شعب الإيمان · الثالث والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في الحث على ترك الغل والحسد · حديث 6627
6627 - وأخبرنا : أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا سعدان بن نصر نا سفيان عن مسلم بن أبي مريم عن أبي صالح عن أبي هريرة قال ح وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر بن إسحاق إملاء أنا بشر بن موسى نا الحميدي نا سفيان نا مسلم بن إبراهيم عن ابن أبي صالح أنه سمع أبا هريرة : رفعه مرة قال تعرض الأعمال في كل اثنين وخميس فيغفر الله في ذلك اليومين لكل امرئ لا يشرك بالله شيئا إلا امرأ كانت بينه وبين أخيه شحناء فيقال اتركوا هذين حتى يصطلحا لفظ حديث الحميدي رواه مسلم في الصحيح عن ابن أبي مريم عن سفيان وقال : اتركوا هذين قال الحليمي رحمه الله : ومعنى هذا أن من لم يكن مشركا فقد تناله المغفرة ما لم يكن مهاجرا لأخيه المسلم فإنه إذا كان كذلك لم تنله مغفرة وإن لم يكن مشركا وليس المعنى أنه رسول الله يبقى أحد دون المشركين إلا ويغفر له كل اثنين وخميس إنما وجه الحديث ما بينت
ہمیں خبر دی ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو سعدان بن نصر نے ان کو سفیان نے ان کو مسلم بن ابی مریم نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں ’’ح‘‘ ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے کو ابو بکر بن اسحاق نے بطور املاء کے ان کو بشر بن موسیٰ نے ان کو حمیدی نے ان کو سفیان نے ان کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو ابو صالح نے کہ اس نے سنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس نے ایک بار اس کو مرفوع بیان کیا ہے فرمایا: کہ ہر پیر کو اور ہر جمعرات کو اعمال پیش کئے جاتے ہیں۔تعرض الاعمال فی کل اثنین وخمیس فیغفر اللہ ذالک الیومین لکل امرء لا یشرک باللہ شیئاً الا امرء کانت بینہ وبین اخیہ شحناء فیقال اترکوا ھٰذین حتٰی یصطحا ہر پیر کو اور ہر جمعرات کو اعمال پیش کئے جاتے ہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ ان دونوں میں ہر اس انسان کو معاف کرتے ہیں جواللہ کے ساتھ کسی شئی کوشریک نہیں کرتا گر وہ آدمی جس کی اس کے بھائی کے درمیان دشمنی اور عداوت ہے پس کہا جاتا ہے کہ ان دونوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو یہاں تک کے دونوں باہم صلح کر لیں۔ یہ الفاظ حمید کی حدیث کے ہیں۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں ابن ابی مریم سے اس نے سفیان سے اور اس میں ہے کہ چھوڑ دو ان دونوں کو۔ شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص مشرک نہیں ہو گا اس کو مغفرت پالے گی بشرطیکہ وہ شخص اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ ترک تعلق کرنے والا نہ ہو یعنی اگر وہ ایسا ہو گا تو اس کو مغفرت نہیں پہنچے گی اگرچہ وہ مشرک نہ بھی ہو بلکہ موحد ہو۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ مشرکین کے سوا باقی کوئی نہیں رہے گا سب کی مغفرت ہو جائے گی ہر پیر کو اور جمعرات کو یقیناً حدیث کی وہی توجیہ ہے جو ہم نے بیان کی ہے۔
ابْنِ أَبِي صَالِحٍ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ← سُفْيَانَ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ
Shuab ul Iman · Forty-third of the people of faith › It is a section in urging the abandonment of jealousy and envy · Hadith 6627
