Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الثالث والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في الحث على ترك الغل والحسد · حديث 6603

6603 - أخبرنا : أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا إبراهيم بن مرزوق البصري بمصر نا وهب بن جرير قال : نا شعبة عن قتادة عن أنس : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا تحاسدوا ولا تباغضوا ولا تقاطعوا وكونوا عباد الله إخوانا رواه مسلم في الصحيح عن نصر بن علي عن وهب بن جرير

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن مرزوق بصری نے مصر میں ان کو وہب بن جریر نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے شعبہ نے ان کو قتادہ نے ان کو انس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا: لا تحاسدوا ولا تباغضوا ولا تقاطعوا وکونوا عباداللہ اخواناً آپس میں حسد نہ کیا کرو۔ اور آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرو اور ہو جاؤ اللہ کے بندے بھائی بھائی۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں نصر بن علی سے اس نے وہب بن جریر سے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إبراهيم بن مرزوق البصري ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-third of the people of faith › It is a section in urging the abandonment of jealousy and envy · Hadith 6603

شعب الإيمان · الثالث والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في الحث على ترك الغل والحسد · حديث 6604

6604 - أخبرنا : أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر النحوي نا يعقوب بن سفيان نا هشام بن عمار نا صدقة بن خالد نا زيد بن واقد حدثني مغيث بن سمي الأوزاعي عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال : قلنا يا رسول الله من خير الناس ؟ قال : ذو القلب المخموم واللسان الصادق قلنا فقد عرفنا الصادق فما ذو القلب المخموم ؟ قال : هو التقي النقي الذي لا غثم فيه ولا حسد قلنا : فمن هو اثره ؟ قال : الذي يشنأ الدنيا ويحب الآخرة قالوا : ما نعرف هذا فينا إلا رافع مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم فمن على اثره ؟ قال : مؤمن في خلق حسن قالوا : أما هذه فإنها فينا

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نحوی نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ہشام بن عمار نے ان کو صدقہ بن خالد نے ان کو زید بن واقد نے ان کو مغیث بن سمی اوزاعی نے ان کو عبداللہ بن عمرو بن العاص نے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سب لوگوں سے بہتر کون ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ قلب مخموم والا اور لسان صادق والا۔ ہم نے کہا کہ سچی زبان والا تو ہم سمجھ گئے مخموم دل والا کون ہے؟ آپ نے جواب دیا وہ متقی پرہیزگار صاف ستھرا دل جس میں کوئی گناہ نہ ہو اور حسد نہ ہو۔ ہم نے کہا کہ اس کے بعد کون ہے؟ فرمایا کہ وہ شخص جو دنیا سے عداوت رکھے اور آخرت سے محبت کرے۔ لوگوں نے پو چھا کہ ہمارے اندر ایسا تو ہم کوئی آدمی نہیں جانتے مگر رافع مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے بعد پھر کون ہے؟ فرمایا کہ وہ مومن جس کے اخلاق اچھے ہوں، صحابہ نے کہا بہرحال ایسا آدمی تو وہ ہمارے اندر موجود ہیں۔

قُلْنَا ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← مُغِيثِ بْنِ سُمَيٍّ الْأَوْزَاعِيِّ، ← زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ← صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عبد الله بن جعفر النحوي ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Forty-third of the people of faith › It is a section in urging the abandonment of jealousy and envy · Hadith 6604

شعب الإيمان · الثالث والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في الحث على ترك الغل والحسد · حديث 6605

6605 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن عبد الله بن بشران ببغداد أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور الرمادي أنا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري قال : أخبرني أنس بن مالك : كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يطلع عليكم الآن من هذا الفج رجل من أهل الجنة قال : فطلع رجل من الأنصار تنظف لحيته من وضوئه وقد علق نعليه في يده الشمال فسلم فلما كان من الغد قال النبي صلى الله عليه و سلم مثل ذلك فطلع الرجل على مثل صرته الأولى فلما كان اليوم الثالث قال النبي صلى الله عليه و سلم مثل مقالته أيضا فطلع الرجل على مثل حالته الأولى فلما قام النبي صلى الله عليه و سلم تبعه عبد الله بن عمرو بن العاص فقال : إني لا حييت أبي فاقسمت أن لا أدخل عليه ثلاثا فإن رأيت أن تؤويني إليك حتى تمضي الثلاث فعلت قال : نعم قال أنس : وكان عبد الله يعني ابن عمرو يحدث أنه بات معه ثلاث ليال قال : فلم يره يقوم من الليل شيئا غير أنه إذا تعارض من الليل وتقلب على فراشه ذكر الله وكبره حتى يقوم لصلاة الفجر غير أنه إذا تعار من الليل لا يقول إلا خيرا قال : فلما مضت الثلاث ليال وكدت احتقر عمله قلت يا عبد الله لم يكن بيني وبين والدي غضب ولا هجرة ولكني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول يطلع الآن عليكم رجل من أهل الجنة فطلعت أنت الثلاث مرات فأردت أن آوي إليك فانظر ما عملك فلم أرك تعمل كثير عمل فلما وليت دعاني فقال ما هو إلا ما رأيت غير أني لا أجد في نفسي على أحد من المسلمين غشا ولا أحسده على خيرا أعطاه الله إياه فقال عبد الله : فهذه التي بلغت وهي التي لا تطاق : قال الشيخ : هكذا قال عبد الرزاق عن معمر عن الزهري قال أخبرني أنس ورواه ابن المبارك عن معمر فقال عن الزهري عن أنس ورواه شعيب بن أبي حمزة عن الزهري كما

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد بن عبداللہ بن بشران نے بغداد میں ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور رمادی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ نے فرمایا: ابھی تمہارے سامنے اس راستے سے ایک آدمی آئے گا جو کہ اہل جنت میں سے ہے۔ کہتے ہیں ایک آدمی انصار میں سے نمودار ہوا وضو کی وجہ اس کی داڑھی سے پانی ٹپک رہا تھا اور اس نے بائیں ہاتھ میں جوتے اٹھا رکھے تھے۔اس نے السلام علیکم کہا۔ جب صبح ہوئی تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی بات کہی لہٰذا پھر اسی راستے سے ایک آدمی پہلے والی کی صورت میں نمودار ہوا۔ جب تیسرا دن ہوا تو آج بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دن پہلے جیسی بات فرمائی اور اس دن بھی ایک آدمی پہلے والے کی حالت کے مطابق ظاہر ہوا۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر چلے گئے تو حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص اس آدمی کے پیچھے چلے گئے اور اس سے جا کر کہا کہ میرے والد سے میری ناراضگی ہو گئی ہے لہٰذا میں نے قسم کھائی ہے کہ میں تین دن گھر میں ان کے پاس نہیں جاؤں گا میں سمجھتا ہوں کہ آپ تین دن تک مجھے اپنے پاس رہنے کی جگہ دے دیں گے تین دن پورے کر کے میں ہٹ جاؤں گا آپ مجھے اجازت دیں گے ؟ انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے رہ لیجئے۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ یہ عبداللہ بن عمرو بن العاص حدیث بیان کرتے تھے کہ وہ تین دن اس شخص کے گھر میں رات گزارتے رہے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نہیں دیکھا کہ وہ رات کو کچھ بھی قیام کرتے ہوں، جس وقت رات کچھ گزر گئی اور اپنے بستر پر پہلو بدلتے تو الٹ کو یاد کرتے اور اللہ اکبر کہتے یہاں تک کہ نماز فجر کے لئے اٹھتے تھے، علاوہ ازیں جب رات میں جاگ جاتے تو نہیں کہتے تھے مگر خیر کی بات وہ کہتے ہیں کہ جب تین راتیں گزر گئیں تو قریب تھا میں نے کہا کہ میں اس کے عمل کو حقیر سمجھ لیتا۔ میں نے پوچھا اور اس کو بتایا کہ اے اللہ کی بندے میرے اور میرے والد کے درمیان کوئی ناراضگی نہیں تھی اور نہ ہی انہوں نے مجھے گھر سے نکال دیا تھا بلکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ سنا تھا کہ اس وقت تم لوگوں کے سامنے اہل جنت کا ایک آدمی سامنے آئے گا لہٰذا آپ ہی سامنے آئے تھے تینوں دن آپ ہی سامنے آتے رہے۔ لہٰذا میرے دل میں خیال آیا کہ میں تیرے پاس ٹھکانہ لوں اور اپنی آنکھوں سے دیکھوں کہ آپ کا عمل کیا ہے؟ مگر یہاں آ کر میں نے نہیں دیکھا کہ آپ زیادہ عمل کرتے ہوں۔ جب میں واپس لوٹنے لگا تو انہوں نے مجھے بلایا اور بتایا کہ میرا کوئی الگ عمل نہیں جیسے آپ نے دیکھ لیا ہے ہاں صرف ایک بات ہے وہ یہ ہے کہ میں اپنے دل میں کسی ایک مسلمان کے خلاف کھوٹ یا کینہ نہیں رکھتا ہوں اور اس کے ساتھ حسد نہیں کرتا ہوں اس خیر پراللہ نے جو اس کو عطا کی جو خاص طور پر۔ حضرت عبداللہ نے کہا کہ یہی وہ صفت ہے جس نے آپ کو جنت میں پہنچا دیا ہے، اور یہی وہ صفت ہے جو مشکل ہے جس کی طاقت نہیں رکھی جا سکتی۔ شیخ نے فرمایا۔ اسی طرح کہا ہے عبدالرزاق نے معمر سے اس نے زہری سے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے اس نے اور اس کو روایت کیا ہے ابن مبارک نے معمر سے انہوں نے کہا ہے کہ مروی ہے زہری سے انہوں نے انس سے اور اس کو روایت کیا ہے شعیب بن ابو حمزہ نے زہری سے۔

«يَطْلُعُ عَلَيْكُمُ الْآنَ مِنْ هَذَا الْفَجِّ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» ← أنس بن مالك كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه و سلم ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو الحسن علي بن محمد بن عبد الله بن بشران ببغداد

Shuab ul Iman · Forty-third of the people of faith › It is a section in urging the abandonment of jealousy and envy · Hadith 6605

شعب الإيمان · الثالث والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في الحث على ترك الغل والحسد · حديث 6606

6606 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو محمد أحمد بن عبد الله المزني ببخارى أنا علي يعني محمد بن عيسى نا الحكم بن نافع أبو اليمان أخبرني شعيب عن الزهري قال : حدثني من لا أتهم عن أنس بن مالك أنه قال : بينما نحن عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر الحديث بنحوه غير أنه قال : فإذا توضأ أسبغ الوضوء وأتم الصلاة ثم أصبح مفطرا قال عبد الله بن عمرو : فرمقته ثلاثة أيام وثلاث ليال لا يزيد على ذلك غير أني لا أسمعه يقول إلا خيرا وذكر الحديث وقال في آخره ما هي إلا ما رأيت غير أني أنا أجد في نفسي سوءا لأحد من المسلمين ولا أقوله ولا أحسده خيرا أعطاه الله إياه قال : فقلت هؤلاء بلغن بك وهي لا أطيق وكذلك رواه عقيل بن خالد عن الزهري في الإسناد غير أنه قال في متنه فطلع سعد بن أبي وقاص لم يقل رجل من الأنصار

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے ابو محمد احمد بن عبداللہ مزنی نے بخارا میں ان کو علی نے یعنی ابن محمد بن عیسیٰ نے ان کو حکم بن نافع نے ان کو ابو الیمان نے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے شعیب نے زہری سے وہ کہتے ہیں مجھے اس شخص نے حدیث بیان کی ہے جس کو میں جھوٹا ہونے کی تہمت نہیں لگا سکتا اس نے انس بن مالک سے کہ انہوں نے فرمایا کہ ایک ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر انہوں نے مذکورہ حدیث اسی کی مثل بیان کی ہے علاوہ ازیں انہوں نے فرمایا کہ جب وضو کرتے تھے تو پورا پورا کرتے تھے۔اور نماز پوری پڑھتے تھے صبح کرتے تو روزہ دار نہیں ہوتے تھے۔ عبداللہ بن عمرو نے فرمایا کہ میں نے تین دن رات ان کے ہاں گزارے وہ اس عبادت سے زیادہ نہیں کرتے تھے سوائے اس کے کہ میں نے نہیں سنا کہ وہ کچھ کہتے ہیں سوائے خیر کے۔اور آگے حدیث ذکر کی اور آخر میں فرمایا: نہیں تھی یہ عبادت مگر جو کچھ تم نے دیکھا۔علاوہ اس کے یہ ہے کہ میں نہیں پاتا اپنے دل میں کوئی برائی کسی ایک کے لیے مسلمانوں میں سے نہ اس کو کہتا ہوں اور نہ ہی اس سے حسد کرتا ہوں کسی خیر پر جواللہ نے اس کو عطا کی ہو۔ کہا عبداللہ بن عمرو نے کہ میں نے اس شخص سے کہا یہی صفات ہیں جنہوں نے آپ کو پہنچا دیا ہے (جنت میں) اور یہی ہیں جن کی میں طاقت نہیں رکھتا۔ اور اسی طرح اس کو روایت کیا ہے عقیل بن خالد نے زہری سے اسناد میں۔سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا حدیث کے متن میں کہ ظاہر ہوئے سعد بن ابی وقاص۔ یہاں پر انصار میں سے ایک آدمی کا جملہ نہیں کہا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مَنْ لاَ أَتَّهِمُ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو الْيَمَانِ ← علي يعني محمد بن عيسى ← أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-third of the people of faith › It is a section in urging the abandonment of jealousy and envy · Hadith 6606

شعب الإيمان · الثالث والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في الحث على ترك الغل والحسد · حديث 6607

6607 - و أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا حاجب بن أحمد نا عبد الرحيم أبي منيب نا معاذ يعني ابن خالد أنا صالح عن عمرو بن دينار عن سالم بن عبد الله عن أبيه قال : كنا جلوسا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ليطلعن عليكم رجل من هذا الباب من أهل الجنة فجاءه سعد بن مالك فدخل منه فذكر الحديث فقال عبد الله بن عمرو وما أنا بالذي أنتهي حتى أبات هذا الرجل فأنظر عمله فذكر الحديث في دخوله عليه فقال فناولني عباءة فاضطجعت عليها قريبا منه جعلت أرمقه يعني ليله كل ما تعار سبح وكبر وهلل وحمد الله حتى إذا كان في وجه السحر قام فتوضأ فدخل المسجد فصلى ثنتي عشرة ركعة باثنتي عشرة سورة من المفضل ليس من طواله ولا من قصاره يدعو في كل ركعتين بعد التشهد ثلاث دعوات يقول : اللهم آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار اللهم اكفنا ما اهمنا من أمر آخرتنا ودنيانا اللهم إنا نسألك من الخير كله وأعوذ بك من الشر كله حتى إذا فرغ فذكر الحديث في استقلاله عمله وعوده إليه ثلاثا إلى أن قال فقال آخذ مضجعي وليس في قلبي على أحد

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو حاجب بن احمد نے ان کو عبدالرحیم بن منیب نے ان کو معاذ نے یعنی ابن خالد نے ان کو صالح نے ان کو عمرو بن دینار نے ان کو سالم بن عبداللہ نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے انہوں نے فرمایا: البتہ ضرور سامنے آئے تمہارے اسی دروازے سے ایک آدمی اہل جنت میں سے اتنے میں حضرت سعد بن مالک سامنے آ گئے اسی دروازے سے داخل ہو کر۔ راوی نے وہی حدیث ذکر کی ہے۔ پس کہا عبداللہ بن عمرو نے کہ میں رکنے والا نہیں ہوں میں تو اس آدمی کے پاس رات گزاروں گا اور اس کے عمل کو دیکھوں گا اس کے بعد راوی نے عبداللہ کے اس کے پاس داخل ہونے کی بات بیان کی ، وہ کہتے ہیں کہ اس آدمی نے مجھے گرا دیا میں اس پر لیٹ گیا اس کے قریب اور میں رات کو نظر چرا کر اس کو دیکھتا رہا جب بھی وہ بیدار ہوتا تسبیح و تکبیر کہتا اور تہلیل وتحمید کرتا۔ (سبحان اللہ ، اللہ اکبر، لا الٰہ الا اللہ، الحمدللہ) جب سجر کا اور صبح کا وقت قریب ہوا اٹھا اور وضو کر کے مسجد میں داخل ہو گیا اور اس نے بارہ رکعات بارہ سورتوں کے ساتھ پڑھیں۔ جو کہ چھوٹی سورتیں تھیں بڑی نہیں تھیں۔ نہ زیادہ چھوٹی تھیں ہر دو رکعت کے بعد التحیات کے بعد دعا کرتے رہے۔ اللھم ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الٰاخرۃ قنا عذاب النار اللھم اکفنا مااھمنا من امر اخرتنا اودنیانا اللھم انا نسئلک من الخیر کلہ، واعوذبک من الشرکلہ جب فارغ ہو گئے۔ اس کے بعد راوی نے عمل میں اس کے استقلال کا ذکر کیا ہے اور اس کے تین دن مسلسل آنے کا۔ یہاں تک حدیث چلائی ہے کہ راوی کہتا ہے۔ کہ عبداللہ بن عمرو نے کہا کہ اس شخص نے کہا تھا کہ میں اپنے بستر پر آ جاتا ہوں (اپنے معمولات سے فارغ ہو کر مگر) میرے دل میں کسی کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوتی۔

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← صَالِحٍ، ← معاذ يعني ابن خالد ← عبد الرحيم أبي منيب ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← و،

Shuab ul Iman · Forty-third of the people of faith › It is a section in urging the abandonment of jealousy and envy · Hadith 6607

شعب الإيمان · الثالث والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في الحث على ترك الغل والحسد · حديث 6608

6608 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي رحمه الله أنا أبو بكر محمد بن الحسين بن داود العلوي رحمه الله أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان نا أبو الأزهر السليطي نا أبو عامر عبد الملك بن عمرو نا سليمان بن بلال ح وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا العباس بن محمد الدروي نا أبو عامر العقدي عن سليمان بن بلال عن إبراهيم بن أبي أسيد عن جده عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إياكم والحسد فإن الحسد يأكل الحسنات كما تأكل النار الحطب أو قال العشب رواه أبو داود في السنن عن عثمان بن صالح عن أبي عامر وروي عن عيسى بن أبي عيسى الخياط عن أبي الزناد عن أنس بن مالك مرفوعا

ہمیں خبر دی ابو الحسن محمد بن حسین بن داؤد علوی نے ان کو ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ان کو ابو الازہر سلیطی نے ان کو ابو عامر عبدالملک بن عمرو نے ان کو سلیمان بن بلال نے ’’ح“۔ حسد نیکیوں کے لئے مہلک: اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اورمحمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو ابو عامر عقدی نے ان کو سلیمان بن بلال نے ان کو ابراہیم بن اسید نے ان کو ان کے دادا نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایاکم والحسد فان الحسدیا کل الحسنات کما تأکل النار الحطب اوقال العشب تم اپنے آپ کو حسد کرنے سے بچاؤ بے شک حد کرنا نیکیوں کو کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے یا کہا تھا کہ سوکھے تنکوں کو۔ اس کو ابو داؤد نے نقل کیا سنن میں عثمان بن ابو صالح سے اس نے ابو عامر سے اور روایت کیا گیا ہے۔ عیسیٰ بن ابو عیسیٰ خیاط سے اس نے ابو الزناد سے اس نے انس بن مالک سے بطور مرفوع روایت کے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← جَدِّهِ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← العباس بن محمد الدروي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو ← أبو الأزهر السليطي ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أبو بكر محمد بن الحسين بن داود العلوي ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-third of the people of faith › It is a section in urging the abandonment of jealousy and envy · Hadith 6608

شعب الإيمان · الثالث والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في الحث على ترك الغل والحسد · حديث 6609

6609 - أخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد بن عبد الله بن محمد بن منصور النوقاني بها أخبرنا أبو محمد حاتم بن حيان البستي أنا إسماعيل بن داود بن وردان بالفسطاط أنا عيسى بن حماد نا الليث عن ابن عجلان عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا يجتمع في جوف عبد مؤمن غبار في سبيل الله وفيح جهنم ولا يجتمع في جوف عبد مؤمن الإيمان والحسد

ہمیں خبر دی ابو بکر محمد بن احمد بن عبداللہ بن محمد بن منصور نوقانی سے نوقان میں۔اور ہمیں خبر دی ہے ابو محمد حاتم بن حیان البستی نے ان کو اسماعیل بن داؤد بن وردان نے فسطاط میں ان کو یحییٰ بن حماد نے ان کو لیث نے ان کو ابن عجلان نے ان کو سہیل بن ابو صالح نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا یجتمع فی جوف عبدمؤمن غبار فی سبیل اللہ وفیح جہن ولا یجتمع فی جوف عبدمؤمن الایمان والحسد کسی مومن بندے کے اوپر جہاد کی راہ کا غبار اور جہنم کی بھاپ جمع نہیں ہو سکتے اور کسی مومن کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہو سکتے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ ← أبو محمد حاتم بن حيان البستي

Shuab ul Iman · Forty-third of the people of faith › It is a section in urging the abandonment of jealousy and envy · Hadith 6609

شعب الإيمان · الثالث والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في الحث على ترك الغل والحسد · حديث 6610

6610 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا عبيد بن شريك نا ابن أبي مريم نا ابن وهب أخبرني واقد بن سلامة عن يزيد يعني الرقاشي عن أنس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : الصلاة نور والصيام جنة والصدقة تطفئ الخطيئة كما يطفئ الماء النار والحسد يأكل الحسنات كما تأكل النار الحطب وكذلك رواه الليث بن سعد عن ابن عجلان عن واقد

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو عبید بن شریک نے ان کو ابن ابو مریم نے ان کو ابن واهب نے۔ان کو خبر دی ہے واقد بن سلامہ نے ان کو مزید رقاشی نے ان کو انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الصلوٰۃ نور والصیام جنۃ والصدقۃ نطفی الخطینۃ کما یطفئ الماء النار والحسد یاکل الحسنات کما تاکل النار الحطب نماز نور اور روشنی ہے۔ روزہ جہنم سے بچنے کی ڈھال ہے۔ اور صدقہ گناہوں کی آگ کو بجھاتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھاتا ہے اور حسد نیکیوں کو کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کو۔ اسی طرح اس کو روایت کیا ہے لیث بن سعد نے ابن عجلان سے اس نے واقد سے۔

أَنَسٍ، ← يزيد يعني الرقاشي ← واقد بن سلامة ← ابْنُ وَهْبٍ، ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Forty-third of the people of faith › It is a section in urging the abandonment of jealousy and envy · Hadith 6610

شعب الإيمان · الثالث والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في الحث على ترك الغل والحسد · حديث 6611

6611 - أخبرناه علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا عبيد بن شريك نا الليث : فذكره غير أنه قال جنة وقال نور المؤمن

ہمیں اس کی خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عبید بن شریک نے ان کو لیث نے۔ پھر اس نے مذکورہ حد یث ذکر کی۔سوائے اس کے کہ آپ نے فرمایا تھا ڈھال ہے اور کہا تھا کہ مؤمن کا نور ہے۔

جنة وقال نور المؤمن ← الليث فذكره غير أنه ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Forty-third of the people of faith › It is a section in urging the abandonment of jealousy and envy · Hadith 6611

شعب الإيمان · الثالث والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في الحث على ترك الغل والحسد · حديث 6612

6612 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان نا أحمد بن يوسف السلمي نا محمد بن يوسف قال : ذكر سفيان عن الحجاج يعني ابن فرافصة عن يزيد الرقاشي عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم كاد الفقر أن يكون كفرا وكاد الحسد أن يغلب القدر

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ان کو محمد بن یوسف نے وہ کہتے ہیں کہ ذکر کیا سفیان نے حجاج سے یعنی ابن فرفصہ سے اس نے یزید رقاشی سے اس نے انس بن مالک سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کادالفقران یکون کفراً وکاد الحد ان یغلب القدر قریب ہے کہ فقرو محتاجی کفر بن بن جائے اور قریب ہے کہ حسد تقدیر پر غالب آ جائے (یعنی فقرو محتاجی اللہ کی ناشکری اور کفر تک پہنچا دیتے ہیں اور حسد اتنی تیز اور جلدی اثر کرتا ہے جیسے کہ تقدیر کو بھی پیچھے چھوڑ جائے گا۔)

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ← الْحَجَّاجِ يَعْنِي ابْنَ فُرَافِصَةَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Forty-third of the people of faith › It is a section in urging the abandonment of jealousy and envy · Hadith 6612

شعب الإيمان · الثالث والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في الحث على ترك الغل والحسد · حديث 6613

6613 - أخبرنا أبو علي الحسين بن محمد الروذباري و أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا محمد بن غالب حدثني عبيد بن عبيدة نا معتمر بن سليمان عن أبيه عن يحيى بن أبي كثير عن يعيش بن الوليد بن هشام عن مولى الزبير : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : دب إليكم داء الأمم من قبلكم الحسد والبغضاء والبغضاء هي الحالقة لا أقول تحلق الشعر ولكنها تحلق الذين والذي نفسي بيده لا تدخلون الجنة حتى تؤمنوا ولا تؤمنوا بي حتى تحابوا أفلا أدلكم على شئ إذا فعلتموه تحاببتم افشوا السلام بينكم

ہمیں خبر دی ابو علی حسین بن محمد روذباری نے اور ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو محمد بن غالب نے۔ ان کو عبید بن عبیدہ نے ان کو معتمر بن سلیمان نے ان کو ان کے والد نے ان کو یحییٰ بن ابو کثیر نے ان کو یعیش بن ولید بن ہشام نے ان کو مولیٰ زبیر نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دب الیکم داء الامم من قبلکم الحسد وولبغضآء ھی الحالفۃ لا اقول تحلق الشعر ولکنھا تحلق الدین والذی نفسی بیدہ لا تدخلون الجنۃ حتٰی نؤمنوا ولا مؤمنوبی حتٰی تحابوا افلا ادکلم علی شیءٍ اذا فعلتموہ تحابیتم افشو السلام بینکم تم سے پہلی امتوں کی جانب سے تمہارے اندر ان کی بیماریاں سرایت کر گئی ہیں حسد اور بغض (کینہ) یہ بیماریاں مونڈ دینے والی ہیں میرا مطلب نہیں ہے کہ وہ بالوں کومونڈ دیتی ہیں۔ بلکہ وہ دین کا صفایا کر دیتی ہیں۔ اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے تم لوگ جنت میں نہیں جاسکتے تھے۔ یہاں تک کہ تم مؤمن ہو جاؤ۔ اور تم میرے ساتھ ایمان نہیں لا سکتے حتٰی کہ تم آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرنے لگ جاؤ۔ سلام کرنے کو عام کرو آپس میں۔

مولى الزبير ← يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبِيهِ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عُبَيْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو علي الحسين بن محمد الروذباري و أبو الحسين بن بشران

Shuab ul Iman · Forty-third of the people of faith › It is a section in urging the abandonment of jealousy and envy · Hadith 6613

شعب الإيمان · الثالث والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في الحث على ترك الغل والحسد · حديث 6614

6614 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا أبو الحسين علي بن عبد الرحمن بن ماني الكوفي نا أحمد بن حازم بن أبي غرزة أنا عبد الله بن علقمة أنا أبو شهاب الحناط عن ليث عن فرارة عن يزيد بن الأصم عن ابن عباس قال : ثلاث من لم يكن فيه فإن الله عز و جل يغفر بعد ذلك لمن يشاء من مات لا يشرك بالله شيئا ومن لم يكن ساحرا يتبع السحر ومن لم يحقد على أخيه

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو ابو الحسین علی بن عبدالرحمٰن بن مانی کوفی نے ان کو احمد بن حازم بن ابو غرزہ نے ان کو عبداللہ بن علقمہ نے ان کو ابو شہاب حناط نے ان کو لیث نے ان کو فرارہ نے ان کو یزید بن اصم نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے وہ فرماتے ہیں۔ تین خصلتیں ایسی ہیں وہ جن لوگوں میں نہ ہوں باقی گناہ جس کے لئے اللہ چاہے گا معاف کر دے گا۔ جو شخص اس حالت میں مر گیا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی شئی کو شریک نہیں کرتا تھا۔ اور جو شخص جادوگر نہیں تھا جو جادوگر کے پیچھے دوڑ تا رہتا۔ اور جو شخص اپنے مسلمان بھائی پر کینہ اور حسد نہیں کرتا تھا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← فرارة ← لَيْثٌ، ← أَبُو شِهَابٍ الْحَنَّاطُ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عَلْقَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أبو الحسين علي بن عبد الرحمن بن ماني الكوفي ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Forty-third of the people of faith › It is a section in urging the abandonment of jealousy and envy · Hadith 6614

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood