وعلمته فيك قال : كذبت إنما أردت أن يقال : فلان عالم وفلان قارئ فقد قيل فأمر به فسحب على وجهه حتى ألقي في النار ورجل أتاه الله من أنواع المال فأتي به فعرفه نعمه فعرفها فقال : ما عملت فيها ؟ قال : ما تركت من شئ تحب أن أنفق فيه إلا نفقت فيه لك قال : كذبت إنما أردت أن يقال فلان جواد فقد قيل فأمر به فسحب على وجهه حتى ألقي في النار أخرجه مسلم من حديث ابن جريج

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو نصر فقیہ نے ان کو حارث بن محمد نے ان کو عبدالوہاب نے ’’ح‘‘ ۔ اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو عبدالوہاب بن عطاء نے۔ ان کو خبر دی ابن جریج نے ان کو یونس بن یوسف نے ان کو سلیمان بن یسار نے وہ کہتے ہیں کہ لوگ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہاں سے اٹھ کر جا چکے تو ناقل اخی شام نے کہا اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیں حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناہو، انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا تھا کہ قیامت کے دن سب لوگوں سے پہلے جس کا فیصلہ کیا جائے گا وہ شخص ہو گا جو شہید کر دیا گیا تھا اسے لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کو اپنے انعامات یاد دلائے گا وہ ان کو یاد کر لے گا اور پہچان لے گا۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ ہم نے تجھے یہ نعمتیں دی تھیں اور تم نے ان نعمتوں کے مقابلے میں کیا کیا تھا ؟ وہ کہے گا کہ میں نے تیری راہ میں جہاد کیا تھا حتٰی کہ یہ شہید ہو گیا تھا اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم جھوٹ بولتے ہو بلکہ تم نے یہ ارادہ کیا تھا کہ یہ کہا جائے کہ فلاں بہادر ہے اور وہ اسی وقت کہہ دیا گیا تھا اور حکم ہو گا اور دو منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ اور اس آدمی کو لایا جائے گا جس نے علم سیکھا تھا،اور قرآن کی قرأت سیکھی تھی اسے اللہ تعالیٰ اپنی نعمتیں یاد دلائیں گے وہ اس کی نعمتیں جان لے گا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تم نے دنیا میں کیا عمل کیا تھا وہ کہے گا کہ میں نے علم سیکھاتھا اور قرآن کی قرأت سیکھی تھی اور میں نے اسے تیری رضا کے لئے سیکھایا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا جھوٹ بولا ہے تم نے تم نے یہ دارادہ کیا تھا کہ لوگ یہ کہیں فلاں عالم ہے، فلاں قاری ہے اور وہ دنیا میں کہہ دیا کیا تھا۔ پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈالا جائے گا۔ پھر اس بندے کو لایا جائے گا جس کو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے مال عطا کئے تھے اللہ تعالیٰ اس کو اپنی نعمتیں یاد دلائیں گے و وان نعمتوں کو یاد کر لے گا اللہ تعالیٰ اس سے پوچھیں گے کہ تم نے دنیامیں کیا عمل کیا تھا۔ وہ کہے گا کہ میں نے تیری پسند کا کوئی مقام اور کوئی مصرف نہیں چھوڑا جہاں جہاں تو چاہتا ہے کہ خرچ کیا جائے میں نے ہر جگہ خرچ کیا تیرے لئے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ تم نے جھوٹ بولا تم نے یہ ارادہ کیا تھا کہ یہ کہا جائے کہ فلاں بڑا سخی ہے اور وہ وہاں کہہ دیا گیا تھا لہٰذا اس کو منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ان کو مسلم نے روایت کیا ہے حدیث بن جریج سے۔

حَدِيثًا ← له ناقل أخو الشام يا أبا هريرة ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← تَفَرَّقَ النَّاسُ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← يُونُسَ بْنَ يُوسُفَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أبو النصر الفقيه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 6805

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6806

6806 - أخبرنا أبو الحسين علي بن أحمد بن إبراهيم الخسروجردي نا أبو حامد أحمد بن محمد بن الحسين الخسروجردي نا داود بن الحسين الخسروجردي نا الحسين بن الحسن المروزي وكان مجاورا بمكة نا عبد الله بن المبارك عن حيوة بن شريح حدثني الوليد بن أبي الوليد المدني أن عتبة بن مسلم حدثني شفي الأصبحي قال : قدمت المدينة فدخلت فإذا الناس قد اجتمعوا على رجل قلت من هذا ؟ قالوا : أبو هريرة فذكر معنى الحديث الذي رويناه عن سليمان بن يسار عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابو الحسین علی بن احمد بن ابراہیم خسرو گردی نے ان کو ابو حامد احمد بن محمد بن حسین خسرو گردی نے ان کو داؤد بن حسین خسرو گردی نے ان کو حسین حسن مروزی نے اور وہ مکہ میں بیت اللہ کا محاور تھا۔ ان کو خبر دی عبداللہ بن مبارک نے ان کو حیوۃ بن شریح نے ان کو ولید بن ابو الولید عدنی نے یہ کہ عقبہ بن مسلم نے مجھے حدیث بیان کی شفی الاصجی سے وہ کہتے ہیں کہ میں مدینے میں آیا میں داخل ہوا تھادیکھا کچھ لوگ ایک آدمی پر جمع ہو رہے تھے میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے انہوں نے کہا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں انہوں نے اس حدیث کا معنی ذکر کیا جس کو ہم نے روایت کیا ہے سلیمان بن یسار سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← أبو هريرة فذكر معنى الحديث الذي رويناه ← قدمت المدينة فدخلت فإذا الناس قد اجتمعوا على رجل قلت من هذا ← شُفَيٍّ الْأَصْبَحِيِّ، ← الوليد بن أبي الوليد المدني أن عتبة بن مسلم ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← الحسين بن الحسن المروزي وكان مجاورا بمكة ← دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْخِسْرُوجَرْدِيُّ ← أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ ← أبو الحسين علي بن أحمد بن إبراهيم الخسروجردي

Hadith 6806

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6807

6807 - قال حيوة أو أبو عثمان : أخبرني العلاء بن حكيم وكان سيافا لمعاوية قال : دخل على معاوية فحدثه الحديث عن أبي هريرة قال الوليد : فأخبرني عقبة أن شفيا هو الذي دخل على معاوية فحدثه هذا فبكى معاوية فاشتد بكاؤه ثم أفاق من بكائه وهو يقول : صدق رسول الله { من كان يريد الحياة الدنيا وزينتها نوف إليهم أعمالهم فيها وهم فيها لا يبخسون * أولئك الذين ليس لهم في الآخرة إلا النار وحبط ما صنعوا فيها وباطل ما كانوا يعملون } قال الإمام أحمد رحمه الله : ورواه محمد بن مقاتل عن ابن المبارك عن حيوة عن الوليد عن العلاء بن حكيم وكان سيافا لمعاوية

کہا حیوۃ نے یا ابو عثمان نے ان کو خبر دی علاء بن حکیم نےوہ سیاف تھا معاویہ کے لئے کہتے ہیں وہ داخل ہوا معاویہ کے پاس اور اس کو حدیث بیان کی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے۔ ولید نے کہا کہ مجھے خبر دی عقبہ نے کہ شفی وہ ہے جو داخل ہوا تھا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر اور اس نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کوحدیث بیان کی تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ رو پڑے اور ان کا رونا شدید ہو گیا پھر وہ رو نے سے جب ہوش میں آئے تو وہ یہ کہہ رہے تھے سچ فرمایا اللہ نے اور اس کے رسول نے۔من کان یوید الحیاۃ الدنیا وزیننھا نوف الیھم اعمالھم فیھا وھم فیھا لایخسون اولئک الذین لیس لھم فی الاٰخرۃ الالنار وحبط ما صنعوا فیھا وباطل ماکانوا یعلمون جو شخص دنیا کی زندگی کو اور اس کی زینت و آرائش کو چاہے ہم ان کے اعمال کی جزا ان کود نیا میں پوری پوری دے دیں گے ان کے لئے اس میں کوئی کمی نہیں کی جائے یہی لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں آگ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے انہوں نے دنیامیں جو کچھ بھی کیا وہ اکارت ہو چکا ہے اور جو عمل وہ کرتے سب بے کار ہے۔ امام احمد نے فرمایا اور روایت کیا ہے اس کو محمد بن مقاتل نے ابن مبارک سے اس نے حیوۃ سے اس نے ولید سے اس نے علاء بن ابی حکیم سے اور وہ حضرت معاویہ کا تلوار بردار تھا۔

عُقْبَةَ ← الْوَلِیْدُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْحَدِيثَ. ← دخل على معاوية ← العلاء بن حكيم وكان سيافا لمعاوية ← حيوة أو أبو عثمان

Hadith 6807

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6808

6808 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الحسن بن علي بن عفان نا عبيد الله هو ابن موسى نا قطري الخشاب عن عبد الوارث عن مولى أنس قال : قال أنس : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا كان يوم القيامة صارت أمتي ثلاث فرق يعبدون الله عز و جل خالصا وفرقة يعبدون الله عز و جل رياء وفرقة يعبدون الله يصيبون به دنيا قال : فيقول الذي كان يعبد الله عز و جل للدنيا بعزتي وجلالي ما أردت بعبادتي فيقول : الدنيا فيقول : لا جرم لا ينفعك ما جمعت ولا ترجع إليه انطلقوا به إلى النار قال : ويقول : للذي يعبد الله عز و جل رياء بعزتي وجلالي ما أردت بعبادتي قال الرياء قال : يقول : إنما كانت عبادتك التي كنت ترائي بها لا يصعد إلي منها شيء ولا ينفعك اليوم انطلقوا به إلى النار قال ويقول الذي كان يعبد الله عز و جل خالصا بعزتي وجلالي ما أردت بعبادتي فيقول بعزتك وجلالك لأنت أعلم به مني كنت أعبدك لوجهك ولدارك قال : صدق عبدي انطلقوا به إلى الجنة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر احمد بن حسن نے دونوں نے کہا ہمیں خبر دی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو عبیداللہ بن موسیٰ نے ان کو قطری خشاب نے ان کو عبدالوارث نے ان کو مولیٰ انس نے اس نے کہا کہ اس نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہو گا میری امت تین طبقوں میں ہو جائے گی ایک طبقہ ان لوگوں کا ہو گا جو محض اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ دوسرا طبقہ ان کا جو اللہ کی عبادت دکھاوے کے لئے کرتے تھے اور تیسر اطبقہ وہ جو اللہ کی عبادت کریں گے جس سے وہ دنیا کمائیں گے۔ تو جو لوگ دنیا کمانے کے لئے عبادت کرتے تھے۔ان کواللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ مجھے میری عزت کی قسم ہے مجھے میرے جلال کی قسم ہے تم نے میری عبادت سے کیا نیت کی تھی؟ وہ کہے گا کہ دنیا کی اللہ تعالیٰ فرمائے گا لامحالہ تمہیں وہ دولت آج کوئی فائدہ نہیں دے گی جو تم نے جمع کی تھی۔ اور نہ ہی تم اس کی طرف واپس جا سکتے ہو۔ لے جاؤ اس کو جہنم کی طرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس سے کہے گا جس نے دیکھاوے کے لئے عبادت کی تھی میری عزت کی قسم میرے جلال کی قسم میری عبادت کر کے تم نے کیا چاہا تھا وہ کہے گا کہ ریاکاری اور دیکھاوا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میری دو عبادت جو تم نے دیکھاوے کے لئے کی تھی اس میں سے کچھ بھی میری طرف اوپرکو نہیں چڑھا تھا۔ آج تمہیں وہ عبادت کوئی فائدہ نہیں دے گی لے جاؤ اس کو جہنم کی طرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس بندے سے اللہ تعالیٰ کہے گا جس نے خالص اللہ کی رضا کے لئے عبادت کی تھی۔ میری عزت و جلال کی قسم تم نے میری عبادت سے کیا ارادہ کیا تھا۔ وہ کہے گا تیری عزت اور جلال کی قسم کھا کر کہتا ہوں تو اس بارے میں مجھ سے بہتر جانتا ہے۔ میں نے تیری ذات کے لئے اور تیرے گھر کے لئے عبادت کی تھی اللہ تعالیٰ فرمائے گا سچ کہا میرے بندے نے ۔۔۔۔۔لے جاؤ اس کو جنت کی طرف۔

أَنَسٍ، ← مَوْلَی أَنَسٍ ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← قَطَرِيٍّ الْخَشَّابُ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ مُوسَی ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن

Hadith 6808

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6809

6809 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عمر الحمامي المقرئ نا محمد بن عبد الله الشافعي نا إبراهيم بن إسحاق الحربي نا محمد بن يحيى الأزدي نا جعفر بن محمد الخراساني نا عمرو بن زرارة ح قال أبو بكر الشافعي : حدثناه جعفر بن محمد الفريابي نا عمرو بن زرارة النيسابوري نا أبو جنادة ح وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ واللفظ له أنا أبو بكر محمد بن داود بن سليمان نا إبراهيم بن أبي طالب و جعفر بن الحسين بن عبيد الله و مسدد بن قطن بن إبراهيم في جماعة آخرين قالوا : نا عمرو بن زرارة نا أبو جنادة عن الأعمش عن خيثمة عن عدي بن حاتم قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يؤمر يوم القيامة بناس من الناس إلى الجنة حتى إذا دنوا منها واستنشقوا رائحتها ونظروا إلى قصورها وإلى ما أعد الله لأهلها فيها فيقولون يا ربنا لو أدخلتنا النار قبل أن ترينا ما أريتنا من الثواب وما أعددت فيهت لأولئك كان أهون قال : ذاك أردت بكم كنتم إذا خلوتم بي بارزتمزني بالعظيم وإذا لقيتم الناس لقيتموهم مخبتين ولم تجلوني وتركتم للناس ولم تتركوا لي فاليوم أذيقكم العذاب الأليم مع ما حرمتم من الثواب

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن احمد بن عمر حمامی مقریٔ نے ان کو محمد بن عبداللہ شافعی نے ان کو ابراہیم بن اسحٰق حربی نے ان کو محمد بن یحییٰ ازدی نے ان کو جعفر بن محمد خراسانی نے ان کو عمرو بن زرارہ نے ’’ح“۔ فرمایا ابو بکر شافعی نے ہمیں وہ حدیث بیان کی جعفر بن محمد فریابی سے ان کو عمرو بن زرارہ نیسا پوری نے ان کو ابو جنادہ نے ’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور یہ الفاظ اسی کے ہیں ان کو خبر دی ابو بکر محمد بن داود بن سلمان نے ان کو ابراہیم بن ابو طالب اور جعفر بن محمد بن حسین بن عبیداللہ نے اور مسدد بن قطن بن ابراہیم نے جماعت آخرین میں انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی عمرو بن زرارہ نے ان کو ابو جنادہ نے ان کو اعمش نے خیثمہ سے ان کو عدی بن حاتم نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن پڑھ لوگوں کو جنت کی طرف لانے کا حکم ہو گا یہاں تک جب جنت کے قریب ہوں گے اور جنت کی خوشبو سونگھ لیں گے اور اس کے محلات کو دیکھ لیں گے اور ان نعمتوں کو دیکھ لیں گے جو اللہ نے اہل جنت کے لئے تیار کر رکھی ہیں۔ تو وہ لوگ کہیں گے اے ہمارے رب اگر تو ہمیں جنت کی نعمتیں یہ ثواب دیکھانے سے پہلے جہنم میں داخل کرتا تو یہ اور بھی زیادہ اہم ہوتا اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ یہی میں نے تمہارے بارے میں چاہا ہے تم لوگ جب میرے ساتھ علیحدہ ہوتے تھے تو بہت برے طریقے سے میرے مقابلے میں آ جاتے (یعنی کھل کرنافرمانی اور بغاوت کرتے تھے) اور جب تم لوگوں سے ملتے تھے تو ان کو عاجزی کرتے ہوئے ملتے تھے (یعنی ان کے سامنے عاجزی دیکھاتے تھے تاکہ وہ تمہیں نیک سمجھیں) اور مجھے عظمت و بڑائی نہیں دیتے تھے۔ مجھے لوگوں کی وجہ سے چھوڑ دیتے تھے اور لوگوں کو میری وجہ سے نہیں چھوڑتے تھے۔ آج میں تمہیں دردناک عذاب چکھاؤں گا اور اس کے ساتھ ساتھ تم ثواب سے بھی محروم کر دیئے جاؤ گے۔

عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُرَاسَانِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الْاَزْدِیُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ ← محمد بن عبد الله الشافعي ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْحَمَّامِيُّ الْمُقْرِئُ،

Hadith 6809

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6810

6810 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا عبد الله بن سعد بن إبراهيم بن أبي طالب نا عمرو بن زرارة نا أبو جنادة عن الأعمش عن شقيق قال : قال عمر رضي الله عنه : أو صيكم بالله إذا بالله خلوتم قال الحافظ : أبو جنادة هذا حصين بن مخارق الكوفي

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ان کو عبداللہ بن سعد نے ان کو ابراہیم بن ابو طالب نے ان کو عمرو بن زرارہ نے ان کو ابو جنادہ نے ان کو اعمش نے ان کو شقیق نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تمہیں وصیت کرتا ہوں اللہ سے ڈرنے کی جب تم اللہ کے ساتھ اکیلے ہو (یعنی جب خلوت میں سود) حافظ نے کہا کہ ابو جنادہ یہ حصین بن مخارق کوفی ہے۔

الحافظ أبو جنادة هذا حصين بن مخارق الكوفي ← عمر أو صيكم بالله إذا بالله خلوتم ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو جُنَادَةَ، ← عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ← عبد الله بن سعد بن إبراهيم بن أبي طالب ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 6810

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6811

6811 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي نا سعيد بن مسعود نا النضر بن شميل أنا شعبة عن عبد الملك بن عمير قال : سمعت أبا سلمة يحدث عن أبي هريرة : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أصدق بيت قالته العرب ألا كل شيء ما خلا الله باطل مخرج في الصحيح من حديث شعبة قال أحمد : ومما جاء في ذم الرياء والشهرة واستحباب الخمول حديث معاذ بن جبل

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن احمد محبوبی نے ان کو سعید بن مسعود نے ان کو نضر بن شمیل نے ان کو شعبہ نے ان کو عبدالملک بن نمیر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو سلمہ سے وہ حدیث بیان کرتے تھے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ وہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ سچا بیت اور شعر وہ ہے جسے عرب کہتے ہیں: الاکل شیءٍ ماخلا اللہ باطل خبر دار ہوشیار ،اللہ کے ماسوا جو کچھ ہے وہ سب باطل ہے جھوٹ ہے۔ یہ بخاری میں منقول ہے حدیث شعبہ سے۔ امام احمد نے فرمایا: بعض ان احادیث میں سے جو ریاکاری کی مذمت میں آئی ہیں اور شہرت پسندی کی مذمت میں اور خمول گمنامی اور گوشہ نشینی کے مستحب ہونے کے بارے میں ہے وہ معاذ بن جبل والی حدیث ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبَا سَلَمَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 6811

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6812

6812 - كما أخبرنا أبو الحسين محمد بن الحسين بن داود العلوي أنا أبو طاهر محمد بن الحسن المحمد أبادي نا عثمان بن سعيد نا سعيد بن أبي مريم نا نافع بن يزيد حدثني عياش عن عيسى بن عبد الرحمن عن يزيد بن أسلم عن أبيه : أن عمر بن الخطاب خرج إلى مسجد رسول الله صلى الله عليه و سلم فإذا هو بمعاذ بن جبل عند قبر رسول الله صلى الله عليه و سلم يبكي فقال : ما يبكيك يا معاذ ؟ قال : يبكيني ما سمعت من صاحب هذا القبر قال ما هو ؟ قال : سمعته يقول : إن يسيرا من الرياء شرك وإن من عادى أولياء الله فقد بارز الله بالمحاربة وأن الله يحب الإبرار الأخفياء الأتقياء الذين إن غابوا لم يفتقدوا وإن حضروا لم يدعوا ولم يعرفوا قلوبهم مصابيح الدجى يخرجون من كل غبراء مظلمة وروي في حديث أبي الدرداء فقال

ہمیں خبر دی ابو الحسین محمد بن حسین بن داؤد علوی نے ان کو ابو طاہر محمد حسن محمد آبادی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو سعید بن ابی مریم نے ان کو نافع بن یزید نے ان کو عیاش نے ان کو عیسیٰ بن عبدالرحمٰن نے ان کو یزید بن اسلم نے ان کو ان کے والد نے کہ عمر بن خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کی طرف نکلے تو دیکھا کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے پاس رو رہے تھے۔ عمر نے پوچھا اے معاذ کیوں رو رہے ہو؟ فرمایا: مجھے وہ بات رلا رہی ہے جو میں نے اس صاحب قبر سے سنی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں کہ وہ کون سی بات ہے؟ کہا میں نے ان سے سنا تھا فرماتے تھے: بے شک معمولی سا دیکھاوا بھی شرک ہے، بے شک جس نے اولیاء اللہ سے عداوت رکھی اس نے اللہ کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے مقابلہ کیا۔ اور یہ کہاللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے نیک لوگوں کو جو گمنام اور پوشیدہ رہنے والے متقی پرہیزگار ہیں۔ وہ ایسے لوگ ہیں اگر غائب ہو جائیں تو ان کو کوئی تلاش نہیں کرتا۔ اور اگر آجائیں تو نہ بلائے جاتے ہیں نہ ہی پہچانے جاتے ہیں۔ جن کے دل اندھیروں میں چراغ ہیں۔ جو ہر اندھیری وادی غبار آلود سے نکلتے ہیں۔ اور درداء کی حدیث میں روایت ہے۔

أَبِيهِ ← يزيد بن أسلم ← عِیْسَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← عَيَّاشٌ، ← نَافِعُ بْنُ یَزِیدَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَ آبَادِيُّ، ← أبو الحسين محمد بن الحسين بن داود العلوي ← كَمَا

Hadith 6812

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6813

6813 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار العدل نا يوسف بن موسى نا يحيى بن عثمان نا بقية عن سلام بن صدقة عن يزيد بن أسلم عن الحسن عن أبي الدرداء : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الإبقاء على العمل أشد من العمل إن الرجل ليعمل العمل فيكتب له عمل صالح معمول به في السر يضعف أجره سبعين ضعفا فلا يزال به الشيطان حتى يذكره للناس ويعلنه فتكتب علانيته ويمحى ضعيف أجره كله ثم لا يزال به الشيطان حتى يذكره للناس الثانية ويحب أن يذكر ويحمد عليه فيمحى من العلانية ويكتب رياء فاتق الله امرؤ صان دينه وإن الرياء شرك هذا من أفراد بقية عن شيوخه المجهولين والله أعلم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ بن دینار عدل نے ان کو یوسف بن موسیٰ نے ان کو یحییٰ بن عثمان نے ان کو بقیہ نے ان کو سلام بن صدقہ نے ان کو یزید بن اسلم نے ان کو حسن نے ان کو ابو درداء نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ نے فرمایا: بے شک کسی عمل پر ہمیشہ قائم رہنا اس کے عمل کرنے سے زیادہ مشکل بھی ہوتا ہے اور ضروری بھی۔ کوئی آدمی عمل کرتا رہتا ہے لہٰذا اس کے لئے عمل صالح لکھا جاتا ہے جو چھپ کر کیا جاتا ہے اس کا اجر ستر گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔لیکن شیطان ہمیشہ اس کے پیچھے پڑا رہتا ہے (تاکہ وہ اس کو ظاہر کر دے) یہاں تک انسان خود اس کو لوگوں کے سامنے ذکر کر دیتا ہے اور اس کو ظاہر کر دیتا ہے۔ لہٰذا اب وہ عمل مخفی نہیں رہتا بلکہ اعلانیہ اور ظاہر بن جاتا ہے لہٰذا اس کا سارا اضافی اور دوہرا اجر مٹا دیا جاتا ہے۔ پھر شیطان اس کے پیچھے لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ انسان اس کو دوبارہ لوگوں کے سامنے ذکر کر دیتا ہے پھر وہ یہی پسند کرتا ہے کہ وہ اس کو ذکر کرتار ہے اور اس پر اس کی تعریف ہوتی رہے اور وہ اپنی تعریف سنتا رہے۔لہٰذاوہ عمل علانیہ اور ظاہر سے مٹا کر ریاکاری اور دیکھاوے میں درج کر دیا جاتا ہے۔ جو آدمی اللہ سے ڈرتا رہتا ہے وہ اپنے دین کو بچا لیتا ہے بے شک ریا کاری اور دکھاوا کرنا شرک ہے۔ یہ حدیث، بقیہ راوی کے افراد میں سے ہے اس کے شیوخ سے جو کہ سب کے سب مجہول ہیں۔ واللہ اعلم۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← الْحَسَنِ، ← يزيد بن أسلم ← سلام بن صدقة ← بَقِيَّةُ ← يَحْيَی بْنُ عُثْمَانَ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار العدل، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 6813

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6814

6814 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة و أبو بكر الفارسي قالا : أنا أبو عمرو بن مطر نا إبراهيم بن علي نا يحيى أنا جرير عن ليث عن عبيد الله الإفريقي عن علي بن يزيد عن القاسم عن أبي أمامة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن أحسن أوليائي عندي منزلة رجل ذو حظ من صلاة أحسن عبادة ربه في السر و كان غامضا في الناس لا يشار إليه بالأصابع عجلت منيته وقل تراثه وقلب بواكيه قال الإمام أحمد : وقد روينا في ذم الرياء أحاديث منها ما

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے اور ابو بکر فارسی نے دونوں کو ابو عمرو بن مطر نے ان کو ابراہیم بن علی نے ان کو یحییٰ نے ان کو جریر نے ان کو لیث نے ان کو عبیداللہ افریقی نے ان کو علی بن یزید نے ان کو قاسم نے ان کو ابو امامہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک میرے دوستوں اور ولیوں میں سب سے زیادہ اچھا میرے نزدیک مرتبے کے اعتبار سے وہ آدمی ہے جو نماز کے ثواب سے بہرہ یاب ہوتا ہے، جو چھپ کر اپنے رب کی عبادت کو احسن طریقے سے کرتا ہے اور لوگوں کی نظروں سے اوجھل تھا جس کی طرف انگلیوں کے ساتھ اشارہ نہیں کیا جاتا تھا جس کی موت نے اس کے لئے جلدی کر لی جس نے اپنا مال و متاع اور ورثہ بھی کم چھوڑا اور اس کو رونے والے بھی کم ہیں۔ امام احمد نے فرمایا: تحقیق ریاکاری کی مذمت میں کئی احادیث روایت کی گئی ہیں ان میں سے بعض یہ ہیں۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ← عُبَيْدِ اللهِ الأَفْرِيقِيِّ، ← لَيْثٌ، ← جَرِيرٌ ← يَحْيَى ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أبو نصر بن قتادة و أبو بكر الفارسي

Hadith 6814

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6815

6815 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو طاهر الفقيه و أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو سعيد بن أبي عمرو وقراءة عليهم وحدثنا الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان إملاء قالوا نا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم نا أبي و شعيب بن الليث قالا : أنا الليث بن سعد عن ابن الهاد عن عمرو بن أبي عمرو مولى المطلب عن سعيد المقبري عن أبي هريرة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الله سبحانه يقول : أنا أغنى الشركاء عن الشرك من عمل لي عملا أشرك فيه غيري فأنا منه بريء وهو للذي عمله 6815 - مكرر ـ ورواه أيضا العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قال الله عز و جل : فمن عمل في عملا أشرك فيه غيري فأنا منه بريء هو للذي أشرك

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو زکریا بن ابو اسحاق نے ان کو ابو سعید بن ابو عمرو نے اس طور پر کہ روایت کا پڑھنا نہیں لوگوں کے ذمہ تھا۔ اور ہمیں حدیث بیان کی امام ابو الطیب سہل بن محمد بن سلیمان نے بطور املاء کے انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبداللہ بن عبدالحکم نے ان کو ابو شعیب بن لیث نے دونوں نے کہا ان کو خبر دی لیث بن سعد نے ان کو ابن الہاد نے ان کو عمرو بن ابو عمرو مولیٰ مطلب نے ان کو سعید مقبری نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں سب شریکوں سے بے پرواہ ہوں اور ان کے شریک رہنے سے بھی (یعنی مجھے شریکوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے) یا یوں مفہوم ہے کہ میں نے تمام شرکاء کو (جن کو لوگ بناتے ہیں) شریک بننے سے فارغ کر دیا ہے (یعنی لا تعلق ہو گیا ہوں) ان کے شرک سے۔ جو شخص میرے لئے کوئی عمل کرتا ہے اور اس میں میرے سوا کسی اور کو شریک اور شامل کر لیتا ہے میں اس سے بری ہوں (یعنی لا تعلق ہوں) وہ شخص اسی کا ہے جس کے لئے اس نے عمل کیا ہے۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اس کا وہ عمل اسی کے لئے ہے جس کے لئے اس نے کیا ہے (میں اس کے عمل سے لاتعلق ہوں اپنا حصہ بھی چھوڑ دیتا ہوں) یعنی صرف اسی بندے کو اور اسی عمل کو قبول کرتا ہوں جو صرف میرا ہی اور میرے لئے ہی ہو۔) مکر رہے۔ اور اس کو بھی روایت کیا علاء بن عبدالرحمٰن بن یعقوب نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص میرے لئے عمل کرتا ہے اور اس میں میرے ماسوا کو شریک کرتا ہے میں اس سے لاتعلق ہوں۔ وہ اسی کے لئے ہے جس کو شریک ٹھہرایا گیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، ← ابْنِ الْھَادِ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أبي و شعيب بن الليث ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← الْإِمَامُ أَبُو الطِّيبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ

Hadith 6815

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6816

6816 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ أنا أبو زكريا العنبري نا أبو عبد الله البوشنجي نا أمية بن بسطام نا يزيد بن زريع نا روح بن القاسم ح قال : وأنا أبو الحسن بن ابنة إبراهيم بن هاني نا إبراهيم بن أبي طالب نا يعقوب الدورقي نا ابن علية نا روح بن القاسم عن العلاء : فذكره رواه مسلم في الصحيح عن زهير بن حرب عن ابن علية

ہمیں اس کی خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی زکریا عنبری نے ان کو ابو عبداللہ بوشنجی نے ان کوامیہ بن بسطام نے ان کو یزید بن زریع نے ان کو روح بن قاسم نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن بن لبنتہ ابراہیم بن ہانی نے ان کو ابراہیم بن ابی طالب نے ان کو یعقوب دورقی نے ان کو ابن علیہ نے ان کو روح بن قاسم نے ان کو علاء نے پھر اس نے کو ذکر کیا ہے۔ اس کومسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں زہیر بن حرب سے اس نے ابن علیہ سے۔

ابْنُ عُلَيَّةَ، ← زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ← العلاء فذكره رواه مسلم في الصحيح ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← وأنا أبو الحسن بن ابنة إبراهيم بن هاني ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبُوشَنْجِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 6816

chevron_left Previous
1234…16
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood