Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6706

6706 - أخبرنا أبو حازم أنا أبو بكر محمد بن إبراهيم بن حيوة الوراق أنا جعفر بن أحمد بن نصر نا الحسين بن منصور ح وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني أبو سعيد المؤذن نا زنجويه بن محمد نا أبو زكريا يحيى بن المثنى النيسابوري قالا نا حفص بن عبد الرحمن عن شبل عن ابن أبي نجيح عن مجاهد عن ابن عباس قال : نظر رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى الكعبة فقال : ما أعظم حرمتك وفي رواية أبي حازم لما نظر رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى الكعبة قال : مرحبا بك من بيت ما أعظمك وأعظم حرمتك وللمؤمن من أعظم حرمة عند الله منك إن الله حرم منك واحدة وحرم من المؤمن ثلاثا دمه وماله وأن يظن به ظن السوء

ہمیں خبر دی ابو حازم نے کو ابو بکر محمد بن ابراہیم بن حیوۃ نے ان کو وراق نے ان کو جعفر بن احمد بن نصر نے ان کو حسین بن منصور نے ’’ح‘‘۔اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو سعید مؤذن نے ان کو زنجویہ بن محمد سے ان کو ابو زکریا نے ان کو یحییٰ بن مثنیٰ نیساپوری نے وہ دونوں کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی حفص بن عبدالرحمٰن نے شبل سے اس نے ابو نجیح سے اس نے مجاہد سے اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبے کی طرف دیکھا تو فرمایا: ما اعظم حرمتک تیری کتنی بڑی عزت ہے اے کعبے۔ اور ابو حازم کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کعبے کی طرف دیکھا تو فرمایا: مرحبابک من بیت ما عظمک اعظم حرمتک وللمؤمن اعظم حرمۃ عنداللہ منک ان اللہ حرم منک واحدۃ وحرم من المؤمن ثلاثًا دمہ ومالہ وان یظن بہ ظن السوء،۔مبارک ہے تجھ کواے گھر (بیت اللہ) تو کتنا عظیم ہے اور تیری عزت و حرمت کتنی عظیم مگر مومن کی حرمت اللہ کے نزدیک تیری عزت و حرمت سے بہت بڑی ہے۔ بیشک اللہ نے تجھ کو ایک حرمت عطا کی ہے اور مؤمن کو تین حرمتیں عطا کی ہیں۔ اس کا خون محترم ہے اس کا مال محترم ہے اور اس سے محترم ہے کہ اس کے ساتھ برا گمان کیا جائے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← شِبْلٌ، ← حَفْصُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ الْمُثَنَّى النَّيْسَابُورِيُّ، ← زَنْجُوَيْهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أبو سعيد المؤذن ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ ← جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَيْوَةَ الْوَرَّاقُ، ← أَبُو حَازِمٍ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6706

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6707

6707 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الحسن بن مكرم نا أبو النضر نا أبو سهيل نا هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يزال المسروق في تهمة من هو بريء حتى يكون أعظم جرما من السارق وروينا عن ابن مسعود من قوله غير مرفوع

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر احمد بن حسن نے دونوں کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن مکرم نے ان کو ابو الحضر نے ان کو سہیل نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسروق ہمیشہ اس کی تہمت میں رہتا ہے جو بری ہے یہاں تک کہ دو سارق سے جرم میں بڑا ہو جائے۔ ہم نے روایت کی ہے ابن مسعود سے ان کا قول غیر مرفوع طریقے سے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو سُهَيْلٍ، ← أَبُو النَّضْرِ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6707

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6708

6708 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي نا يحيى بن عثمان بن صالح نا أبي نا ابن لهيعة حدثني ابن عجلان أن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي الحسين أخبره عن عبد الله بن عمر : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال : خياركم الذين إذا رؤوا ذكر الله بهم وإن شراركم المشاؤون بالنميمة بين الأحبة الباغون للمرأة العنت

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر محمد بن محمد بغدادی نے ان کو یحییٰ بن عثمان بن صالح نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابن لہیعہ نے۔ ان کو ابن عجلان نے یہ کہ عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابو الحسین نے ان کو خبر دی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ انہوں نے فرمایا تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں کہ جب ان کو دیکھا جائے تو ان کو دیکھنے سے اللہ کی یاد آ جائے۔ اور تم میں سے بدترین لوگ وہ ہیں جو دوستوں کے درمیان چغل خوری کرتے پھرتے ہیں اور وہ عورتوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے ہیں یعنی زنا کرتے ہیں۔

الله بهم وإن شراركم المشاؤون بالنميمة بين الأحبة الباغون للمرأة العنت ← خياركم الذين إذا رؤوا ← رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← ابن عجلان أن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي الحسين ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6708

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6709

6709 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن محمد بن عبد الله القهستاني نا محمد بن أيوب أنا أبو الوليد نا شعبة قال أنبأني أبو إسحاق قال سمعت حارثة بن مضرب يقول سمعت سلمان يقول : إني لأعد العراق على خادمي خشية الظن أو نحوا من ذلك

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو الحسن محمد بن عبداللہ قہستانی نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو ابو الولید نے ان کو شعبہ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے ابو اسحاق نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حارثہ بن مضرب سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سلمان سے وہ کہتے ہیں میں گمان کے خوف سے اپنے خادم کو خاندانی شریف شمار کرتا ہوں یا ایسی ہی بات کی تھی۔

إني لأعد العراق على خادمي خشية الظن أو نحوا من ذلك ← سَلْمَانَ ← حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أبو الحسن محمد بن عبد الله القهستاني ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6709

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6710

6710 - أخبرنا أبو الحسين محمد بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر النحوي نا يعقوب بن سفيان أنا أبو اليمان أخبرني شعيب بن أبي حمزة عن عبد الله بن أبي الحسين حدثني نوفل بن مساحق عن سعيد بن زيد : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : من أربى الربا الاستطالة في عرض المسلم بغير حق وإن هذه الرحم شجنة من الرحمن فمن قطعها حرم الله عليه الجنة

ہمیں خبر دی ابو الحسین محمد بن فضل قطان نے کو عبداللہ بن جعفر نحوی نے ان کو یعقوب بن سفیان نے کو ابو الیمان نے ان کو شعیب بن ابو حمزہ نے ان کو عبداللہ بن ابو الحسین نے ان کو نوفل بن مساحق نے ان کو سعید بن زید نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہوں نے فرمایا: سب سے بڑا ربا سب سے بڑا سود مسلمان کی عزت میں نا حق تصرف کرنا اور دست درازی کرنا ہے اور یہ رحم اور رشتہ داری رحمٰن کی طرف سے انگور کے گوشے کی طرح ہے (یا شاخ در شاخ ٹہنی ہے) جو شخص اس کو کاٹے گا اللہ اس پر جنت کو حرام کر دے گا۔

النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ← نَوْفَلُ بْنُ مُسَاحِقٍ ← عبد الله بن أبي الحسين ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عبد الله بن جعفر النحوي ← أبو الحسين محمد بن الفضل القطان

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6710

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6711

6711 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو بكر أحمد بن سعيد بن فرضخ نا موسى بن الحسن نا سعيد بن محمد الجرمي نا أبو سلمة يحيى بن واضح نا عمار بن أنس عن عبد الله بن عبيد الله بن أبي مليكة عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لأصحابه : أخبروني ما أربى الربا ؟ قالوا : الله ورسوله أعلم قال : فإن أربى الربا عند الله عز و جل استحلال عرض المسلم ثم قرأ : { والذين يؤذون المؤمنين والمؤمنات بغير ما اكتسبوا فقد احتملوا بهتانا وإثما مبينا } قال الإمام أحمد : وجدت في كتابي عمار بن أنس فإنما هو عمران بن أنس أبو أنس المكي ذكره البخاري في التاريخ عن أبي سلام عن يحيى بن واضح سمع عمران قال البخاري لا يتابع عليه ورواه عبد العزيز بن رفيع عن ابن أبي مليكة عن عبد الله بن الراهب عن كعب من قوله وهو أصح

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو بکر احمد بن سعید بن فرضخ نے ان کو موسی بن حسن نے ان کو سعید بن محمد جرمی نے ان کو ابو سلمہ نے ان کو یحییٰ بن واضح نے ان کو عمار بن انس نے ان کو عبداللہ بن عبیداللہ بن ابو ملیلہ نے ان کو سیدہ عا ئشہ رضی اللہ عنہما نے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے کہا مجھے تم خبر دو کہ سب سے بڑا ربا اور سود کیا ہے؟ انہوں نے کہا الہلہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔فرمایا کہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا سود مسلمان کی عزت کو پامال کرنا ہے اس کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی: والذین یؤذون المؤمنین المؤمنت بغیر ما اکتسبوا فقد احتملوا بھنانا واثما سبینا۔جو لوگ ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو بغیر ان کے جرم کے تکلیف اور ایذا دیتے ہیں انہوں نے بہتان کھلا گناہ کمایا ہے۔ امام احمد نے فرمایا: میں نے عمار بن انس کی کتاب میں پایا ہے کہ سوائے اس کے نہیں کہ عمران بن انس ابو انس کی ہے اور کو بخاری نے اپنی تاریخ میں ذکر کیا ہے ابو سلام سے اس نے یحییٰ بن واضح سے اس نے سنا عمران سے بخاری نے کہا ہے اس کا متابع بیان نہیں کیا گیا۔ اور اس کو روایت کیا ہے عبدالعزیز بن رفیع نے ابن ابو ملیکہ سے اس نے عبداللہ بن راہب سے اس نے کعب سے اس کے قول سے۔اور وہی زیادہ صحیح ہے۔

عَائِشَةَ ← عبد الله بن عبيد الله بن أبي مليكه ← عمار بن أنس ← أبو سلمة يحيى بن واضح ← سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجِرْمِيُّ، ← مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ، ← أبو بكر أحمد بن سعيد بن فرضخ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6711

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6712

6712 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر القاضي و أبو سعيد بن أبي عمرو قالوا ثنا أبو العباس هو الأصم ثنا إبراهيم بن سليمان هو البرلسي ثنا ابن أبي السري نا عبد الرزاق عن ابن جريج عن أبي الزبير عن ابن الصامت حدثني أبو هريرة : فذكر قصة الزاني رجمه قال : فسمع النبي صلى الله عليه و سلم قول رجلين من أصحابه وأحدهما يقول لصاحبه : انظر إلى هذا الذي ستر الله عز و جل عليه لم يدع نفسه حتى رجم كما يرجم الكلب فسكت عنهما رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى مر بجدي ميت سابل رجله فقال لهما النبي صلى الله عليه و سلم انزلا وكلا فقالا : غفر الله لك يا رسول الله ومن يستطيع أن يأكل من هذا فقال والله ما نلتما من أخيكما أشد من أن أكلكما هذه وإنه لغميس في أنهار الجنة وقيل لينغمس عبد الرزاق يقول عبد الرحمن بن الصامت أو عبد الله بن حماد بن سلمة يقول عن أبي الزبير عن عبد الرحمن بن النهاس

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر قاضی نے اور ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو ابراہیم بن سلیمان برلسی نے ان کو ابن ابی سری نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو ابن جریج نے ان کو ابو الزبیر نے ان کو ابن صامت نے ان کوا بو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس نے زانی کا قصہ جس کو اس نے رجم کیا تھا۔ ذکر کیا وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں سے دو آدمیوں کی بات سنی کہ ایک دوسرے کو کہہ رہاتھا۔ اس شخص کو دیکھو جس پر اللہ نے پردہ ڈالا مگر اس نے نہیں چھوڑا اپنے نفس کو یہاں تک کہ اس کو پتھر مارے گئے جیسے کتے کو مارے جاتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کی بات سن کر خاموش ہو گئے۔ یہاں تک کہ آپ ایک مری ہوئی بکری کے پاس سے گزرے جس کا ایک پیر اٹھا ہوا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے کہا تم دونوں اترو اور اس کو کھا لو۔ دونوں نے کہا اللہ آپ کو بخشے یا رسول اللہ کون اس میں سے کھا سکتا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا للہ کی قسم جو کچھ تم نے اپنے بھائی سے پایا ہے (یعنی غیبت کر کے اس کی جو عزت گھٹائی ہے) وہ زیادہ سخت ہے تمہارے اس کو کھانے سے بے شب وہ البتہ غوطے مار رہا ہے جنت کی نہروں میں۔ اور کہا گیا ہے البتہ غوطے مارتا ہے۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن سامت یا عبداللہ اور حماد بن سلمہ کہتے ہیں مروی ہے ابو الزبیر سے اس نے عبدالرحمٰن بن نہاس سے۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← ابْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← إبراهيم بن سليمان هو البرلسي ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر القاضي و أبو سعيد بن أبي عمرو

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6712

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6713

6713 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم نا إبراهيم بن جعفر نا أحمد بن يوسف السلمي نا همام بن علي بنيسابور نا مسلم بن مسلم نا هشام بن حسان عن خالد الربعي قال : كنت في مجلس لنا فذكروا رجلا فنالوا منه فنهيتهم فكفوا قال : ثم عادوا في ذكره فكأني يعني وافقتهم قال : فقمنا من ذلك المجلس فنمت فأتاني في المنام أسود جسيم كفه طبق من خلاب فيه بضعة من لحم خنزير خضراء فقال كل فأبيت عليه فقال : كل فأبيت عليه فأحسب أنه انتهرني وأكرهني عليه قال : فجعلت أولوكها وأنا أعلم أنه لحم خنزير فانتهيت فما زلت أجد ريحها في في نحوا من شهرين

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الفضل محمد بن ابراہیم نے ان کو ابراہیم بن جعفر نے ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ان کو ہمام بن علی نیساپوری نے ان کو مسلم بن مسلم نے ان کو ہشام بن حسان نے کو خالد ربعی نے وہ کہتے ہیں کہ میں اپنی ایک مجلس میں تھا انہوں نے ایک آدمی کا ذکر کیا اور انہوں نے اس کی غیبت کی (یا اس کی عزت گھٹائی) میں نے ان کومنع کیا تو وہ رک گئے کہتا ہے کہ پھر دوبارہ انہوں نے اس کا تذکرہ کیا تو گویا میں نے بھی ان کی موافقت کر لی یعنی برائی کرنے میں شریک ہو گیا۔ کہتا ہے کہ پھر ہم لوگ اس محفل سے اٹھ گئے۔ اور میں جا کر سوگیا۔ (میں نے خواب میں دیکھا) کہ وہ میرے پاس آیا سیاہ کالا رنگ ہے موٹا جسم ہے، اس کی ہتھیلی پر ایک تھال رکھا ہوا ہے جس میں کالی کچڑ ہے اس میں سبز رنگ کے سور کے گوشت کا ٹکڑا پڑا ہوا ہے وہ اگر مجھے کہتا ہے کہ کھائیے میں نے اس سے انکار کیا پھر اس نے کہا کہ کھائیے پھر میں نے انکار کیا میراخیال ہے کہ اس نے مجھے ڈانٹا ہے اور مجبور کیا ہے اس کے کھانے کے لئے کہتا ہے کہ پھر میں نے اسی کو کھانا اور چبانا شروع کیا حالانکہ میں جان رہاہوں کہ وہ سور کا گوشت ہے اسی حالت میں میں بیدار ہو گیا۔ اس واقع کو دو ماہ گزر گئے ہیں مگر اب تک اس کی بدبو میرے منہ سے نہیں جاتی میں محسوس کر رہا ہوں۔

خَالِدٍ الرَّبَعِيِّ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← مسلم بن مسلم ← همام بن علي ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ جَعْفَرٍ، ← أبو الفضل محمد بن إبراهيم ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6713

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6714

6714 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا العباس محمد بن يعقوب يقول سمعت العباس بن محمد الدوري يقول سمعت محمد بن عبيد الطنافسي يقول : كنا عند سفيان الثوري فأتاه رجل فقال يا أبا عبد الله أرأيت هذا الحديث الذي جاء إن الله ليبغض أهل البيت اللحميين الذي يكثرون أكل اللحم قال سفيان : لا هم الذين يكثرون أكل لحوم الناس

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو العباس محمد بن یعقوب سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عباس بن محمد دوری سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن عبید طنافسی سے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ سفیان ثوری کے پاس تھے ان کے پاس ایک آدمی آیا اور بولا اے ابو عبداللہ کیا آپ اس حدیث کو جانتے ہیں جو آئی ہے کہ اللہ اس گھرانے والوں کو پسند نہیں کرتا جو لحمی ہوں یعنی کثرت کے ساتھ گوشت خوری کرتے ہوں۔ سفیان نے کہا: نہیں وہ لوگ کثرت کے ساتھ لوگوں کا گوشت کھاتے ہیں۔

كنا عند سفيان الثوري فأتاه رجل ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6714

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6715

6715 - أخبرنا أبو علي بن شاذان أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا محمد بن نافع نا إبراهيم بن عمر أبو إسحاق الصغاني قال : سمعت النعمان يقول إنه سمع طاوسا يقول ابن عباس : عن النبي صلى الله عليه و سلم يقول : إن الربا نيف وسبعون بابا أهونهن بابا من الربا مثل من أتى أمه في الإسلام ودرهم الربا وأخبث الربا انتهاك عرض المسلم وانتهاك حرمته

ہمیں خبر دی ابو علی بن شاذان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو محمد بن نافع نے ان کو ابراہیم بن عمر ابو اسحٰق صنعانی نے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا طاؤس سے وہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے۔ بے شک سود کے ستر سے کچھ اوپر دروازے ہیں سود کا ہلکاترین اور آسان ترین باب اس آدمی کے گناہ کے برابر ہے جو اپنی ماں کے ساتھ بدکاری کرے اسلام میں آنے کے بعد۔ اور سود کا در ہم اور خبیث ترین سود مسلمان کی عزت و حرمت کی ہتک کرنا اور اس کو پامال کرنا ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوُسًا ← أَنَّهُ ← النُّعْمَانِ ← إبراهيم بن عمر أبو إسحاق الصغاني ← محمد بن نافع، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أبو علي بن شاذان

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6715

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6716

6716 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا محمد بن بكر نا أبو داود نا ابن المصفى نا بقية و أبو المغيرة قالا نا صفوان حدثني راشد بن سعد و عبد الرحمن بن جبير عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لما عرج بي عز و جل مررت بقوم لهم أظافر من نحاس يخمشون وجوههم وصدورهم فقلت من هؤلاء يا جبريل ؟ قال : هؤلاء الذين يأكلون لحوم الناس ويقعون في أعراضهم قال أبو داود حدثناه يحيى بن عثمان عن بقية ليس في أنس وحدثنا عيسى بن أبي عيسى السيلحيني عن المغيرة كما قال ابن المصفى

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو محمد بن بکر نے ان کو ابو داؤد نے ان کو ابن مصفیٰ نے ان کو بقیہ نے ان کو ابو المغیرہ نے دونوں کو صفوان نے ان کو راشد بن سعد نے اور عبدالرحمٰن بن جبیر نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب مجھے (شب معراج) اوپر لے جایا گیا تو میں ایک قوم کے پاس سے گزرا جن کے تانبے کے ناخن تھے جن کے ساتھ وہ اپنے چہروں کونوچ رہے تھے اور سینوں کو زخمی کر رہے تھے میں نے پوچھا اے جبرائیل یہ کون لوگ ہیں ؟ فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے ہیں اور ان کی عزتوں پر پڑتے ہیں۔ ابو داؤد نے کہا کہ ہمیں یہی حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن عثمان نے ان کو بقیہ نے جن میں حضرت انس رضی اللہ عنہ نہیں ہیں۔ اور ہمیں حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن ابو عیسیٰ سے سیلختینی نے ان کو مغیرہ نے جیسے ابن مصفیٰ نے کہا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← راشد بن سعد و عبد الرحمن بن جبير ← صَفْوَانُ؛ ← بقية و أبو المغيرة ← ابْنُ الْمُصَفَّی ← أَبُو دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6716

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6717

6717 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ببغداد نا عبد الله بن جعفر النحوي نا يعقوب بن سفيان نا محمد بن مصفى نا بقية نا ابن ثوبان عن أبيه عن مكحول عن وقاص بن ربيعة أن المستورد حدثه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من أكل برجل مسلم أكلة فإن الله عز و جل يطعمه مثلها من جهنم ومن كسي برجل مسلم ثوبا فإن الله يكسوه من جهنم ومن قام برجل مقام سمعة أو رياء فإن الله يقوم به مقام سمعة ورياء يوم القيامة رواه أبو داود في السنن عن حيوة بن شريح عن بقية

ہمیں خبر دی ابو الحسین ، فصل قطان نے بغداد میں ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو محمد بن مصفیٰ نے ان کو بقیہ بن ثوبان نے ان کو ان کے والد نے ان کو مکحول نے ان کو وقاص بن ربیعہ نے ان کومستورد نے ان کو حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص کسی مسلمان آدمی کے ساتھ مقابلہ میں ایک لقمہ کھائے گا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کوجہنم کا لقمہ کھلائے گا۔ اس کی مثل جو شخص کسی مسلمان کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے کوئی کپڑاپہنے گا اللہ تعالیٰ اس کوجہنم سے پہنائے گا اور جو شخص کسی آدمی کا مقابلہ اس کے مرتبے اور مقام میں کرے گا اور اس کی شہرت میں یا بطور ریاکاری کے اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن مقام شہرت وریاکاری پر کھڑا کرے گا۔ اور اس کو روایت کیا ہے ابو داؤد نے سنن میں حیوۃ بن شریح سے اس نے بقیہ سے۔

وقاص بن ربيعة أن المستورد ← مَكْحُولٌ ← أَبِيهِ ← ابْنُ ثَوْبَانَ، ← بَقِيَّةُ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عبد الله بن جعفر النحوي ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ،

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6717

chevron_left Previous
1…456…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood