Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6742

6742 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو النيسابوري أنا عيسى بن محمد نا العباس بن مصعب نا أحمد بن محمد بن جميل أبو حاتم عن سلمة عن ابن المبارك عن عبد الله السجزي عن رجل عن أنس بن مالك : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الغيبة أشد من الزنا فإن صاحب الزنا يتوب وصاحب الغيبة ليس له توبة

اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العطائنی نیشاپوری نے ان کو عیسیٰ بن محمد نے ان کو عباس بن مصعب نے ان کو احمد بن محمد بن جمیل نے ان کو ابو حاتم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے فرمایا کہ۔ الغیبۃ اشد من الزنا فان صاحب الزنا یتوب وصاحب الغیبۃ لس لہ توبۃ غیبت کرنا زنا کرنے سے زیادہ سخت گناہ ہے بے شک زنا کرنے والا توبہ کر لیتا ہے اور غیبت کرنے والے کی کوئی توبہ نہیں ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← رَجُلٌ: ← عبد الله السجزي ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← سَلَمَةَ، ← أحمد بن محمد بن جميل أبو حاتم ← العباس بن مصعب ← عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ؛ ← أبو النيسابوري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6742

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6743

6743 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا الحسن بن الفضل بن السمح نا غياث بن كلوب الكوفي نا مطرف بن سمرة بن جندب عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله يبغض البيت اللحم فسألت مطرفا ما يعني بالبيت اللحم قال : الذي يغتاب فيه الناس 6743 - مكرر ـ وبإسناده عن أبيه قال : مر رسول الله صلى الله عليه و سلم على رجل بين يدي حجام وذلك في رمضان وهما يغتابان رجلا فقال افطر الحجام والمحجوم ـ غياث هذا مجهول

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو حسن بن فضل بن سمع نے ان کو غیاث بن کلوب کوفی نے ان کو مطرف بن سمرہ بن جندب نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان اللہ یبغض البیت اللحم الله تعالیٰ بغض اور دشمنی رکھتا ہے گوشت خوروں کے گھر سے (یا نفرت کرتا ہے)۔ میں نے حضرت مطرف سے پوچھا کہ بیت اللحم سے گوشت والے گھر سے کیا مراد لی ہے۔ انہوں نے جواب دیا الذی یغتاب فیہ الناس وہ گھر مراد ہے جس میں لوگوں کی غیبت کی جاتی ہے۔ (مکر رہے) اسی اسناد کے ساتھ انہوں نے روایت کی اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک آدمی پر گزر ہوا جو کہ پچھنے لگانے والے کے پاس بیٹھا ہوا تھا یہ رمضان کا مہینہ تھا اور وہ دونوں کسی آدمی کی غیبت کر رہے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پچھنے لگانے والے نے اور لگوانے والے نے روزہ انکار کر دیا ہے یعنی ضائع کر دیا ہے۔ غیاث راوی مجہول ہے۔

أَبِيهِ ← مطرف بن سمرة بن جندب ← غياث بن كلوب الكوفي ← الحسن بن الفضل بن السمح ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6743

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6744

6744 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر بن درستويه نا يعقوب بن سفيان نا أبو صالح حدثني الليث حدثني خالد بن يزيد عن سعيد بن أبي هلال عن عبد الملك بن عبد الله عن عيسى بن هلال الصدفي عن عبد الله بن عمرو : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : إن العبد يلبث مؤمنا ثم أحقابا ثم يموت والله عليه ساخط وإن العبد يلبث أحقابا ثم أحقابا ثم يموت والله عنه راض ومن مات همازا لمازا للناس كان علامته يوم القيامة أن يسمه الله على الخرطوم من على الشفتين

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو عبداللہ بن جعفر بن درستویہ نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابو صالح نے ان کو لیث نے ان کو خالد بن یزید نے ان کو سعید بن ابو بلال نے ان کو عبد الملک بن عبداللہ نے ان کو عیسیٰ بن ہلال صدفی نے ان کو عبداللہ بن عمر نے ان کونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ نے فرمایا: بے شک ایک بندہ سالہا سال تک مؤمن رہتا ہے اس کے بعد پھر کئی کئی سال اس کے بعد وہ مرتا ہے مگر اللہ تعالیٰ سے ناراض ہوتا ہے اور بعض بندہ سالہا سال ٹھہرا رہتا ہے پھر ٹھہرا رہتا ہے حالانکہ اللہ سے راضی ہوتا ہے اور جو اس حال میں مر گیا کہ وہ منہ درمند لوگوں کو طعنے دیتا اور پیٹھ پیچھے برائیاں کرتا تھا قیامت کے دن اس کی علامت اور نشانی ہو گی کہ اللہ تعالیٰ اس کی ناک پر نشان لگادے کا ہونٹوں تک (سونڈ سے ہونٹوں تک۔)

النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ، ← عبد الملك بن عبد الله ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← اللَّيْثُ ← أَبُو صَالِحٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6744

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6745

6745 - أخبرنا أبو الفتح هلال بن محمد بن جعفر ببغداد أنا الحسين بن يحيى بن عياش القطان نا الحسن بن محمد بن الصباح نا ربعي بن علية عن داود بن أبي هند عن عامر بن أبي جبيرة بن الضحاك قال : نزلت هذه الآية في بني سلمة { ولا تنابزوا بالألقاب } قال : قدم علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم وليس منا رجل إلا وله اسمان فكان رسول الله صلى الله عليه و سلم يدعو الرجل بالاسم فيقال له يا رسول الله فإنه يغضب من هذا الاسم فنزلت ولا تنابزوا بالألقاب

ہمیں خبر دی ابو الفتح ہلال بن محمد بن جعفر نے بغداد میں ان کو حسین بن یحییٰ بن عیاش قطان نے ان کو حسین بن محمد بن صباح نے ان کو ربعی بن علیہ نے ان کو داؤد بن ابو ہند نے ان کو عامر بن ابو جبیرہ بن ضحاک نے وہ کہتے ہیں کہ یہ آیت بنو سلمہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ ولا تنابزوا بالالقاب ایک دوسرے کو برے لقبوں کے ساتھ یاد نہ کرو۔ کہتے ہیں کہ سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم لوگوں میں ہر ہر بندے کے دو دو نام رکھے ہوئے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بندے کو اس کے نام کے ساتھ پکارتے تھے۔ پس حضور سے کہا گیا کہ یا رسول اللہ یہ اس نام کے ساتھ پکارنے سے ناراض ہوتا ہے لہٰذا یہ آیت نازل ہوئی۔

نزلت هذه الآية في بني سلمة ولا تنابزوا بالألقاب ← عامر بن أبي جبيرة بن الضحاك ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← رِبْعِيُّ بْنُ عُلَيَّةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ← الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ بِبَغْدَادَ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6745

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6746

6746 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصغاني نا روح بن عبادة نا حماد بن سلمة أنا داود بن أبي هند عن الشعبي عن أبي جبيرة بن الضحاك : في هذه الآية { ولا تنابزوا بالألقاب } قال : كانت الألقاب في الجاهلية فدعا النبي صلى الله عليه و سلم رجلا منهم بلقبه فقيل يا رسول الله إنه يكرهه فأنزل الله عز و جل : { ولا تنابزوا بالألقاب }

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو روح بن عبادہ نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو داؤد بن ابو ھند نے شعبی سے اس نے ابو جبیرہ بن ضحاک سے اس آیت ولا تنابزوا بالالقاب کے بارے میں فرمایا کہ جاہلیت میں القاب تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی آدمی کو اس کے لقب کے ساتھ بلایا تو کہا گیا کہ یا رسول اللہ ! یہ اس کو ناپسند کرتا ہے لہٰذا اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔

أبي جبيرة بن الضحاك في هذه الآية ولا تنابزوا بالألقاب ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6746

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6747

6747 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا الدقيقي محمد بن عبد الملك نا سعيد بن الربيع نا شعبة عن داود بن أبي هند قال سمعت الشعبي عن أبي جبيرة قال : كان الرجل منا يكون له الاسمان والثلاثة فيدعى ببعضهما فعسى أن يكون يكره ذلك فنزلت { ولا تنابزوا بالألقاب }

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو دقیقی محمد بن عبدالملک نے ان کو سعید بن ربیع نے ان کو شعبہ نے ان کو داؤد بن ابو ہند نے انہوں نے سنا شعبی سے اس نے ابو جبیرہ سے وہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر آدمی کے دو تین نام ہوتے تھے کسی ایک کے ساتھ پکارا جاتا تھا اور ممکن ہوتا کہ کسی نام کو ناپسند بھی کرتا ہو تو یہ آیت نازل ہوئی: ولا تنابزوا بالالقاب۔

أَبي جبيرة ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، ← الدَّقِيقِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6747

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6748

6748 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي نا أحمد بن نجدة نا سعيد بن منصور نا أبو الأحوص عن حصين قال : سألت عكرمة عن قوله : ـ { ولا تنابزوا بالألقاب } هو قول الرجل للرجل يا كافر يا منافق قال : ونا سعيد نا خالد بن عبد الله عن حصين عن عكرمة قال : وهو قول الرجل يا كافر يا فاسق

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور انضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو ابو الاحوص نے ان کو حصین نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے عکرمہ سے پوچھا اس قول باری تعالیٰ کے بارے میں ولا تنا بزوا بالالقاب کہ ایک دوسرے کو برے لقبوں سے یاد نہ کرو اس سے مراد ہے جیسے کوئی آدمی کسی سے کہتا ہے اے منافق اے کافر۔

وهو قول الرجل يا كافر يا فاسق ← عِكْرِمَةَ، ← حُصَيْنٍ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← ونا سعيد ← قوله ولا تنابزوا بالألقاب هو قول الرجل للرجل يا كافر يا منافق ← سَأَلْتُ عِكْرِمَةَ ← حُصَيْنٍ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6748

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6749

6749 - أخبرنا عبد الله بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا سعدان بن نصر نا إسحاق بن يوسف نا عوف عن أبي العالية في : قول الله عز و جل : { ولا تنابزوا بالألقاب } فقال لا تقل للمسلم يا فاسق وتلا هذه الآية { بئس الاسم الفسوق بعد الإيمان } وروينا عن مجاهد قال : قال عمر بن الخطاب : ثلاث يصفين عليك من ود أخيه أن تسلم عليه إذا لقيته وتوسع له في المجلس وتدعوه بأحسن أسمائه إليه وروى البخاري في التاريخ عن عبد الله بن محمد عن عبد الله بن أبي الوزير البصري سمع موسى بن عبد الملك بن عمير عن أبيه عن سعيد الحجبي عن عمه عثمان بن طلحة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثل ما روينا عن عمر وقد ذكرناه في باب السلام

ہمیں خبر دی عبداللہ بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو سعدان بن نصر نے ان کو اسحاق بن یوسف نے ان کوعوف نے ان کو ابو العالیہ نے اس قول باری تعالیٰ کے بارے میں ولا تنابزوا بالالقاب انہوں نے کہا کہ تم کسی مسلمان کو یہ مت کہو اے فاسق اور انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: بش الاسم الفسوق بعد الایمان ایمان لانے کے بعد برے نام سے پکارنا گناہ ہے۔ اور ہم نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تین چیزیں ہیں جو کہ تیرے بھائی کاحق میں تیرے اوپر پہلی چیز یہ ہے کہ جب تم اس سے ملوتو اس کو سلام کرو اور اس کے لئے محفل میں جگہ دو، کشادگی کرو اور اس کو ایسے نام سے پکارو جو اس کے نزدیک سب سے اچھا ہو۔ اور بخاری نے روایت کیا ہے تاریخ میں عبداللہ بن مجھ سے اس نے عبداللہ بن ابو الوزیرسے اس نے سنا موسیٰ بن عبدالملک بن عمیر سے اس نے اپنے والد سے اس نے سعید حجبی سے اس نے اپنے چچا عثمان بن طلحہ سے اس نے نبی کریم سے اس کی مثل جو ہم نے روایت کی ہے عمر سے اور ہم نے اس کو ذکر کیا ہے باب السلام میں۔

أبي العالية في قول الله عز و جل ← عَوْفٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ،

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6749

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6750

6750 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أبو عتبة نا بقية نا سعيد بن سنان عن سعد بن خالد عن عمه راشد بن سعد المقراني قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لما عرج بي مررت برجال تقطع جلودهم بمقاريض من نار فقلت من هؤلاء ؟ قال الذين يتزينون للزينة قال : ثم مررت بجب منتن الريح فسمعت فيه أصواتا شديدة فقلت من هؤلاء يا جبريل ؟ فقال نساء كن يتزين للزينة ويفعلن ما لا يحل لهن ثم مررت على نساء ورجال معلقين بثديهن فقلت من هؤلاء يا جبريل قال : هؤلاء الغمازات النمازات وذلك قول الله عز و جل { ويل لكل همزة لمزة } هذا مرسل وقد رويناه موصولا فيما مضى

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور احمد بن حسن نے دونوں نے کہا ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابو عقبہ نے ان کو بقیہ نے ان کو سعید بن سنان نے ان کو سعید بن خالد نے ان کو ان کے چچا راشد بن سعد مقرانی نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب مجھے اوپر لے جایا گیا تو میں کچھ ایسے مردوں کے پاس گزرا جن کے چمڑے جہنم کی قینچیوں کے ساتھ کاٹے جا رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون میں کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو سنتے سنواتے ہیں زینت کے لئے فرمایا کہ اس کے بعد میں ایک بدبو دار کنویں کے پاس سے گزرا میں نے اس کے اندر زور زور کی آوازیں سنیں میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں اے جبرائیل؟ آپ نے فرمایا یہ عورتیں ہیں جو زبنت اختیار کرتی ہیں محض بننے سنورنے کے لئے۔ اور وہ کام کرتی ہیں جوان کے لئے حلال نہیں ہے۔ اس کے بعد میں کچھ ایسے مردوں اور عورتوں کے پاس گزرا جواپنے سینوں اور پستانوں سے لٹکے ہوئے تھے میں نے پوچھا یہ کون میں اے جبرائیل؟ اس نے فرمایا کہ یہ نازو انداز دیکھانے والی خوبصورت عورتیں ہیں اور عیب گیری اور چغل خوری کرنے والی عورتیں ہیں۔ اور یہی بات کہی گئی ہے۔ اللہ کے اس فرمان میں: وبل لکل ھمزۃ المزۃ بڑی خرابی ہے ہر اس شخص کے لئے جو سامنے طعنہ دینے والا پیٹھ پیچھے عیب نکالنے والا ہے۔ یہ روایت مرسل ہے اور پہلے ہم اس کو موصول بھی روایت کر چکے ہیں۔

عمه راشد بن سعد المقراني ← سعد بن خالد ← سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ← بَقِيَّةُ ← أَبُو عُتْبَةَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6750

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6751

6751 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا الحسن بن حليم المروزي أنا أبو الموجه نا عبدان أنا عبد الله بن المبارك أنا أبو مودود عن عكرمة عن ابن عباس في : قوله عز و جل : { ولا تلمزوا أنفسكم } قال : لا يطعن بعضكم على بعض

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن حلیم نے ان کو ابو الموجہ نے ان کو عبدان نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے ان کو ابو مودود نے ان کو عکرمہ نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اللہ کے اس فرمان کے بارے میں ولا تلمزوا انفسکم اپنے نفسوں کو عیب نہ لگاؤ۔ فرمایا کہ بعض تمہارا بعض پر طعن نہ کرے۔

لاَ يَطْعَنُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ‏.‏ ← ابن عباس في قوله عز و جل ولا تلمزوا أنفسكم ← عِكْرِمَةَ، ← أَبُو مَوْدُودٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَبْدَانُ ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← الحسن بن حليم المروزي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6751

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6752

6752 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عبد الرحمن بن الحسن نا إبراهيم بن الحسين نا آدم نا ورقاء عن ابن المبارك أو ابن المبارك عن ابن جريج قال : اللمزة بالعين والشدق واليد والهمزة باللسان وبلغني عن الليث أنه قال : الهمزة الذي يعيبك في وجهك واللمزة الذي يعيبك بالغيب وقال غيره : هما شيء واحد وأصلهما عن الوقع

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبدالرحمٰن بن حسن نے ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو آدم نے ان کو ور قاء نے ان کو ابن مبارک نے ان کو ابن جریج نے فرمایا کہ لمزۃ آنکھ کے اور باچھوں اور ہاتھ کے ساتھ ہوتا ہے۔ اور ھمزۃ زبان کے ساتھ ہوتا ہے،اور مجھے خبر پہنچی ہے لیث سے کہ اس نے فرمایا: ہمزۃ وہ ہے جو تجھے عیب لگائے تیرے چہرے کے بارے میں اور کمز وہ جو تجھے پیٹھ پیچھے عیب لگائے۔ اور اس کے علاوہ دیگر نے کہا ہے کہ دونوں چیزیں شے واحد ہیں دونوں کا اصل عیب نکالنا ہے۔

الوقع ← غيره هما شيء واحد وأصلهما ← الهمزة الذي يعيبك في وجهك واللمزة الذي يعيبك بالغيب ← الليث أنه ← اللمزة بالعين والشدق واليد والهمزة باللسان وبلغني ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابن المبارك أو ابن المبارك ← وَرْقَاءُ ← آدَمُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6752

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6753

6753 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو حامد الخسروجردي نا محمد بن عبيد بن عامر السمرقندي نا عصام بن يونس نا سفيان الثوري عن أبي يحيى عن مجاهد في : قوله تعالى : { ويل لكل همزة لمزة } قال همزة الطعان اللمزة الذي يأكل لحوم الناس وقال مرة الطناز

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو احمد حسرو جردی نے ان کو محمد بن عبید بن عامر سمرقندی نے ان کو عصام بن یونس نے ان کو سفیان ثوری نے ان کو ابو یحییٰ نے ان کو مجاہد نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں ویل لکل ھمزۃ ہلاکت ہر بڑے طعنہ زن کے لئے۔ فرمایا کہ ھمزۃ بڑے طعنہ زن کو کہتے ہیں اور لمزۃ وہ ہے جو لوگوں کا گوشت کھائے (یعنی جو غیبت کرے) اور ایک بار کہا تھا کہ وہ جو بہت زیادہ طنز کرے۔

همزة الطعان اللمزة الذي يأكل لحوم الناس وقال مرة الطناز ← مجاهد في قوله تعالى ويل لكل همزة لمزة ← أَبِي يَحْيَى، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← عصام بن يونس ← محمد بن عبيد بن عامر السمرقندي ← أبو حامد الخسروجردي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6753

chevron_left Previous
1…789…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood