شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6718
6718 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا أنا أبو العباس هو الأصم نا عبد الحميد نا روح نا ابن جريج قال : قال : سليمان بن وقاص بن ربيعة : فذكره بمثله غير أنه قال ومن اكتسى قال ومن قام برجل مسلم مقام سمعة ولم يقل رياء ومعناه والله أعلم فيما قال أبو عبيد الهروي الرجل يكون مؤاخيا لرجل ثم يذهب إلى عدوه فيه فيتكلم فيه بغير الجميل ليخبره عنه بجائزة فلا يبارك له إليه فيها والأكلة اللقمة والأكلة المرة مع الاستيفاء
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو عبدالحمید نے ان کو روح نے ان کو ابن جریج نے وہ کہتے ہیں کہ کہا سلیمان بن وقاص بن ربیعہ نے اس نے اسی حدیث کے مثل ذکر کیا ہے۔سوا اس کے کہ اس نے کہا ہے کہ جو شخص کپڑا پہنے۔ اور کہا کہ جو شخص کھڑا ہو کسی مسلمان کے مقام شہرت و عزت پر۔ مگر ریاء اور دکھادے کا لفظ کہا۔ اس کا مطلب اللہ بہتر جانے جس میں کہا ابو عبید ہردی نے کہ مراد یہ ہے کہ ایک آدمی کسی سے بھائی چارہ رکھتا ہے اس کے بعد وہ اس کے دشمن سے مل جاتا ہے اور اس کے بارے غیر اچھی غیر اخلاقی بات کرتا ہے تاکہ وہ اس کو اس کے راز کے بارے بتا دے پس اس کے لئے اس میں برکت نہیں دی جاتی۔اور کلہ کا معنی لقمہ ہے۔اور اکلتہ مرة مع الاستيفاء ہے۔
ومن اكتسى ← قاص بن ربيعة فذكره بمثله غير أنه ← سليمان بن ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ، ← عَبْدِ الْحَمِيدِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى ← و،
Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6718
