Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6718

6718 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا أنا أبو العباس هو الأصم نا عبد الحميد نا روح نا ابن جريج قال : قال : سليمان بن وقاص بن ربيعة : فذكره بمثله غير أنه قال ومن اكتسى قال ومن قام برجل مسلم مقام سمعة ولم يقل رياء ومعناه والله أعلم فيما قال أبو عبيد الهروي الرجل يكون مؤاخيا لرجل ثم يذهب إلى عدوه فيه فيتكلم فيه بغير الجميل ليخبره عنه بجائزة فلا يبارك له إليه فيها والأكلة اللقمة والأكلة المرة مع الاستيفاء

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو عبدالحمید نے ان کو روح نے ان کو ابن جریج نے وہ کہتے ہیں کہ کہا سلیمان بن وقاص بن ربیعہ نے اس نے اسی حدیث کے مثل ذکر کیا ہے۔سوا اس کے کہ اس نے کہا ہے کہ جو شخص کپڑا پہنے۔ اور کہا کہ جو شخص کھڑا ہو کسی مسلمان کے مقام شہرت و عزت پر۔ مگر ریاء اور دکھادے کا لفظ کہا۔ اس کا مطلب اللہ بہتر جانے جس میں کہا ابو عبید ہردی نے کہ مراد یہ ہے کہ ایک آدمی کسی سے بھائی چارہ رکھتا ہے اس کے بعد وہ اس کے دشمن سے مل جاتا ہے اور اس کے بارے غیر اچھی غیر اخلاقی بات کرتا ہے تاکہ وہ اس کو اس کے راز کے بارے بتا دے پس اس کے لئے اس میں برکت نہیں دی جاتی۔اور کلہ کا معنی لقمہ ہے۔اور اکلتہ مرة مع الاستيفاء ہے۔

ومن اكتسى ← قاص بن ربيعة فذكره بمثله غير أنه ← سليمان بن ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ، ← عَبْدِ الْحَمِيدِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى ← و،

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6718

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6719

6719 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله بن يعقوب نا محمد بن نعيم نا قتيبة ح قال وأخبرني أبو أحمد الدارمي نا محمد بن إسحاق نا علي بن حجر قالا نا إسماعيل بن جعفر عن العلاء عن أبيه عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أتدرون ما الغيبة ؟ قالوا الله ورسوله أعلم قال : ذكر أخاك بما يكره قيل : أفرأيت إن كان في أخي ما أقول قال : إن كان فيه ما تقول فقد اغتبته وإن لم يكن فيه ما تقول فقد بهته رواه مسلم في الصحيح عن قتيبة و علي بن حجر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ بن یعقوب نے ان کو محمد بن نعیم نے ان کو قتیبہ نے ’’ح‘‘ وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے ابو احمد دارمی نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو علی بن حجر نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی اسماعیل بن جعفر نے ان کو علاء نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا کہ تیرا اپنے بھائی کو ایسے الفاظ میں یاد کرنا جس کو وہ ناپسند کرے۔ کہا گیا کہ یہ بتائیے کہ اگر میرے بھائی میں وہ بات موجود ہو جو میں کہوں؟ فرمایا کہ اگر اس میں وہ بات ہو جو تم کہو تو تم نے اس کی غیبت کی ہے اور وہ اس میں نہ ہو جو تم نے کہی ہے تو تم نے اس پر بہتان باندھا ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں قتبیہ سے اور علی بن حجر سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← وأخبرني أبو أحمد الدارمي ← قُتَيْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6719

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6720

6720 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا عمرو بن مطر أنا أبو بكر أحمد بن محمد بن منصور الحاسب نا علي بن جعد نا سفيان الثوري عن علي بن الأقمر حدثني أبو حذيفة عن عائشة قالت حكيت إنسانا : فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ما أحب أني حكيت إنسانا وإن لي كذا وكذا

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو عمرو بن مصر نے ان کو ابو بکر بن احمد بن محمد بن منصور حاسب نے ان کو علی بن جعد نے ان کو سفیان ثوری نے ان کو علی بن اقمر نے ان کو ابو حذیفہ نے ان کو سیدہ عائشہ نے کہتی ہیں کہ میں نے کسی انسان کی حکایت بیان کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں یہ پسند نہیں کرتا کہ مجھے کسی انسان کی حکایت سنائی جائے میرے لئے باقاعدہ وحی کے ذریعے خبریں آتی ہیں۔

حَكيتُ إِنساناً ← عَائِشَةَ ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← علي بن جعد ← أبو بكر أحمد بن محمد بن منصور الحاسب ← عمرو بن مطر ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6720

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6721

6721 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقرئ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب القاضي نا محمد بن أبي بكر نا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن علي بن الأقمر عن أبي حذيفة عن عائشة قالت : حكيت لرسول الله صلى الله عليه و سلم رجلا فقال : ما يسرني أني حكيت رجلا وإن لي كذا وكذا قلت : إن صفية امرأة وأشارت إلى أنمله يعني قصيرة فقال : لقد مزحت بكلمة إن مزج بها البحر مزجت

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد بن علی مقریٔ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو محمد بن ابو بکر نے ان کو عبدالرحمٰن مہدی نے ان کو سفیان نے ان کو علی بن اقمر نے ان کو ابو حذیفہ نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک آدمی کی حکایت بیان کی تو آپ نے فرمایا مجھے خوشی نہیں ہوتی کہ مجھے کسی آدمی کی حکایت بیان کی جائے کیونکہ میرے اوپر باقاعدہ وحی کے ذریعہ اطلاعات آتی ہیں۔ میں نے کہا کہ بے شک صفیہ عورت ہے اور آپ نے انگلی کے پورے کے ساتھ اشارہ کیا یعنی چھوٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے ایسے کلمہ کے ساتھ مزاج کیا کہ اگر اس کے ساتھ دریا ملایا جائے تو مل جائے۔

عَائِشَةَ ← أبي حذيفة ← عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6721

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6722

6722 - أخبرنا : أبو بكر بن فورك نا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا الربيع عن يزيد عن أنس : أن النبي صلى الله عليه و سلم أمر الناس أن يصوموا يوما ولا يفطرن أحد حتى آذن له فصام الناس فلما أمسوا جعل الرجل يجيء إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فيقول ظللت منذ اليوم صائما فأذن لي فلأفطر فيأذن له حتى جاء رجل فقال يا رسول الله إن فتاتين من أهلك ظلتا منذ اليوم صائمتين فأذن لهما فلتفطرا فأعرض عنه ثم عاد إليه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ما صامتا وكيف صام من ظل يأكل لحوم الناس اذهب فمرهما إن كانتا صائمتين يستقيئا ففعلتا فقاءت كل واحدة منهما علقة علقة فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فأخبره فقال النبي صلى الله عليه و سلم لو ماتتا أو بقيا فيهما لأكلتهما النار

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو ربیع نے ان کو یزید نے ان کو انس نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا ایک دن کہ روزہ رکھیں اور جب تک میں اجازت نہ دوں روزہ افطار نہ کریں۔ لوگوں نے روزہ رکھا جب شام ہوئی تو آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنا شروع ہو گئے کہ میں نے آج پورا دن روزہ رکھا ہے آپ مجھے افطار کرنے کی اجازت دیں۔ اس کو اجازت مل گئی تھی کہ ایک اور آدمی آیا اور بولا یا رسول اللہ ! دو لڑکیاں آپ کے خاندان میں سے میں آ ج وہ روزہ رکھے ہوئے تھیں ان کو اجازت دیجئے کہ وہ افطار کر لیں۔ آپ نے اس بندے سے منہ پھیر لیا اس نے دوبارہ کہا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں انہوں نے روزہ نہیں رکھا۔ اور کیسے روزہ رکھتا ہے وہ جو لوگوں کا گوشت کھاتا رہے جاؤ ان دونوں سے جا کر کہو کہ اگر وہ روزہ دار تھیں تو وہ قے کریں انہوں نے ایسے ہی کیا تو ان کے پیٹ میں سے ہر ایک نے خون بستہ خون بستہ کی قے کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ کو اس نے خبر دی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ مر جاتیں اور یہ ان کے اندر باقی رہتے تو ان دونوں کو آگ کھا جاتی۔

أَنَسٍ، ← يَزِيدُ: ← الرَّبِيعِ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6722

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6723

6723 - أخبرنا حمزة بن عبد العزيز بن محمد الصيدلاني نا عبد الله بن محمد الصيدلاني نا عبد الله بن محمد بن منازل نا جعفر بن أحمد بن نصر نا علي بن حجر نا شريك عن عاصم بن أبي النجود عن أبي صالح عن عائشة قالت : لا يتوضأ أحدكم من الكلمة الخبيثة يقولها لأخيه ويتوضأ من الطعام الحلال

میں خبر دی حمزہ بن عبدالعزیز بن محمد صیدلانی نے ان کو عبداللہ بن محمد صیدلانی نے ان کو عبداللہ بن محمد بن منازل نے ان کو جعفر بن نصر نے ان کو علی بن حجر نے ان کو شریک نے ان کو عاصم بن ابو لنجود نے ان کو ابو صالح نے ان کو عائشہ نے وہ کہتی ہیں کہ تم میں سے کوئی آدمی کلمہ خبیثہ کے بعد وضو نہیں کرتا جس کو کسی اپنے مسلمان بھائی کے لئے کہتا ہے۔ اور حلال طعام کے بعد وضو کرتا ہے۔ (اس لئے کہ مسلمانوں میں یہ مسئلہ مشہور تھا کہ آگ پر پکی چیز کھانے سے وضو کرنا پڑتا ہے۔)

لا يتوضأ أحدكم من الكلمة الخبيثة يقولها لأخيه ويتوضأ من الطعام الحلال ← عَائِشَةَ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← شَرِيکٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُنَازِلٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ ← حمزة بن عبد العزيز بن محمد الصيدلاني

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6723

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6724

6724 - و أخبرنا حمزة بن عبد العزيز نا عبد الله نا جعفر بن أحمد بن نصر نا زياد بن أيوب نا القاسم بن مالك نا ليث عن مجاهد عن ابن عباس و عائشة أنهما قالا : الحدث حدثان حدث في فيك وحدث من نومك وحدث الفم أشد : الكذب والغيبة

ہمیں خبر دی حمزہ بن عبدالعزیز نےان کو عبداللہ نے ان کو جعفر بن احمد بن نصر نے ان کو زیاد بن ایوب نے ان کو قاسم بن مالک نے ان کو لیث نے ان کو مجاہد نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے دونوں نے فرمایا کہ بے وضو ہونا دو طرح ہے ایک بے وضو ہونا ہے تیرے منہ سے اور ایک ہے تیری نیند سے۔ اور منہ سے بے وضو ہونا زیادہ سخت ہے وہ ہے جھوٹ بولنا اور غیبت کرنا۔

ابن عباس و عائشة أنهما ← مُجَاهِدٍ ← لَيْثٌ، ← الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ، ← زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حمزة بن عبد العزيز ← و،

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6724

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6725

6725 - و أخبرنا حمزة نا عبد الله بن جعفر نا علي بن حجر نا إسماعيل بن علية عن أيوب بن سيرين : أن شيخا من الأنصار كان يمر بمجلس لهم فيقول أعيدوا الوضوء فإن بعض ما تقولون شر من الحدث

ہمیں خبر دی حمزہ نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو علی بن حجر نے ان کو اسماعیل بن علیہ نے ان کو ایوب بن سیرین نے کہ ایک شیخ انصار میں سے ان لوگوں کی مجلس کی پاس سے گزرتا تھا وہ کہنا کہ تم لوگ وضو کا اعادہ کرو یقینی دو بارہ وضو کرو اس لئے کہ جو کچھ تم کہتے ہو اس کا بعض حصہ بدتر ہے بے وضو ہونے سے۔

أيوب بن سيرين أن شيخا من الأنصار كان يمر بمجلس لهم ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← حَمْزَةَ، ← و،

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6725

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6726

6726 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا إبراهيم بن مرزوق نا سعيد بن عامر نا هشام بن حسان عن محمد بن سيرين قال : قلت لعبيدة مم يعاد الوضوء ؟ قال : من الحدث وأذى المسلم قال وكان شيخ يمر بمجلس لهم فيقول : توضؤوا فإن بعض ما تقولون شر من الحدث

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن مرزوق نے ان کو سعید بن عامر نے ان کو ہشام بن حسان نے ان کو محمد بن سیرین نے وہ کہتے ہیں کہ عبیدہ سے کہا کس چیز سے وضو دہرایا جاتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے وضو ہونے سے اور مسلمان کو ایذا پہنچانے سے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک شیخ تھے جو ان کی مجلس کے ساتھ گزرتے تھے وہ کہتے کہ وضو کر لو بے شک بعض باتیں جو تم کہتے ہو بدتر ہیں بے وضو ہونے سے۔

توضؤوا فإن بعض ما تقولون شر من الحدث ← وكان شيخ يمر بمجلس لهم ← مِنَ الْحَدَثِ وَأَذَى الْمُسْلِمِ. ← قلت لعبيدة مم يعاد الوضوء ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6726

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6727

6727 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس أبو إسحاق إبراهيم بن مرزوق البصري نا سعيد بن عامر نا الربيع بن صبيح : أن رجلين كان قاعدين على باب من أبواب المسجد الحرام فمر بهما رجل وقد كان مخنثا فنزل ذلك فقالا قد بقي فيه منه شيء قال وأقيمت الصلاة فدخلا فصليا فجال في أنفسهما ما قالا فسألا عطاء فأمرهما أن يعيدا الوضوء وأن يعيدا الصلاة وكانا صائمين فأمرهما أن يقضيا صيام ذلك اليوم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کا ابو العباس نے ان کو ابو اسحٰق ابراہیم بن مرزوق بصری نے ان کو سعید بن عامر نے ان کو ربیع بن صبیح نے یہ کہ دو آدمی بیٹھے ہوئے مسجد الحرام کے دروازے پر ان دونوں کے پاس سے ایک آدمی کا گزر ہوا جو کہ ہیجڑا تھا وہ وہاں بیٹھ گیا ان دونوں آدمیوں نے (آ پس میں کہا اس کے بارے میں) کہ تحقیق باقی رہ گئی ہے اس ہیجڑے میں اس چیز میں سے کوئی شئی۔ (بطور مذاق کے کہا) ربیع کہتے ہیں کہ نماز کی اقامت کہی جا چکی تھی وہ دونوں اندر داخل ہوئے اور نماز پڑھ لی مگر ان کے دل میں وہ مذاق گردش کرتا رہا جو کچھ انہوں نے کہا تھا۔ لہٰذا انہوں نے نماز کے بعد حضرت عطاء سے یہ بات بتا کر مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ تم لوگ وضو کا اعادہ کرو اور نماز کا اعادہ کرو اور وہ دونوں اس وقت روزے سے بھی تھے انہوں نے ان کو حکم دیا کہ وہ لوگ اس دن کے روزے کو بھی قضا کریں۔

سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← أبو العباس أبو إسحاق إبراهيم بن مرزوق البصري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6727

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6728

6728 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس هو الأصم نا أسيد بن عاصم نا الحسين بن حفص عن سفيان عن منصور عن إبراهيم قال : الوضوء من الحدث وأذى المسلم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو العباس اصم نے۔ ان کو اسید بن عاصم نے ان کو حسین بن حفص نے ان کو سفیان نے ان کو منصور نے ان کو ابراہیم نے انہوں نے فرمایا: وضو لازم ہوتا ہے بے وضو ہو جانے اور مسلمان کو ایذا دی ہے۔

الوضوء من الحدث وأذى المسلم ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ← أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6728

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6729

6729 - أخبرنا أبو الحسن المقري نا الحسن بن محمد بن إسحاق المقري نا يوسف بن يعقوب نا محمد بن أبي بكر نا المثنى بن بكر عن عباد بن منصور عن عكرمة عن ابن عباس : أن رجلين صليا صلاة الظهر أو العصر وكانا صائمين فلما قضى النبي صلى الله عليه و سلم الصلاة قال : أعيدا وضوءكما وصلاتكما وامضيا في صومكما واقضياه يوما آخر قالا : لم يا رسول الله ؟ قال : اغتبتم فلانا

ہمیں خبر دی ابو الحسن مقریٔ نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابو بکر نے ان کو مثنی بن بکر نے ان کو عباد بن منصور نے ان کو عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہ دو آدمیوں نے نماز ظہر یا نماز عصر پڑھی۔ اور دو روزہ دار تھے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز پوری کر چکے تو آپ نے فرمایا تم دونوں اپنے وضو کا اعادہ کرو اور اپنی نماز دو بار پڑھو اور روزہ جاری رکھو بعد میں اس کی دونوں قضا کر لینا۔ ان دونوں نے پو چھایا رسول اللہ! کیا ہوا ایسا کیوں ہے؟ آپ نے فرمایا کہ تم نے فلاں کی غیبت کی ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، ← المثنى بن بكر ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْمُقْرِئُ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6729

chevron_left Previous
1…567…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood