Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6730

6730 - أخبرنا أبو قتادة و أبو بكر الفارسي قالا أنا أبو عمر بن مطر نا إبراهيم بن علي نا يحيى بن يحيى أنا أبو معاوية عن أبي إسحاق عن حسان بن مخارق عن عائشة قالت : أقبلت امرأة قصيرة والنبي صلى الله عليه و سلم جالس قال فأشرت بإبهامي إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لقد اغتبتها هذا مرسل بين حسان و عائشة وهو شاهد لما تقدم

ہمیں خبر دی ابو قتادہ نے اور ابو بکر فارسی نے دونوں نے کہا کہ ان کوخبر دی ہے عمرو بن مطر نے ان کو ابراہیم بن علی نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو ابو اسحٰق نے ان کو حسان بن مخارق نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ فرماتی ہیں کہ ایک چھوٹے قد کی عورت آئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے فرماتی ہیں میں نے از راہ خوش طبعی اپنے انگوٹھے سے اشارہ کیا کہ چھوٹی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اس کی غیبت کی ہے۔ یہ روایت مرسل ہے حسان اور عائشہ رضی اللہ عنہ کے مابین اور یہ ماقبل کی حدیث کے لئے شاہد ہے۔

فأشرت بإبهامي إلى النبي صلى الله عليه و سلم ← أقبلت امرأة قصيرة والنبي صلى الله عليه و سلم جالس ← عَائِشَةَ ← حسان بن مخارق ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو عُمَرَ بْنُ مَطَرٍ ← أبو قتادة و أبو بكر الفارسي

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6730

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6731

6731 - أخبرنا أبو الحسين علي بن المؤمل أنا أبو عثمان عمرو بن عبيد الله البصري نا أبو حفص عمر بن حفص السمرقندي سنة سبع وستين ومائتين نا أبو حذيفة نا عكرمة بن عمار عن طرق بن القاسم بن عبد الرحمن عن ميمومة مولاة النبي صلى الله عليه و سلم قالت : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم يا ميمومة تعوذي بالله من عذاب القبر قلت : يا رسول الله وإنه لحق ؟ قال : نعم يا ميمومة وإن من أشد عذاب القبر يا ميمومة الغيبة والبول

ہمیں خبر دی ابو الحسین علی بن مؤمل نے ان کو ابو عثمان عمرو بن عبداللہ بصری نے ان کو ابو حفص عمر بن حفص سمرقندی نے سنہ دو سو سڑسٹھ (۲۶۷ھ) میں ان کو ابو حذیفہ نے ان کو عکرمہ بن عمار نے ان کو طرق بن قاسم بن عبدالرحمٰن نے میمونہ مولات رسول سے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے میمونہ! تم اللہ سے پناہ مانگو عذاب قبر سے۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا وہ حق ہے؟ آپ نے فرمایا ، جی ہاں! اے میمونہ بے شک سخت ترین عذاب قبر اے میمونہ غیبت سے اور پیشاب میں بے احتیاطی سے ہوتا ہے۔

ميمومة مولاة النبي صلى الله عليه و سلم ← طرقِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّمَرْقَنْدِيُّ سَنَةَ سَبْعٍ وَسِتِّينَ وَمِائَتَيْنِ، ← أبو عثمان عمرو بن عبيد الله البصري، ← أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُؤَمَّلِ،

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6731

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6732

6732 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا يحيى بن أبي طالب أنا إسحاق بن منصور عن إسرائيل عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال : كنا مع النبي صلى الله عليه و سلم فهاجت ريح منتنة فقال : أتدرون ما هذا ؟ قالوا : لا قال : قوم من المنافقين اغتابوا أناسا من المؤمنين قال الإمام أحمد رحمه الله : أمر من أمره بإعادة الوضوء والصلاة بالغيب أو أذى المسلمين إنما هو بالتكفير لما مضى من الذنب والله أعلم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابی طالب نے ان کو اسحاق بن منصور نے ان کو اسرائیل نے ان کو اعمش نے ان کو ابو سفیان نے ان کو جابر نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اتنے میں بدبو دار تیز ہوا چل گئی آپ نے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ یا کیوں ہے۔ لوگوں نے کہا کہ نہیں جانتے آپ نے فرمایا کہ منافقین میں سے کچھ لوگوں نے اہل ایمان میں سے کچھ لوگوں کی غیبت کی ہے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ ایک امر ہے آپ کے حکم میں سے اعادہ وضو اور اعادۃ نماز کے بارے میں غیبت کرنے پر یا مسلمانوں کو ایذا پہنچانے پر یقینی بات ہے کہ یہ بسبب تکفیر کے ہے اس گناہ کی وجہ سے جو ہو چکا ہے۔

قوم من المنافقين اغتابوا أناسا من المؤمنين ← لَا۔ ← أتدرون ما هذا ← كنا مع النبي صلى الله عليه و سلم فهاجت ريح منتنة ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← اِسْرَائِیْلُ ← إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6732

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6733

6733 - نا السيد أبو الحسن بن الحسين العلوي أنا الحسن بن الحسن بن منصور السمسار نا حامد بن محمود المقرئ نا إسحاق بن سليمان الرازي نا محمد بن أبي حميد الأنصاري عن موسى بن وردان عن أبي هريرة : أن رجلا قام من عند النبي صلى الله عليه و سلم فقال بعضهم ما أعجز فلانا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أكلتم الرجل إذا اغتبتموه

ہمیں خبر دی سید ابو الحسن بن حسین علوی نے ان کو حسن بن حسن بن منصور سمسار نے ان کو حامد بن محمود مقری نے ان کو اسحاق بن سلیمان رازی نے ان کو محمد بن ابو حمید انصاری نے ان کو موسیٰ بن وردان نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے اٹھ کر چلا گیا تو بعض لوگوں نے کہ فلاں آدمی کتنا عاجز ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا۔ تم لوگوں نے اس آدمی کو کھایا ہے جب تم نے اس کی غیبت کی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُوسَى بْنَ وَرْدَانَ، ← محمد بن أبي حميد الأنصاري ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ← حامد بن محمود المقري ← الْحَسَنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَنْصُورٍ السِّمْسَارُ، ← السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ،

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6733

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6734

6734 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أحمد بن سلمان الفقيه قال قرئ على يحيى بن جعفر قال أنا علي بن عاصم أنا المثنى بن الصباح عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن معاذ بن جبل قال : ذكر الرجل عند النبي صلى الله عليه و سلم فقالوا ما أعجزه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اغتبتم الرجل قالوا يا رسول الله ما قلنا إلا ما فيه قال : لو قلتم ما ليس فيه فقد بهتموه

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو احمد بن سلمان فقیہ نے اس نے کہا کہ یحییٰ بن جعفر پر پڑھا گیا اس نے کہا کہ ہمیں خبر دی علی بن عاصم نے ان کو مثنٰی بن صباح نے ان کو عمرو بن شعیب نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے ان کو معاذ بن جبل نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک آدمی کا ذکر کیا گیا۔لوگوں نے کہا کہ وہ کتنا عاجز ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگوں نے اس آدمی کی غیبت کی ہے۔لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہم نے تو وہ بات کی ہے جو اس میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم وہ بات کہتے جو اس میں نہ ہوتی تو تم نے اس پر تہمت لگائی ہوتی۔

ما أعجزه ← الرجل عند النبي صلى الله عليه و سلم ← مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← قرئ على يحيى بن جعفر ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6734

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6735

6735 - حدثنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان نا إبراهيم بن الحارث البغدادي نا يحيى بن أبي بكير نا زهير بن معاوية نا عمارة بن غزية عن يحيى بن راشد الدمشقي عن عبد الله بن عمر قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من حالت شفاعته دون حد من حدود الله فقد ضاد الله في أمره ومن مات وعليه دين فليس بالدينار والدرهم ولكنها الحسنات ومن خاصم في باطل وهو يعلمه لم يزل في سخط الله حتى ينزع ومن قال في مؤمن ما ليس فيه أسكنه ردغة الخبال حتى يخرج مما قال

ہمیں حدیث بیان کی عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو بکر محمد بن حسن قطان نے ان کو ابراہیم بن حارث بغدادی نے ان کو یحییٰ بن ابو بکیر نے ان کو زبیر بن معاویہ نے ان کو عمارہ بن عزیہ نے ان کو یحییٰ بن راشد دمشقی نے ان کو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی شفاعت اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے آگے حائل ہو جائے (اور وہ حد اپنے نفاذ سے رہ جائے) اللہ تعالیٰ اس کے بارے جھگڑے گا(یعنی اس کا حساب لے گا) اور جو شخص مر جائے اور اس پر فرض ہو۔ وہ دینار اور درہم کے ساتھ ادا نہیں کیا جائے گا بلکہ نیکیوں کے ساتھ ادائیگی ہو گی اور جو شخص کسی جھوٹ اور باطل میں جھگڑا کرے اور وہ جانتا ہو ہمیشہ اللہ کی ناراضگی میں رہے گا حتیٰ کہ چھوڑ دے اور جو شخص کسی مؤمن کے بارے میں وہ بات کرے جو اس میں نہ ہو اللہ تعالیٰ اس کو ٹھہرائے گا جہنم کی کیچڑ میں یہاں تک کہ نکل جائے اس میں سے جو اس نے کہا ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← يحيى بن راشد الدمشقي ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6735

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6736

6736 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا والدي أنا أبو حامد محمد بن هارون الحضرمي نا عمرو بن علي أبو جعفر الباهلي نا عيسى بن شعيب أنا روح بن القاسم عن مطر الوراق عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اذكروا الله فإن العبد إذا قال سبحان الله وبحمده كتب الله له بها عشرا ومن عشر إلى مائة ومن مائة إلى ألف ومن زاد زاده الله ومن استغفر غفر الله له ومن حالت شفاعته دون حد من حدود فقد حاد الله في أمره ومن أعان على خصومة بغير علم فقد باء بسخط من الله ومن قذف مؤمنا أو مؤمنة حسبه الله في ردغة الخبال حتى يأتي بالمخرج ومن مات وعليه دين اقتص من حسناته ليس ثم دينار ودرهم

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو حامد محمد بن ہارون حضرمی نے ان کو عمرو بن علی ابو جعفر باہلی نے ان کو عیسیٰ بن شعب نے ان کو روح بن قاسم نے ان کو مطر وراق نے ان کو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا ذکر کرو بے شک بندہ جب یہ کہتا ہے۔ سبحان اللہ وبحمدہ ۔ اللہ تعالیٰ اس کے لئے دس نیکیاں لکھتا۔ جملے کے بدلے میں۔ اور جو شخص دس مرتبہ کہتا ہے اس کے لئے سو نیکیاں لکھتا ہے۔ اور اسی حساب سے لکھتا ہے اس کے لئے جو سو بار کہے اور جو ہزار بار کہے اور جو شخص زیادہ ذکر کرے الہ اس کو اور زیادہ دے گا اور جو شخص استغفار کرے بھی اللہ سے بخشش مانگے اللہ تعالیٰ اس کو بخش دے گا۔ اور جس شخص کی شفاعت (سفارش) اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے نفاذ کی راہ میں حائل ہو جائے یعنی رکاوٹ بن جائے اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم میں جنگ اور مخالفت کی۔ اور جو شخص بغیر جانے (بغیر سمجھے ہو مجھے معاملے کو) کس مقدمے میں اعانت کرے۔ تحقیق اس نے اللہ کی ناراضگی کے ساتھ رجوع کرلیا اور جس نے کسی ایمان والے مرد یا ایمان والی عورت کو جھوٹی تہمت لگائی اللہ تعالیٰ اس کوجہنم کی پیپ اور کیچڑ میں بند کر دے گا حتٰی کہ خود نکلنے کا راستہ پیدا کرے (جو کہ کرنہیں سکے گا لہٰذا وہیں رہے گا) اور جو شخص مر گیا اور اس پر قرض تھا بدلہ پورا کیا جائے گا اس کی نیکیوں میں سے نہ وہاں دینا رہو گا اور نہ درہم۔

ابْنِ عُمَرَ ← مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← عِيسَى بْنُ شُعَيْبٍ ← عمرو بن علي أبو جعفر الباهلي ← أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ ← وَالِدِي ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6736

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6737

6737 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا علي بن المؤمل نا عمر بن يونس اليمامي نا عاصم بن محمد بن زيد نا المثنى بن زيد نا مطر الوراق عن نافع عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من رجل يرمي رجلا بكلمة يسبه إلا حسبه الله يوم القيامة في طينة الخبال حتى يأتي منها بالمخرج

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن مؤمل نے ان کو عمر بن یونس یمامی نے کو عاصم بن محمد بن زید نے ان کو مثنیٰ بن زید نے کو معطر وراق نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو بھی آدمی کسی آدمی کو کسی کلمے کے ساتھ تہمت لگائے اس کو گالی دے کر تو اللہ تعالیٰ کو جہنم کی کیچڑ میں بند کر دے گا قیامت کے دن یہاں تک کہ اس سے کوئی نکلنے کا راستہ لے آئے (جو کہ نہیں لا سکے گا۔)

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، ← المثنى بن زيد ← عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، ← عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْيَمَامِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6737

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6738

6738 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو بكر عمر بن محمد صاحب الكتاني نا أبو عثمان الكرخي نا عبد الرحمن بن عمر رستة قال سمعت عبد الرحمن بن مهدي يقول : لولا أني أكره أن يعصى الله لتمنيت أن لا يبقى في هذا المصر أحد إلا وقع واغتابني وأي شيء أهنأ من حسنة يجدها الرجل في صحيفته يوم القيامة لم يعلمها ولم يعلم بها

ہمیں خبر دی ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو بو بکر عمر بن محمد صاحب کتانی نے ان کو ابو عثمان کرخی نے ان کو عبد الرحمٰن بن عمر رستہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبدالرحمٰن بن مہدی سے وہ کہتے ہیں اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں لوگوں کو اللہ کی نافرمانی کرنے پر مجبور کروں گا تو میں یہ تمنا کرتا کہ اس شہر میں کوئی آدمی باقی نہ رہے ہر شخص میری غیبت کرے (تا کہ بغیر محنت کے مجھے ان کی نیکیاں مل جائیں) اس لئے کہ اس نیکی سے زیادہ آسانی حاصل ہونے والی اور کیا نیکی ہو گی جس کو کوئی انسان قیامت کے دن اپنے اعمال نامے میں پالے جب کہ نہ اس کا عمل کیا ہو اور نہ اس کو جانتا ہو۔

عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ رُسْتَهْ ← أبو عثمان الكرخي، ← أبو بكر عمر بن محمد صاحب الكتاني ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6738

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6739

6739 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس هو الأصم أنا العباس بن الوليد أخبرني أبي قال : سمعت الأوزاعي يقول : بلغني أنه يقال للعبد يوم القيامة قم فخذ حقك من فلان فيقول ما لي قبله حق فيقال : بلى ذكرك يوم كذا وكذا بكذا وكذا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو عباس بن ولید نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے میرے والد نے انہوں نے سنا اوزاعی سے وہ کہتے تھے مجھے خبر پہنچی ہے کہ قیامت کے دن بندے سے کہا جائے گا۔ کھڑا ہو جا فلاں فلاں سے اپنا حق وصول کر لے وہ کہے گا میرا تو اس کی طرف کوئی حق نہیں ہے پس کہا جائے گا کہ ہاں ہے، اس نے فلاں فلاں دن تیرے بارے میں ایسے ایسے کہا تھا۔

بلغني أنه يقال للعبد يوم القيامة قم فخذ حقك من فلان ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6739

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6740

6740 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن عمر بن حفص التاجر نا جعفر بن محمد الصائغ نا إسحاق بن إسماعيل قال : سمعت سفيان يقول : الغيبة أشد عند الله عز و جل من الزنا وشرب الخمر لأن الزنا وشرب الخمر ذنب فيما بينك وبين الله عز و جل فإذا تبت تاب الله عليك والغيبة لا يغفر لك حتى يغفر لك صاحبك وهذا الذي قال سفيان بن عيينة قد روي بإسناد ضعيف عن النبي صلى الله عليه و سلم وبإسناد آخر مرسل

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر محمد بن عمر بن حفص تاجر نے ان کو جعفر بن صائغ نے ان کو اسحاق بن اسماعیل نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سفیان سے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نزدیک غیبت زنا سے زیادہ سخت اور شراب نوشی سے زیادہ سخت گناہ ہے۔ اس لئے کہ زنا کرنا اور شراب پینا ایسا گناہ ہے جو تیرے درمیان اور اللہ کے درمیان ہے جب تو اس سے توبہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ تیری توبہ قبول کر لے گا۔ اور غیبت تیرے لئے معاف نہیں ہو گی حتٰی کہ وہ تجھے معاف کرے جس کی غیبت کی ہے۔ یہی ہے جس کو کہا ہے سفیان بن عیینہ نے اور یہ ایک ضعیف اسناد کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی مروی ہے۔ اور ایک دوسری مرسل اسناد کے ساتھ۔

سُفْيَانَ، ← إسحاق بن إسماعيل ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّائِغُ ← أبو بكر محمد بن عمر بن حفص التاجر ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6740

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6741

6741 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن إسحاق بن إبراهيم الصيدلاني نا أبو يعقوب إسماعيل بن عبد الله الصنابحي أنا أبو محمد عبد الله بن المبارك نا إبراهيم بن إسحاق الأنصاري الغسيل البغدادي نا الحسن بن قزعة الباهلي نا أسباط بن محمد قال : ونا أبو رجاء الخراساني عن عباد بن كثير عن سعيد عن الجريري ح وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر محمد بن القاسم بن أبي حية البطائي نا أحمد بن عمرو بن معقل نا محمد بن خداش نا أسباط بن محمد نا أبو رجاء الخراساني عن عباد بن كثير عن الجريري عن أبي نضرة عن أبي سعد و جابر بن عبد الله قالا : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الغيبة أشد من الزنا قالوا : يا رسول الله و كيف الغيبة أشد من الزنا ؟ قال : إن الرجل ليزني فيتوب فيتوب الله عليه وفي رواية حمزة فيتوب فيغفر له وإن صاحب الغيبة لا يغفر له حتى يغفرها له صاحبه ليس في رواية إسحاق ذكر جابر بن عبد الله ذكره عن أبي سعيد وحده

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ سے ان کو احمد بن اسحاق بن ابراہیم صیدلانی نے ان کو ابو یعقوب اسماعیل بن عبداللہ صنابحی نے ان کو ابو محمد عبداللہ بن مبارک نے ان کو ابراہیم بن اسحاق انصاری غسیل بغدادی نے ان کو حسن بن قزعہ باھلی نے ان کو اسباط بن محمد نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ابو رجاء خراسانی نے عباد بن کثیر سے اس نے سعید سے اس نے جریری سے ’’ح‘‘ ۔ ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن قاسم بن ابو حیہ بطائی نے ان کو احمد بن عمرو بن معقل نے ان کو محمد بن خداش نے ان کو اسباط بن محمد نے ابو رجاء خراسانی سے ان کو عباد بن کثیر نے انکو جریری نے ان کو ابو نصرہ نے ان کو ابو سعد نے اور جابر بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ الغیبۃ اشد من الزنا۔ کہ غیبت کر نا زنا کرنے سے زیادہ سخت گناہ ہے۔لوگوں نے پو چھایا رسول اللہ! غیبت کیسے زنا کرنے سے زیادہ سخت ہے؟ فرمایا کہ ایک آدمی زنا کرتا ہےاور توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسکی توبہ قبول کر لیتا ہے اور حمزہ کی ایک روایت میں ہے کہ وہ توبہ کرتا ہے اور اس کو بخش دیا جاتا ہے اور غیبت کرنے والے کو معاف نہیں کیا جاتا اس وقت تک کہ وہ انسان اس کو معاف کرے۔ اسحاق کی روایت میں جابر بن عبداللہ کاذکرنہیں ہے۔ بلکہ اس کو صرف اکیلے ابو سعید نے ذکر کیا ہے۔

أبي سعد و جابر بن عبد الله ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← عباد بن كثير ← أَبُو رَجَاءٍ الْخُرَاسَانِيُّ، ← أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خِدَاشٍ، ← أحمد بن عمرو بن معقل ← أبو بكر محمد بن القاسم بن أبي حية البطائي ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← سَعِيدٌ، ← عباد بن كثير ← ونا أبو رجاء الخراساني ← أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← الحسن بن قزعة الباهلي ← إبراهيم بن إسحاق الأنصاري الغسيل البغدادي ← أبو محمد عبد الله بن المبارك ← أبو يعقوب إسماعيل بن عبد الله الصنابحي ← أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الصَّيْدَلَانِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6741

chevron_left Previous
1…678…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood