Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6754

6754 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس نا عثمان بن سعيد نا عبد الله بن صالح عن معاوية بن صالح عن علي بن أبي طلحة عن ابن عباس في : قوله تعالى : { اجتنبوا كثيرا من الظن } يقول نهى الله المؤمن أن يظن ظن سوء وفي قوله { ولا تجسسوا } قال نهى الله أن تتبع عورات المؤمن في قوله { لا يغتب بعضكم بعضا } قال حرم الله أن يغتاب المؤمن بشيء كما حرم الميتة

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو الحسن احمد بن محمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو عبداللہ بن صالح نے ان کو معاویہ بن صالح نے ان کو علی بن ابو طلحہ نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں۔ (1)اجتنبوا کثیرا من الظن اجنتاب کرو کثرت ظن سے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے بدگمانی کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اس قول کے بارے میں فرمایا: (2)۔۔۔۔ولا یغتب بعضکم بعضا کہ بعض تمہارا بعض کی غیبت نہ کرے۔ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حرام کر دیا ہے کہ مؤمن کی غیبت کی جائے جیسے مردار کو حرام کیا ہے۔ اور اس قول کے بارے میں: (3)۔۔۔۔۔ولا تجسوا جاسوسی نہ کرو۔ فرمایا کہ اللہ نے مؤمنوں کی کمزوریوں کو تلاش کر نے سے منع فرمایا ہے۔

حرم الله أن يغتاب المؤمن بشيء كما حرم الميتة ← نهى الله أن تتبع عورات المؤمن في قوله لا يغتب بعضكم بعضا ← نهى الله المؤمن أن يظن ظن سوء وفي قوله ولا تجسسوا ← ابن عباس في قوله تعالى اجتنبوا كثيرا من الظن ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6754

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6755

6755 - أخبرنا أبو القاسم عبد الخالق بن علي بن عبد الخالق أنا أبو بكر خنب نا أبو بكر بن أبي العوام الرياحي نا عبد الله بن بكر السهمي نا حاتم بن أبي صغيرة عن سماك بن حرب عن أبي صالح مولى أم هانئ عن أم هانئ أنها سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم قالت : قلت يا رسول الله أرأيت قول الله عز و جل : { وتأتون في ناديكم المنكر } ما ذلك المنكر الذي كانوا يأتون في ناديهم قال : كانوا يسخرون بأهل الطريق ويخوفونهم تابعه يزيد بن زريع وغيره عن حاتم بن أبي صغيرة

ہمیں خبر دی ابو القاسم عبدالخالق بن علی بن عبدالخالق نے ان کو ابو بکر خنب نے ان کو ابو بکر بن العوام ریاحی نے ان کو عبداللہ بن بکر سہمی نے ان کو حاتم بن ابو صغیرہ نے ان کو سماک بن حرب نے ان کو ابو صالح مولیٰ اُم ہانی نے ان کو اُم ہانی نے کہ اس نے پوچھا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتی ہیں کہ میں نے کہا آپ کیا کہتے ہیں اس قول الہٰی کے بارے میں۔ وتأتون فی نادیکم المنکر یہ كون سا منکر ہے جس کو وہ اپنی مجلس میں لاتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ لوگ اہل طریق سے یعنی راہ چلتے لوگوں کے ساتھ تمسخر کرتے تھے اور ان کو ڈراتے تھے۔ یزید بن زریع نے اس کا متابع بیان کیا ہے اور اس کے ماسوانے حاتم بن ابو مغیرہ سے۔

قُلْتُ ← أم هانئ أنها سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أبي صالح مولى أم هانئ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَکْرٍ السَّهْمِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْعَوَّامِ الرِّيَاحِيُّ، ← أبو بكر خنب ← أبو القاسم عبد الخالق بن علي بن عبد الخالق

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6755

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6756

6756 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا أبو عتبة نا بقية عن أم عبد الله بنت خالد بن معدان عن أبيها : أنها سمعته يقول أن الذين يسخرون من الناس في الدنيا يقال لهم يوم القيامة ادخلوا الجنة فإذا أتوا أبوابها ودنوا يقال لهم يسخر بكم كما كنتم تسخرون بالناس

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو ابو عتبہ نے ان کو بقیہ نے ان کو اُم عبدالله بنت خالد بن معدان نے اس نے اپنے والد سے سناوہ کہتے تھے کہ جو لوگ دنیامیں لوگوں کے ساتھ مسخریاں کرتے ہیں۔ ان کو کہا جائے گا یہ تم سے مذاق کیا گیا تھا جیسے تم دنیا میں لوگوں کے ساتھ مسخریاں کیا کرتے تھے۔

أبيها أنها ← أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بَقِيَّةُ ← أَبُو عُتْبَةَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6756

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6757

6757 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس الأصم نا عبد الملك بن عبد الحميد نا روح نا المبارك عن الحسن قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن المستهزئين بالناس يفتح لأحدهم باب في الجنة فيقال له هلم هلم فيجيء بكربه وغمه وإذا جاء أغلق دونه فيما يزال كذلك حتى إن أحدهم يفتح له الباب من أبواب الجنة فيقال له هلم فما يأتيه من الاياس

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا ہمیں خبر دی ابو العباس اصم نے ان کو عبدالملک بن عبدالحمید نے ان کو روح نے ان کو مبارک نے ان کوحسن نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک لوگوں کے ساتھ استہزاء کرنے والے لوگوں میں سے ایک کے لئے جنت کا درواز کھولا جائے گا اور اسے کہا جائے گا آجا آجا وہ اپنے کرب اور غم کے ساتھ اور اپنے غم کے ساتھ جب پہنچے گا تو اس کے آگے دروازہ بند کر دیا جائے گا ہمیشہ اس کے ساتھ ایسے کیا جاتا رہے گا حتٰی کہ ان میں سے کسی کے لئے جنت کے دروازوں میں درواز کھولا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا آ جا مگر وہ مایوسی کے مارے ہیں آئے گا۔

الْحَسَنِ، ← المبارك ← رَوْحٌ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6757

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6758

6758 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أحمد بن سليمان بن الحسن الفقيه نا إبراهيم بن إسحاق نا أبو نعيم نا إسرائيل عن أبي يحيى عن مجاهد عن ابن عباس قال : ذكروا رجلا فقال : إذا أردت أن تذكر عيوب صاحبك فاذكر عيوبك

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحاق نے ان کو احمد بن سلمان بن حسن فقیہ نے ان کو ابراہیم بن اسحٰق نے ان کو ابو نعیم نے ان کو اسرائیل نے ان کو ابو یحییٰ نے ان کو مجاہد نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے ایک آدمی کا ذکر کیا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب تو اپنے ساتھی کے عیوب ذکر کر نے کا ارادہ کرے تو پہلے اپنے عیب یاد کر لے۔

ذكروا رجلا فقال إذا أردت أن تذكر عيوب صاحبك فاذكر عيوبك ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← أَبِي يَحْيَى، ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أحمد بن سليمان بن الحسن الفقيه ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6758

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6759

6759 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق نا أبو الجواب نا عمار عن أبي نضرة : وأن تعيب عليه فيما يأتي وتؤذي جليسك بما لا يعيبك وروي هذا الكلام بمعناه عن عمر بن الخطاب

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو ابو الجواب نے ان کو عمار نے ان کو ابو نصرہ نے۔ تیرا ساتھی جو کچھ کرتا ہے تم اس میں اس کا عیب نکالتے ہو اور تم اسے ایذا پہنچاتے ہواس چیز کے بارے میں جس چیز میں وہ تیری پرواہ بھی نہیں کرتا۔ یہ کلام اپنے مفہوم کے ساتھ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6759

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6760

6760 - أخبرنا أبو محمد جناح بن نذير القاضي بالكوفة نا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم نا أحمد بن حازم أنا جعفر بن عون العمري عن هشام بن عروة عن أبيه عن عبد الله بن زمعة قال : خطب رسول الله صلى الله عليه و سلم يوما فذكر الناقة { إذ انبعث أشقاها } قال انبعث لها رجل عارم عزيز منيع في رهطه مثل أبي زمعة وإن رسول الله صلى الله عليه و سلم وعظهم في النساء فقال يجلد أحدكم امرأته جلد العبد ولعله يضاجعها من آخر يومه وإن رسول الله صلى الله عليه و سلم وعظهم في الضحك من الضرطة فقال يضحك أحدكم مما يفعل أخرجاه في الصحيح من أوجه عن هشام بن عروة

ہمیں خبر دی ابو محمد جناح بن نذیر قاضی نے کوفے میں ان کو ابو جعفر محمد بن بھی بن دحیم نے ان کو احمد بن حازم نے ان کو جعفر بن عون عمری نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبداللہ بن زمعہ نے وہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا آپ نے اونٹنی کا ذکر کیا کہ اذا نبعث اشقاھا کہ جب شقی اٹھا۔ آپ نے فرمایا کہ جب اونٹنی کے لئے ایک پلید آدمی مضبوط اور قوی ،اپنی جماعت کے ساتھ مثل ابو زمعہ کے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو وعظ فرمایا نصیحت فرمائی عورتوں کے بارے میں۔ فرمایا کہ ایک آدمی تم میں سے اپنی عورت کو ایسے کوڑے مارتا ہے جیسے کوئی غلام کو کوڑے مارتا ہے۔ اور وہ پھر اس کے بعد دوسرے لمحے اسی دن کے آخر میں اس سے صحبت کر کے (اپنی ضرورت بھی اس سے پوری کرتا ہے۔) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو نصیحت فرمائی تھی ان کے پادنے یعنی گیس آواز کے ساتھ خارج کرنے یا خارج ہونے پر ہنسنے سے۔ آپ نے فرمایا کہ تم میں سے ایک ہنستا ہے اس چیز پر جس کو وہ خود بھی کرتا ہے۔ بخاری ومسلم نے اس کو نقل کیا ہے کئی وجوہ سے ہشام بن عروہ سے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ الْعُمَرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ← أبو محمد جناح بن نذير القاضي

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6760

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6761

6761 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا المعمري نا كثير بن عبيد نا محمد بن جبير عن جعفر بن برقان عن يزيد بن الأصم عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ينظر أحدكم إلى القذاة في عين أخيه وينسى ـ قال كلمة ـ في عينه

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے کو معمری نے ان کو کثیر بن عبید نے کو محمد بن جبیر نے ان کو جعفر بن برقان نے ان کو یزید بن اصم نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک تمہارا اپنے بھائی کی آنکھ میں تنکا یا مچھر کے پر کو دہکھ لیتا ہے اور اپنی آنکھ میں ۔۔۔۔بھول جاتا ہے (یعنی کوئی لفظ کہا تھا جس کو راوی بھول گیا ہے۔)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← الْمَعْمَرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6761

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6762

6762 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا عبد الله الحسين بن الحسن بن أيوب الطوسي نا أبو خالد يزيد بن محمد بن حماد المكي نا المنهال بن يحيى نا أبو عبيدة الباجي قال : قال الحسن : ابن آدم كيف تكون مؤمنا ولا يأمنك جارك ابن آدم يكف تكون مسلما ولا يسلم الناس منك ابن آدم لن تصيب حقيقة الإيمان في قلبك حتى لا تعيب الناس بعيب هو فيك حتى تبدأ بإصلاح ذلك العيب فإذا فعلت لم تصلح عيبا إلا وجدت آخر فإذا فعلت ذلك كان شغلك في خاصة بدنك وخير عباد الله من كان كذلك

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو عبداللہ حسین بن حسن بن ایوب طوسی نے ان کو ابو خالد یزید بن محمد بن حماد مکی نے ان کو منہال بن یحییٰ نے کو ابو عبیدہ باجی نے وہ کہتے ہیں کہ کہا حسن بصری نے اے ابن آدم تو کیسے مؤمن ہو سکتا ہے حالانکہ تیرا پڑوسی تجھ سے محفوظ نہیں ہے۔ اے ابن آدم تو کیسے مسلمان ہے حالانکہ لوگ تجھ سے بچتے نہیں یعنی سلامتی میں نہیں ہیں۔ اے ابن آدم تو اپنے دل میں ایمان کی حقیقت کو ہرگز نہیں پاسکتا جب تک کہ تو لوگوں کو ایسے عیب کے ساتھ عیب نہ لگائے جو عیب خود تیرے اندر موجود ہو۔ یا اس وقت تک جب تک تو اس عیب کی اصلاح کرنے میں اپنے آپ سے پہل نہ کر لے۔ جب تو یہ کام کرے تو تو ایک عیب کی اصلاح نہیں کر پائے گا کہ دوسرا عیب اپنے اندر پالے گا پھر تو جب دوسرے عیب کی اصلاح کرے گا تو پھر تیسرا عیب کی اصلاح کی فکر کرے گا حتٰی کہ تیری مصروفیت اور تیرا شغل اپنی اصلاح کرنا ہی ہو گا اوراللہ کی بندوں میں سے بہتر وہی شخص ہے جو ایسا ہی ہو جائے۔

أبو عبيدة الباجي ← الْمِنْهَالُ بْنُ يَحْيَى، ← أبو خالد يزيد بن محمد بن حماد المكي ← عبد الله الحسين بن الحسن بن أيوب الطوسي ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6762

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6763

6763 - أخبرنا أبو الحسن علي بن الحسن بن علي الفهري بمكة أنا الحسن بن رشيق نا ذو النون بن أحمد الأخميمي أبو الفيض حدثني عبد الباري قال سمعت أخي ذان النون بن إبراهيم : من صحح استراح ومن تقرب قرب ومن تكلف ما لا يعنيه منه ما يعنيه ومن نظر في عيون الناس عمي عن عيوب نفسه

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن حسن بن علی فہری نے مکہ مکرمہ میں ان کو خبر دی حسن بن رشیق نے ان کو ذوالنون بن احمد اخمیمی نے ان کو ابو الفیض نے ان کو عبدالباری نے انہوں نے سنا اپنے بھائی ذوالنون بن رحیم سے، جو شخص دوسرے کو تندرست کرتا ہے خود آرام پاتا ہے۔ جو شخص قرب ڈوھونڈتا ہے وہ قریب ہو جاتا ہے۔ جو شخص غیر ضروری چیز کے لئے تکلف کرتا ہے وہ ضروری چیز سے محروم ہو جاتا ہے۔ (یا جو شخص بے مقصد چیزیں تکلف کرتا ہے وہ بامقصد چیز سے محروم رہتا ہے۔) جو شخص لوگوں کے عیب دیکھتا ہے خوداپنے عیبوں سے اندھا ہو جاتا ہے۔

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6763

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6764

6764 - أخبرنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو بكر عثمان بن محمد صاحب الكتاني بمكة أنا أبو عثمان الكرخي بطرسوس نا عبد الرحمن بن عمر رستة نا المفضل بن يونس قال ذكر الربيع بن خيثم رجل فقال : ما أنا عن نفسي براض فأفرغ من ذمها إلى ذم الناس

ہمیں خبر دی عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو بکر عثمان بن محمد صاحب کتانی نے مکہ میں ان کو ابو عثمان کرخی نے طرسوس میں ان کو عبدالرحمٰن بن عمر رستہ نے ان کو مفضل بن یونس نے وہ کہتے ہیں کہ ربیع بن حیثم کے آگے ایک آدمی کا ذکر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے نفس سے خوش نہیں ہوں کہ میں اس کی برائی کرنے سے لوگوں کی برائی کرنے کی فرصت پاؤں۔ (یعنی مجھے اپنے عیب دیکھنے سے فرصت نہیں ہے۔)

نفسي براض فأفرغ من ذمها إلى ذم الناس ← الربيع بن خيثم رجل فقال ما ← الْمُفَضَّلُ بْنُ يُونُسَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ رُسْتَهْ ← أبو عثمان الكرخي بطرسوس ← أبو بكر عثمان بن محمد صاحب الكتاني بمكة ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6764

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6765

6765 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر محمد بن نصير قال : سمعت الجنيد يقول شيء مروي عن أبي سليمان الداراني أنا استحسنت كثيرا قوله : من اشتغل بنفسه شغل عن الناس ومن اشتغل بربه شغل عن نفسه وعن الناس

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر محمد بن نصیر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا جنید سے وہ کوئی شی کہتے تھے جو مروی ہے ابو سلیمان دارانی سے میں جسے بہت ہی اچھا سمجھتا ہوں۔ جو شخص اپنے نفس کے عیب دیکھنے میں مصروف ہو جائے وہ لوگوں کے عیبوں سے غافل ہو جاتا ہے اور جو شخص اپنے رب کے ذکر کے ساتھ مصروف ہو جائے وہ اپنے آپ سے اور لوگوں سے غافل ہو جاتا ہے۔

نفسه وعن الناس ← الناس ومن اشتغل بربه شغل ← استحسنت كثيرا قوله من اشتغل بنفسه شغل ← أبي سليمان الداراني ← شيء مروي ← الجنيد ← أبو جعفر محمد بن نصير ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6765

chevron_left Previous
1…8910…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood