Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم أعراض الناس وما يلزم من ترك الوقوع فيها · حديث 6658

6658 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنا الحسن بن علي بن زياد نا عبد العزيز بن عبد الله الأويسي حدثني سليمان بن بلال عن ثور بن يزيد عن أبي الغيث عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : اجتنبوا السبع الموبقات قالوا : يا رسول الله وما هن ؟ قال : الشرك بالله والسحر وقتل النفس التي حرم الله إلا بالحق وأكل الربا وأكل مال اليتيم والتولي يوم الزحف وقذف الغافلات المؤمنات رواه البخاري في الصحيح عن عبد العزيز الأويسي وأخرجه مسلم من وجه آخر عن سليمان قال الحليمي رحمه الله فكان لا يحل لأحد أن يقذف المحصنة البريئة فكذلك لا ينبغي له أن يقذف غير البريئة فإن ذلك يؤذينا ويهتك سترها وبسط الكلام فيه وقد روينا ما ورد من الأخبار في الستر على أهل الحدود في آخر كتاب الحدود من كتاب السنن منها حديث ابن عمر أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من ستر على مسلم ستره الله يوم القيامة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحاق فقیہ نے ان کو حسن بن علی بن زیاد نے ان کو عبدالعزیز بن عبداللہ اویس نے ان کو سلیمان بن بلال نے ان کو ثور بن یزید نے ان کو ابو الغیث نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات بلاک کرنے والے کاموں سے بچو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ وہ سات کام کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ یہ ہیں: (1) اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا۔ (2) جادو کرنا۔ (3) کسی انسان کو ناحق قتل کرنا جسے قتل کرنا اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ۔(4) سود کھانا۔ (5) ناحق یتیم کا مال کھانا۔ (6) جنگ کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگنا۔(7) گناہ سے پاک ایماندار عورتوں پر تہمت لگانا۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں عبدالعزیز اویسی ہے۔ اور مسلم نے روایت کیا ہے، دوسرے طریق سے سلیمان سے۔ شیخ حلیمی رحمہ اللہ نے فرمایا: جیسے کسی شخص کے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ وہ کسی بے گناہ پاک دامن عورت پر تہمت لگائے اسی طرح یہ بات بھی مناسب نہیں ہے اس کے لئے کہ وہ کسی ایسی عورت پر تہمت لگائے جو گناہ سے بری نہ ہواس لئے کہ یہ بات اس کو تکلیف اور ایذا دے کی اور اس کی پردہ پاشی کرے گی۔ شیخ نے اس بارے میں تفصیل کے ساتھ کلام کیا ہے اور ہم نے کتاب السنن کے کتاب الحدود میں وہ احادیث روایت کی ہیں جواہل حدود پر (جن لوگوں پر حد زنا لازم ہے) پردہ پوشی کرنے کے بارے میں وارد ہوئی ہیں۔ ان احادیث میں سے ایک حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من ستو علی مسلم سترہ اللہ یوم القیٰمۃ جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر پردہ ڈالے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي الْغَيْثِ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، ← الحسن بن علي بن زياد ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › It is a chapter in the prohibition of people's symptoms and what is necessary to avoid falling into them · Hadith 6658

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم أعراض الناس وما يلزم من ترك الوقوع فيها · حديث 6659

6659 - وأخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة نا أبو داود نا مسلم بن إبراهيم نا عبد الله بن المبارك عن إبراهيم بن نشيط عن كعب بن علقمة عن أبي الهيثم عن عقبة بن عامر : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من رأى عورة فسترها كان كمن أحيا موءودة

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کومسلم بن ابراہیم نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے کو ابراہیم بن نسیط نے ان کو کعب بن علقمہ نے ان کو ابو الہیثم نے ان کو عقبہ بن عامر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا: من رأی عورۃ فسترھا کان کمن احیاموؤدۃ جو شخص کی کا عیب و گناہ دیکھے اور اس کو چھپالے(پردہ پوشی کرے) وہ ایسا ہے جو اس سے زندہ درگور کی ہوئی کو زندہ کر دیا ہو۔

من رأى عورة فسترها كان كمن أحيا موءودة ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَشِيطٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › It is a chapter in the prohibition of people's symptoms and what is necessary to avoid falling into them · Hadith 6659

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6660

6660 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو جعفر محمد بن عبد الله العلوي النقيب بالكوفة نا الحسين بن الحكم الحبري و محمد بن عيسى بن السكن و هشام بن علي نا عبد الله بن مسلمة القعنبي نا داود بن قيس عن أبي سعيد مولى عامر بن كريز عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا تحاسدوا ولا تباغضوا ولا تناجشوا ولا تدابروا ولا يبع بعضكم على بيع بعض وكونوا عباد الله إخوانا المسلم أخو المسلم لا يظلمه ولا يخذله ولا يحقره التقوى ههنا يشير إلى صدره ثلاث مرات بحسب امرئ من الشر أن يحقر أخاه المسلم كل المسلم على المسلم حرام دمه وماله وعرضه رواه مسلم في الصحيح عن عبد الله بن مسلمة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر محمد بن عبداللہ علوی نقیب نے کوفے میں ان کو حسین بن قیس نے ان کو ابو سعید مولیٰ عامر بن کریز نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ایک دوسرے کے ساتھ حسد نہ کرو۔ آپس میں بغض نہ رکھو۔ فریدوفروخت میں ایک دوسرے پر چڑھتی نہ کرو (یعنی زیادہ قیمت لگا کر دوسرے سے پہلے خرید لیا۔) ایک دوسرے کو پیٹھ پھیر کر نظر انداز نہ کرو۔ بعض تمہارا بعض کے اوپر بیع نہ کرے۔ اور ہوجاؤ اللہ کے بندے اور آپس میں بھائی بھائی۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ نہ اس پرظلم کرتا ہے۔ نہ ہی اس کو بے مدد چھوڑ کر رسوا کرتا ہے۔ اور نہ ہی اس کی تحقیر وتذلیل کرتا ہے۔ تقویٰ اس جگہ ہوتا ہے تین بار آپ نے سینے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: کسی آدمی کے لئے اتنی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر و تذلیل کرے ہر مسلمان کی دوسرے مسلمان پر عزت محترم ہے اس کا خون محترم ہے اس کا مال محترم ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں عبداللہ بن مسلمہ سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَی عَامِرِ بْنِ کُرَيْزٍ ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ← الحسين بن الحكم الحبري و محمد بن عيسى بن السكن و هشام بن علي ← أبو جعفر محمد بن عبد الله العلوي النقيب ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6660

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6661

6661 - أخبرنا أبو محمد بن عبد الله بن يوسف الأصبهاني نا أبو سعيد بن الأعرابي نا سعدان بن نصر نا سفيان عن زياد بن علاقة سمع أسامة بن شريك يقول : شهدت الأعراب يسألون النبي صلى الله عليه و سلم هل علينا جناح في كذا فقال : عباد الله وضع الله الحرج إلا من اقتراض من عرض أخيه شيئا فذلك الذي حرج قالوا : يا رسول الله ما خير ما يعطي العبد ؟ قال : خلق حسن

ہمیں خبر دی ابو محمد بن عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی سعدان بن نصر نے ان کو سفیان نے ان کو زیاد بن علاقہ نے اس نے سنا اسامہ بن شریک نے وہ کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ دیہاتی لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ے پوچھتے تھے کیا ہمارے اوپر گناہ ہے فلاں فلاں چیز میں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندو اللہ تعالیٰ نے حرج کو اور تکلیف کو کھ دیا ہے مگر وہ شخص جو اپنے بھائی کی عزت میں سے کچھ کم کرے یعنی عزت گھٹائے یہ ہے وہ جس نے گناہ کیا۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ خیر کیا ہے بندہ جو دیا گیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ حسن خلق۔

أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← سُفْيَانَ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أبو محمد بن عبد الله بن يوسف الاصبهاني

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6661

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6662

6662 - أخبرنا : أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا أبو مسلم نا سليمان بن حرب نا شعبة قال ونا ابن عرعرة عن شعبة عن زبيد قال سمعت أبا وائل يحدث عن عبد الله : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : سباب المسلم فسوق وقتاله كفر قال : قلت اسمعته من عبد الله عن النبي صلى الله عليه و سلم ؟ قال نعم رواه البخاري في الصحيح عن ابن عرعرة وأخرجه مسلم من وجه آخر عن شعبة

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ابو مسلم نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو شعبہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابن عرعرہ نے ان کو شعبہ نے ان کو زبیر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو وائل سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں عبداللہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا مسلمان کو گالیاں دینا گناہ ہے اور اس کے ساتھ لڑنا کفر ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا کیا تم نے عبداللہ سے سنا ہے اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے ابن عرعرہ سے اور اس کو مسلم نے نقل کیا ہے دوسرے طریق سے شعبہ سے۔

شُعْبَةُ، ← ابن عرعرة وأخرجه مسلم من وجه آخر ← نعم رواه البخاري في الصحيح ← النبي صلى الله عليه و سلم ← قلت أسمعته من عبد الله ← سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ کُفْرٌ ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبَا وَائِلٍ، ← زُبَيْدٍ، ← شُعْبَةُ، ← ونا ابن عرعرة ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← أَبُو مُسْلِمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6662

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6663

6663 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار نا أحمد بن محمد بن عيسى البرتي نا أبو معمر نا عبد الوارث عن حسين عن ابن بريدة قال حدثني يحيى بن يعمر أن أبا الأسود الدئلي حدثه عن أبي ذر : أنه سمع النبي صلى الله عليه و سلم يقول : لا يرمي رجل رجلا بالفسق ولا يرمه بالكفر إلا ارتدت عليه إن لم يكن صاحبه كذلك رواه البخاري في الصحيح عن أبي معمر وأخرجه مسلم من وجه آخر عن عبد الوارث

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ صفار نے ان کو احمد بن محمد بن عیسیٰ برقی نے ان کو ابو معمر نے ان کو عبدالوارث نے ان کو حسین نے ان کو بن بریدہ نے وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن یعمر نے یہ کہ ابو الاسود دئلی نے اس کو حدیث بیان کی ہے ابو ذر سے اس نے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ فرماتے ہیں۔ جون کسی شخص کو کسی گناہ کی تہمت لگاتا ہے یا کافر ہو جانے کی تہمت لگاتا ہے وہ عیب و گناہ یا کفر اس شخص کوطرف لوٹتا ہے اگر اس میں وہ عیب و گناہ وکفر نہ ہوا جس پر تہمت لگائی گئی تھی۔ بخاری نے اس کو صحیح میں اسی طرح روایت کیا ہے ابو معمر سے اور مسلم نے دوسری طریق سے عبدالوارث سے۔

یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← حُسَيْنٌ ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← أَبُو مَعْمَرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْبِرْتِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6663

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6664

6664 - وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنا إسماعيل بن قتيبة نا يحيى بن يحيى نا إسماعيل بن جعفر عن عبد الله بن دينار أنه سمع ابن عمر يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيما امرئ قال لأخيه كافر فقد باء بها أحدهما إن كان كما قال وإلا رجعت عليه رواه مسلم في الصحيح عن يحيى بن يحيى وغيره قال الحليمي رحمه الله : يحتمل أن يكون معنى ذلك أنه إن وصف ما عليه أخوه المسلم بأنه كفر فقد كفر بنفسه ولم يكن على أخيه منه شيء فإن كان المقول له ذلك يبطن الكفر ويظهر الإسلام فقد صدق الله وليس على القاتل شيء فإن قال يا كافر أي من يبطن الكفر ولا يظهره ولا يكون كذلك فهذا غير مراد بالحديث ولا ينوء أحد منهما بالكفر ويعذر الرامي

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحٰق فقیہ نے ان کو اسماعیل بن قتیبہ نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو اسماعیل بن جعفر نے ان کو عبداللہ بن دینار نے کہ انہوں نے سنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوآ دمی اپنے کسی مسلمان بھائی کو کافر کہتا ہے تو وہ قول کفر دونوں میں سے کسی ایک سے متعلق ہو جاتا ہے اگر وہ شخص ویسا ہے جیسی اس کے بارے میں کہا گیا ہے تو ٹھیک ورنہ وکفر واپس کہنے والے کی طرف لوٹتا ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے یحییٰ بن یحییٰ وغیرہ سے۔ شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ: احتمال ہے کہ اس حدیث کا معنی اور مطلب یہ ہو کہ اگر کہنے والا اپنے مسلمان بھائی کے بارے میں اس کیفیت کو بیان کرتا ہے جس پر وہ ہے بایں طور کہ وہ کیفیت کفر کی ہے تو اس صورت میں یہ بذاتہ خود کافر ہو جائے گا اور اس کے بھائی پر اس سے کوئی شئی نہیں ہو گی۔ اور اگر وہ شخص جس کے بارے میں یہ بات کہی گی ہے اندر کفر چھپاتا ہے اور اوپر سے اسلام کو ظاہر کرتا ہےتو اس صورت میں کہنے والا سچا بناتا ہے لہٰذا اس صورت میں کہنے والے پر کوئی شئی نہیں ہے۔ (یہی دونوں باتیں مراد ہو سکتی ہیں۔) (ایک تیسری صورت بھی ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ) اگر ایک شخص دوسرے مسلمان سے کہتا ہے اے کافر۔ اور اس کی مراد یہ ہوتی ہے کہ اے وہ شخص جو کفر کو چھپائے پھرتا ہے اور اس کو ظاہر نہیں کرتا حالانکہ وہ ایسا نہ ہو۔ یہ صورت حدیث میں مراد نہیں ہے، اس صورت میں کفر دونوں میں سے کسی کی طرف رجوع نہیں کرے گا بلکہ ایسی تہمت لگانے والے کاغذر قبول کیا جائے گا۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ اللَّهِ بن دينار أنه ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6664

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6665

6665 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا إسماعيل بن إسحاق القاضي نا إبراهيم بن الحجاج نا وهيب عن أبي قلابة عن ثابت بن الضحاك : عن النبي صلى الله عليه و سلم : قال من خلف بملة غير الإسلام كاذبا فهو كما قال ومن قتل نفسه بشيء عذب به في نار جهنم ولعن المؤمن كقتله ومن رمى مؤمنا بكفر فهو كقتله رواه البخاري في الصحيح عن معلى بن أسد عن وهب وأخرجه مسلم من وجه آخر عن أيوب

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو اسماعیل بن اسحاق قاضی نے ان کو ابراہیم بن حجاج نے ان کو وہیب نے ان کو ابو قلابہ نے ان کو ثابت بن ضحاک نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس نے قسم کھائی اسلام کے سوا کسی اور ملت کی (یہودیت، عیسائیت، ہندومت، بدھ مت وغیره) حالانکہ جھوٹ بول رہا ہے۔ مگر ووہ ویسا ہے جیسا اس نے کہا ہے (یعنی وہ یہودی عیسائی وغیرہ وغیرہ ہو جائے گا۔) اور جو شخص اپنے آپ کو کسی چیز کے ساتھ قتل کرے (خودکشی کرے) اس کو جہنم کی آگ میں عذاب دیا جائے گا۔اور مسلمان کو لعنت کرنا اس کو قتل کرنے کی طرح ہے۔ اور جو شخص مسلمان کو کفر کی تہمت لگائے وہ اس کو قتل کرنے والے کی طرح ہے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں معلیٰ بن اسد سے اس نے وہب سے۔ اور اس کو مسلم نے نقل کیا ہے دوسرے طریق سے ایوب سے۔ المستبان شیطانان یتھا تران ویتکاذبان۔

ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← وُهَيْبٌ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6665

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6666

6666 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقرئ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب القاضي نا عمرو بن مرزوق أنا عمران القطان عن قتادة عن يزيد بن عبد الله بن الشخير عن عياض بن حماد قال : قلت يا رسول الله الرجل يسبني ؟ قال : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : المستبان شيطانان يتهاتران ويتكاذبان وإن النبي صلى الله عليه و سلم قال : المستبان ما قالا فعلى البادئ أن لا يتعدى المظلوم

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد بن علی مقریٔ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو عمرو بن مرزوق نے ان کو عمران قطان نے ان کو قتادہ نے ان کو یزید بن عبداللہ بن شخیر نے ان کو عیاض بن حماد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ ایک آدمی مجھ کو گالیاں دیتا ہے؟ یعنی اس کا کیا حکم ہے؟ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے کو گالیاں بکنے والے دونوں شیطان ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کو عیب لگاتے ہیں اور دوسرے پر جھوٹ بولتے ہیں۔ اور بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: دو آدمی آپس میں جو گالم گلوچ کرتے ہوئے جو کچھ کہتے ہیں پس پہل کرنے والے پر لازم ہے کہ وہ مظلوم پر ظلم اور تعدی نہ کرے۔

قُلْتُ ← عياض بن حماد ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6666

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6667

6667 - أخبرنا أبو الحسين أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا أبو الربيع نا إسماعيل بن جعفر نا العلاء عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : المستبان ما قالا فعلى البادئ ما لم يعتد المظلوم رواه مسلم في الصحيح عن قتيبة وغيره عن إسماعيل قال الشيخ رضي الله عنه وهذا يدل على جواز الانتصار ما لم يوجد منه عدوان وعندي أنه ليس المراد أن يقابله بمثل قذفه أو سبه ولكنه يكذبه فيما يقول وينسبه إلى الظلم والعدوان بما يقول وقد فرق الحليمي رحمه الله بين الأعراض و الدماء و الأموال حين كان القصاص مشروعا في الدنيا والأموال دون الأعراض فإن القصاص لا يتحقق في الأعراض وذلك لأن الرجل إذا قال لآخر يا زاني فقد نال بهذا القول من عرضه شيئا لأن السامعين يرون أنه علم منه ما قال فلذلك رماه به فإذا قال له المقذوف بل أنت الزاني لم يقع قوله هذا له ذلك الموقع لأنه خرج مخرج المجازاة فيقع للسامعين أن قذف الأول هو الذي حمله على ما قال دون علم كان عنده به فلا يتغير من صورته عندهم بالجواب ما تغير من صورة المقذوف أولا بابتداء القذف فلم يكن نائلا من عرضه مثل ما نال من عرضه فلم يكن قصاصا وبسط الكلام فيه وقد روينا فيما تقدم عن جابر بن سليم أن النبي صلى الله عليه و سلم قال لا تسبن أحدا قال : فما سببت بعده حرا ولا عبدا و لا بعيرا ولا شاة قال : وإن امرؤ شتمك وعيرك بما يعلم فيك فلا تعيره بما تعلم فيه فإنما وبال ذلك عليه

ہمیں خبر دی ابو الحسین نے ان کو حسین بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو ابو الربیع نے ان کو اسماعیل بن جعفر نے ان کو علاء نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپس میں ایک دوسرے کو گالیاں دینے والے اسی مرتبے پر ہوتے ہیں جو کچھ وہ المستبان ماقالا فعلی البادی مالم یعتدالمظلوم ایک دوسرے کو کہتے ہیں ابتدا کرنے والے پر واجب ہے کہ وہ مظلوم پر زیادتی نہ کرے۔ اس کومسلم نے روایت کیا ہے قتیبہ وغیر ہ سے اس نے اسماعیل سے۔ شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ احادیث دلالت کرتی ہیں کہ بدلہ لینا جائز ہے اس وقت جب اس کی خود کی طرف سے زیادتی نہ ہو، اور میرے نزدیک، اس بدلے سے مراد یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے حریف کا مقابلہ اس طرح کرے جیسے اس نے کیا ہے یعنی گالی کا جواب گالی سے دینا اور تہمت کے مقابلے میں تہمت لگانا۔ بلکہ اس کی تکذیب کرے اس بارے میں جو کچھ وہ کہہ رہا ہو اور اس کے اس فعل کو ظلم اور زیادتی قرار دے جو کچھ وہ کہے۔ اور شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے بدلہ لینے کے حوالے سے خون میں مال میں اور عزتوں میں فرق کیا ہے اس وقت بھی جب دنیا میں قصاص اور بدلہ لینا جائز ہو۔ اور مال عزت سے کم تر ہوتے ہیں۔ بے شک قصاص اور بدلہ اعراض میں یعنی عزتوں میں ثابت نہیں ہوتا اور یہ بات اس لئے ہے کہ جب ایک آدمی دوسرے سے کہتا ہے اے زانی اے بد کردار تو وہ یہ کہہ کر اس کی عزت پر حملہ کرتا ہے۔ کیونکہ سامعین یہ خیال کریں گے کہ وہ اس کے زنا اور بد کرداری کو جانتا ہے جبہی تو کہہ رہا ہے اور جبہی اس کو اس نے زنا کی تہمت لگائی ہے۔ اور اس کے جواب میں جب مقذوف جس پر تہمت لگی ہے کہہ دے کہ بلکہ تو زانی ہے تو اس کا یہ جواب تہمت دھرنے والے کی جگہ نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اس سے نتیجہ سمجھا جاتا ہے جو پہلے شخص کے قول سے سمجھا گیا تھا۔ کیونکہ یہ گالی اور یقول بطور بدلے کے نکلا ہے۔ تو اس سے سامعین کے ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ پہلے شخص کی تہمت نے اس کو یہ قول کرنے پر ابھارا ہے یہ اس لئے نہیں کہہ رہا کہ یہ بھی اس کے بارے میں زانی ہونے کا علم رکھتا ہے لہٰذا سامعین کے نزدیک جواب دینے یا سننے سے پہلے شخص کی شخصیت پر اتنا منفی اثر نہیں پڑتا جتنا پہلے شخص کے تہمت لگانے سے تہمت کی ابتداء کرنے کا ہوتا ہے لہٰذا جواب دینے والا اس کی اتنی عزت کم نہیں کرتا جتنا تہمت لگا کر پہلی مرتبہ کم کرتا ہے لہٰذا یہ جوابی گالی اس پہلے شخص کی تہمت کا قصاص اور بدلہ نہیں ہو سکتی۔اور شیخ حلیمی نے اس بارے میں تفصیل کام کیا ہے اور ہم نے ماسبق میں حدیث روایت کی ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بن سلیم سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ لاتسبن احداً کہ تم کسی کو ہرگز گالی نہ دینا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے کسی کو گالی نہیں دی نہ کسی آزاد کو نہ کسی غلام کو نہ کسی اونٹ کو نہ کسی بکری کو اور وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی تجھے کالی بکے اور تجھے عیب لگائے ایسا عیب جس کو وہ تیرے اندر جانتا ہو (یعنی باوجود یکہ وہ عیب تجھ میں موجود بھی ہو) پھر بھی تم اس کو پلٹ کر جواب میں ایسا عیب نہ لگاؤ جو تم اس کے اندر جانتے ہو (کہ اس میں فلاں عیب موجود ہے) لہٰذا اس صورت میں اس عیب لگانے کا گناہ اور وہاں اسی پر ہو گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَينِ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6667

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6668

6668 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة نا أبو داود نا مسدد نا يحيى عن أبي غفار نا أبو تميم الهجيمي عن أبي جري جابر بن سليم : فذكره

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو بکر بن داستہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو مسدود نے ان کو یحییٰ بن غفار نے کو تمیم ہجیمی نے ان کو ابو جری جابر بن سلیم نے اس نے اسی حدیث کو ذکر کیا ہے۔

أبي جري جابر بن سليم فذكره ← أبو تميم الهجيمي ← أَبِي غِفَارٍ ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6668

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6669

6669 - أخبرنا أبو علي الحسين بن محمد الروذباري أنا محمد بن بكر نا أبو داود عيسى بن حمشاذ نا الليث عن سعيد المقبري عن بشير بن المحرر عن سعيد بن المسيب : أنه قال : بينما رسول الله صلى الله عليه و سلم جالس ومعه أصحابه فوقع رجل بأبي بكر رضي الله عنه فآذاه فصمت عنه أبو بكر ثم آذاه الثانية فصمت عنه أبو بكر ثم آذاه الثالثة فانتصر منه أبو بكر فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم حين انتصر أبو بكر فقال أبو بكر : أوجدت علي يا رسول الله ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نزل ملك من السماء يكذبه بما قال لك فلما انتصرت وقع الشيطان فلم أكن لأجلس إذا وقع الشيطان قال أبو داود نا عبد الأعلى بن حماد نا سفيان عن ابن عجلان عن سعيد بن أبي سعيد عن أبي هريرة أن رجلا كان يسب أبا بكر وساق الحديث بنحوه ثم قال الشيخ وقد روينا من حديث يحيى بن سعيد القطان عن ابن عجلان بمعناه وزاد في آخره ثم قال : يا أبا بكر ما من عبد ظلم مظلمة فيقضي عند الله إلا أعز الله عز و جل بها نصره وهو مذكور في كتاب الشهادات من كتاب السنن قال : ولا يحل لأحد أن يعير أحدا بذنب كان منه وقد كان التعيير بالزنا عقوبة للزاني حتى يتوب قبل أن ينزل الحد فلما نزل الحد رفع وأما التعيير بعد التوبة فلما لم يكن مباحا قط قال الله عز و جل : { واللذان يأتيانها منكم فآذوهما فإن تابا وأصلحا فأعرضوا عنهما إن الله كان توابا رحيما } قال : ولا أن يعيره بحسب مذموم ولا حرفة دنية ولا بشيء يثقل عليه إذا سمعه فإن ايذاء المؤمن في الجملة حرام قال الله عز و جل : { والذين يؤذون المؤمنين والمؤمنات بغير ما اكتسبوا } أي من غير أن يكتسبوا بمكان المؤذي وبسط الكلام فيه

ہمیں خبر دی ابو علی حسین بن محمد روذباری نے ان کو محمد بن بکر نے ان کو ابو داؤد عیسیٰ بن حمشاذ نے ان کو لیث نے ان کو سعید مقبری نے ان کو بشر بن محرر نے ان کو سعید بن مسیب نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی ساتھ تھے ایک آدمی نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنا شروع کیا اور ان کو تکلیف اور ایذا پہنچائی مگر ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے پھر دوبارہ اس نے ایذا دی پھر وہ خاموش ہوگئے۔ پھر تیسری بار اس نے تکلیف پہنچائی۔ لہٰذا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس کو جواب دے کر اس سے بدلہ لیا لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے جب ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بدلہ لیا۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا آپ بھی مجھ پر ناراض ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آسمان سے فرشتہ اترا ہے۔ اس نے آ کر اس شخص کو جھوٹا قرار دے دیا ہے۔ اس کی بات میں جو کچھ اس نے کہا ہے۔ جب تم نے اس کو جواب دے کر بدلہ لیا ہے تو شیطان گر گیا ہے جب میں نے شیطان کو گرا ہوا دیکھا ہے تو مجھ سے نہیں بیٹھا گیا لہٰذا میں کھڑا ہو گیا ہوں۔ ابو داؤد نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے عبدلاعلیٰ بن حماد نے ان کو سفیان نے ان کو ابن عجلان نے ان کو سعید بن ابو سعید نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک آدمی تھا جو کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہتا تھا۔ اس کے بعد راوی نے مذکور حدیث کی طرح حدیث بیان کی ہے۔ اس کے بعد شیخ نے کہا ہے کہ تحقیق ہم نے روایت کی ہے یحییٰ بن سعید قطان سے اس نے ابن عجلان سے اس مذکور حدیث کے مفہوم میں اور اس کے آخر میں یہ اضافہ کیا ہے کہ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اے ابو بکر ! جس بندے پر ظلم اور زیادتی کی جاتی ہے پھر وہ اللہ تعالیٰ کے آگے پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس زیادتی کے بدلے میں اس کی مضبوط نصرت فرماتے ہیں۔ یہ حدیث کتاب السنن کی کتاب الشہادات میں مذکور ہے۔ شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا: کسی شخص کے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ وہ کسی شخص کو کسی ایسے گناہ کا عیب لگائے یا طعنہ دے جو اس سے سرزد ہو چکا ہے۔ جب زنا کی حد نہیں اتری تھی تو اس وقت زانی کی سزا عیب لگانا یعنی عار دلانا شرمندہ کرنا شرم دلانا تھی یہاں تک کہ وہ توبہ کر لے جب حد نازل ہوئی تو وہ عیب بیان کر کے شرمندہ کرنے والی سزا اٹھالی گئی۔ بہرحال توبہ کر لینے کے بعد عیب لگانا یا شرم و عار دلاتا یا شرمندہ کرنا اب جائز اور مباح قطعا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ واللذان یأتیانھا منکم فاٰذو ھما فان تابا واصلحافاعرضوا عنھما ان اللہ کان توابا رحیماً وہ دو آدمی جو بدفعلی کریں تم میں سے پس سزا دو تم ان کو۔ اگر وہ اس سے قبل توبہ کر لیں اور نیک بن جائیں تو تم لوگ ان سے درگزر کرو بے شک اللہ تعالیٰ بہت بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ اور شیخ نے فرمایا کہ یہ بات بھی کسی کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ کسی کو اس کے حسب نسب کا طعنہ دے یا عیب لگائے یا شرمندہ کرے۔ اور یہ بھی کسی کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ کسی کو اس کی گھٹیا اور کمتر صنعت وحرفت یا پیشے کا طعنہ دے اور عیب لگائے اور شرمندہ کر لے اور نہ ہی کسی دوسری ایسی چیز کے ساتھ کسی کو شرمندہ کرے جس کو وہ سنے تو اس پر سن کر بوجھ گزرے جس سے وہ شرمند ہ ہو اس لئے کہ فی الجملہ کسی مؤمن کو ایذا پہنچانا اور تکلیف پہنچانا حرام ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: والذین یؤذون المومنین والمؤمنات بغیر ما اکتسبوا اور وہ لوگ جو اہل ایمان مردوں کو اور عورتوں کو تکلیف پہنچاتے ہیں بغیر ان کے جرم کے تحقیق ان لوگوں نے بہتان اور صریح گناہ کمایا ہے۔ یعنی باوجود اس کے کہ انہوں نے ارتکاب ہی نہیں کیا اور ایذا دینے والے کا کوئی جرم ہی نہیں کیا۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← بَشِيرِ بْنِ الْمُحَرَّرِ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← اللَّيْثُ ← أبو داود عيسى بن حمشاذ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ،

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6669

chevron_left Previous
1234…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood