شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم أعراض الناس وما يلزم من ترك الوقوع فيها · حديث 6658
6658 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنا الحسن بن علي بن زياد نا عبد العزيز بن عبد الله الأويسي حدثني سليمان بن بلال عن ثور بن يزيد عن أبي الغيث عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : اجتنبوا السبع الموبقات قالوا : يا رسول الله وما هن ؟ قال : الشرك بالله والسحر وقتل النفس التي حرم الله إلا بالحق وأكل الربا وأكل مال اليتيم والتولي يوم الزحف وقذف الغافلات المؤمنات رواه البخاري في الصحيح عن عبد العزيز الأويسي وأخرجه مسلم من وجه آخر عن سليمان قال الحليمي رحمه الله فكان لا يحل لأحد أن يقذف المحصنة البريئة فكذلك لا ينبغي له أن يقذف غير البريئة فإن ذلك يؤذينا ويهتك سترها وبسط الكلام فيه وقد روينا ما ورد من الأخبار في الستر على أهل الحدود في آخر كتاب الحدود من كتاب السنن منها حديث ابن عمر أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من ستر على مسلم ستره الله يوم القيامة
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحاق فقیہ نے ان کو حسن بن علی بن زیاد نے ان کو عبدالعزیز بن عبداللہ اویس نے ان کو سلیمان بن بلال نے ان کو ثور بن یزید نے ان کو ابو الغیث نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات بلاک کرنے والے کاموں سے بچو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ وہ سات کام کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ یہ ہیں: (1) اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا۔ (2) جادو کرنا۔ (3) کسی انسان کو ناحق قتل کرنا جسے قتل کرنا اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ۔(4) سود کھانا۔ (5) ناحق یتیم کا مال کھانا۔ (6) جنگ کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگنا۔(7) گناہ سے پاک ایماندار عورتوں پر تہمت لگانا۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں عبدالعزیز اویسی ہے۔ اور مسلم نے روایت کیا ہے، دوسرے طریق سے سلیمان سے۔ شیخ حلیمی رحمہ اللہ نے فرمایا: جیسے کسی شخص کے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ وہ کسی بے گناہ پاک دامن عورت پر تہمت لگائے اسی طرح یہ بات بھی مناسب نہیں ہے اس کے لئے کہ وہ کسی ایسی عورت پر تہمت لگائے جو گناہ سے بری نہ ہواس لئے کہ یہ بات اس کو تکلیف اور ایذا دے کی اور اس کی پردہ پاشی کرے گی۔ شیخ نے اس بارے میں تفصیل کے ساتھ کلام کیا ہے اور ہم نے کتاب السنن کے کتاب الحدود میں وہ احادیث روایت کی ہیں جواہل حدود پر (جن لوگوں پر حد زنا لازم ہے) پردہ پوشی کرنے کے بارے میں وارد ہوئی ہیں۔ ان احادیث میں سے ایک حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من ستو علی مسلم سترہ اللہ یوم القیٰمۃ جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر پردہ ڈالے گا۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي الْغَيْثِ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، ← الحسن بن علي بن زياد ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › It is a chapter in the prohibition of people's symptoms and what is necessary to avoid falling into them · Hadith 6658
