Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6682

6682 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى نا أبو العباس هو الأصم نا أحمد بن الفضل الصائغ نا آدم نا أبو عمر البزاز عن أبي إسحاق الهمداني عن عاصم بن ضمرة عن علي بن أبي طالب قال : ـ { قولوا للناس حسنا } قال يعني الناس كلهم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے یعنی عباس اصم نے ان کو احمد بن فضل صائغ نے ان کو آدم نے ان کو ابو عمر بزاز نے ان کو ابو اسحٰق ہمدانی نے ان کو عاصم بن حمزہ نے ان کو علی بن ابی طالب نے فرمایا کہ اللہ کا فرمان قولو اللناس لوگوں سے اچھی بات کرو۔ تو اس سے سارے ہی لوگ مراد ہیں۔

يعني الناس كلهم ← قولوا للناس حسنا ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← اَبِیْ اِسْحَاقَ الْھَمْدَانِیِّ ← أبو عمر البزاز ← آدَمُ، ← أحمد بن الفضل الصائغ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6682

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6683

6683 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا سهل بن عبد الله بن الفرخان الزاهد نا هشام بن حماد نا سهل بن هاشم عن إبراهيم بن أدهم عن عمران القصير قال : كان يقال إن خير خصلة أو أفضل خصلة تكون في الإنسان أن يكون أشد الناس خوفا على نفسه وأرجاه لكل مسلم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو سہل بن عبداللہ بن فرخان زاہد نے ان کو ہشام بن حماد نے ان کو سہل بن ہاشم نے ان کو ابراہیم بن ادہم نے ان کو عمران قصیر نے وہ کہتے ہیں کہ کہا جاتا تھا کہ انسان میں اچھی خصلت یا افضل خصلت یہ ہے کہ انسان اپنی نجات کے بارے میں سب لوگوں سے زیادہ ڈرتا ہو اپنے بارے میں اور ہر مسلمان کے لئے زیادہ امید رکھتا ہو۔

عِمْرَانُ الْقَصِيرُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَدْهَمَ ← سَهْلُ بْنُ هَاشِمٍ ← هشام بن حماد ← سهل بن عبد الله بن الفرخان الزاهد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6683

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6684

6684 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسين محمد بن أحمد بن حامد العطار أنا أحمد بن الحسن بن عبد الجبار نا يحيى بن معين نا معتمر بن سليمان عن ابن عون قال : كان محمد يعني ابن سيرين من أرجى الناس لهذه الأمة وأشدهم ازراء على نفسه

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو الحسین محمد بن احمد بن حامد عطار نے ان کو احمد بن حسن بن عبدالجبار نے ان کو یحیی بن معین نے ان کو معتمر بن سلیمان نے ان کو ابن عون نے وہ کہتے ہیں کہ محمد بن سیرین اس امت کے بارے میں سب سے زیادہ امید رکھتے تھے اور اپنے آپ کو حقیر سمجھنے میں سب لوگوں سے زیادہ تخت تھے۔

ابْنِ عَوْنٍ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أبو الحسين محمد بن أحمد بن حامد العطار، ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6684

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6685

6685 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أحمد بن سلمان الفقيه نا الحارث بن محمد نا إسحاق بن عيسى بن الطباع نا مالك ح وأخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا أبو الحسين بن ماني نا أحمد بن حازم بن أبي غرزة نا خالد بن مخلد القطواني نا مالك ح وأخبرنا أبو نصر محمد بن أحمد بن إسماعيل الطابراني بها نا عبد الله بن أحمد بن منصور القاضي الطوسي نا محمد بن إسماعيل الصائغ نا روح نا مالك ح وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني إبراهيم بن عصمة بن إبراهيم نا أبي نا يحيى بن يحيى قال قرأت على مالك عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا قال الرجل هلك الناس فهو أهلكم وفي رواية روح بن عبادة و خالد إذا سمعت الرجل يقول هلك الناس فهو أهلكم وزاد إسحاق بن عيسى في روايته قلت لمالك مما وجه هذا : قال : هذا رجل حقر الناس وظن أنه خير منهم فقال هذا القول فهو أهلكم أي أرذلهم وأما رجل حزن لما يرى من النقص في ذهاب الخير فقال هذ القول فإني لأرجو أن لا يكون بأس قال الشيخ : وزاد خالد بن مخلد في روايته قال مالك وذلك عندي يقول هلك الناس معجبا بنفسه وأنه لم يبق مثله ورواه مسلم في الصحيح عن يحيى بن يحيى

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن سلیمان فقیہ نے ان کو حارث بن محمد نے ان کو اسحاق بن عیسیٰ بن طباع نے ان کو مالک نے ’’ح‘‘۔ ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فصل قطان نے ان کو ابو الحسین بن مانی نے ان کو احمد بن حازم بن ابو غرزہ نے ان کو خالد بن مخلد قطوانی نے ان کو مالک نے ’’ح“۔ ہمیں خبر دی ابو نصر محمد بن احمد بن اسماعیل طابرانی نے طابران میں ان کو عبداللہ بن احمد بن منصور قاضی طوسی نے ان کو محمد بن اسماعیل صائغ نے ان کو روح نے ان کو مالک نے ’’ح“۔ اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابراہیم بن عصمہ بن ابراہیم نے ان کو ان کے والد نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے پڑھی مالک پر اس نے سہیل بن ابی صالح سے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب کوئی آدمی یہ کہے کہ لوگ ہلاک ہو جائیں گے تو وہ سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہو گا۔ اور روح بن عبادہ کی ایک روایت میں ہے اور خالد کی کہ تم جب یہ سنو کسی آدمی سے کہ لوگ ہلاک ہو گئے تو وہ ان سب سے زیادہ ہلاک ہو گا۔ اور اسحاق بن عیسیٰ نے اپنی روایت میں سے اضافہ کیا ہے۔ کہ میں نے کہا ما لک سے کہ یہ کس وجہ سے ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ۔ یہ آدمی لوگوں کی تذلیل کرتا ہے اور ان کو حقیر سمجھتا ہے اور وہ یہ گمان کرتا ہے کہ وہ ان سب سے بہتر ہے لہٰذا یہ قول کرتا ہے۔ تو وہ ان سب سے زیادہ اہل ہے یعنی ارذل ہے یعنی سب سے زیادہ رذیل وحقیر ہے۔ بہر حال وہ آدمی جو محزون اور مغموم ہو اہل خیر کے چلے جانے سے جو کمی اور نقص واقع ہواس کو دیکھ کر اگر وہ یہ قول کرے تو میں امید کرتا ہوں کوئی ڈر نہیں ہو گا۔ شیخ نے فرمایا کہ خالد بن مخلد نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ مالک نے کہا ہے اور یہ بات ہے میرے نزدیک کہ ایسا شخص کہتا ہے لوگ ہلاک ہو گئے اپنے آپ کو اچھا سمجھتے ہوئے وہ سمجھتا ہے کہ اس جیسا اب باقی کوئی نہیں ہے (توبہ تکبر اور غرور ہے اور دوسروں کو حقیر اور کمتر سمجھنا ہے) اس کومسلم نے روایت کیا یحییٰ بن یحییٰ سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← على مالك، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← مَالِكٍ، ← رَوْحٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ ← عبد الله بن أحمد بن منصور القاضي الطوسي ← وأخبرنا أبو نصر محمد بن أحمد بن إسماعيل الطابراني بها ← مَالِكٍ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْقَطَوَانِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أبو الحسين بن ماني ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ ← مَالِكٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، ← الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6685

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6686

6686 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن بن عبده نا أبو علي البوشنجي قال : قال ابن بكير قيل لمالك ما أهلكهم يا عبد الله ؟ قال : أدناهم وافشلهم

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو الحسن بن عبدہ نے ان کو ابو علی بوشنجی نے وہ کہتے ہیں کہ کہا ابن بکیر نے حضرت مالک سے کہا گیا تھا کہ کون زیادہ ہلاک ہونے والا ہے اے عبداللہ ؟ اس نے کہا کہ سب لوگوں سے زیادہ کمینہ اور سب لوگوں سے زیادہ کاہل (یا سب سے زیادہ بزدل)۔

أدناهم وافشلهم ← ابن بكير قيل لمالك ما أهلكهم يا عبد الله ← أبو علي البوشنجي ← أبو الحسن بن عبدة ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6686

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6687

6687 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب القاضي نا محمد بن أبي بكر نا معتمر بن سليمان عن أبيه عن أبي عمران عن جندب قال : وطئ رجل على عنق رجل وهو يصلي فقال الرجل والله لا يغفر لك هذا أبدا فقال الله عز و جل من هذا الذي يتألى علي أن لا أغفر له فقد غفرت له وأحبطت عملك قال الشيخ : هكذا وجدته موقوفا وقد

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد مقریٔ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو محمد بن ابو بکر نے ان کو معتمر بن سلیمان نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو عمران نے ان کو جندب نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا دوسرا آدمی اس کی گردن کے اوپر سے پھلانگ گیا (یا گردن پر پیر رکھ کر آگے نکل گیا) اس آدمی نے کہا اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ تیری اس غلطی کو بھی معاف نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ کون ہوتا ہے؟ جو مجھ کو قسمیں دیتا ہے کہ میں اس کو معاف نہیں کروں گا۔ میں نے اس کو معاف کر دیا ہے اور تیرے اعمال تباہ کر دیئے ہیں۔ شیخ نے فرمایا کہ میں نے اس کو اسی طرح موقوف پایا ہے۔

جُنْدُبٍ ← أَبِي عِمْرَانَ، ← أَبِيهِ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6687

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6688

6688 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الحسن أحمد بن محمد العنزي نا عثمان بن سعيد الدارمي نا سويد بن سعيد ح وأخبرنا أبو عبد الله نا أبو الحسن أحمد بن إسحاق الصيدلاني العدل إملاء نا أبو الفضل أحمد بن سلمة نا أبو سلمة يحيى بن خلف الباهلي نا معتمر بن سليمان قال : سمعت أبي نا أبو عمران عن جندب : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم : حدث أن رجلا قال والله لا يغفر الله لفلان وقال الله من ذا الذي يتألى علي لا أغفر لفلان فإني غفرت لفلان وأحبطت عملك أو كما قال لفظ حديث أبي سلمة وفي رواية سويد عن عروة والباقي سواء رواه مسلم في الصحيح عن سويد بن سعيد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسن احمد بن محمد غنری نے ان کو پہچان بن سعید دارمی نے ان کو سوید بن سعید نے ’’ح‘‘۔ اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ نے ان کو ابو الحسن احمد بن اسحٰق صیدلانی عدل نے بطور املاء کے ان کو ابو الفضل احمد بن سلمہ نے کو ابو سلمہ یحییٰ بن حلف باہلی نے ان کو معتمر بن سلیمان نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا انہوں نے ابو عمران سے اس نے جندب سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث بیان فرمائی کہ ایک آدمی نے کہا اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ فلاں شخص کو معاف نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کون ہے؟ جو مجھ قسمیں کھاتا ہے کہ میں فلاں کو معاف نہیں کروں گا۔ بے شک میں نے فلاں کو معاف کر دیا ہے۔ اور میں نے تیرے عمل ضائع کر دیئے ہیں یا جیسے آپ نے فرمایا۔ یہ الفاظ ابو سلمہ کی روایت کے ہیں اور سوید کی روایت میں ہے عرعرہ سے اور باقی برابر ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح سوید بن سعید سے۔

جُنْدُبٍ ← أَبُو عِمْرَانَ ← أَبِي ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أبو سلمة يحيى بن خلف الباهلي ← أبو الفضل أحمد بن سلمة ← أبو الحسن أحمد بن إسحاق الصيدلاني العدل إملاء ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو الحسن أحمد بن محمد [العنزي. ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6688

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6689

6689 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا ابن أبي قماش و محمد بن حبان البخاري نا أبو الوليد الطيالسي نا عكرمة يعني ابن عمار عن ضمضم بن جوس قال : دخلت مسجد رسول الله صلى الله عليه و سلم فإذا أنا بشيخ مضفر رأسه أو قال لحيته براق الثنايا ومعه رجل شاب أدعج فقال لي الشيخ من أنت ؟ قلت : من أهل اليمامة فقال لي : يا يمامي لا تقولن لأحد لا بغفر الله لك أو لا يدخلك الجنة أبدا قال : قلت إنها كلمة يقولها أحدنا لولده أو لخادمه إذا غضب فمن أنت يرحمك الله قال : أنا أبو هريرة سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : كان فيمن كان قبلكم أخوان أحدهما يجتهد في العبادة والآخر مسرف وكان المجتهد في العبادة إذا أبصر المسرف على خطيئة استعظمها وقال : ويحك راقب الله ويحك اقصر فيقول له المسرف خلني وربي أبعثت علي رقيبا قال : حتى رآه على خطيئة فاستعظمها فقال : ويحك إلى كم لا يغفر الله لك أبدا قال : فبعث إليهما ملك فقبض أرواحهما فاجتمعا عنده فقال المجتهد : أكنت تحظر رحمتي على عبدي أم كنت بسعة مغفرتي أم كنت ؟ اذهبوا بهذا إلى الجنة واذهبوا بهذا إلى النار يعني المجتهد قال أبو هريرة : فلقد تكلم بكلمة أذهبت دنياه وآخرته أو كما قال

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ابو قماش نے اور محمد بن حبان بخاری نے ان کو ابو الولید طیالیسی نے ان کو عکرمہ نے یعنی ابن عمار نے ان کو ضمضم بن جوس نے وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک شخ بیٹھا ہے اس کا سر زرد رنگ تھا اور داڑھی انتہائی سفید تھی اور اس کے ساتھ ایک جوان بیٹھا تھا انتہائی کالے بالوں والا ، شیخ نے مجھ سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ میں نے کہا کہ میں اہل یمامہ سے ہوں، اس نے مجھ سے کہا اے یمامی کسی کے بارے میں یہ ہرگز نہ کہنا کہ اللہ تجھے معاف نہیں کرے گا۔ یا تجھے اللہ جنت میں داخل بھی نہیں کرے گا۔ یہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا۔ یہ ایسا کلمہ ہے جسے ہم میں سے ایک آدمی اپنے بیٹے سے کہتا ہے یا اپنے نوکر سے کہتا ہے جب اس پر ناراض ہوتا ہے آپ کون ہیں؟ اللہ تجھ پر رحم کرے؟ انہوں نے کہا کہ میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا آپ فرماتے تھے کہ پہلی امتوں میں دو بھائی تھے ایک عبادت میں بڑی کوشش اور اہتمام سے لگا رہتا تھا اور دوسرا مسرف تھا فضول خرچ آدمی تھا (ادھر اُدھر مال ضائع کرتا پھرتا تھا) عبادت کا اہتمام کرنے والا شخص جب بھائی کو غلطی کرتا ہوا دیکھتا تو اس کو ملکی بہت بڑی لگتی۔ اور وہ اس سے کہتا اللہ تجھے ہلاک کرے اللہ کا انتظار کر ہلاک ہو جائے رک جا غلطی کرنے سے۔ غلطی کرنے والا اس سے یہ کہہ دیتا کہ مجھے چھوڑ دیں بس میرے رب کے حوالے رکھیں۔ کیا تو میرا نگران لگا ہوا ہے۔ فرمایا کہ ایک مرتبہ اس نے اسے غلطی کرتے ہوئے دیکھا تو اس نے اسی کے گناہ کو بہت بڑا سمجھا اور کہا کہ ہلاک ہو جائے کب تک تو غلطی کرے گا اللہ تجھے بھی معاف نہیں کرے گا کہا اللہ تعالیٰ نے دونوں کے پاس فرشتہ بھیج کر ان کی روح قبض کر لی دونوں اللہ کے آگے اکٹھے ہو گئے عبادت گزار سے اللہ نے کہا کیا تو میرے بندے پر میری رحمت کو روکتا تھا؟ یامیری رحمت کی وسعت صرف تیرے لئے تھی؟ لے جاؤ اس کو جہنم میں (یعنی عابد کو) اور لے جاؤ اس کو جنت میں (یعنی گنہگار کو) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس نے ایسا کلمہ کہا تھا جواں کی دنیا بھی برباد ہو گئی اور آخرت بھی۔

ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ، ← عكرمة يعني ابن عمار ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← ابن أبي قماش و محمد بن حبان البخاري ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6689

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6690

6690 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا عبد الرحمن بن صالح نا علي بن ثابت نا جعفر بن برقان عن يزيد بن الأصم عن عمر بن الخطاب قال : إذا رأيتم أخاكم زل زلة فقوموه وسددوه وادعوا الله أن يتوب عليه ويراجع به إلى التوبة ولا تكونوا أعوانا للشيطان عليه

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کوعبدالرحمٰن بن صالح نے ان کو علی بن ثابت نے ان کو جعفر بن برقان نے ان کو یزید بن اصم نے ان کو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ جب تم اپنے کسی بھائی کو دیکھو کہ وہ پھسل رہا ہے تو اس کے سیدھا چلا دو اور درست کر دیا کرو اور اللہ سے دعا کیا کر اللہ اس کی توبہ قبول کر لے اور اس کو توبہ کرنے کی ترغیب دی جائے اور تم لوگ اس کے خلاف شیطان کے مددگار نہ ہو جاؤ۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← عَلِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← عبد الرحمن بن صالح ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6690

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6691

6691 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن أيوب عن أبي قلابة أن أبا الدرداء مر على رجل قد أصاب ذنبا وكانوا يسبونه : فقال : أرأيتم لو وجدتموه في قليب ألم تكونوا تستخرجنه ؟ قالوا : بللا قال : فلا تسبوا أخاكم واحمدوا الله الذي عافاكم قالوا : أفلا نبغضه ؟ قال : إنما أبغض عمله فإذا ترك فهو أخي

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ایوب نے ان کو ابو قلابہ نے ان کو ابو داؤد نے کہ وہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے جس نے کوئی گناہ کیا تھا لوگ اس کو گالیاں دے رہے تھے۔ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر تم لوگ دیکھتے کہ وہ کسی کھویا کھائی میں گر گیا ہے تو کیا تم لوگ اس کو اس سے باہر نہ نکالتے ؟ لوگوں نے جواب دیا کہ ضرور نکالتے۔ آپ نے فرمایا کہ تم اپنے بھائی کو گالیاں مت دو اور اللہ کا شکر کرو جس نے تمہیں عافیت بخشی ہے۔ لوگوں نے کہا کہ کیا ہم اس کو برا نہیں سمجھیں؟ فرمایا کہ میں بھی اس کے عمل سے نفرت کرتا ہوں جب وہ اس عمل کو ترک کر دے گا تو وہ میرا بھائی ہے۔

أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6691

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6692

6692 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن أبي إسحاق عن أبي عبيدة عن ابن مسعود قال : إذا رأيتم أخاكم قارفا ذنبا فلا تكونوا أعوانا للشيطان عليه تقولون اللهم أخزه اللهم العنه ولكن سلوا الله العافية فإنا أصحاب محمد صلى الله عليه و سلم كنا لا نقول في أحد شيئا حتى نعلم ما نضوب فإن ختم له بخير علمنا أنه قد أصاب خيرا وإن ختم له بشر خفنا عليه عمله

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ابو اسحاق نے ان کو ابو عبیدہ نے ان کو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے وہ فرماتے ہیں کہ جب تم لوگ اپنے مسلمان بھائی کو گناہ کا ارتکاب کرتے دیکھو تو اس کے خلاف شیطان کے مددگار نہ بن جاؤ مثلاً دیکھو کہ یہ کہنا کہ اے اللہ تو اس کو ذلیل ورسوا فرما۔ اے اللہ تو اس کو لعنت فرما بلکہ اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگو بے شک ہم لوگ اصحاب محمد کسی کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہتے تھے حتٰی کہ ہم دیکھ لیتے تھے اس کا خاتمہ کیا ہوا ہے اگر اس کا خاتمہ اچھا ہوتا تو ہم جان لیتے تھے کہ اس نے خیر کو پا لیا ہے۔ اور اگر اس کا خاتمہ برا ہوتا تھا تو ہم اس کے بارے میں اس کے اعمال سے ڈرتے تھے۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6692

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6693

6693 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس هو الأصم نا محمد بن إسحاق قال : لو بغى جبل على جبل لجعل الله الباغي منهما دكا تابعه فطر عن أبي يحيى القتات

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو محمد بن اسحٰق نے وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی پہاڑ بھی کسی پہاڑ پر ظلم وزیادتی کرتا تو اللہ ان دونوں میں سے زیادتی کرنے والے کوٹکڑے ٹکڑے کر دے قطع نے ابو یحییٰ قتات سے اس کا تابع بیان کیا ہے۔

أبي يحيى القتات ← لو بغى جبل على جبل لجعل الله الباغي منهما دكا تابعه فطر ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6693

chevron_left Previous
1234…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood