Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6694

6694 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا إسحاق بن إسماعيل نا جرير قال : أخبرني أبو عبد الله أظنه الملطي قال : أراد موسى أن يفارق الخضر عليهما السلام قال له موسى : أوصني قال : كن نافعا ولا تكن ضرارا كن بشاشا ولا تكن غضبان ارجع عن اللجاجة ولا تمش في غير حاجة ولا تعير امرأ بخطيئته وابك على خطيئتك يا ابن عمران

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو خبر دی عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو اسحاق بن اسماعیل نے ان کو حریر نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے ابو عبداللہ نے میں نے اسے ملطی گمان کرتا ہوں وہ کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام نے خضر علیہ السلام سے الگ ہونے کا ارادہ کیا تو موسیٰ علیہ السلام نے اس سے کہا کہ مجھے کچھ وصیت کیجئے انہوں نے فرمایا تم نفع پہنچانے والے بنو نقصان پہنچانے والے نہ بنو تم خوش رہنے والے بنو غصے میں رہنے والے نہ بنو جھگڑا کرنے سے رجوع کرو۔ اور بغیر ضرورت کے مت چلو۔ اور کسی آدمی کو اس کے گناہ پر عیب مت لگاؤ اور اپنے گناہ کو یاد کر کے روؤ اے ابن عمران۔

كن نافعا ولا تكن ضرارا كن بشاشا ولا تكن غضبان ارجع ← له موسى أوصني ← أراد موسى أن يفارق الخضر عليهما السلام ← أبو عبد الله أظنه الملطي ← جَرِيرٌ ← إسحاق بن إسماعيل ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← عبد الله الصفار ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6694

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6695

6695 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا سعدان بن نصر نا معاذ بن معاذ عن الأشعث عن الحسن قال : رحم الله عبدا لم يحاسب الناس دون ربهم ولم يحمل على نفسه ما لم يحمله الله لهم 6695 - مكرر ـ أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى بن عقبة عن نافع عن ابن عمر عن كعب قال : ذكرت الملائكة أعمال بني آدم وما يلقون من الذنوب فقال لهم اختاروا منكم ملكين فاختاروا هاروت وماروت فقال لهما : إني أرسل رسلي إلى الناس وليس بيني وبينكم رسول انزلا ولا تشركا بي شيئا و لا تزنيا ولا تسرقا ـ قال ابن عمر قال كعب : فما استكملا يومهما الذي نزلا فيه حتى عملا ما حرم عليهما قال الشيخ أحمد : هذا هو الصحيح من قول كعب وقد رويناه في باب الإيمان بالملائكة من حديث زهير بن محمد عن موسى بن جبير عن نافع عن عبد الله بن عمر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أتم من ذلك

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو سعدان بن نصر نے ان کو معاذ بن معاذ نے ان کو اشعث نے ان کو حسن نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے اس بندے پر جو لوگوں کا محاسبہ نہیں کرتا ان کے رب کے سوا جس چیز کواللہ نے اس کے اوپر نہیں لادا اس کو وہ بھی اپنے اوپر نہیں لادتا۔ مکر رہے۔ ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ بن عقبہ نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو کعب نے وہ کہتے ہیں کہ فرشتوں نے اولا د آدم کے اعمال کا تذکرہ کیا اور ان گناہوں کا جن کا وہ ارتکاب کرتے ہیں تو ان کو حکم ہوا کہ تم لوگ اپنے اندر سے دو فرشتوں کا انتخاب کر لو انہوں نے ہاروت اور ماروت کو منتخب کیا۔ اور ان سے کہا کہ میں لوگوں کے پاس رسول بھیجتا ہوں جب کہ میرے اور تمہارے درمیان کوئی قاصد نہیں ہے۔ تم دونوں نیچے اتر جاؤ میرے ساتھ شرک نہ کرنا، زنا نہ کرنا، چوری نہ کرنا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کعب نے فرمایا کہ ان دونوں فرشتوں نے وہ دن ہی پورا نہیں کیا تھا جس میں وہ اترے تھے مگر دونوں نے وہ عمل کر لئے جواللہ نے ان پر حرام کئے تھے۔ شیخ احمد نے فرمایا کہ یہ صحیح ہے قول کعب سے اور تحقیق ہم نے اس کو روایت کیا ہے باب ایمان بالملائکہ میں زہیر بن محمد کی حدیث سے اس نے موسیٰ بن جبیر سے اس نے نافع سے اس نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سے زیادہ مکمل۔ `

الْحَسَنِ، ← الْأَشْعَثِ ← مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6695

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6696

6696 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو زكريا العنبري نا محمد بن عبد السلام نا إسحاق بن إبراهيم أنا حكام بن سلمة الرازي وكان ثقة نا أبو جعفر الرازي عن الربيع بن أنس عن قيس بن عباد عن ابن عباس في قوله عز و جل : ـ { وما أنزل على الملكين ببابل هاروت وماروت } الآية قال : إن الناس بعد آدم وقعوا في الشرك اتخذوا هذه الأصنام وعبدوا غير الله عز و جل قال : فجعلت الملائكة يدعون عليهم ويقولون ربنا خلقت عبادك وأحسنت خلقهم ورزقهم فأحسنت رزقهم فعصوك وعبدوا غيرك اللهم اللهم يدعون عليهم فقال لهم الله تبارك وتعالى إنهم في فجعلوا لا يعذرونهم قال : اختاروا منكم اثنين أهبطهما إلى الأرض فآمرهما وأنهاهما فاختاروا هاروت وماروت قال : وذكر الحديث بطوله فيهما وقال فيه شربا الخمر وانتشيا ووقعا بالمرأة وقتلا النفس وكثر اللغط فيما بينهما وبين الملائكة فنظروا إليهما وما يعملان ففي ذلك أنزل الله عز و جل { والملائكة يسبحون بحمد ربهم ويستغفرون لمن في الأرض } الآية قال : فجعل بعد ذلك الملائكة يعذرون أهل الأرض ويدعون لهم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو زکریا عنبری نے ان کو محمد بن عبد السلام نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم بن قیس بن عبادہ نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں: وما انزل علی الملکین ببابل ھاروت وماروت الح مقام بابل میں دو فرشتوں ہاروت ماروت پر جو کچھ نازل کیا گیا تھا۔ فرشتوں کی انسانوں کے لئے بد دعا اور ان کی آزمائش: فرمایا کہ بے شک لوگ آدم علیہ السلام کے بعد شرک میں پڑ گئے تھے، بت بنا لئے اور غیر اللہ کی عبادت شروع کر دی تھی لہٰذا فرشتوں نے ان پر بد دعا کرنی شروع کر دی تھی اے ہمارے رب! آپ نے اپنے بندوں کو پیدا کیا آپ نے ان کو اچھی شکل وصورت عطا فرمائی۔ آپ نے ان کو رزق دیا اور آپ نے رزق بھی ان کو بہت عمدہ عطا فرمایا۔ مگر انہوں نے تیری نافرمانی کی اور تیرے سوا اوروں کی عبادت شروع کر دی اے اللہ اے اللہ! انہوں نے یہ کہہ کر بندوں پر بد دعا شروع کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو فرمایا کہ تم لوگ (ایسی حالت میں ہو کہ اگر تم بھی ہوتے تو یہی کرتے) وہ لوگ ان کا عذر نہیں مان رہے تھے (وہ معذور نہیں ہیں)اللہ تعالیٰ نے فرمایاتم لوگ دو فرشتے منتخب کرو میں ان کو زمین پر اتاروں گا ، میں ان کو امر بھی کروں گا اور نہی بھی کروں گا۔ انہوں نے ہاروت ماروت کو منتخب کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ حدیث کو اس کے طول کے ساتھ ذکر کیا ان دونوں کے بارے میں۔اور اس کی تفصیل میں یہ فرمایا کہ انہوں نے شراب نوشی کی اور نشہ میں آ گئے اور عورت پر پڑ گئے (اس کے ساتھ زنا کیا) اور انہوں نے ناحق ایک انسان کو قتل کیا۔ اور آپس میں دونوں نے شور مچایا اور فرشتوں کے مابین بھی۔ تمام فرشتوں نے ان کا یہ حال دیکھا جو کچھ وہ کر رہے تھے۔ چنانچہ اسی بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : والملائکۃ یسبحون بحمد ربھم ویستغفرون لمن فی الارض الخ اور فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور استغفار کرتے ہیں ان کے لئے جو زمین پر ہیں۔ فرمایا کہ اس کے بعد فرشتے اہل زمین کو معذور سمجھنے لگے (یعنی ان کا عذر ماننے لگے) اور اب وہ ان کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔

ابن عباس في قوله عز و جل الآية ← قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ← الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ← أبو جعفر الرازي ← حكام بن سلمة الرازي وكان ثقة ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6696

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6697

6697 - أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الرحمن بن محبور الدهان أنا الحاكم أبو العباس أحمد بن هارون الفقيه نا محمد بن نعيم نا أحمد بن منيع نا محمد بن الحسن عن ثور بن يزيد عن خالد بن معدان عن معاذ بن جبل قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من عير أخاه بذنب لم يمت حتى يعمل

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن بن عبدالرحمان محمد بن محبور دھان نے ان کو حاکم ابو العباس احمد بن ہارون فقیہ نے ان کو محمد بن نعیم نے ان کو احمد بن منبع نے ان کو محمد بن حسن نے ان کو ثور بن یزید نے ان کو خالد بن معدان نے ان کو معاذ بن جبل نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے مسلمان بھائی کو کسی گناہ کا عیب لگائے یا طعنہ دے وہ نہیں مرے گا یہاں تک کہ اس گناہ کامل کر لے گا۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ← الحاكم أبو العباس أحمد بن هارون الفقيه ← أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الرحمن بن محبور الدهان

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6697

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6698

6698 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس الأصم نا الخضر بن أبان نا سيار نا عبيد الله بن شميط عن أبيه قال : كتب سعيد بن جبير عمرو أبي السواد العدوي أما بعد : يا أخي فاحذر الناس واكفهم نفسك وليسعك بيتك وابك على خطيئتك وإذا رأيت عاثرا فاحمد الله الذي عافاك ولا تأمن للشيطان أن يفتنك ما بقيت

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان دونوں کو ابو العباس اصم نے ان کو خضر بن ابان نے ان کو سیار نے ان کو عبیداللہ بن شميط نے اور ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ سعید بن جبیر نے لکھا ابو السواد عدوی کی طرف اما بعد ! اے بھائی آپ لوگوں سے بچتے رہئے اور اپنے آپ کو ان سے روک کر رکھے۔ اوراپنے گھر میں رہنے اور اپنی غلطی پر نادم ہو کر رویئے جب کسی غلطی کرنے والے کو دیکھیں اس پر اللہ کا شکر کریں کہ اس نے آپ کو اس سے بچا کر عافیت دی۔ اور شیطان سے بے خوف نہ رہئے اس بات سے کہ وہ آپ کو باقی زندگی میں فتنے میں نہ ڈالے۔

أَبِيهِ ← عُبَيْدُ اللهِ بْنُ شُمَيْطٍ، ← سَيَّارٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6698

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6699

6699 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه نا أبو بكر القطان نا أحمد بن يوسف قال : ذكر سفيان عن طلحة بن عمرو عن عطاء قال : لما رفع إبراهيم عليه السلام في ملكوت السموات رأى رجلا يزني فدعا عليه فهلك ثم رفع فرأى رجلا يزني فدعا عليه فهلك ثم رفع فرأى رجلا يزني فدعا عليه فهلك ثم رفع فرأى رجلا يزني فدعا عليه فهلك ثم رفع فرأى رجلا يزني فدعا عليه فهلك فقيل على رسلك يا إبراهيم إنك عبد يستجاب لك وإني من عبدي على ثلاث إما أن يتوب فأتوب عليه وإما أن أخرج منه ذرية طيبة تعبدني وإما أن يتمادى فيما هو فيه فإن جهنم من ورائه وروي ذلك في حديث مرسل كما

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان وابو بکر قطان نے ان کو احمد بن یوسف نے وہ کہتے ہیں کہ سفیان نے ذکر کیا طلحہ بن عمرو سے اس نے عطا ء سے وہ کہتے ہیں کہ جب ابراہیم علیہ السلام ملکوت سموات پر اٹھائے گئے تو انہوں نے ایک آدمی کو زنا کرتے دیکھا۔انہوں نے اس کے خلاف بد دعا کی اور وہ ہلاک ہو گیا اس کے بعد پھر اور اوپر اٹھائے گئے پھر انہوں نے دوسرے آدمی کو زنا کرتے دیکھا اس پر بھی بد دعا کی اور وہ ہلاک ہو گیا اس کے بعد پھر اور اوپر اٹھائے گئے پھر انہوں نے دوسرے آدمی کو زنا کرتے دیکھا اس پر بھی بد دعا کی وہ بھی ہلاک ہو گیا۔ اس کے بعد وہ اوپر اٹھائے گئے پھر ایک آدمی کو زنا کرتے دیکھا پھر بد دعا کی وہ بھی ہلاک ہو گیا پھر اور اوپر کو اٹھائے گئے اور انہوں پر پھر ایک آدمی کو زنا کرتے دیکھا تو اس کے لئے بد دعا کی وہ بھی ہلاک ہو گیا، اس کے بعد اور اوپر اٹھائے گئے تو دیکھا کوئی اور بھی زنا کر رہا ہے انہوں نے اس کے لئے بد دعا کی وہ بھی ہلاک ہو گیا۔ پھر اوپر اٹھائے گئے پھر دیکھا کہ کوئی اور زنا کر رہا ہے انہوں نے اس کے لئے بد دعا کی وہ بھی ہلاک ہو گیا۔ لہٰذا ان کو کہا گیا کہ آپ رک جائے (یعنی بد دعا نہ دیجئے) اے ابراہیم! بے شک آپ وہ بندے ہیں جن کی دعا قبول ہوتی رہے گی۔ مگر میں اپنے بندے کے لئے تین راستے د یتا ہوں یا تو وہ توبہ کر لے لہٰذا میں اس کی توبہ قبول کر لیتا ہوں۔ یا اس کی پشت سے کوئی نیک اولاد نکلتی ہے جو میری عبادت کرتی ہے۔ یا وہ شخص سرکشی کرتا ہے اور اپنے فعل بد میں وہ اور بڑھ کر لمبا ہو جاتا ہے تو پھر جہنم اس کے پیچھے موجود ہے۔ یہ حد یث مرسل میں روایت ہے جیسے:

عَطَاءٍ، ← طَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6699

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6700

6700 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا جعفر بن محمد نا شريح بن يونس نا عمر بن عبد الرحمن عن ليث بن أبي سليم عن شهر بن حوشب عن معاذ بن جبل : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لما رأى إبراهيم ملكوت السموات والأرض أبصر عبدا على خطيئة فدعا عليه ثم أبصر عبدا على خطيئة فدعا عليه فأوحى الله عز و جل يا إبراهيم إنك عبد مستجاب الدعوة فلا تدع أحد فإني ـ أو قال ـ فإنك من عبدي على ثلاث : إما أن أخرج من صلبه ذرية يعبدونني وإما أن يتوب في آخر عمره فأتوب عليه وإما أن يتولى فإن جهنم من ورائه

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو جعفر بن محمد نے ان کو شریح بن یونس نے ان کو عمر بن عبدالرحمٰن نے ان کو لیث بن ابو سلیم نے ان کو شہر بن حوشب نے ان کو معاذ بن جبل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام نے جب ملکوت اسمٰوات والارض کو دیکھا (آسمان وزمین کی حکومت و بادشاہت کا نظارہ کیا) تو ایک بندے کو گناہ کی حالت پر دیکھا اور اس پر بد دعا کر دی۔ اس کے بعد پھر دوسرے بندے کو گناہ کرتے دیکھا اس پر بھی بد دعا کر دی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ اے ابراہیم! آپ ایک مستجاب الدعوات بندے ہیں آپ کسی کے بارے میں بد دعا نہ کریں۔ پس بے شک میں۔ یا۔ یوں فرمایا کہ بے شک تم میرے بندے سے تین صورتیں (سن لو) یا تو میں اس کی پشت سے ایسی اولاد پیدا کروں گا جو میری عبادت کر یں گے۔ یا وہ بندہ آخری عمر میں توبہ کر لے گا اور میں اس کی توبہ قبول کر لوں گا۔ یا وہ توبہ کرنے سے بھی پھر جائے گا تو جہنم اس کے پیچھے موجود ہے۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← ليث بن أبي سليم ← عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← شُرَيْحُ بْنُ يُونُسَ، ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6700

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6701

6701 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو العباس أحمد بن إبراهيم بن علي الكندي نا محمد بن جعفر السامري نا عمر بن محمد أبو حفص النسائي قال أحمد بن أبي الحواري سمعت أبا سليمان الداراني يقول : إنما الغضب على أهل المعاصي لجراءتهم عليها فإذا تذكرت ما يصيرون إليه من عقوبة الآخرة دخلت القلوب الرحمة لهم

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو العباس احمد بن ابراہیم بن علی کندی نے ان کو محمد بن جعفر سامری نے ان کو عمر بن محمد ابو حفص نسائی نے کہا احمد بن ابو الحواری نے میں نے سنا ابو سلیمان دارانی سے وہ کہتے ہیں کہ یقینی بات ہے کہ اللہ کا غضب اہل معاصی پر، گنہگاروں پر ہو گا اس لئے کہ انہوں نے گناہ کرنے کی جرات کی تھی جب تم آخرت کی اس سزا کو یاد کرو جس کی طرف وہ لوگ جا رہے ہیں تو دلوں میں ان کے لئے شفقت داخل ہوتی ہے۔

أَبَا سُلَيْمَانَ الدَّارَانِيُّ ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← عمر بن محمد أبو حفص النسائي ← محمد بن جعفر السامري ← أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَلِيٍّ الْكِنْدِيُّ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6701

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6702

6702 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن بندار الزنجاني ببغداد أنا أبو عبد الله الفضل بن عبد الله الفضل الهاشمي نا أحمد بن جعفر السامري نا إبراهيم بن الأطروش قال : كان معروف الكرخي على الدجلة ونحن معه إذ مر بها أقوام أحداث في زورق يغنون ويضربون بالدف : فقلنا يا أبا محفوظ أما ترى هؤلاء في هذا البحر يعصون الله عز و جل ادع الله عليهم قال : فرفع يده إلى السماء فقال : إلهي وسيدي اللهم إني أسألك أن تفرحهم في الآخرة كما فرحتهم في الدنيا فقال له أصحابه : إنا سألناك أن تدعو عليهم ولم نسألك أن تدعو لهم قال : إذا فرحهم في الآخرة تاب عليهم في الدنيا ولم يضركم شيء قال الإمام أحمد رحمه الله : ومن هذا الباب قول الله عز و جل : { يا أيها الذين آمنوا لا يسخر قوم من قوم عسى أن يكونوا خيرا منهم ولا نساء من نساء عسى أن يكن خيرا منهن ولا تلمزوا أنفسكم ولا تنابزوا بالألقاب بئس الاسم الفسوق بعد الإيمان ومن لم يتب فأولئك هم الظالمون * يا أيها الذين آمنوا اجتنبوا كثيرا من الظن } إلى قوله : { لحم أخيه ميتا فكرهتموه } فاشتملت هذه الآية على تحريم الاستهزاء والسخرية وتحريم اللمز وهو الغيبة والوقيعة ومعنى { لا تلمزوا أنفسكم } أي لا يلمز بعضهم بعضا وتحريم التنابز بالألقاب هو أن يدع الواحد أن يدعو صاحبه باسمه الذي سماه أبوه ويضع لقبا يريد أن يشينه به أو يستذله فيدعوه به ثم قال { بئس الاسم الفسوق بعد الإيمان } فأبان أن فعل هذه المحظورات فسوق بعد الإيمان والإيمان يوجب مواصلة أقداره الاعتراض على الموجود منه بما لا يليق به ثم قال { ومن لم يتب فأولئك هم الظالمون } أي هو الظالمون أنفسهم بسوقها إلى النار والعذاب الأليم ثم قال { يا أيها الذين آمنوا اجتنبوا كثيرا من الظن إن بعض الظن إثم } فأراد أن ظن القبيح بالمسلم كهمزه ولمزه والسخرية والهزء به نهى عنه وأخبر أنه إثم ونهى عنه وعن التجسس وهو تتبع أحواله في خلواته وجوف داره والتعرف لها فإن ذلك إذا بلغه ساءه وشق عليه فكان التعرض له من باب الأذى الذي لا موجب له ولا مرخص فيه وبسط الكلام فيه قال ثم نهى عن الغيبة فقال { ولا يغتب بعضكم بعضا } أي لا يذكره وهو غائب عنه بما لو كان حاضرا فسمعه يشق عليه وشبه الاغتياب بأكل لحم الميت لأن الميت لا يشعر بأن يؤكل لحمه كما لا يشعر الغائب بأن يسلب عرضه ولا ينبغي لمسلم أن يصاحب مسلما ولا أن يغلظ له قولا ولا أن يتعرض لمساءته ولا أن يبهته وروي فيه أحاديث ونحن نأتي إن شاء الله على ما حضرنا من ذلك وزيادة لائقة به بتوفيق الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن بندار زنجانی نے بغداد میں ان کو ابو عبداللہ فضل ہاشمی نے ان کو احمد بن جعفر سامی نے ان کو ابراہیم بن اطروش نے وہ کہتے ہیں کہ معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ دریائے دجلہ کے کنارے پر بیٹھے تھے اور ہم لوگ بھی ان کے ساتھ تھے۔ اچانک ان کے قریب کچھ نو جوان گزرے کشتی پر سوار تھے جو کہ گانا گا رہے تھے اور دف بجا رہے تھے۔ ہم لوگوں نے حضرت کرخی سے کہا اے ابو محفوظ کیا آپ دیکھ نہیں رہے کہ یہ من چلے اس دریا میں اس حالت میں بھی اللہ کی نافرمانی کر رہے ہیں، آپ ان کے خلاف بد دعا فرمائیں۔ کہتا ہے کہ انہوں نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا لئے اور دعا کرنے لگے۔ اے میرے معبود اور میرے سردار اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو ان کو آخرت میں بھی ایسے خوش کرنا جیسے تو نے اس کو دنیا میں خوش کیا ہے۔ آداب معاشرت : شیخ کرخی کے دوستوں اور ساتھیوں نے کہا حضرت ہم نے تو آپ سے ان کے لئے بد دعا کرنے کی درخواست کی تھی ان کے حق میں اچھی دعا کی درخواست نہیں کی تھی۔ شیخ نے فرمایا کہ جب اللہ ان کو آخرت میں خوش کرے گا تو دنیا میں پہلے ان کو توبہ کی توفیق بھی عطا کرے گا لہٰذا اس میں تمہارا کوئی نقصان نہیں ہے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اسی باب سے ہے (یعنی لوگوں کی عزتوں کی حرمت کا لحاظ رکھنا۔) یہ آیت:یاٰیھالذین اٰمنوا لا یسخر قوم من قوم عسی ان یکونوا خیرا منھم ولا نسآء من نساء عسٰی ان یکن خیرا منھن ولا تلمزوا انفسکم ولا تنابزوا بالالقاب بش الاسم الفسوق بعد الایمان ومن لم یتب فاولئک ھم الظالمون یٰا یاھالذین اٰمنوا اجتنبوا من الظن ان بعض الظن اثم ولا تجسوا ولا یغتب بعضکم بعضا ایحب احدکم ان یأکل لحم اخیہ میتافکر ھتموہ۔ اے اہل ایمان کوئی لوگ کسی کا مذاق نہ اڑائیں ممکن ہے کہ وہ لوگ ان سے بہتر ہوں۔ اور کوئی عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق نہ اڑائیں ممکن ہے کہ دوان سے بہتر ہوں اور مت عیب لگاؤ اپنے آپ کو اور مت نام بگاڑو القاب کے ساتھ۔ایمان کے بعد برا نام لگانا گناہ کی بات ہے جو شخص توبہ نہ کرے ان (غلطیوں سے) وہی لوگ ظالم ہوں۔اے اہل ایمان زیادہ تر گمان کرنے سے بچو بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں اور جاسوسی نہ کرو اور بعض تمہارا بعض کی غیبت نہ کیا کریں کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے تم اس کو ناپسند کرو گے۔ آیت مذکورہ کی تشریح : یہ آیت ان امور پر مشتمل ہے: (1)۔۔۔۔۔استہزاء اور تمسخر کا حرام ہونا۔ (2) پیٹھ پیچھے عیب بیان کرنے کی حرمت۔ اس سے مراد غیبت ہے۔ (3) فتنہ وفساد کے حرمت۔ (1) ۔۔۔۔۔لا تلمزوا انفسکم اپنے نفسوں کی غیبت نہ کرو یعنی بعض تمہارا بعض کی غیبت نہ کرے۔ (2 ) ۔۔۔۔۔ولا تنابزوا بالالقاب اور نہ عیب لگاؤ ایک دوسرے کو بقیوں کے ساتھ۔ تنابز القاب کے ساتھ ایسے ہوتا ہے کہ کوئی شخص کسی کو اس نام کے ساتھ پکارنا چھوڑ دے جو نام اس کے باپ نے رکھا تھا بلکہ اس کے لئے کوئی دوسر القب از خود وضع کر لے جس سے اس کا منشایہ ہو کہ وہ اس لقب کے ساتھ اس کو عیب لگائے یا اس کو ذلیل کرے لہٰذا وہ اس کو ایسے لقب سے پکارتا ہے۔ (3)۔۔۔۔بش الاسم الفسوق بعدالایمان ایمان کے بعد برا نام رکھنا گناہ ہے۔ اس جملے میں یہ واضح فرمایا کہ ایمان کے بعد ان محضورات و ممنوعات کا ارتکاب کرنا گناہ ہے۔ ایمان مواصلۃ اقدار کا تقاضا کرتا ہے اوران اقدار سے اجتناب کرنے کا تقاضا کرتا ہے جو اس کے شایان شان نہیں۔ (4) ۔۔۔۔ومن لم یتب فاولئک ھم الظالمون اور جو شخص ان امور سے توبہ نہ کرے وہی لوگ ظالم ہیں۔ یعنی وہی لوگ اپنے نفسوں پرظلم کرتے ہیں ان کو آگ کی طرف اور عذاب الیم کی طرف لے جا کر۔ (5) ۔۔۔۔یایھا الذین اٰمنوا اجتنبوا کثیرًا من الظن ان بعض الظن اثم اس سے مراد یہ ہے کہ مسلمان کے ساتھ برا گمان کرنا جیسے سامنے طعنہ دینا، پیٹھ پیچھے عیب نکالنا، تمسخر کرنا، مذاق کرنا۔ (جس سے عزت شان کم ہوتی ہو جو عزت کے منافی ہو۔) یہ سب ممنوع ہیں۔ آیت کے اندر بھی یہ خبر دی ہے کہ یہ گناہ ہے اور منوع ہے۔ اس سے منع کیا ہے اور تجسس سے منع کیا ہے۔ وہ ہے مسلمان کے اموال کہ اس کی غیر موجودگی میں ڈھونڈھو بھال کرنا اور نکوائری کرتا اور اس کے گھریلو اور اندرونی معاملات کو معلوم کرنا اور ان کے جاننے کی کوشش کرنا ایسی باتیں جو اگر اس کے علم میں آئیں تو اس کو بری لگیں اور اس پر مشکل گزریں ان کے درپے ہونا ایذا اور تکلیف کے ان اقسام میں سے ہے جن کا نہ کوئی مقتضی ہے نہ اس کی رخصت ہے۔ شیخ نے اس میں تفصیلی کلام کیا ہے۔ فرماتے ہیں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے غیبت سے منع فرمایا ہے۔ ارشاد ہوا۔ (2)۔۔۔۔ ولا یغتب بعضکم بعضاٰ کہ بعض تمہارا بعض کی غیبت نہ کرے۔ یعنی کسی مسلمان کو اس کی غیر موجودگی میں اس طرح یاد نہ کرے کہ اگر وہ حاضر ہو اور سنے تو اس پر مشکل گزرے اور شاق گزرے۔ اور غیبت کرنے کو میت کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی گئی ہے اس لئے کہ میت نہیں جانتا کہ اس کا گوشت کھا رہا ہے جیسے غائب نہیں جانتا کہ اس کی عزت سلب ہو رہی ہے۔ اور کسی مسلمان کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ مصاحب ہو مسلمان کے لئے اور یہ بھی مناسب نہیں ہے کہ اس کے ساتھ سخت کلامی کرے اور نہ یہ کہ اس کی برائی کے درپے ہو اور نہ یہ کہ اس کو پریشان کرے۔ اور بہت سی احادیث اس بارے میں انشاءاللہ ہم ان کو درج کریں گے اور کچھ مناسب اضافہ بھی اللہ کی توفیق کے ساتھ۔

نحن معه ← كان معروف الكرخي على الدجلة ← إبراهيم بن الأطروش ← أحمد بن جعفر السامري ← أبو عبد الله الفضل بن عبد الله الفضل الهاشمي ← أبو بكر بن بندار الزنجاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6702

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6703

6703 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر الفقيه ح وأخبرنا أبو عبد الله و أبو زكريا بن أبي إسحاق قالا أنا أبو الحسن بن عبدوس الطرائفي نا عثمان بن سعيد الدارمي نا القعنبي فيما قرأ على مالك ح وأخبرنا : أبو عبد الله بن يعقوب نا جعفر بن محمد و محمد بن عبد السلام قالا نا يحيى بن يحيى قال : قرأت على مالك عن أبي الزناد وعن الأعرج عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إياكم والظن فإن الظن أكذب الحديث ولا تجسسوا ولا تحاسدوا ولا تباغضوا ولا تدابروا و كونوا عباد الله إخوانا رواه البخاري عن عبد الله بن يوسف ورواه مسلم عن يحيى بن يحيى كلاهما عن مالك

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو نضر فقیہ نے’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ اور ابو زکریا بن ابو اسحاق نے دونوں کو ابو الحسن بن عبدوس طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو قعنبی نے اس میں جو اس نے پڑھی مالک پر’’ح‘‘۔ اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ بن یعقوب نے ان کو جعفر بن محمد اور محمد عبدالسلام نے دونوں کو کہایحییٰ بن یحییٰ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے پڑھی مالک کے سامنے اس نے ابو الزناد سے اس نے اعرج سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچو تم گمان کرنے سے بے شک گمان سب سے زیادہ جھوٹی بات ہوتی ہے اور کسی کی جاسوسی نہ کرو اور کسی کی عیب جوئی نہ کرو ایک دوسرے سے حسد نہ کرو۔ ایک دوسرے کے ساتھ بغض نہ کرو ایک دوسرے کو پیٹھ دے کر چھوڑ نہ جاؤ۔ اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے عبداللہ بن یوسف سے اور مسلم نے اس کو روایت کیا ہے یحییٰ بن یحییٰ سے دونوں نے مالک سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي الزِّنَادِ، وَعَنِ الْأَعْرَجِ، ← على مالك، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← جعفر بن محمد و محمد بن عبد السلام ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ يَعْقُوبَ ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو الحسن بن عبدوس الطرائفي ← وأخبرنا أبو عبد الله و أبو زكريا بن أبي إسحاق ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6703

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6704

6704 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا الحلواني نا أحمد بن يحيى وأخبرني الهيثم بن الشعراني و الأسفاطي قالوا نا أحمد بن عبد الله بن يونس نا أبو بكر بن عياش عن الأعمش عن سعيد بن عبد الله بن جريج عن أبي برزة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا معشر من آمن بلسانه ولم يدخل الإيمان في قلبه لا تغتابوا المسلمين ولا تتبعوا عوراتكم فإنه من يتبع عورات المسلمين يتبع الله عورته ومن يتبع الله عورته يفضح وهو في بيته لفظ حديث الحلواني

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو حلوانی نے ان کو احمد بن یحییٰ نے اور ان کو خبر دی بیثم بن شعرانی نے اور اسقاطی نے وہ سب کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی احمد بن عبداللہ بن یونس نے ان کو ابو بکر بن عیاش نے ان کو اعمش نے ان کو سعید بن عبداللہ بن جریج نے ان کوا بو برزہ ہونے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! کون ہے جو محض اپنی زبان کے ساتھ ایمان لے آیا ہے اور ایمان اس کے دل میں داخل نہیں ہوا مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور ان کی کمزوریوں کو اور عیبوں کے پیچھے نہ پڑو۔ بے شک جو آدمی مسلمانوں کے عیوب تلاش کرنے کے لئے ان کے پیچھے پڑےگا اللہ تعالیٰ اس کے عیبوں کا پیچھا کرے گا اور اللہ تعالیٰ جس کے عیب تلاش کرے وہ اس کو اس کے گھر میں بیٹھے بیٹھے رسوا کر دے گا۔ یہ حلوانی کی حدیث کے الفاظ ہیں۔

أَبِي بَرْزَةَ: ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُرَيْجٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، ← أحمد بن يحيى وأخبرني الهيثم بن الشعراني و الأسفاطي ← الْحُلْوَانِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6704

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6705

6705 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا محمد بن الفرج الأزرق نا شاذان نا إسرائيل عن الأعمش عن أبي وائل عن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تغتابوا المسلمين ولا تردوا الهدية ولا تضربوا المسلمين

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن فرج ازرق نے ان کو شاذان نے ان کو اسرائیل نے ان کو اعمش نے ان کو ابو وائل نے ان کو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں کی غیبت نہ کیا کرو۔ اور ہدیہ واپس رد نہ کیا کرو اور مسلمانوں کو پیٹا نہ کرو۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← اِسْرَائِیْلُ ← شَاذَانُ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6705

chevron_left Previous
12345…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood