Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الثالث والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في الحث على ترك الغل والحسد · حديث 6615

6615 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى أن أبا محمد أحمد بن عبد الله المزني أخبرهما أنا علي بن محمد بن عيسى نا أبو اليمان أخبرني شعيب عن الزهري أخبرني أنس بن مالك : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا تباغضوا ولا تحاسدوا ولا تدابروا وكونوا عباد الله إخوانا ولا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاث ليال يلتقيان يصد هذا ويصد هذا وخيرهما الذي يبدأ بالسلام رواه البخاري في الصحيح عن أبي اليمان

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے کہ ابو محمد احمد بن عبداللہ مزنی نے ان دونوں کو خبر دی علی بن محمد بن عیسیٰ نے ان کو ابو الیمان نے ان کو شعیب نے ان کو زہری نے ان کو خبر دی انس بن مالک نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تباغضوا ولا تحاسدوا ولا تدابروا وکونوا عباد الہ احوانا لا یحل لمسلم ان یھجر اخاہ فوق ثلاث لیال یلتقیان یصد ھٰذا ویصد ھٰذا وخیر ھما الذی بیدء بالسلام ایک دوسرے کے ساتھ بغض نہ رکھو۔ اور ایک دوسرے کے ساتھ حسد نہ کرو۔ ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو پیٹھ نہ موڑ جاؤ۔ اللہ کے بندے اور بھائی بھائی ہو جاؤ۔ کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ مسلسل تین دن رات اپنے مسلمان بھائی کو چھوڑ دے اور قطع تعلق کر لے کہ ایک ادھر منہ پھیر لے دوسرا اُدھر منہ پھیر جائے۔ اور دونوں میں سے اچھا وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کر لے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں ابو الیمان سے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى،

Shuab ul Iman · Forty-third of the people of faith › It is a section in urging the abandonment of jealousy and envy · Hadith 6615

شعب الإيمان · الثالث والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في الحث على ترك الغل والحسد · حديث 6616

6616 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن أنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن محمد بن معقل الميداني عن محمد بن يحيى الذهلي نا عبد الرزاق بن همام أنا معمر بن راشد عن الزهري عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تحاسدوا ولا تقاطعوا ولا تدابروا وكونوا عباد الله إخوانا لا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاث رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن رافع عن عبد الرزاق

ہمیں خبر دی ابو بکر احمد بن حسن نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن احمد بن محمد بن معقل میدانی نے ان کو محمد بن یحییٰ ذہلی نے ان کو عبد الرزاق بن ہمام نے کو معمر بن راشد نے ان کو زہری نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تحاسدوا ولا تقاطعوا ولا تدا بروا وکونوا عباداللہ اخوانا لا یحل لمسلم ان یھجر اخاہ فوق ثلاث ایک دوسرے کے ساتھ حسد نہ کیا کرو۔ آپس میں قطع تعلق نہ کرو، ایک دوسرے کو نظر انداز نہ کرو، اللہ کے بندے بھائی بھائی ہو جاؤ کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے اوپر چھوڑ دے (یعنی قطع تعلق کر لے۔) اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں محمد بن رافع سے اس نے عبدالرزاق سے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← أبو عبد الله محمد بن أحمد بن محمد بن معقل الميداني ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ

Shuab ul Iman · Forty-third of the people of faith › It is a section in urging the abandonment of jealousy and envy · Hadith 6616

شعب الإيمان · الثالث والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في الحث على ترك الغل والحسد · حديث 6617

6617 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أحمد بن محمد بن عبدوس نا عثمان بن سعيد الدارمي نا القعنبي فيما قرأ على مالك ح وأخبرنا أبو عبد الله نا علي بن عيسى نا محمد بن عمرو الجرشي و موسى بن محمد الذهلي نا يحيى بن يحيى قال : قرأت على مالك عن ابن شهاب عن عطاء بن يزيد الليثي عن أبي أيوب الأنصاري : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا يحل لمسلم أن يهجر أخاه المسلم فوق ثلاث يلتقيان فيعرض هذا ويعرض هذا وخيرهما الذي يبدأ بالسلام قال القعنبي فوق ثلاث والباقي سواء رواه البخاري في الصحيح عن عبد الله بن يوسف عن مالك ورواه مسلم عن يحيى بن يحيى

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو زکریا بن ابو اسحاق نے ان کو احمد بن محمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو قعنبی نے اس میں جو اس نے مالک کے سامنے پڑھی۔ ’’ح‘‘ ۔ اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ نے ان کو علی بن عیسیٰ نے ان کو محمد بن عمرو جرشی نے اور موسیٰ بن محمد ذہلی نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے پڑھی مالک کے سامنے انہوں نے ابن شہاب سے اس نے عطاء بن یزید لیثی سے ان کو ابو ایوب انصاری نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا یحل لمسلم ان یھجر اخاہ فوق ثلاث یلتقیان فیعرض ھٰذا ویعرض ھٰذا وخیر ھما الذی یبدء باالسلام کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو تین رات سے اوپر مسلسل چھوڑ کر قطع تعلق کر لے یا ادھر منہ پھیر جائے اور وہ ادھر منہ پھیر جائے۔ اور دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔ قعنبی نے فرمایا کہ (صرف تین دن کی بات نہیں یعنی) تین دن اور زیادہ سب برابر ہیں نہ تین دن جائز ہے نہ زیادہ قطع تعلق کرنا۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں عبداللہ بن یوسف سے اس نے مالک سے اور اس کو روایت کیا ہے۔ مسلم نے یحییٰ بن یحییٰ سے۔

اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← على مالك، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← محمد بن عمرو الجرشي و موسى بن محمد الذهلي ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ← أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق

Shuab ul Iman · Forty-third of the people of faith › It is a section in urging the abandonment of jealousy and envy · Hadith 6617

شعب الإيمان · الثالث والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في الحث على ترك الغل والحسد · حديث 6618

6618 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري عن عطاء بن يزيد الليثي عن أبي أيوب الأنصاري : يرويه لا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاثة يلتقيان فيصد هذا ويصد هذا وخيرهما الذي يبدأ بالسلام رواه مسلم في الصحيح عن إسحاق بن إبراهيم و محمد بن رافع و عبد الله بن حميد عن عبد الرزاق وقال بعضهم يرويه عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو ہم نے ان کو زہری نے ان کو عطاء بن یزید لیثی نے ان کو ابو ایوب انصاری نے وہ روایت کرتے ہیں۔ یا یحل لمسلم ان یھجر اخاہ فوق ثلاثۃ یلتقیان فیصد ھٰذا وخیر ھما الذی یبدأ بالسلامکسی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے اوپر قطع تعلق کر لے جب آمنے سامنے آئیں تو یہ اس طرف کو کترا جائے اور وہ اس طرف کو کترا جائے۔ اور دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں اسحاق بن ابراہیم اور محمد بن رافع سے اور عبداللہ بن حمید سے اس نے عبدالرزاق سے اور بعض راویوں نے کہا کہ وہ اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔

أبي أيوب الأنصاري يرويه لا يحل لمسلم ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Forty-third of the people of faith › It is a section in urging the abandonment of jealousy and envy · Hadith 6618

شعب الإيمان · الثالث والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في الحث على ترك الغل والحسد · حديث 6619

6619 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن و أبو سعيد محمد بن موسى نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا العباس بن محمد الدوري نا خالد بن مخلد عن محمد بن هلال عن أبيه قال سمعت أبا هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يحل لمؤمن يهجر مؤمنا فوق ثلاثة أيام فإذا مر ثلاث لقيه فسلم عليه فإن رد فقد اشتركا في الأجر و إن لم يرد عليه برئ المسلم من الهجرة و صار على صاحبه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر احمد بن حسن نے اور ابو سعید محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو خالد بن مخلد نے ان کو محمد بن ہلال نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا یحل لمؤمن بھجر مؤمنا فوق ثلاثۃ ایام فاذا مرثلاث لفیہ فسلم علیہ فان رد فقد اشترکافی الاجروان لم یرد علیہ برئ المسلم من الھجرۃ وصارت علی صاحبہ کسی مؤمن کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ کسی مومن کے ساتھ تین دن سے زیادہ ترک تعلق کرے جب تین راتیں گزر جائیں اور ایک دوسرے کو ملے تو اس پر سلام کہہد ے اگر وہ بھی جواب دے دیتا ہے تو دونوں اجر میں شریک ہو جاتے ہیں اگر دوسرا جواب نہیں دیتا ہے سلام کا تو سلام کرنے والا مسلمان ترک تعلق سے پاک ہو جاتا ہے اور ترک تعلق کا گناہ دوسرے پر ہوتا ہے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ هِلاَلٍ ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Forty-third of the people of faith › It is a section in urging the abandonment of jealousy and envy · Hadith 6619

شعب الإيمان · الثالث والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في الحث على ترك الغل والحسد · حديث 6620

6620 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز نا يحيى بن جعفر نا روح بن عبادة نا شعبة عن يزيد الرشك قال شعبة قرأته عليه قال سمعت معاذة العدوية قال سمعت هشام بن عامر قال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : لا يحل لمسلم أن يهجر مسلما فوق ثلاث فإنهما ناكبان عن الحق ما داما على صرامهما فأولهما فيئا سبقه بألفي كفارة فإن سلم ولم يرد عليه سلامه ردت عليه الملائكة ورد على الآخر الشيطان فإن ماتا على صرامهما لم يجتمعا في الجنة أبدا

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفرمحمد بن عمرو رزاز نے ان کو یحییٰ بن جعفر نے ان کو روح بن عبادہ نے ان کو شعبہ نے ان کو یزید رشک نے ،شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے اس کو ان کے سامنے پڑھا تھا شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا معاذہ عدویہ ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے سنا ہشام بن عامر سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے۔ لا یحل لمسلم ان بھجر مسلمافوق ثلاث فاتھا ناکبان عن الحق مادا ما علی صرامھما فاولھما فیئا سبقہ یا لفی کفارۃ فان سلم ولم یرد علیہ سلامہ ردت علیہ الملائکۃ ورد علی الاخر الشیطان فان ماتا علی صرامھما لم یجتمعا فی الجنۃ ابدا کسی مسلمان کے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ وہ تین رات سے زیادہ مسلمان سے ترک تعلق کر لے بے شک وہ حق سے اعراض کرنے والے ہوں گے جب تک وہ دونوں اپنے قطع تعلق پر قائم رہیں گے۔ دونوں میں سے جو شخص رجوع کرنے میں پہل کرے گا وہ دوسرے سے رجوع کرنے کے ساتھ سبقت لے جائے گا کفارے میں اور گناہ مٹانے میں ، اگر یہ سلام کرتا ہے اور وہ جواب نہیں دیتا تو فرشتے اس کے سلام کا جواب دیتے ہیں۔ اور دوسرے پر شیطان جواب دیتا ہے اور اگر دونوں اپنے ترک تعلق کی حالت پر مر جاتے ہیں۔ تو وہ جنت میں بھی کبھی نہیں مل سکیں گے۔

لا يحل لمسلم أن يهجر مسلما فوق ثلاث فإنهما ناكبان ← النبي صلى الله عليه و سلم ← هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ← مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ← شُعْبَةُ قَرَأْتُهُ عَلَيْهِ، ← يَزِيدُ الرِّشْكُ ← شُعْبَةُ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← يَحْيَی بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Forty-third of the people of faith › It is a section in urging the abandonment of jealousy and envy · Hadith 6620

شعب الإيمان · الثالث والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في الحث على ترك الغل والحسد · حديث 6621

6621 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا شعبة عن يزيد الرشك قال سمعت معاذة تحدث عن هاشم بن عامر الأنصاري من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يحل لمسلم أن يصارم أخاه فذكره غير أنه قال يكون سبقه بألفي كفارة له فإن سلم عليه فلم يقبل سلامه ورد عليه سلامه وقال في آخره لم يدخلا الجنة أو قال لم يجتمعا في الجنة

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو شعبہ نے یزید رشک سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا معاذۃ سے وہ حدیث بیان کرتی ہے ہشام بن عامر انصاری سے اصحاب نبی میں سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لا یحل لمسلم ان یصارم اخاہ کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے ترک تعلق کرے۔ راوی نے اس کو ذکر کیا ہے۔اس کے سوا کہ فرمایا تھا کہ اس کا سبقت کرنا ر جوع کرنے کے ساتھ اس کے لئے کفارہ ہو گا۔ اگر یہ کام کرتا ہے اس کو اور وہ اس کے سلام کو قبول نہیں کرتا۔ اور روایت کے آخر میں کہا ہے کہ وہ دونوں جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔ یا یوں کہا کہ دونوں جب تک اکٹھے نہیں ہوں گے۔

هاشم بن عامر الأنصاري من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ← معاذة تحدث ← يَزِيدُ الرِّشْكُ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Forty-third of the people of faith › It is a section in urging the abandonment of jealousy and envy · Hadith 6621

شعب الإيمان · الثالث والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في الحث على ترك الغل والحسد · حديث 6622

6622 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن أبي إسحاق عن عمر بن سعد نا سعد بن أبي وقاص قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قتال المسلم كفر وسبابه فسوق ولا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاثة أيام

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ابو اسحاق نے ان کو عمر بن سعد نے ان کو سعد بن ابو وقاص نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قتال المسلم کفرو سبابہ فسوق ولا یحل لمسلم ان یھجر اخاہ فوق ثلاثۃ ایام مسلمان سے لڑنا کفر ہے اور کو گالیاں دینا اللہ کی نافرمانیاں ہیں کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ تین دن سے زیا دہ اپنے بھائی سے ترک تعلق کرے۔

سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Forty-third of the people of faith › It is a section in urging the abandonment of jealousy and envy · Hadith 6622

شعب الإيمان · الثالث والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في الحث على ترك الغل والحسد · حديث 6623

6623 - و أخبرنا ابن بشران أنا إسماعيل الصفار نا عبد الرزاق أنا معمر عن عبد الكريم الجزري عن مجاهد في قول الله عز و جل : ـ { ادفع بالتي هي أحسن } قال هو السلام يسلم عليه إذا لقيه

ہمیں خبر دی ابن بشران نے ان کو اسماعیل صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو عبدالکریم جزری نے ان کو مجاہد نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں : اذفع بالتی ھی احسن احسن طریقے سے جواب دیں۔ مجاہد فرماتے ہیں کہ اس سے مراد سلام ہے کہ جب وہ اپنے مخالف یا حریف سے ملے تو اس کو بھی السلام علیکم کہے۔

هو السلام يسلم عليه إذا لقيه ← مجاهد في قول الله عز و جل ادفع بالتي هي أحسن ← عَبْدِ الْکَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← ابن بشران، ← و،

Shuab ul Iman · Forty-third of the people of faith › It is a section in urging the abandonment of jealousy and envy · Hadith 6623

شعب الإيمان · الثالث والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في الحث على ترك الغل والحسد · حديث 6624

6624 - حدثنا أبو بكر أحمد بن الحسن القاضي أنا أبو منصور بن محمد بن أحمد الأهوازي نا عبد الله بن محمد بن عبد العزيز نا أبو الجهم العلاء بن موسى نا سوار بن مصعب عن كليب بن وائل عن عبد الله بن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من مسلم يصافح أخاه ليس في صدر واحد منهما على أخيه حنة لم تتفرق أيديهما حتى يغفر الله لهما ما مضى من ذنوبهما ومن نظر إلى أخيه نظرة ليس في قلبه أو صدره حنة لم يرجع إليه طرفه حتى يغفر الله لهما ما مضى من ذنوبهما

ہمیں حدیث بیان کی ابو بکر احمد بن حسین قاضی نے ان کو ابو منصور بن محمد بن احمد اہوازی نے ان کو عبداللہ بن محمد بن عبدالعزیز نے ان کو ابو جہم علاء بن موسیٰ نے ان کو سوار بن مصعب نے ان کو کلیب بن وائل نے ان کو عبداللہ بن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مامن مسلم یصافح اخاہ لیس فی صدر واحد منھما علی اخیہ حنۃ لم تنفرق ایدیھما حتٰی یغفراللہ لھما مامضی من ذنوبھما جو بھی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ ہاتھ ملاتا ہے جب کہ دونوں میں سے کسی ایک کے سینے میں کوئی کددرت نہیں ہے دونوں کے ہاتھ الگ نہیں ہونے پاتے کہ اللہ تعالیٰ دونوں کے سابقہ گناہ معاف کر دیتے ہیں۔ ومن نظرالى اخیہ نظرۃ لیس فی قلبہ او صدرہ حنۃ لم یرجع الیہ طرفہ حتٰى یغفر اللہ لھما ما مضی من زنوبھما اور جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی طرف نظر اٹھا کر (محبت وشفقت سے) دیکھتا ہے جب کہ اس کے دل میں یا کہا تھا سینے میں کوئی بات نہ ہو (دوسرے کے خلاف) دیکھنے والی نگاہ واپس ابھی تک نہیں لوٹتی کہ اللہ تعالیٰ دونوں کے سابقہ گناہ معاف کر دیتے ہیں۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← کُلَيْبُ بْنُ وَائِلٍ ← سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ، ← أَبُو الْجَهْمِ الْعَلَاءُ بْنُ مُوسَى، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أبو منصور بن محمد بن أحمد الأهوازي ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي،

Shuab ul Iman · Forty-third of the people of faith › It is a section in urging the abandonment of jealousy and envy · Hadith 6624

شعب الإيمان · الثالث والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في الحث على ترك الغل والحسد · حديث 6625

6625 - أخبرنا أحمد بن أبي خلف الصوفي نا أبو سعيد محمد بن إبراهيم الواعظ نا أبو بكر محمد بن محمد بن رجاء نا أبو همام الوليد بن شجاع السكوني نا مخلد بن الحسين أنه سمع موسى بن سعيد قال : لما قرب الله موسى نجيا رأى عبدا تحت العرش فقال : يا رب من هذا العبد لعلي أعمل مثل عمله فقيل يا موسى هذا عبد كان برا لوالديه وكان لا يحسد الناس وكان لا يمشي بالنميمة وروينا هذا بإسناد آخر عن أبي إسحاق عن عمرو بن ميمون أنه حكى ذلك عن موسى عليه السلام

ہمیں خبر دی احمد بن ابو خلف صوفی نے ان کو ابو سعید محمد بن ابراہیم واعظ نے ان کو ابو بکر محمد بن محمد بن رحبآء نے ان کو ابو ہمام ولید بن شجاع مسکونی نے ان کو مخلد بن حسین نے اس نے سنا موسیٰ بن سعید سے وہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو اپنی بارگاہ کا قرب عطا کیا برگزیدہ بنا کر تو اس نے عرش الہٰی کے نیچے ایک بندے کو دیکھا۔ اور عرض کی: اے میرے رب یہ کون بندہ ہے شاید میں بھی اس جیسا عمل کروں۔ تو کہا گیا کہ اے موسیٰ یہ ایک بندہ ہے جو اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرتا تھا اور لوگوں کے ساتھ حسد نہیں کرتا تھا۔ اور یہ چغل خوری بھی نہیں کرتا تھا۔ اور ہم نے اس کو روایت کیا ہے دوسری اسناد کے ساتھ ابو اسحاق سے اس نے عمرو بن میمون سے کہ انہوں نے اس کو حکایت کیا ہے موسیٰ علیہ السلام سے۔

مَخْلَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَاءٍ، ← أبو سعيد محمد بن إبراهيم الواعظ ← أحمد بن أبي خلف الصوفي

Shuab ul Iman · Forty-third of the people of faith › It is a section in urging the abandonment of jealousy and envy · Hadith 6625

شعب الإيمان · الثالث والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في الحث على ترك الغل والحسد · حديث 6626

6626 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النصر الفقيه نا عثمان بن سعيد الدارمي نا القعنبي فيما قرأ على مالك بن أنس عن سهيل عن أبيه عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : تفتح أبواب الجنة يوم الاثنين والخميس فيغفر لكل عبد مسلم لا يشرك بالله شيئا إلا رجل كانت بينه وبين أخيه شحناء فيقال انظروا هذين حتى يصطلحا انظروا هذين حتى يصطلحا رواه مسلم في الصحيح عن قتيبة ورواه الدراوردي عن سهيل قال إلا المتهاجرين

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو نصر فقیہ نے ان کو مٹان بن سعید دارمی نے ان کوقعنبی نے اس میں جو اس نے مالک کے سامنے پڑھی۔ یعنی مالک بن انس۔اس نے سہیل سے اس نے اپنے والد سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تفتح ابواب الجنۃ یوم الاثنین والخمیس فیغفر لکل عبد مسلم لا یشرک باللہ شیئاً الارجل کانت بینہ وبین اخیہ شحنآء فیقال انظروا ھٰذین حتٰی یصطلحا جنت کے دروازے پیر اور جمعرات کو کھولے جاتے ہیں لہٰذا ہر مسلمان بندے کی بخشش کی جاتی ہے جواللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی شئی کو شریک نہیں کرتا تھا۔ سوائے اس شخص جس کی اس کے بھائی کے درمیان کینہ وبغض وعداوت ہو۔ پس کہا جاتا ہے کہ ان دونوں کا انتظار کرو حتٰی کہ دونوں کے درمیان صلح ہو جائے۔ اس کو روایت کیا ہے مسلم نے صحیح میں قتیبہ سے اور اس کو روایت کیا ہے دراوردی نے سہیل سے انہوں نے کہا کہ سوائے دو قطع تعلق کرنے والوں کے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← القعنبي فيما قرأ على مالك بن أنس ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو النصر الفقيه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-third of the people of faith › It is a section in urging the abandonment of jealousy and envy · Hadith 6626

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood